پہلی قسط:
مضمون نگار : مولانا محمد یاسر عبد اللہ
مضمون : تذکرہ وسوانح
شیخ ناصرالدین البانی (۱۳۳۲ھ۔۱۹۱۴ء/۱۴۲۰ھ۔۱۹۹۹) گزشتہ صدی میں عرب دنیا کے معروف عالم گزرے ہیں ۔ ابتدائے عمر میں ہی ان کا خاندان البانیہ سے ہجرت کرکے شامی شہر دمشق میں آبسا اور وہیں شیخ کی علمی نشو ونماہوئی ، بعد میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور دیگر تعلیمی اداروں کی رونق بنے ۔ ان کا اختصاصی فن ”علم حدیث “ تھا ۔آغازِ شباب میں ہی اس علم سے رشتہ جوڑا اور پھر تادمِ آخراسی کے ہورہے، اکثرعلمی کاوشیں اسی علم کی خوشہ چینی کا ثمرہ ہیں ۔ اپنی بعض منفرد تحقیقات کی بناپر معاصرِاہل علم کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں ،(۱) انہی ناقدین میں سے ایک عصرِ حاضر کے معروف محقق شیخ شعیب ارنووٴط بھی ہیں، جو خود بھی البانوی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اوران کا خاندان بھی شام کی طرف ہجرت کرکے یہیں بس گیا تھا ۔ شیخ البانی کے ساتھ ان کے خاندانی تعلقات استواررہے ہیں، کچھ عرصہ قبل شیخ ارنوٴوط کے ایک شاگرد شیخ ابراہیم زبیق نے ان کے حالات اورعلمی خدمات پرایک کتاب ترتیب دی تھی ، جو ” المحدث العلامه الشیخ شعیب الارنوٴوط، سیرته فی طلب العلم وجہودہ فی تحقیق التراث “ کے نام سے عالمِ عرب کے معروف اشاعتی ادارے ”دارالبشائر الاسلامیہ بیروت“ سے شائع ہوکرمنظرعام پرآچکی ہے ۔ اس کتاب کے ایک حصے میں شیخ البانی کی تحقیقات کے متعلق ان کی بعض تنقیدی آرا کا تذکرہ ہے ۔ علمی دنیا میں اختلاف کوئی انہونی چیز نہیں ”آدابِ اختلاف“ کی رعایت رکھتے ہوئے متانت کے ساتھ شائستہ لب و لہجے اور سنجیدہ اسلوب میں اپنی آرا کا اظہار، معتدل مزاج اہلِ علم کا امتیازی خاصہ رہا ہے ۔ شیخ ارنوٴوط کی یہ تحریر بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ؛چوں کہ شیخ بذات خود ایک نام ورمحقق ہیں، شیخ البانی سے ان کے خاندانی مراسم رہے ہیں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے کے مواقع انہیں حاصل رہے ہیں، اوران کی کتب وتحقیقات پر بھی وہ گہری نگاہ رکھتے ہیں ، اس لیے تحریر کے مندرجات سے کلی اتفاق نہ ہونے کے باوجود ان کا یہ علمی نقد وتبصرہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا، اسی نقطہٴ نظر کے تحت کتاب کے اس حصے کو اردو ترجمانی کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جارہا ہے ۔ (مرتب )
شیخ البانیؒ کا کارنامہ
