شیخ البانی شیخ شعیب ار نووط رحمة اللہ علیہ کی نظر میں

آخریقسط:

مضمون نگار: مولانا محمد یاسرعبد اللہ

مضمون : تذکرہ وسوانح

شیخ البانیؒ کے علمی کام پرنظرِثانی کی ضرورت:

            انہی امورکی بنا پرمیری دانست میں شیخ ناصرالدین البانی  کے کام پردرجِ ذیل انداز سے نظر ثانی ہونی چاہیے :

            ۱- جن احادیث کو شیخ نے صحیح یا ضعیف قراردیا ہے اوران سے پہلے ائمہٴ متقدمین نے بھی ان کو صحیح یا ضعیف ہی کہا ہے،انہیں اپنے حال پررہنے دیا جائے ۔

            ۲- جن احادیث پرائمہٴ متقدمین کے برخلاف صحت یا ضعف کا حکم لگایا ہے، تو دونوں حکموں میں موازنہ کیا جائے اوردلائل وقرائن کی روشنی میں شیخ ناصر کے موافق یا مخالف حکم بیان کیاجائے ۔

            اپنی سابقہ بات کو دہراتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ شیخ ناصرالدینؒ  ” محدث “ تھے ، میں نہیں کہتا کہ وہ ”حافظ العصر “ تھے، انہوں نے اپنی زندگی کے ساٹھ برس اس علم کے پڑھنے پڑھانے میں صرف کیے ہیں اوراس طویل صحرانوردی نے ان میں فن کی مہارت ولیاقت پیدا کردی تھی ، اس لیے اس میدان میں ان کی مہارت کو کلی طور پر نظر انداز کرنا حق ناشناسی ہوگی ۔

شیخ البانیؒ کا فقہی مقام :

            رہا فقہی میدان تو مجھے ان کا کوئی بھی ایسا مسئلہ یاد نہیں،جس میں ان کی دلیل سے مطمئن ہوکر میں نے ان کی تحقیق قبول کرلی ہو، اس لیے کہ فقہ اُن کا فن ہی نہیں، نہ علمِ حدیث کی طرح فقہ میں ان کا انہماک رہا ہے، درحقیقت انہو ں نے بعض علما کے شاذ مسائل کو لے کران کے ذریعے اپنے منہج کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔

            ۱- مثال کے طورپرسامانِ تجارت میں زکوٰة کے عدم وجوب کے قول کو ہی لے لیجیے، ان سے پہلے علامہ ابن حزمؒ  ” المحلی “ (۲۰)یہ قول ذکر کرچکے ہیں ۔ امامِ شوکانیؒ نے ” الدررالبہیة “ (۲۱)میں اور نواب صدیق حسنؒ نے اس کی شرح ” الروضة الندیة “ (۲۲)میں ابن حزمؒ  کی اتباع کی ہے۔ اوراپنے اس قول کے لیے ان کے پاس سوائے اس کے کوئی دلیل نہیں کہ سامانِ تجارت میں زکوٰة کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث ثابت نہیں۔

            ۲- زرعی پیداوارپرکن صورتوں میں زکوٰة واجب ہے ؟ شیخ امام شوکانیؒ  (۲۳) کی اتباع میں ان کو صرف چاراجناس میں منحصرکردیا ہے : گندم ، جو ، کھجوراور کشمش ۔ اس لیے کہ نص ان چار اشیا کے متعلق ہے اوردیگر اشیا کو ان پر قیاس کرنا درست نہیں ۔ جمہور فقہا سامانِ تجارت میں وجوبِ زکوٰة کے قائل ہیں، نیز وہ شہر کی دیگر مذکورہ اجناسِ اربعہ پراشیا ئے خوردنی کو قیاس کرتے (ہوئے ان میں بھی زکوٰ ة کو واجب قرار دیتے ) ہیں۔

