(تقوی-اخلاص-توکل-صبر-شکر کی جامع تعریفات)
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
تقویٰ :
ہراچھے کام کے کرنے اوربرائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ضمیر کا احساس بیداراوردل میں خیروشرکی تمیز کے لیے خلش ہو، یہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔
اخلاص:
پھراس کام کوخدائے واحد کی رضامندی کے سوا ہرغرض وغایت سے پاک رکھا جائے، یہ ’’اخلاص‘‘ ہے۔
توکل :
پھراس کام کے کرنے میں صرف خدا کی نصرت پربھروسہ رہے، یہ ’’توکل‘‘ ہے۔
صبر:
اس کام میں رکاوٹیں اوردقتیں پیش آئیں یا نتیجہ مناسب حال برآمد نہ ہو تودل کومضبوط رکھا جائے اورخدا سے آس نہ توڑی جائے اوراس راہ میں اپنے برا چاہنے والوں کا بھی برا نہ چاہا جائے، یہ ’’صبر‘‘ ہے۔
شکر:
اوراگرکامیابی کی نعمت ملے تواس پرمغرورہونے کی بجائے اس کوخدا کا فضل وکرم سمجھا جائے اورجسم وجان اورزبان سے اس کا اقرارکیا جائے اوراس قسم کے کاموں کے کرنے میں اورزیادہ انہماک صرف کیا جائے، یہ ”شکر“ہے۔
(سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، جلد پنجم، صفحہ: ۲۲۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
