قاضی مجاہد اسلام کا ذکر خیر :

معارفِ با ند ویؒ

                فرمایا: ایک مرتبہ قاضی مجاہد الاسلام صاحب یہاں تشریف لائے میں سبق پڑھا رہا تھا، وہ بھی آکرسبق میں بیٹھ گئے، سبق کے بعد کہنے لگے کہ میں تو آپ کو خالی بزرگ سمجھتا تھا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ معقولی بھی ہیں؛پھرفرمایا کہ حضرت قاضی صاحب کو میں بہت پہلے سے جانتا ہوں، بڑے کام کے آدمی ہیں، اللہ پاک ان سے کام لے رہا ہے ۔

شرعی عدالت میں مسلمانوں کو اپنے مسائل حل کرانے کی ترغیب :

                ایک مرتبہ قاضی مجاہد الاسلام صاحبؒ پٹنہ بہار سے ہتورا تشریف لانے والے تھے، حضرت نے ان کے اکرام میں شہرباندا میں جلسہ کا انتظام فرمایا کہ لوگ آپ کے بیان سے مستفید ہوں؛ لیکن اس وقت ملکی اور سیاسی حالات کچھ ایسے تھے کہ شہرباندہ میں جلسہ کرنا مناسب نہ تھا ، لوگ خواہ مخواہ بدنام کرتے، جلسہ گاہ میں اگرایک پتھربھی کسی نے پھینک دیا ، فتنہ فساد ہوجائے گا ۔ بابری مسجد کی وجہ سے حالات میں کشیدگی کچھ اسی انداز کی تھی، اس لیے حضرت نے فرمایا کہ ایسے حالات میں بہتر یہی ہے کہ بجائے باندہ کے ہتورا ہی میں جلسہ کرلیا جائے اورعام لوگوں کو اطلاع کردی جائے؛ چناں چہ ہتورا میں جلسہ کا پروگرام طے ہوگیا اوراطراف میں حضرت نے لوگوں کو اطلاع دے دی ، اور فرمایا کہ کھانے اور واپسی کی سواری کا انتظام بھی یہاں سے کردیا جائے گا۔

                حضرت نے ایک صاحب سے قاضی مجاہدا لاسلام صاحبؒ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ قاضی مجاہدالاسلام صاحب کرتشریف لارہے ہیں ، صوبہ بہار کے نائب امیر شریعت ہیں، بہت بڑے عالم ہیں، شریعت کے مطابق شرعی عدالت میں فیصلے کرتے ہیں ؛اگر مسلمان اس کو تسلیم کرلیں اوراس کے مطابق عمل کریں، تو سارے جھگڑے ختم ہو جائیں ۔آئے دن کچہریوں اورعدالتوں میں جاکرذلیل وخوار ہوتے ہیں، ہزاروں روپیہ برباد کرتے ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا ، ایک مسلمان کی شان تو یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی عدالت میں جاکر شرع کے مطابق فیصلہ کرائے، اوراس کو تسلیم کرے خواہ اس کی مرضی کے موافق ہو یا خلاف ، ہزاروں روپے بچ جائیں گے؛لیکن مسلمان ان باتوں کو نہیں سوچتا۔ اللہ کرے یہاں بھی اس کی کوئی صورت نکل آئے ، اس میں مسلمانوں کا بڑا فائدہ ہے ۔