مجھے اس حقیقت کے اظہار میں کوئی تردد نہیں کہ شیخ ناصرالدین البانی کو بیک وقت اپنے موافق ومخالف دونوں طبقوں میں علم حدیث کے مطالعے اوراس میں مزید تحقیق وجستجو کا شوق ورغبت پیدا کرنے کا شرف حاصل ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ (ماضی قریب میں ) انہیں کے دم سے مصر وشام میں حدیثی مشاغل کو دوبارہ توانائی نصیب ہوئی ہے۔ اس کا رنامے پراللہ تعالیٰ ان کو مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیرعطا فرمائے اوراس کا اجروثواب ان کے نامہٴ اعمال میں محفوظ فرمائے؛لیکن وہ اس میدان کے پہلے شہسوارنہیں تھے، ان سے قبل مصرمیں شیخ محمد رشید رضا، شیخ احمد شاکراوران جیسے دیگر ازہری علما اورشام میں شیخ جمال الدین قاسمی اورشیخ محمد بہجة البیطار جیسے (محدثین) گزرچکے ہیں ، بنابریں انہیں ترکِ تقلید ورجوع إلی السنة کا داعیٴ اول نہیں قراردیا جاسکتا؛لیکن انہوں نے اپنے ان پیش روٴوں کے سنجیدہ واطمینان بخش اسلوب سے استفادہ نہیں کیا؛ بل کہ مخالفین کے ساتھ اشتعال انگیزاندازاپنایا، گویا (اس طرزعمل سے ) وہ ا نہیں قائل کرنے کے بجائے شکستہ کردینا چاہتے تھے ، نتیجتاً (مسلمانوں کے ) دو طبقوں کی درمیان ایسی معرکہ آرائی ہوئی کہ جس میں علمی مباحثہ ومناقشہ کی بجائے سب وشتم تک نوبت جا پہنچی ۔
مجھے اس بات کا بھی انکار نہیں کہ شیخ کتاب وسنت کے داعی تھے جو بلاشبہ آئندہ راہ ہے؛لیکن در حقیقت وہ اپنی تحقیق کی روشنی میں صحیح قرارپانے والی احادیث وسنن کی طرف دعوت دیتے تھے، ان کی چاہت تھی کہ ان کی تصحیح کو ائمہٴ متبوعین کے اجتہاد کے برابر درجہ حاصل ہواورمتنازع مسائل میں انہی کی رائے ” قولِ فیصل “ قرارپائے، لیکن یہ مقام نہ انہیں حاصل ہوا اور نہ ا ن کے علاوہ کسی کے حصے میں آ یا ، اس لیے کہ (ائمہ، فقہا) کا یہ اختلافِ محمود اللہ تعالیٰ کا پسند فرمودہ ہے اوراس کے پیدا کردہ اسباب کے تحت وجود میں آیا ہے ۔
(غور کیجئے کہ ) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو محض بارگاہِ رسالت سے علم حاصل کرنے والے تھے؛لیکن اس کے باوجود بعض مسائل میں ان کے درمیان بھی اختلاف ہوا ہے ۔ نیز اختلافی مسائل میں سے جس مسئلے میں بھی ائمہ نے نصوص کی بنیاد پرکوئی قول اختیارکیاہے ، اس کی نظیر صحابہ وتابعین میں ملتی ہے، فقہی مسائل میں اختلاف کاآغازعہدِ صحابہ میں ہی ہوچکا تھا اور یہ عین منشأ خداوندی کی تکمیل تھی، اسی کا ثمرہ ہے کہ ہماری اسلامی تہذیب میں تنوع اورفہم کے دائروں میں وسعت دکھائی دیتی ہے، جس میں فکری واختراعی مقابلے کے لیے کھلا میدان مہیا ہے؛اگرعلمی اختلاف نہ ہوتے تو یہ عظیم تالیفات منظر عام پرنہ آتیں، جن کی بدولت دورِ تدوین سے آج تک ہمارے کتب خانے بھرے پڑے ہیں ۔
علم حدیث اور شیخ البانیؒ
شیخ ناصرالدین کا امتیازی فن ” علم حدیث “ ہے، اس علم کے مطالعہ وتحقیق میں شیخ نے اپنی زندگی کی طویل مدت تقریباً ساٹھ برس صرف کیے ہیں؛ البتہ شیخ کو اس فن میں دیگر محدثین کا سامقام ہی حاصل ہے، یعنی ان سے خطأ و صواب دونوں کا صدورہوا ہے ۔
” نقد متن“ کی طرف سے عدمِ التفات
