اس کا نام تقویٰ ہے:

معارف کاپودروی

                حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے یہاں تومعاملات کا عجیب وغریب حال تھا، حضرت ایک مرتبہ بیمار ہوگئے، تو وہاں ایک حکیم صاحب تھے ان سے حضرت کا علاج ہورہا تھا، حضرت بذات خود تشریف لے گئے، بذاتِ خود ان کے مطب میں گئے ، وہ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کو دیکھ کرباہر آگئے اور کہنے لگے کہ حضرت آپ نے زحمت فرمائی آپ کسی کو بھیج دیتے، میں خود حاضر ہوجاتا ؛حضرت نے کہا نہیں حکیم صاحب، اس وقت میں مریض ہوں اورآپ میرے معالج اور طبیب ہیں، میرا یہ فرض ہے کہ میں خود چل کرآپ کے پاس آوٴں۔

                 یہ ہے حقوق کی رعایت ، اس کانام ہے علم ، اوراس کا نام ہے پرہیزگاری، اس کانام ہے تقویٰ ، کہ ہر چیز کی رعایت کی جائے، کہ اس وقت میری اپنی ضرورت ہے اورمیں یہ سمجھوں کہ چلو میں شیخِ وقت ہوں ، لوگ مجھے حکیم الامت کہتے ہیں، اس لیے کہہ دوں کہ حکیم صاحب کو کہو کہ میرے گھرپرآجائیں، حضرت نے فرمایا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، میں صاحبِ ضرورت ہوں، تو مجھے آپ کے پاس آناچاہیے، کتنی موٹی سی بات ہے ۔

                حضرت حکیم الامت کے ایسے پچاسوں واقعات آپ کو ملیں گے، اور حضرت  کے ملفوظات میں وہ اثر ہے کہ آج بھی اگرکوئی غوروفکر سے حضرت کے ملفوظات کو پڑھے گا اورسنے گا تو اس کی زندگی تبدیل ہوجائے گی ، حضرت کے مواعظ اور حضرت کے ملفوظات زندگی کو بدل دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی ایسی باتیں حضرت سے کہلوائی ہیں کہ ہرشخص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ حضرت میرے مرض کا علاج فرمارہے ہیں، یہ عجیب بات ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت کو وہ فہم عطا فرمایا تھا کہ دل کی گرہ کھل جایا کرتی تھی ، ذہن کے اندر جو پریشانیاں ہوں صاف ہوجایا کرتی تھیں اور سب سے زیادہ زور حضرت نے معاملات اور اخلاق کی درستگی پردیا۔

                 بعض لوگ اس کو بالکل معمولی سمجھتے ہیں ، مثلاً میرا مکان ہے اور اس کے باہر میں نے کچرا ڈال دیااور یہ سمجھ رہا ہوں کہ یہ تو میرامکان ہے ، میں نے اپنے مکان سے باہر پھینکا ہے، کسی کو کیا تکلیف ، حضرت فرمایا کرتے تھے کہ نہیں یہ بھی ناجائز ہے ، آپ دوسرے کو اذیت پہنچا رہے ہیں۔