تحریر: مفتی محمد اکبر/ 26 اپریل 2026ء /مصنف آؤ رب سے باتیں کریں
مغرب میں بچوں کی تربیت پرجوکچھ لکھا یا بولا جاتا ہے، عام طورپراس کا تعلق یا توعقل وذہن کے ساتھ ہوتا ہے جسے” مینٹل ہیلتھ“ کہا جاتا ہے، یا جسم کے ساتھ ہوتا ہے جسے” فزیکل ہیلتھ“ کہا جاتا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں چند دعائیں یاد کرانے یا کچھ سنتوں پرعمل کرانے کا نام تربیت رکھا گیا ہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام بچوں کی تربیت میں سب سے پہلے دل پرفوکس کرتے تھے، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کردیا جائے کہ وہ جہاں بھی جائیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق کونہ توڑیں۔ بچپن ہی سے انہیں احساس ہوجائے کہ ہمارا سب سے بڑا محافظ، ہم سے محبت کرنے والا، محبت کونبھانے والا اوردنیا وآخرت کی ہرگھڑی میں کام آنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ باقی سب سہارے عارضی ہیں۔ اس پرکئی واقعات کوذکرسکتا ہوں لیکن ذیل میں ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک مثال لیتے ہیں:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سواری پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا تھا کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یا غلام!: اے لڑکے!
عربی کے اس لفظ میں ایک گہری جذباتی وابستگی ہے۔ آج کی زبان میں اسے rapport building کہا جاتا ہے کہ بچہ ہمارے لفظوں سے پہلے ہمارے لہجے کونوٹ اورمحسوس کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لینے کے بجائے یا غلام! کہہ کران کی مکمل توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ اورغلام کے لفظ سے معلوم ہوا کہ وہ ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔
پھرفرمایا:
”انی اعلمک کلمات“: میں تمہیں چند باتیں سکھانے لگا ہوں۔
یہ جملہ ارشاد فرما کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات سنانے کے لیے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کومینٹلی تیارکیا کہ جو بات کہنے والا ہوں، وہ بہت اہم ہے۔ اسے اپنے لیے بوجھ نہ سمجھنا کیوں کہ یہ علم ہے اورعلم بوجھ نہیں ہوتا،علم ایک روشنی ہے جوزندگی بھرانسان کو راہ دکھاتی رہتی ہے۔
”احفظ اللّٰہ یحفظک“: تم اللہ کے حقوق اورحدود کی حفاظت کرنا، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔
یعنی اللہ تعالی نے تمہیں جتنی نعمتیں دے رکھی ہیں، ان کا صحیح استعمال کرنا جیسے: آنکھ سے بے حیائی کا ارتکاب نہ ہو، زبان سے جھوٹ اورغیبت نہ ہو، کان غلط بات نہ سنیں، پیٹ میں حرام لقمہ نہ جائے، دماغ اوردل غلط خیالات وجذبات کوجگہ نہ دیں، شرمگاہ کی حفاظت ہو۔ جب تم اس طرح اللہ کے ہرحق اور اس کی نعمت کی حفاظت کرو گے تو وہ تمہاری دنیا اورآخرت، جسمانی اور روحانی ہرطرح کی حفاظت کرے گا۔
ہم زیادہ سے زیادہ چند دنوں یا چند سالوں کے لیے اپنی اولاد کی حفاظت کرسکتے ہیں اور وہ بھی چند محدود چیزوں جیسے: کھانے پینے، کپڑے، تعلیم اور رہائش وغیرہ میں۔ لیکن اللہ تعالی ایسا محافظ ہے کہ وہ ماں کے پیٹ میں بھی حفاظت کرتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اورقیامت کے دن بھی (جب کہ والدین اپنی اولاد سے بھاگ رہے ہوں گے کہ کہیں اولاد دیکھ نہ لے)۔ پھراللہ کی حفاظت میں دین کی حفاظت بھی ہے۔ اگراولاد کا دین خراب ہوجائے تو والدین بے چارے کچھ نہیں کرسکتے لیکن اللہ تعالی پیشانی کے بالوں سے پکڑکربھی دین کی طرف لاسکتا ہے۔
احفظ اللّٰہ تجدہ تجاھک: اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا،اللہ کواپنے سامنے پاؤ گے۔