مجھے شیخ کی اس بات سے بے حد تعجب ہے کہ انہوں نے ” علم مصطلح الحدیث “ میں ضرور پڑھا ہوگا کہ ”حدیثِ صحیح وہ ہے کہ جس کی سند راوی سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ہو اوروہ روایت علت یا شذوذ سے خالی ہو “ ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ احادیث پرحکم لگانے کی سلسلے میں نہ انہوں نے ” شذوذ “ اور” علت “ کی طرف توجہ کی ، نہ متن حدیث پرنقد کرتے ہوئے ان سے اعتنا کیا ، لہٰذا ان کے ہاں اسناد ” صحیح “ ہو تو حدیث بھی ” صحیح “ قرار پاتی ہے؛یہی وجہ ہے کہ انہو ں نے ایسی بہت سی احادیث کو ” صحیح “ قرار دیا ہے، جن کے متون پرعلما کوکلام ہے، مثلاً :
۱-” مشکوٰةالمصابیح “ (۲) اور”صحیح الجامع الصغیر“ (۳) کی روایت ہے : ” الوائدة والموؤدة فی النار“ ۔ (بچی کوزندہ گاڑ نے والی عورت اورجس کوگاڑا گیا ہو دونوں دوزخ میں ہیں ) شیخ البانی نے اس روایت کو ”صحیح “ کہا ہے ؛حالاں کہ یہ حدیث ، قرآنی آیت ” وإذا الموؤدة سئلت “ (۴) اورجب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جاوے گا ) کے صراحتاً خلاف ہے، اگرچہ شیخ نے اس کی دل نہ لگتی توجیہ وتاویل پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
۲- ” سلسة الأحادیث الصحیحة “ (۵) میں شیخ نے درجِ ذیل روایت کو ” صحیح “ قرار دیا ہے: ” إن اللّٰہ خلق التربة یوم السبت “ (اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا کیا ہے ) اس روایت کو امام مسلم نے بھی ” صحیح مسلم “ (۶) میں اسی طرح نقل کیا ہے، لیکن یہ حدیث قرآن کریم کے متعارض ہے ۔ نیزسند میں اسماعیل بن امیہ کی وجہ سے اس کو ” معلول “ بھی کہا گیا ہے ، اس لیے کہ اسماعیل نے اس کودرجِ ذیل سند کے ساتھ روایت کیا ہے : ” اسماعیل ، عن ایوب بن خالد، عن عبد اللہ بن رافع ، مولی ام سلمة عن ابی ہریرة مرفوعاً ۔
اسماعیل ہی نے اس روایت کو ” عن ابراہیم ابن ابی یحیٰ ، عن ایوب بن خالد“ کے طریق سے بھی نقل کیا ہے اورچوں کہ ابراہیم ” متروک“ ہیں، اس لیے اسماعیل نے ان کو سند سے ساقط کردیا۔ امام بخاری نے بھی ”التاریخ الکبیر “ (۷) میں اسماعیل بن امیہ ہی سے یہ روایت نقل کی ہے ، امام موصوف نے بعض محدثین کا قول نقل کیا ہے کہ : ” عن ابی ہریرة عن کعب “ اصح ہے ، یعنی یہ روایت کعب احبار کی اسرائیلیات میں سے ہے؛لیکن شیخ ناصر الدین نے امام بخاری پررد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : ” یہ بعض کون ہیں؟ اورحفظ وضبط کے اعتبار سے ان کا کیا مقام ہے؛تاکہ اس روایت کو عبد اللہ بن رافع کی روایت پرترجیح دی جاسکے ؟ ۔ “ آگے لکھتے ہیں کہ : ” یہ حدیث قرآنِ کریم کے خلاف نہیں،جیسا کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے ۔“لیکن عدمِ مخالفت پرکوئی دلیل ذکرنہیں کی ۔