            مجھے تعجب ہے کہ شیخ نے یہ قول کیسے اختیار کرلیا؟حالاں کہ وہ جانتے ہیں کہ تاجر اپنا مملوکہ مال صندوق میں نہیں رکھا کرتا ؛ بل کہ نقصان سے بچاوٴ کے لیے ہمیشہ اسے سامانِ تجارت میں بدلتا رہتا ہے، تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاجر صرف اسی مال کا مالک ہے جو اس کے صندوق میں ہے ، جب کہ اس کے گودام سامانِ تجارت سے اٹے پڑے ہوں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فریضہٴ زکوٰة کے متعلق مقاصدِ شریعت پران کی نگاہ کوتاہ تھی ،نہ ہی وہ اسلام کے اقتصادی نظام سے واقف تھے ۔

            ۳-انہیں شاذ اقوال میں سے ایک عورتوں پرحلقہ بنے سونے کے زیورات کو حرام قرار دینے کا قول ہے ۔

            اس مسئلہ میں شیخ نے علامہ ابن حزمؒ ” المحلی “ (۲۴) کی پیروی کی ہے ، چناں چہ ” سلسلة الاحادیث الصحیحة “ (۲۵) میں بزعم خود حرمت کے دلائل نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

            ” کوئی مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ بات کے خلاف کسی قول کی طرف نگاہِ التفات نہیں ڈال سکتا ،خواہ اس کا قائل علم و فضل اور نیکوکاری میں کیسی ہی شان کا حامل کیوں نہ ہو ،اس لیے کہ بہرحال وہ معصوم تونہیں ، یہی چیز ہمارے لیے اپنے موقف پرجماوٴکا باعث ہے۔ (ہمارا طرزعمل یہ ہے کہ ) کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے ان کے علاوہ کسی کاکوئی اعتبارنہ کیا جائے “ ۔

فہم حدیث میں فقہا کا منہج

            شیخ کا خیال یہ ہے کہ کسی حدیث کوصحیح قراردینے سے مشکل حل ہوجاتی ہے؛حالاں کہ یہ وسعت بہت سے امورمیں خلل کا باعث بن سکتی ہے ۔ ائمہ متقدمین معاذ اللہ ” حدیثِ صحیح “ کے تارک ہرگز نہ تھے ، بل کہ وہ ہر حدیث کواس کامناسب مقام دیتے تھے ، مثلاً حضرت انسؓ  کی اس روایت کو ہی لے لیجیے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض صحابہ نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ ہماری خاطر (اشیا) کی قیمتوں کا تعین فرمادیجیے ، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ : ” إن اللہ ہو المسعر القابض الباسط الرازق “ ۔ ( اللہ تعالیٰ ہی قیمتیں مقررکرنے والا (رزق میں ) تنگی اورکشادگی کرنے والا اوروہی رزق دینے والا ہے ) اس حدیث کو امام ترمذی  نے ” جامع الترمذی “ (۲۶) میں نقل کیا ہے ۔ اس کے باوجود ائمہٴ مجتہدین ” نرخ بندی “ کے قائل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ : ” بلاشبہ یہ حدیث حق وسچ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ،لیکن یہ ” عام مخصوص منہ البعض “ کی قبیل سے ہے ، انہو ں نے اس حدیث کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا ہے ،جس میں بائع ومشتری کا باہمی معاملہ صلاح پرمبنی ہواوردورِحاضر کی طرح ان میں حرص ولا لچ نہ ہو، بلاشبہ ایک ایسے معاشرے میں” نرخ بندی “ ترک کردی جائے گی ، لیکن معاشرتی تبدیلی کی صورت میں قیمتوں کا تعین ناگزیر ہے ۔

