آٹھویں قسط:
تالیف : الدکتور احمد حسین عبد الکریم ترجمانی : محمد مجاہد اشاعتی پھلمبری
مسیلمہ کذاب کا اللہ کے کلام کے ساتھ ناکام معارضہ:
ابنِ کثیررحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت عمروبن العاص جو زمانہٴ جاہلیت میں مسیلمہ کذاب کے دوست تھے اوراب تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے، ایک دن مسیلمہ کذاب کے پاس حاضرہوئے، تو مسیلمہ نے ان سے پوچھا اس مدت میں تمہارے وہ صاحب یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرکوئی وحی نازل ہوئی ہے؟ حضرت عمرو نے جواب دیا ، ہاں ایک مختصر سی نہایت فصاحت وبلاغت والی سورت میں نے ان کے صحابہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، اس نے پوچھا وہ کیا ہے؟ حضرت عمرو نے فرمایا : ﴿والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین اٰمنوا وعملوا الصٰلحٰت وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر ﴾ سورہٴعصرمکمل پڑھ کرسنائی ، مسیلمہ کذا ب کچھ دیرسوچتارہا ، پھر کہنے لگا مجھ پربھی اس جیسی سورت نازل ہوئی ہے،حضرت عمرو نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ تو وہ کذاب یہ بکواس کرنے لگا:
یا وبر یاوبر إنما انت أذنان وصدر وسائرک حفر ونقر
پھرکہنے لگا عمرو !کہو تمہارا کیا خیال ہے؟ حضرت عمرو نے کہا بہ خدا میرا خیال ہے کہ تو خود ہی جانتا ہے کہ مجھے تیرے جھوٹے ہونے کا بہ خوبی علم ہے ۔
”وبر“ بلی جیسا ایک جانورہے ، اس کے دونوں کان ذرا بڑے ہوتے ہیں اورسینہ بھی، باقی جسم بالکل حقیراورواہیات ہوتا ہے ۔ (ابن کثیر )
اس کذاب نے ایسی فضول گوئی اوربکواس کے ساتھ اللہ کے کلام کے ساتھ معارضہ کرنا چاہا ، جسے سن کر حضرت عمروبن العاص جوخوداب تک شرک میں مبتلا تھے، اس کے کذاب اورمفتری ہونا اورنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا ہونا سمجھ گئے، تو اہلِ اسلام اورعقل مندحضرات کے کیا کہنے ۔
مسیلمہ کذاب نے اس کے علاوہ دیگرآیاتِ قرآنیہ کا معارضہ کرنا چا ہاجسے امام خطابی نے ا پنی کتاب ”البیان فی اعجازالقرآن “میں نقل فرمایاہے، لیکن جب ہم اس کذاب کے کلام کو دیکھتے ہیں اوراس کے مجہول معانی پرغورکرتے ہیں تو اسی سے اس احمق اوردجال کا کذب خوب ظاہرہوجاتاہے اوراس کا معاملہ کھل کرسامنے آجاتا ہے۔
بہ طورنمونہ چندیہ ہیں:
یا ضفدع نقی کم تنقین لا الماء تکدرین ولا الوار د تنفرین
الم تر إلی ربک کیف فعل بالحبلی أخرج منہا نسمة تسعیٰ بین شئ أسیف وحشی
الفیل ماالفیل وما ادراک ماالفیل له مشفر طویل ،وذنبه أثیل ، وماذاک من خلق ربنا بقلیل ․اسی بد بخت اورکذاب کے نقش قدم پرچلتے ہوئے قبیلہ بنو تغلب کی ایک عورت سجاح بنت الحارث نے جس سے مسیلمہ کذاب نے شادی کی تھی ، حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہٴ خلافت میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ مجھ پراللہ رب العزت کی جانب سے وحی نازل ہوئی :
یا یہا المتقون لنا نصف الأرض ، ولقریش نصفہا ولکن قریشا قوم یبغون
کفار مکہ نے یہ بھی بہتان باندھا کہ یہ اللہ رب العزت کی جانب سے وحی نہیں؛بل کہ انسانوں میں سے ہی کسی انسان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سیکھتے ہیں،چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کی اورفرمایا :
﴿ولقد نعلم انہم یقولون إنما یعلمه بشر لسان الذی یلحدون إلیه أأعجمی وہذا لسان عربی مبین ﴾اور اے پیغمبر ! ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان کو تو ایک انسان سکھاتا پڑھاتا ہے، حالاں کہ جس شخص کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اوریہ قرآن صاف عربی زبان میں ہے۔
ابنِ کثیر رحمة اللہ علیہ مشرکین کی افترا پر دازی اورجھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مشرکینِ مکہ نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں جو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں ، انہیں یہ قرآن ایک انسان سکھا تا ہے اوراس کی نسبت قریش کے اس عمجی غلام کی طرف کرتے ہیں جو صفا پہاڑی کے پاس خرید وفروخت کیا کرتا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ جاتے اورکچھ باتیں کرلیا کرتے تھے، حالاں کہ یہ غلام عجمی ہونے کی وجہ سے عربی زبان پر قدرت بھی نہ رکھتا تھا، ہاں اپنے مطلب کی بات ٹوٹی پھوٹی زبان میں ادا کرلیا کرتا تھا، اسی لیے باری تعالیٰ نے ان کی افترا پردازی کا جواب اس انداز میں دیا : ﴿ لسان الذی یلحدون إلیه أأعجمی وہذا لسان عربی مبین﴾․
یعنی جو آدمی بہ ذات خود عجمی ہو، زبانِ عربی پرقدرت نہ رکھتا ہو، ایسا آدمی اس شخص کو کیسے سکھا سکتا ہے، جو فصاحت وبلاغت، کمال وسلاست والا قرآن لے کرآیا ہے، جو معانی ومطالب میں آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عزت ورفعت اورقدرو منزلت والا ہے۔ انہیں ذرا بھی سمجھ بوجھ ہوتی تووہ اس طرح نہیں کہتے اور جھوٹ نہ بکتے ۔
محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی غلام جسے جبیر کہا جاتا تھا ،جو بنو حضرمی قبیلہ کے کسی شخص کا غلام تھا اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پہاڑی کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے، اس پر مشرکینِ مکہ نے یہ بکواس کی کہ یہ قرآن اس کا سکھا یا ہو ا ہے، اس پراللہ رب العزت نے مذکورہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی ، عبد اللہ بن کثیر، عکرمہ اورقتادہ فرماتے ہیں اس کا نام یعیش تھا۔
ابن جریر نے بروایتِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ مکہ میں بلعام نامی ایک عجمی غلام تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے پاس آنے جانے کودیکھ کرکفار نے یہ مشہور کردیا کہ یہی بلعام نامی غلام آپ کو قرآن سکھاتا ہے اس پراللہ رب العزت نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