۳- ” سلسلة الأحادیث الصحیحة “ (۸) میں درج ذیل روایت کو شیخ نے ” صحیح “ قرار دیا ہے : ” امتی امة مرحومة ، لیس علیہا عذاب فی الآخرة ، وإنما عذا بہا فی الدنیا “ ۔ ( میری امت پرخدا کی خاص رحمت ہے، اس کے لیے آخرت میں کوئی عذاب نہیں، اس کا عذاب دنیا میں ہی ہے ) اورتصحیح کی علت بیان کرنے کی کوشش یوں کرتے ہیں کہ : ” امت سے مراد امت کی اکثریت ہے، اس لیے یہ بات تو قطعی ہے کہ بعض لوگ گناہوں سے پاکی حاصل کرنے کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے “ ۔ ہم نے ” مسند احمد “ (۹) کی تعلیق میں اس حدیث کو ضعیف قراردیا ہے، اورفن حدیث کی ماہر ’ امام بخاریؒ نے بھی” التاریخ الکبیر“ (۱۰) میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، اس لیے کہ انہوں نے اس حدیث کے طرق اوراس میں اضطراب بیان کرنے کے بعد لکھا ہے : ” والخبر عن النبی صلی اللّٰہ علیه وسلم فی الشفاعة، وإن قوما یعذبون ثم یخرجون اکثرو بین اشہر“ یعنی ” شفاعت اورکچھ لوگوں کو عذاب دے کرجہنم سے نکالے جانے کے متعلق بہت سی احادیث ہیں، جو زیادہ واضح اور مشہور ہیں “ ۔
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ نے سند کا اضطراب بیان کرنے کے ساتھ متن پربھی نقد کیا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ یہ روایت ان صحیح احادیث کے خلاف ہے، جو (کثرت کی بنا پر)تواتر کے قریب ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ : ” امتِ محمد یہ کے کچھ لوگ ابتدا ء ً جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے نکالے جائیں گے “ ۔
بہرِ کیف شیخ ناصرالدینؒ ” نقد متن “ کی طرف چنداں توجہ نہیں کرتے تھے (۱۱) ، ان کا دعویٰ تھاکہ متقدمین نے ” نقد متن “ کے لیے کوئی منہج متعین نہیں کیا اورنہ ہی اس کے طے شدہ ضوابط ہیں؛حالاں کہ یہ ایک کمزورنکتہ نظر ہے ، ہمارے اس موقف کی دلیل کے طورپرشیخ کی کتاب ” الإجابة فیما استد رکته عائشة علی الصحابه “ کافی ہے ، جس کا موضوع ” نقد متون “ ہی ہے ۔
”شذوذ “ اور زیادت ثقہ “ میں عدمِ تفریق
میرے نزدیک ایک اور قابل گرفت بات یہ ہے کہ شیخ ” لفظِ شاذ “ اور” زیادتِ ثقہ “ کے درمیا ن فرق نہیں کرتے، اس مسئلے میں ان کا حال متاخر محدثین جیسا ہے ؛حالاں کہ ” شذوذ “ اور”زیادت ثقہ “ دونوں واضح اصطلاحات ہیں اور (محدثین کے ہاں )معروف ہے کہ ” لفظ شاذ وہ ہے جس کو کسی شیخ کا ایک روای اکیلا اپنے شیخ سے روایت کرے ؛جب کہ دیگر شاگرد اس کو نقل نہ کرتے ہوں “۔ اب اس راوی سے کہا جائے گا کہ آپ یہ لفظ کہاں سے لائے، جس کو ایک بڑی جماعت آپ کے شیخ سے روایت نہیں کرتی ؟ ۔