            شیخ محمد بخیت مطیعی  نے امام نووی  کی ” المجموع “ کے ” تکملہ “ (۲۷) میں اس مسئلہ کے متعلق علما کے مختلف اقوال جمع کردیے ہیں،لیکن شیخ ناصر الدین ایسے امورکی طرف التفات بھی نہیں فرماتے، ان کے نزدیک(سنداً ) صحیح حدیث کی مخالفت جائزنہیں؛ حالاں کہ ائمہٴ سلف بھی صحیح احادیث کے مخالف ہرگزنہیں تھے، بل کہ وہ احادیث رسول کو واضح فرمادیتے اوراس سلسلے میں وظیفہٴ نبوت کی پیروی کرتے تھے، ( جس کااس آیت میں ذکر ہے ) فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿انا انزلنا إلیک الذکر لتبین للناس مانزل الیہم ﴾ (۲۸) ”اے پیغمبر ! ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے؛ تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کرو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں۔ “ یعنی لوگوں کے سامنے مرادِ باری تعالیٰ کو واضح کریں ، چناں چہ ائمہٴ مجتہدین بھی یہی وضاحت کا فریضہ ادا کرتے تھے ، لیکن وہ معصوم نہیں ہیں۔ خطا و صواب دونوں ہی کا احتمال رکھتے ہیں، البتہ نصوص کے فہم کے لیے جو منہج انہوں نے اختیار کیا ہے وہ شریعت کے درست فہم تک پہنچاتا ہے ۔

            میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ ائمہٴ مجتہدین نے اگر کسی حدیث کورد کیا ہے، توصحابہ  میں بھی اس کے رد کرنے والے ملیں گے اوروہ ایسی احادیث کولیتے ہیں جس پرکسی صحابہ  کا عمل ہو، مثلاً اِسی حدیث کو دیکھیے: ” من مس ذکرہ فلیتوضأ“ ۔ ( جس نے اپنے ذکر کو چھوا تو اسے چاہیے کہ وضو کرے ) اس حدیث کو امام احمد  نے ” مسند احمد “ ۔ (۲۹) میں نقل کیا ہے اور (سنداً ) ” صحیح “ حدیث ہے ،اسی پر امام شافعی  کا عمل ہے ۔

            اب ایک اورحدیث پرنظر ڈالیے : ” إنما ہو بضعة منک “ ۔ (وہ توتیرے جسم کے گوشت کا ہی ایک ٹکڑا ہے )اس حدیث کو بھی امام احمد  نے ” مسند احمد “ ۔ (۳۰) میں نقل کیا ہے اور (سنداً)یہ ” حسن “ ہے۔ امام ابو حنیفہ  اسی کو لیتے ہیں، چناں چہ امام شافعی  کے ہاں ” مسِ ذکر “ ناقض وضو ہے ، جب کہ امام ابو حنیفہ  کے نزدیک ناقض نہیں ۔اور دونوں نے اپنے مذہب کے سلسلے میں اپنے تئیں صحیح احادیث پرہی اعتماد کیا ہے، اسی طرح صحابہ  وتابعین میں سے بھی بعض نے ان میں سے ایک حدیث کو لیا اور بعض نے دوسری حدیث پر عمل کیا ہے ۔

            یہ (فقہی ) اختلاف تو دورِ صحابہ سے چلا آرہا ہے اور صحابہٴ کرامؓ کی تعریف خود اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ہے : ﴿کنتم خیر امة اخرجت للناس﴾(۳۱) ( تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے لائی گئی ہو ) میرا اعتقاد ہے کہ یہ ”خیریت “ محض سلوک میں منحصر نہیں ، بل کہ علم بھی اس کے تحت داخل ہے ۔اس لیے کہ سلوک کی بنیاد توعلم ہے اور وہ علم کا ہی ثمرہ ہے ؛لہٰذا اختلاف جب تک عقل و فہم کے دائرے میں رہے، تو وہ تنوع کا کرشمہ اور اجتہاد وابداع کی جلوہ گاہ ہے ۔اسلام اس کو پسند کرتا اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ؛البتہ جب اختلاف عقل سے قلب کی طرف سرایت کرجائے اور اس کی کوکھ سے باہمی کش مکش ،سب و شتم ، قطعِ تعلق اور کینہ وعداوت جیسے موذی اور باطنی امراض جنم لینے لگیں ،تو وہ شرعاً ممنوع ہوجاتاہے ، اسلام ایسی چیزوں کو کبھی بھی پسند نہیں کرتا ۔

