موسوعة الفقه الاسلامی للتویجری ترجمانی: عبد المتین اشاعتی کانڑگانوی
(۳۷) السَّکَرُ، …شراب یا نشہ آورچیز کا نشہ کرنا،
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰٓأیہا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحونo إنما یرید الشیطٰن أن یوقع بینکم العداوة والبغضآء في الخمر والمیسر ویصدّکم عن ذکر اللّٰہ وعن الصلوة فہل أنتم منتہونo﴾۔
”اے ایمان والو! شراب ، جُوا، بتوں کے تھان اور جُوے کے تیر، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہوشیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دُشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اورنماز سے روک دے، اب بتاوٴ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاوٴگے؟ “۔ (سورہٴ مائدہ: ۹۰، ۹۱)
…” حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرنشہ والی چیز حرام ہے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اُس آدمی کے لیے وعدہ ہے، کہ جو آدمی نشہ والی چیز پیے گا، اسے اللہ تعالیٰ ”طینة الخبال“پلائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ا ! ”طینة الخبال“ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے“۔ (صحیح مسلم:۲۰۰۲،کتاب الأشربة، باب بیان أن کل مسکر خمر وأن کل خمر حرام، باب:۷)
…”حضرت عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرنشہ والی چیز خمر ہے، اور نشہ والی چیزحرام ہے، اورجس آدمی نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ شراب میں مست تھا اورتوبہ نہیں کی، تو وہ آدمی آخرت میں شراب نہیں پیے گا“۔ ( صحیح مسلم:۲۰۰۳،کتاب الأشربة، صحیح بخاری:۵۵۷۵)
(۳۸) الزنا، …زناکرنا،
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ولا تقربوا الزنیٰٓ إنه کان فاحشة وسآء سبیلا﴾ ۔ ”اورزنا کے پاس بھی نہ پھٹکو، وہ یقینی طورپربڑی بے حیائی اور بے راہ روی ہے“۔ (سورہٴ إسراء: ۳۲)
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿الزاني لاینکح إلا زانیةً أو مشرکة والزانیة لاینکحہا إلا زان أومشرک وحُرِّم ذلک علی الموٴمنین﴾ ۔ ”زانی مرد نکاح کرتا ہے تو زناکاریا مشرک عورت ہی سے نکاح کرتا ہے، اورزناکارعورت سے نکاح کرتا ہے تو وہی مرد جو خود زانی ہو، یا مشرک ہو، اوریہ بات مومنوں کے لیے حرام کردی گئی ہے“۔ (سورہٴ نور:۳)
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿الزانیة والزاني فاجلدوا کل واحدة منہما مائة جلدة ولا تأخذکم بہما رأفةٌ في دین اللّٰہ إن کنتم تؤمنون باللّٰہ والیوم الاٰخر ولْیشہد عذابہما طآئفة من االموٴمنین﴾ ۔ ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد، دونوں کو سوسوکوڑے لگاوٴ، اوراگر تم اللہ اور یومِ آخرت پرایمان رکھتے ہو، تو اللہ کے دِین کے معاملے میں اُن پرترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پرغالب نہ آئے، اور یہ بھی چاہیے کہ مومنوں کا ایک مجمع اُن کی سزا کو کھلی آنکھوں دیکھے“۔ (سورہٴ نور:۲)
(۳۹) عمل قوم لوط، … لواطت کرنا،
…ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ولوطاً إذ قال لقومه أتأتون الفاحشة ما سبقکم بہا من أحد من العٰلمین إنکم لتأتون الرجال شہوة من دون النساء بل أنتم قوم مسرفون وما کان جواب قومه إلا أن قالوا أخرجوہم من قریتکم إنہم أناس یتطہّرون فأنجینٰه وأہله إلا امرأته کانت من الغٰبرین وأمطرنا علیہم مطرًا فانظر کیف کان عٰقبة المجرمین ﴾ ۔ ”اور ہم نے لوط کوبھیجا، جب اُس نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم اُس بے حیائی کا ارتِکاب کرتے ہو، جو تم سے پہلے دُنیا جہان کے کسی شخص نے نہیں کی تم جنسی ہَوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو، (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بل کہ تم ایسے لوگ ہوکہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہواُن کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا کچھ اورنہیں تھا کہ : نکالو اِن کو اپنی بستی سے! یہ لوگ ہیں جو بڑے پاک باز بنتے ہیں!پھرہوا یہ کہ ہم نے اُن کو (یعنی لوط علیہ السلام کو) اوراُن کے گھر والوں کو (بستی سے نکال کر) بچالیا، البتہ اُن کی بیوی تھی جو باقی لوگوں میں شامل رہی (جوعذاب کا نشانہ بنے)اور ہم نے اُن پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی، اب دیکھو! ان مجرموں کا انجام کیسا (ہولناک) ہوا؟ “۔ (سورہٴ اعراف:۸۰- ۸۴)
…” حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو تم قومِ لوط کا عمل کرتے ہوئے دیکھو، تو فاعل ومفعول بہ دونوں کو قتل کرڈالو“۔الخ (سنن ابی داود:۴۴۶۲، کتاب الحدود، باب فیمن عمل عمل قوم لوط، باب: ۲۹،سنن ترمذی:۱۴۵۶،کتاب الحدود، حد اللوطی)(جاری…)
