سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:
زید نے گنے کی بوائی کی، اورشوگرفیکٹری والوں نے اس کا رجسٹریشن کرلیا کہ ”زید نے اپنی اتنی کھیتی میں گنا لگایا ہے“، اب جب گنا تیار ہوگیا، توشوگر فیکٹری کے کارندوں نے آکر گنے کی کٹائی کی اوراسے شوگر فیکٹری لے گئے، اور کسی ثمن کا تعیُّن نہیں کیا، مثلاً سات سو روپئے ٹن، یا آٹھ سو روپئے ٹن، اوراسی درمیان جب جب زید کو رقم کی ضرورت پڑی، تو شوگر فیکٹری زید کو سودی قرض دیتی رہی اس وعدے پر کہ جب بھی جو بھی قیمت متعین ہوگی، اس سے قرض کی رقم مع سود وصول کی جائے گی، پھر کچھ مدت کے بعد شوگر فیکٹری نے قیمت کو متعین کردیا، اور زید کو قرض پر دی ہوئی رقم اس متعین رقم میں سے سود کے ساتھ وضع کردی گئی، تو کیا اس طرح گنے کی خرید وفروخت اور قیمت کے متعین ہونے سے پہلے تک سودی قرض کا لین دین شرعاً جائز ودرست ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق: ۱- صورتِ مسئولہ میں ثمن کی تعیین کے بغیر گنے کی خرید وفروخت جائز نہیں، کیوں کہ بوقتِ عقد، ثمن مجہول ہے، اور جہالتِ ثمن مفسدِ بیع ہے۔(۱)
۲- سودی قرض کا لین دین تو ہرحال میں حرام ہے، خواہ بوقتِ عقد قیمت متعین ہو یا متعین نہ ہو۔(۲)
(۱) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (وشرط لصحته معرفة قدر) مبیع وثمن ۔ (در مختار) وفي الشامیة : قوله : (وشرط لصحته الخ) وخرج أیضًا ما لو کان الثمن مجہولا کالبیع بقیمة أو برأس ماله ۔ (۴۸/۷ ، ۴۹ ، کتاب البیوع ، مطلب ما یبطل الإیجاب سبعة ، ط : بیروت ، النہر الفائق :۳۴۲/ ۳، کتاب البیوع ، ط : دار الایمان)
ما في ” الموسوعة الفقہیة “ : أما إن کان الثمن غیر مشار إلیه فاتفق الفقہاء علی أنه لا یصح به العقد إلا أن یکون معلوم القدر والصفة؛ لأن جہالته تفضي إلی النزاع المانع من التسلیم والتسلّم ۔ (۱۵/ ۳۴۰، ثمن) (فتاویٰ محمودیه: ۱۴۲/۲۴، ۱۴۳،ط: میرٹھ)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿واحلّ اللّٰہ البیع وحرّم الربوا﴾ ۔ (سورة البقرة :۲۷۵)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : أکل الربوا والعمل به من الکبائر ۔ (۳۶۴:۲ ، الجزء الثالث ، ط: بیروت)
ما في ” رد المحتار “ : کل قرض جرّ نفعًا حرام ۔ (۷/ ۳۹۵، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة) فقط
واللہ اعلم بالصواب
کتبه العبد: مفتی محمد جعفر ملی رحمانی۔ (فتویٰ نمبر:۹۲۹)