بعض دیگر فقہی آرا:

            شیخ کی بعض فقہی آرا گردو پیش کے زمانے سے ان کی دوری کی دلیل ہیں ۔ ان کے کئی قریبی شاگردوں کے واسطے سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ حرمتِ اختلاط کی بنیاد پرکسی طالب علم یا طالبہ کے جامعات اور یونی ورسٹی جانے کو حرام قراردیتے تھے، گویا اس طرح وہ یونی ورسٹیوں کو مسلمان طلبہ سے خالی کرنا چاہتے تھے؛ نیز وہ مسلمان طلبہ کے ذہنوں میں اسلام کے عمومی اصول راسخ کرنے اوراس کا منہج واضح کرنے کے بجائے بعض ایسی چیزوں کے داعی تھے جن کے ترک سے دورِحاضر میں کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ، مثلاً : داڑھی چھوڑنا اورپتلون ترک کرنا وغیرہ ۔ (حاشیہ ملاحظہ فرمائیں )

            (حاشیہ )زیربحث مسائل کے متعلق اتنی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اسلام غیرمحرم مردو عورت کے اختلاط کو ناپسند کرتا ہے اوراِس پہلو سے اسلامی احکام کا فلسفہ بالکل واضح ہے۔ لہٰذا دورِ حاضر میں عصری تعلیمی اداروں کا مخلوط تعلیمی نظام ،اسلامی مزاج سے قطعاً موافقت نہیں رکھتا۔یہ نظام بے شمار شرعی ، اخلاقی اورمعاشرتی خرابیوں کا باعث ہے ، آئے دن احوال واقعات سے اس بات کی تصدیق ہوتی رہتی ہے، اسی بنا پراہل علم کی اکثریت نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے اوراس کے اصلاح کی تدابیر بھی تفصیلاً تحریری صورت میں آچکی ہیں ،جن کی رعایت کی صورت میں ہی مشروط جواز کی گنجائش نکل سکتی ہے؛البتہ اس نظام کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کے باوجود اس کو قطعی حرام بھی نہیں کہا جاسکتا ، نیز لباس کے متعلق اسلام نے جو اصولی رہنمائی کی ہے اس کی عملی تطبیق امت میں متوارث چلی آرہی ہے ، جس میں اقوامِ غیر کے ساتھ تشبہ سے اجتناب ایک بنیادی اصول کی حیثیت سے کارفرماہے ۔ رہا داڑھی کا مسئلہ تواس کے متعلق نرم موقف رکھنے والے علما کے ساتھ ایک عرصے سے مباحثے جاری ہیں اور جمہوراہل علم وجوب ہی کے قائل ہیں، بہر کیف ان مسائل میں شیخ ارنووط کی تعبیر و تشریح سے کلی اتفاق نہیں کیا جاسکتا ۔

            چناں چہ جس طرح وہ اسلام کے اقتصادی نظام سے نا واقف تھے ،اسی طرح اسلام کے اجتماعی ومعاشرتی نظام سے بھی نا بلد تھے، بل کہ ان کے ہاں عظیم دین کا کوئی جامع نظریہ ہی نہیں ملتا، کیوں کہ اس موضوع کو نہ توانہوں نے پڑھا اور نہ ہی اس طرف توجہ کی ہے ۔