بعض محدثین نے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس جملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں احسان کی کیفیت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا کہ جب تم اللہ کے حکموں پرعمل کرو گے اوراس کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ گے تو تمہیں احسان کی کیفیت نصیب ہوجائے گی۔ ہروقت اللہ کا دھیان رہے گا اور ایسا محسوس ہوگا جیسے اللہ تعالیٰ تومیرے سامنے ہیں۔ اس کو آج کی سائیکالوجی میں” سیلف ریگولیشن“ کہا جاتا ہے کہ بچہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اپنے آپ کوکنٹرول کرے اورہراُس کام سے بچے جواس کے لیے دین ودنیا کے اعتبار سے نقصان دہ ہے۔ یہ وہ شعوری تربیت ہے جس کے زیرِ سایہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے مفسرقرآن پروان چڑھے۔
بعض محدثین نے اس کا مطلب یہ بھی لیا ہے کہ جب تم اللہ کے حقوق ادا کرو گے تواس کی مدد ونصرت ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ مشکل وقت میں تم اکیلے نہیں رہوگے۔ زندگی کے تاریک راستوں میں تمہیں اللہ کی ہدایت کا نورجگمگاتا نظرآئے گا۔
اذا سالت فاسئل اللّٰہ، و اذا استعنت فاستعن باللّٰہ: جب سوال کروتواللہ سے کرو۔ جب مدد مانگوتواللہ سے مانگو۔
یہ جملےdependency کولوگوں سے اللہ کی طرف شفٹ کررہے ہیں۔ چوں کہ بچے کے ابتدائی سال ماں باپ کے سہارے گزرتے ہیں، وہ ہرچیزماں باپ سے مانگتا ہے جس سے لوگوں سے سوال کرنے کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے انحصاریت والے مزاج کو لوگوں سے کم کر کے اللہ کی طرف پھیررہے ہیں کہ بیٹا! لوگ بھی تمہاری طرح اللہ کے محتاج ہیں۔ ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ لوگوں سے مانگنے والے عزت کھوبیٹھتے ہیں جب کہ اللہ سے مانگنے والے زمانے میں سب سے عزت داربن جاتے ہیں۔
واعلم ان الامة لو اجتمعوا۔۔۔: اوراس بات کا یقین کرلوکہ اگر تمام لوگ مل کرتمہیں کوئی نفع پہنچانا چاہیں تواس سے زیادہ نہیں پہنچا سکتے جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اوراگرساری انسانیت تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو وہ اس سے زیادہ نہیں پہنچا سکتے جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔
یہ ایسے جملے ہیں کہ بچے کوایک ہی وقت میں اپنی اورلوگوں کی حیثیت کا علم ہوجاتا ہے۔ وہ جان جاتا ہے کہ تقدیر کے صفحوں کے سامنے ساری انسانیت عاجزہے۔ میرے نفع و نقصان کا مالک نہ میں خود ہوں، نہ لوگ ہیں،بل کہ صرف اللہ ہے۔ ساری دنیا مل کرنہ میری زندگی سنوارسکتی ہے، نہ بگاڑ سکتی ہے۔
رفعت الاقلام و جفت الصحف: قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔
یعنی ہرانسان کی تقدیرلکھی جا چکی ہے۔ اب وہ تدبیرکرے گا اورتدبیرسے وہی حاصل ہوسکتا ہے جو لکھا گیا ہے۔ نہ اس سے زیادہ، نہ اس سے کم۔
اس جملے کو سننے کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ تقابل ختم ہو جاتا ہے جوعام طورپربچوں یا نوجوان نسل میں پایا جاتا ہے کہ فلاں کے پاس فلاں چیز ہے تو میرے پاس کیوں نہیں؟ فلاں ایسے کرتا ہے تو میں کیوں نہیں کرپاتا؟ یہ تقابل اس وقت زور پکڑتا ہے جب یہ بات معلوم نہ ہو کہ جو میرے لیے لکھا گیا ہے، وہ مجھے مل رہا ہے، ملتا رہے گا۔ اورجو دوسرے کے لیے لکھا گیا ہے، وہ اُسے مل رہا ہے اورملتا رہے گا۔
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے اوریہ صحیح حدیث ہے۔ اس میں کچھ اورجملے بھی ہیں جودیگرمحدثین نے ذکرکیے ہیں۔ لیکن ہمارا مقصد واضح ہوگیا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کس طرح بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اوراس کے افعال کی محبت پیدا کرتے ہیں۔ شروع ہی سے انہیں اللہ تعالیٰ کا بندہ بن کرزندگی گزارنے کے گُرسکھاتے ہیں۔ پھروہ بچے زندگی بھران باتوں کونہ صرف یاد رکھتے ہیں، بل کہ امت تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ادا کرتے ہیں۔ ربِ محبت ان تمام پاکیزہ نفوس پرکروڑہا رحمتوں کا نزول فرمائے۔