ائمہ ٴ متقدمین ،امامِ متقن کی ” زیادت ثقہ “ کو قبول کرتے تھے ، نیز ” زیادتِ ثقہ “ اور” شذوذ “ کے درمیان فرق کے قائل تھے، اس سلسلے میں مجھے حضرت وائل بن حجرکی حدیث یاد آرہی ہے، جو بحالتِ تشہد انگشتِ شہادت کو حرکت دینے کے متعلق ہے، اس روایت میں عاصم بن کلیب سے صرف ایک راوی زائدہ بن قدامہ نے ” یحرّکہا“ کا لفظ نقل کیا ہے، عاصم کے باقی شاگرد: عبد الواحد بن زیاد، شعبہ، سفیان ثوری، زہیربن معاویہ، سفیان بن عیینہ، سلام بن سلیم ابو احوص ، بشر بن مفضل،عبد اللہ بن ادریس ، قیس بن ربیع ، ابوعوانہ اور خالد بن عبد اللہ واسطی ” یحر کہا “ کی بجائے ” یشیر بہا “ کے الفاظ نقل کرتے ہیں، میں نے ” مسند احمد “ کی تعلیق میں ان تمام طرق کی تخریج کی ہے ۔ (۱۲)
شیخ ناصر نے ” سلسلة الأحادیث الصحیحة “ (۱۳) میں لفظ ” یحر کہا “ کو ” صحیح “ قرار دینے کی علت یہ بیان کی ہے کہ : ” لفظ اشارہ ‘ تحریک کے منافی نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اشارہ کے الفاظ ” تحریک “ کے متعلق صریح نہ ہوں گے، لیکن منافی بھی نہیں “ ۔
کیا متقدمین علمائے حدیث کے منہج کے موافق اس شاذ لفظ کو ”صحیح “ قراردینے کے لیے یہ تعلیق کافی ہے ؟
اپنے مذہب کی موٴید روایات کی تصحیح اورائمہ مجتہدین پربے جا تنقید
بعض اوقات شیخ ایسی احادیث کی بھی تصحیح کرجاتے ہیں، جوان کے مذاہب کے موافق ہوں، اگرچہ ان کا کوئی قوی شاہد موجود نہ ہو ۔ اس سلسلے میں مجھے حضرت عدی بن حاتم کی حدیث یاد آئی کہ : ” جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرتے ہوئے سنا : ﴿اتخذوا احبارہم ورہبانہم اربابا من دو ن اللہ ﴾ (۱۴) (انہوں نے خدا کو چھوڑ کراپنے علما اور مشایخ کو رب بنا رکھا ہے ) تو حضرت عدی نے عرض کیا کہ : ہم توان کی عبادت نہیں کرتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ہاں وہ لوگ بھی اپنے علما کی عبادت نہیں کرتے تھے؛لیکن جب علمائے یہود ونصاریٰ ان لوگوں کے لیے کوئی چیز حلال قرار دیتے، تو وہ اسے حلال سمجھتے تھے، اورجب ان پرکسی چیز کو حرام کردیتے تو اسے حرام سمجھتے تھے، یہی ان کی عبادت کرنا ہے “ ۔
اس حدیث کو امام ترمذی نے ” جامع الترمذی “ (۱۶) میں ” صحیح “ قرار دیا ہے ۔ اور ”سلسلة الأحادیث الصحیحة “ (۱۷) میں تفسیر ” روح المعانی “ (۱۸) کے حوالے سے علامہ آلوسی کا قول نقل کیا ہے :
” والآیة ناعیة علی کثیر من الضالة الذین ترکوا کتاب اللہ وسنت نبیه -علیه الصلوٰ والسلام -لکلام علماء ہم ورؤساء ہم ، والحق احق بالاتباع ،فمتی ظہر وجب علی المسلم اتباعه ، وإن اخطأ اجتہاد مقلدہ “ ۔
” اس آیت میں ان گمراہ فرقوں کو مطعون کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنے علما وروٴسا کی باتوں کی بنا پرخدا کی کتاب اورنبی کی سنت سے رو گردانی اختیار کرلی تھی ، حالا ں کہ حق اتباع کا زیادہ حق دار ہے،لہٰذا جب حق ظاہرہوجائے، تو مسلمان پراس کی اتباع واجب ہے، اگرچہ اپنے امامِ مقلَّد کو غلط قراردینا پڑے ۔ “