            شیخ ناصرؒ  کی” سلف “ نصوصِ شرعیہ کے گہرے فہم کی بنیاد پر ہے نہ کہ امت پرطاری تقلید ِجامد کو توڑنے کے لیے ، بل کہ یہ ” نصوص کی حرف بہ حرف اتباع “ ہے، جس سے (آج کے دورمیں ) داوٴد ظاہری اورابن حزم کی یادیں تازہ ہوگئیں ہیں۔ ایک ایسی اتباع جس میں دیگر تاویلی وجوہ کا کوئی اعتراف ہی نہیں، اس معنی کے اعتبار سے گویا ” سلفیت “ فقہی مذاہب کی وسعتوں کو مزید تنگی وتشددپر مبنی جمود کی خاطر ترک کرنے کا نام ہے ۔ “

مخالفین کے ساتھ شدت آمیز رویہ:

            ان تمام باتوں کے باوجود میں انہیں ایک ایسا مخلص انسان سمجھتا ہوں، جس نے حصولِ جاہ ومنزلت کے بجائے محض رضائے خداوندی کی خاطر علم حاصل کیا؛ لیکن میں انہیں (ہر نوع کی غلطیوں سے ) پاک نہیں سمجھتا،ان کے اخلاص کے پورے اعتراف کے باوجود اُن کا اپنے مخالفین کے ساتھ سخت رویہ ،جو اہل علم میں ہمیں نہیں دکھائی دیتا، میرے نزدیک قابل تنقید ہے، آپ کا کسی مسئلہ میں ان سے اختلاف کرنا ہی ان کے نزدیک (زبان کے نشتر لگانے کے لیے ) کافی ہے ، پھروہ آپ کوایسے اوصاف سے نوازیں گے جن سے وہ ہمیشہ اپنے مخالفین کی مدح سرائی کرتے رہتے ہیں ۔مثلاً جمہور فقہاکی رائے اختیار کرنے والے کویوں یاد کرتے ہیں : ” ہذا جمہوری “ (یہ جمہور کا پیروکار ہے )گویا یہ کوئی عیب ہے، اسی طرح ” ہذا لا یفقه “ (اس کوسمجھ بوجھ ہی نہیں )” ہذا لیس بفنه “ (یہ اس فن کا آدمی ہی نہیں ) ، ” ہذا لیس عندہ تحقیق “ ( اس شخص کے ہاں تحقیق کا کوئی گزرنہیں ) اوران کے علاوہ ایسے اوصاف کہ جن کو ایک عالم توکجا ، عام آدمی بھی زبان پرنہیں لا سکتا ۔

            شیخ کی یہی شدت ان کے پیرووٴں میں بھی سرایت کر گئی ہے ۔ ان کی آرا کی بنا پرآئے دن مساجد میں ہونے والے جھگڑوں کا ہرایک تذکرہ کرتا ہے کہ ان کی وجہ سے کیسے باہمی عداوتوں تک نوبت جاپہنچی ہے!!

            ہماری معلومات کے مطابق ائمہ متقدمین بھی اپنی آرا کا اظہار کرتے تھے ، لیکن دیگر اہلِ علم کی آرا کا احترام بھی کرتے تھے ۔ وہ اپنے مخالفین کے خلاف جارحانہ کلمات زبان پر نہیں لاتے تھے ، ان ائمہ کا یہ جملہ سب کو یاد ہوگا جوا ُن سے منقول اور مشہور ہے کہ : ” رایی صواب یحتمل الخطأ ، ورایی غیر خطأ یحتمل الصواب “ ۔ (میری رائے درست لیکن غلطی کا احتمال ہے اوردیگر آرا غلط لیکن درستگی کا امکان رکھتی ہیں)نیزامام اسحاق بن راہویہ کے متعلق امام احمد بن حنبل کا یہ جملہ بھی ہمیں یاد ہے کہ : ” ما عبر حبسر بغداد احد عالم من اسحاق بن راہویه ، غیر اننا نخالفه فی اشیا “ ۔ (اسحاق بن راہویہ سے بڑا عالم اس شہر بغداد کے پل سے نہیں گزرا، لیکن کچھ مسائل میں ہمارا ان سے اختلاف ہے )

