معارفِ تھانویؒ
آج کل معیارِ انتخاب یہ ہے کہ جو بہت زیادہ غبی اورکم عقل ہواس کو عربی کے لیے تجویز کیا جاتا ہے؛ حالاں کہ دنیا کمانے کے لیے بڑے عالی دماغ کی ضرورت نہیں،یہ تو چکی پیسنا ہے جس کو تھوڑی سی بھی مناسبت ہوگئی وہ بھی اس کام کو بخوبی کرسکتا ہے،دماغ کی زیادہ ضرورت اس کام کے لیے ہے ؛جس کے لیے انبیا علیہم السلام بھیجے گئے ۔ اللہ اکبر! کتنا قلبِ موضوع ہوگیا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کیا چیزہیں، دنیا کی عقل بھی ان کے برابرکسی کو نہیں ہوتی، ان حضرات کو ہر قسم کا شرف عطا کیا جاتا ہے، جو کام نیابتِ انبیا کا ہے اس کے لیے بھی اس ہی عقلِ کامل کی ضرورت ہے ،اب بتلائیے کہ اولاد کا انتخاب کس قاعدے پرہونا چاہیے اور بنیاد اس کی یہ ہے کہ سمجھتے ہیں کہ عربی پڑھ کر لڑکا کھانے کمانے کے قابل نہیں رہے گا ۔ (دعوات عبدیت ضرورة العلما : ج۱۱/ ص ۸۹)
موجودہ صورت حال :آج کل روٴسا تواپنی اولاد کوعربی پڑھاتے ہی نہیں اورجو کوئی پڑھا تا بھی ہے،تولڑکوں میں جو سب سے زیادہ نکما، بے وقوف ہواسے عربی کے لیے انتخاب کیا جاتا ہے اورہوشیار لڑکوں کو انگریزی پڑھائی جاتی ہے، جب کوئی دوست ان کے گھر آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آپ کے لڑکے کیا کیا پڑھتے ہیں، تو سب سے پہلے انگریزی پڑھنے والوں کوپیش کیا جاتا ہے کہ یہ بی اے پڑھتا ہے، یہ انٹر کے درجہ میں ہے ، یہ مڈل پاس کرنے والا ہے، آخر میں عربی کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ذرا ملانی طبیعت کا احمق سا ہے اس کوعربی پڑھا دی ہے ۔ سبحان اللہ ! آپ نے دین کی خوب قدر کی۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کی یہی قدرہے ،خدا تعالیٰ کے کلام کی یہی عظمت ہے ، بھلا خدا اور رسول کے علم کو سمجھنے والے یہی بے وقوف ہوسکتے ہیں، جن کا آپ انتخاب کرتے ہیں ، اسی کا تو نتیجہ ہے کہ علما کے اندر وہ بات آج نہیں ہے جوان میں ہونی چاہیے ۔ اس پرلوگ کہتے ہیں کہ آج کل رازی اور غزالی نہیں پیدا ہوتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ تم یہ الزام کس کو دیتے ہو ان بے وقوفوں کو رازی غزالی کون بنادے ذہین لڑکوں کو عربی پڑھاوٴ دیکھو وہ غزالی رازی بنتے ہیں یا نہیں ؟ (التبلیغ ص ۱۸۴/ ص ۲۱)
ایک شخص کہنے لگے آپ نے اپنے بھتیجے کے لیے کیا تجویز کیا میں نے کہا عربی پڑھتا ہے تاکہ دین کی خدمت کرے کہنے لگے کہ مدرسہ دیوبند میں ڈیڑھ سوآدمی فارغ ہوتے ہیں، وہ دین کی خدمت کے لیے کافی ہیں آپ نے ان کے لیے انگریزی کیوں نہ تجویز کی تاکہ دنیوی ترقی کرتا، میں نے کہا جناب خادمِ دین ہونا اگر خسارہ کی بات ہے تو کیا وجہ ہے کہ دیوبند کے طلبا کے لیے یہ پست حالت پسند کی جائے؛ بل کہ چلو اوریہ مشورہ دو کہ سب چھوڑ کر انگریزی میں مشغول ہوجاوٴ آخروہ بھی قوم ہی کے بچے ہیں ، اوراگر خادمِ دین ہونا کوئی نافع امر ہے، تو کیا وجہ ہے کہ میرے بھتیجے کے لیے اس کو تجویزنہ کیا جائے آخرخاموش ہوگئے ۔ افسوس کہ دیوبند کے طالب علم ایسے ذلیل کہ جس شغل کو آپ بیکار سمجھ رہے ہیں وہ ا ن کے لیے تجویزکیا جائے اورآپ کی اولاد ایسی محبوب ومعزز کہ اس کے لیے ڈپٹی کلکٹر تجویز کی جائے۔ (دعوات عبدیت ص۵۷/ ج ۱۱)
