ملفوظا ت وستا نوی
عزیز طلبائے کرام ! قرآنِ کریم کے تعلق سے آپ حضرات کو ہمیشہ یہ بات سمجھا ئی جاتی ہے کہ” قرآنِ کریم “کو تجوید ، ترتیل اور ترجمہ کے ساتھ پڑھنے میں آپ کا میلان ہونا چاہیے ، قرآنِ کریم نے اپنے بارے میں جوStatemant دیا ہے وہ بہت مفید اور کارآمد Statemant ہے ۔ قرآن کریم نے اپنے بارے میں کہا : ” وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ “ تحقیق کہ ہم نے قرآن کریم کو آسان کیا،توکوئی ہے اس کا یا د کرنے والا ۔
قرآن اپنے دعویٰ میں سچاہے، قرآن کے اس دعویٰ میں کہیں کوئی غلطی نہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ قرآنِ کریم مشکل ہے، قرآن کریم عربی زبان میں ہے، لیکن دنیا میں کسی بھی زبان کا بولنے والا بچہ یا فرد قرآن کریم کو حفظ کرنا چاہے تو وہ آسانی سے یاد کرسکتا ہے،کوئی ایسا نہیں کہہ سکتا کہ بھائی میری زبان تو آسامی ہے ، میں قرآن کریم کیسے یاد کروں گا، اسی طرح انگریزی، فارسی اورتلگو وغیرہ پڑھنے والا نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو میری زبان نہیں ہے اسے میں کیسے یاد کروں،دنیا میں کتنی ساری زبانیں ہیں، ہرزبان میں سے آپ کو حافظ قرآن ملے گا ، یہ قرآن کا دعویٰ ہے اور دنیا میں بسنے والے انسانوں کے احوال قرآن کریم کے اس دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں، بعض بچے جن کی زبان میں لکنت ہے، خود میرابھائی حافظ ایوب صاحب- جواس وقت لندن میں ہیں – وہ بات کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کی زبان میں لکنت ہے ، لیکن جب وہ قرآن،نماز اورخطبہ پڑھتے ہیں،تو کوئی لکنت نہیں، ایسے اوربہت ساروں کو میں نے دیکھا جن کی زبان میں لکنت ہے،لیکن قرآن بالکل صاف صاف پڑھتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان میں کوئی لکنت نہیں ۔
اس لیے قرآن کا اعلان ہے : ” وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ “اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کا شغف عطافرمائے ۔ آمین