            شاید شیخ البانیؒ  کا یہ تشدد ائمہٴ کبار کے بیان کردہ اس قاعدہ سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ” لا ینکر المختلف فیه “ (سلف کے درمیان کارویہ اس قاعدے کے برخلاف ہے ، وہ اختلافی مسائل پربھی نکیر کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ۔ انه خیر مسؤل ، والحمدللّٰه رب العالمین ۔

مآخذ ومراجع

            …ملاحظہ فرمائیں :

۱۔ البانی شذوذہ وأخطاہ لمولانا حبیب الرحمن الأعظمی ،مکتبه دار العروبه کویت، ۴۰۴۔ ۱۹۸۴ء

۲۔ تناقضات الألبانی الواضحات فیما وقع له فی تصحیح الأحادیث وتضعیفہا من أخطاء وغلطات للشیخ حسن السقاف ، دارالإمام النووی عمان الأردن ، ۱۴۱۳ھ ۱۹۹۲ء ۔

۳۔خطبة الحاجة لیست سنة فی مستبہل الکتب والمؤلفات للشیخ عبد الفتاح أبو غدہ رحمه اللہ، دار البشائر الإسلامیه بیروت ۔ ۱۴۲۹ھ ۲۰۰۸ء

۴۔التعریف بأوہام من قسم السنن إلی صحیح وضعیف للشیخ محمود سعید ممدوح، دارالبحوث للدراسات الإسلامیة وإحیاء التراث دبئ، ۱۴۲۱ھ ۲۰۰۰ء

۵۔ تنبیه المسلم إلی تعدی الألبانی علی صحیح مسلم للشیخ محمود سعید الموقر۔

۶۔إباحة التحلی بالذہب المحلق للنساء والرد علی الألبانی فی تحریمه للشیخ اسماعیل الأنصاری رحمه اللہ۔

۷۔ تصحیح حدیث صلاة التراویح عشرین رکعة ، والرد علی الألبانی فی تضعیفه ، للشیخ اسماعیل الأنصاری رحمه اللّٰہ

 ۲: …مشکوٰة المصابیح بتحقیق الشیخ الألبانی ، کتاب الإیمان باب الإیمان بالقدر ، ج: ۱ص: ۳۹، رقم الحدیث ۱۱۲، المکتب الإسلامی ، ۱۳۹۹ھ ۱۹۷۹ء

۳: صحیح الجامع الصغیر وزیادته ، ۱۲۰۰/۲، رقم الحدیث: ۷۱۴۲، المکتب الإسلامی ۱۴۰۸ھ۔ ۹۸۸اء

۴: …التکویر : ۸

۵:…سلسلة الأحادیث الصحیحة ، ۴۴۷/۴، ۴۴۸، رقم الحدیث -: ۱۸۳۳، مکتبه المعارف ریاض ، ۱۴۱۵ھ ۱۹۹۵ء

۶:…صحیح مسلم،کتاب صفة القیامة والجنة والنار ،باب ابتداء الخلق وخلق آدم علیه السلام ،۴۴۹/۷، رقم الحدیث: ۷۰۴۹،مکتبة البشری کراتشی ۔

