ہذہ اخلاقنا الدر س الثالث
قسط تاسع :
مترجم: محمد بن اسماعیل اشاعتی
معنی حسن الظن :
ہو ترجیح جانب الخیر علی جانب الشر۔
وحسن الظن باللّٰہ والثقة والیقین به سبحانه وتعالیٰ وان کل ما عند اللّٰہ خیر للانسان۔
وحسن الظن بالناس ہو أن نتوقع منہم الخیر ، ونستبعد الشر وسوء النیة حتی تتبین لنا الحقائق۔
حسن ظن نام ہے جانبِ شرپرجانبِ خیرکو ترجیح دینے کا اوراس کی دو قسمیں ہیں : (۱) حسنِ ظن باللہ (۲) حسن ظن بالناس۔
(۱) اللہ سے حسنِ ظن یہ ہے کہ اس پرمکمل بھروسہ اوریقین ہواوراس بات پرایمان ہو کہ اللہ کے پاس جو کچھ بھی ہے انسان کی بہتری اوراُس کی بھلائی کے لیے ہے ۔
(۲)مخلوق سے حسنِ ظن کا مطلب یہ ہے کہ ہرانسان سے خیر کی توقع رکھ کرشراورسوئے نیت کو دور کرے، اس وقت تک جب تک کہ حقیقت کا انکشاف نہ ہوجاوے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک بیمارنوجوان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس نوجوان کی ایک بوڑھی ماں تھی، جس نے دستِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرکلمہ پڑھا تھا،حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب میں اس نوجوان کے پاس کھڑا تھا، توعجیب ماجرا دیکھ رہا تھا کہ لوگ اس مریض نوجوان کے پاس تھوڑا بھی بیٹھتے ،تو اس نوجوان کا مرض شدت اختیارکرجاتا اورلوگوں کی غیبوبت میں وہ راحت محسوس کرتا، چناں چہ اس نوجوان کی تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ وہ نہ بول پاتا اورنہ اشارے ہی کرپاتا ، ہر دوا ناکام ہوگئی اور نوجوان خاموش مجسمہ بن کررہ گیا ، لوگوں نے اس کی موت کا یقین کرلیا اور چہرے کو ڈھانپ دیا پھراس نوجوان کی بوڑھی ماں کی طرف دیکھ کر کہا کہ امر خداوندی پر راضی رہو ، ماں نے کہا کیا میرا بیٹا مرگیا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں! آپ کے بیٹے کی وفات ہوچکی ہے، ماں کی آنکھوں کا بحرِ دموع امڈپڑا، اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اوریوں کہنے لگی :” اللّٰہم انک تعلم انی اسلمت لک وہاجرت إلی نبیک محمد صلی اللّٰہ علیه وسلم رجاء ان تعیننی عند کل شدة ، اللّٰہم فلا تحملنی ہذہ المصیبة الیوم ۔“
باری تعالیٰ تو جانتا ہے کہ میں تجھ پرایمان لائی اور تیرے حبیب کی طرف ہجرت کی، اس امید کے ساتھ کہ تومیری ہر تکلیف میں ناصراورمددگار ہوگا ، اے اللہ !تو آج اس مصیبت کو مجھ پر نہ ڈال، جس کا میں تحمل نہیں کرسکتی ، چناں چہ اچانک لوگوں نے دیکھا کہ وہ نوجوان اپنے چہرے سے چادر ہٹا کر بیٹھ گیایہاں تک کہ اللہ نے اسے شفائے کاملہ عطا فرمائی ۔اس نوجوان نے کھانا تناول کیا اوراس کی والدہ ایک نظر اپنے بچے کی سعادت کو دیکھتی اور دوسری طرف اپنے رب سے حسنِ ظن کا مشاہدہ کرتی جس نے اس کی دعا کے ظنی کلمات کو یقین میں بدل دیا ۔
بیہقی میں یہ روایت کچھ اِس طرح مذکور ہے کہ یہ بوڑھی عورت نابینا تھی اوراس کا اس نوجوان کے علاوہ کوئی بڑھاپے کا سہارانہ تھا ،” ثم قبض فغمضه النّبی صلی اللّٰہ علیه وسلم وأمر بجہازہ “۔ اس کی وفات ہوگئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آنکھوں کو بند کرکے اس کی تجہیز کا حکم فرمایا اور حضرت انس سے کہا اے انس ! اس کی ماں کو بلاوٴ ،وہ نابینا بوڑھی عورت اپنے رب سے حسن ظن رکھتے ہوئے نوجوان کے قدموں کی جانب بیٹھ گئی اور ہاتھ اٹھاکر کہنے لگی اے میرے پرور دگار ! مجھ پراِس مصیبت کی شدت کا تحمل نہیں ہے اورمیں ہرمعاملہ میں تجھ سے حسن ظن رکھتی ہوں ، حضرت انس فرماتے ہیں :
” فواللّٰہ ما انقضیٰ کلامہا حتی حرک قدمیه والقی الثوب عن وجہه وطعم وطعمنا معه وعاش حتی قبض النبی صلی اللّٰہ علیه وسلم وحتی ہلکت امه ۔“
قسم بہ خدا اُس بوڑھی اندھی ماں کا رب سے حسنِ ظن میں وہ گہرا ربط تھا کہ اس کے کلمات کی انتہا نہ ہوئی تھی کہ نوجوان اپنے قدم کو حرکت دیتے ہوئے چادرہٹا کربیٹھ گیا، ہم نے اس کے ساتھ کھانا تناول کیا اوراللہ نے اس کو زندگی بخش دی ؛یہاں تک کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوراس کی والدہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور وہ زندگی کے ایام کی صبح وشام کا گزران کرتا رہا ۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا سوائے آخرت کے ممکن نہیں ، لیکن اس بات کا اقرار بھی ہے کہ اللہ کی ذات قادرغیر مقید ہے ، وہ جب چاہے” یفعل مایشا ء “سب کچھ کرسکتا ہے ، ”وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز “ اس پر کسی کام کا تکلف خلافِ شان ہے، اس بڑھیا کے رب سے حسنِ ظن پرنوجوان کا دوبارہ اٹھ کھڑاہونا اور زندگی کا گزر بسر کرنا یقینا اس کے رب سے حسنِ ظن کا ببانگ دہل پیغام اوراعلان ہے، جو ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اللہ آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا ۔بس فرق یہ ہوگیاہے کہ آج ہم نے اپنے حسنِ ظن کو بد ظنی سے تبدیل کرکے اللہ سے دوری اختیار کرلی اور اپنے تمام مسائل کا حل غیر اللہ کے سپرد کر دیاہے۔
مذکورہ روایت اس امر پر دال ہے کہ رب کریم سے حسن ظن ناممکن شئ کوبھی ممکن بنا سکتاہے ۔
حسن الظن فی القرآن …………(جاری )