۷:…التاریخ الکبیر، ۴۱۳/۱، ۴۱۴،دائرة المعارف العثمانیة حیدرآباد دکن ۱۳۶۱ھ

۸:…سلسلة الأحادیث الصحیحة ، ۶۴۸/۲۔۶۴۹ ،رقم الحدیث: ۹۵۹۔

۹:…مسند أحمد بتحقیق الشیخ شعیب الارنؤوط، رقم الحدیث: ۱۹۶۷۸،مؤ سسة الرسالة بیروت۔

۱۰:…التاریخ الکبیر ، ۳۸/۱۔۳۹

۱۱:…یہی بات ان کے متعلق ایک اورمعاصر عالم معروف محقق ومحدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ (متوفی ۱۴۲۰ھ ) نے بھی لکھی ہے : ” وإنما ادی إلی ہذا الشذوذ اعوجاج فہمه لبعض النصوص لضعف معرفته بأصول الفقه ، بل اصول الروایة والدرایة ایضًا“ ۔(خطبة الحاجة لیست سنة فی مستہل الکتب والمؤلفات ، ص : ۵۲)۔(بعض نصوص میں کج فہمی نے ان (شیخ البانی رحمہ اللہ)کو اس شذوذ تک پہنچادیا ہے ، اور اس کی وجہ اصول فقہ بل کہ اصول روایت ودرایت سے واقفیت کی کمی ہے۔ )

۱۲…مسند أحمد رقم الحدیث : ۱۸۸۷۰۔

۱۳:…سلسلة الأحادیث الصحیحة ، ۵۵۲/۷،رقم الحدیث : ۳۱۸۱۔

۱۴:…التوبه: ۳۱

۱۵:…سنن الترمذی بتحقیق الدکتور بشار عواد معروف، أبواب تفسیر القرآن ، باب ” ومن سورة التوبة “ ۱۷۳/۵، رقم الحدیث: ۳۰۹۵،دار الغرب الإسلامی بیروت، ۹۹۸ء

۱۶:…صحیح الترمذی ،۵۶/۳، رقم الحدیث : ۲۴۷۱، المکتب الإسلامی ۱۴۰۸ھ ۱۹۸۸ء

۱۷:…سلسلة الأحادیث الصحیحة ، ۸۶۶/۷،رقم الحدیث: ۳۲۹۳۔

۱۸:…روح المعانی ،تفسیر قوله تعالیٰ : ” اتخذوا أحبارہم “ (التوبة: ۱۳)۲۷۶/۵، دار الکتب العلمیة بیروت ، ۱۴۲۶ھ ۲۰۰۵ء

۱۹:…سلسلة الأحادیث الضعیفة ، ۵۷/۱،رقم الحدیث: ۴۰، و۶/۲، رقم الحدیث: ۵۱۰، المکتب الإسلامی ۱۴۰۵ھ ۱۹۸۵ء

۲۰:…المحلی ، کتاب الزکوٰة ، باب أحکام التجارة ،۲۳۳/۵، ۲۴، دار التراث القاہرة

۲۱:…الدرر البہیة ، کتاب الزکاة، باب زکاة الذہب والفضة،ص ۲۲،مکتبة الصحابة طنطا مصر ۱۴۰۸ھ ۱۹۹۰ء

۲۲:…الروضة الندیة شرح الدرر البہیة ، کتاب الزکاة، باب زکاة الذہب والفضة ، ۲۸۶/۱، المکتبة العصریة بیروت ۱۴۱۸ہ ۱۹۹۷ء

۲۳:…نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار من أحادیث سید الأخیار، کتاب الزکاة ، باب الزروع والثمار ، ۱۶۱/۴، مکتبة مصطفی البابی مصر۔

۲۴:…المحلی ، باب أحکام لبس الحریر والذہب ، ۸۴/۱۰۔

۲۵:…سلسلة الأحادیث الصحیحة ، ۵۹۶/۱، رقم الحدیث: ۳۳۷۔

۲۶:…سنن الترمذی ،أبواب البیوع ، باب ماجاء فی التسعیر ،۵۷۲/۲، رقم الحدیث: ۱۳۱۶

۲۷:…تکملة المجموع شرح المہذب،کتاب البیوع،باب النجش ،۱۰۹/۱۲، ۱۲۱، دارإحیاء التراث العربی ۱۹۹۵ء

۲۸:…النحل:۴۴۔۲۹:…مسند أحمد،رقم الحدیث: ۲۷۲۹۳۔

۲۹:…رقم الحدیث : ۱۶۲۸۶

۔۳۰…آل عمران: ۱۱۰۔