شیخ ناصر مندرجہ بالا حدیث سے استشہاد کرتے ہوئے ائمہٴمتبوعین پرنکتہ چینی کرتے تھے ، اس موضو ع پرمیری ان سے گفتگو بھی ہوچکی ہے ، میں نے ان سے کہا تھا کہ خدا کو چھوڑکرعلما ومشایخ کورب بنانے اورائمہ مجتہدین (کی تقلید) میں بڑا فرق ہے، اس لیے کہ علمائے یہود ونصاریٰ تواللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو ان لوگوں کے لیے حلال قرار دیتے تھے، جب کہ یہ ائمہ اپنے اجتہادات میں کتاب وسنت پراعتماد کرتے تھے ، لہٰذا (مشہور حدیث مبارکہ کی بنا پر )جس کا اجتہاد درست ہو تواس کے لیے دوہرا اجر ہے اورجس سے خطا واقع ہوئی تو اس کے لیے بھی ایک اجر ہے ۔ ان ائمہ کو علمائے یہود ونصاریٰ کے برابر قراردینا بڑی ناانصافی ہے ۔
غیر واضح منہج تحقیق
چند چھو ٹے رسائل کے علاوہ دیگر حدیثی کاوشوں میں شیخ ناصرالدین کا کوئی واضح منہج نہیں تھا، پہلے وہ امام سیوطی کی ” الجامع الکبیر “ اور ” الجامع الصغیر “ سے ضعیف احادیث تلاش کرکے ” مکتبہٴ ظاہر“ میں موجود ”اجزائے حدیثیہ“ میں ان کے متعلق جو مطالعہ کرتے تھے ، اسے ایک الگ کاغذ پرلکھ لیا کرتے تھے، یوں ان کے پاس سویا زیادہ احادیث جمع ہوجاتیں،تو ایک چھوٹے رسالہ کی صورت میں چھاپ دیتے تھے ،ان میں موضوع اورباطل احادیث بھی ہوتی تھیں ۔
میری دانست میں ان احادیث کو نئے سرے سے لوگوں میں پھیلانے کی چنداں ضرورت نہ تھی ، اس لیے کہ وہ بھلائی جاچکی تھیں اوراہل زمانہ میں سے کوئی ان سے واقف نہ تھا، مثلاً : ” علیکم بالعدس فانه قدس علی لسان سبعین نبیاً “ ۔ (دال کولازم پکڑو، اس لیے کہ یہ سترانبیا علیہم السلام کی زبانی مقدس (غذا ) ہے (۱۹) اوراس جیسی دیگر احادیث شیخ نے ” سلسلة الأحادیث الضعیفة “ میں ایسی احادیث کوشائع کردیا ہے ، بہتر ہوتا کہ یہ موضوع احادیث نسیان کے پردوں میں ہی گم رہتیں؛البتہ لوگوں کے درمیان معروف ومشہوراحادیث کا حال بیان کرنے اوران پرنقد کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس سلسلے میں ان کی محنت قابلِ قدر ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطافرمائے ۔
اسی طرح ” سلسلة الاحادیث الصحیحة “ میں بھی ان کا کوئی واضح منہج نہیں ہے، اس لیے کہ شیخ کوکوئی بھی صحیح حدیث ملتی تو وہ (اپنے تئیں ) حدیثی نقطہٴ نظر سے اس کی تحقیق کرکے اسے اس سلسلے میں درج کرلیتے تھے، ان احادیث کو جمع کرنے کا مشترک پہلو صرف یہ تھا کہ شیخ کوان کی صحت کا اعتقاد ہے (اوران کی تحقیق کی مطابق یہ صحیح احادیث ہیں ) ، میری رائے میں محض یہ بات ایک مستقل کتاب میں احادیث جمع کرنے کے لیے کافی نہ تھی، نیز (اس کتاب کی احادیث میں کسی موزوں ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا ؛ بل کہ کیف ما اتفق ذکرکردی گئی ہیں)اگروہ ان احادیث کو موضوع وار جمع کردیتے توزیادہ بہتر ہوتا ۔
تقسیم احادیث اور اسانید کا حذف
شیخ کی قابلِ مواخذہ باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ موصوف نے جب ” سنن اربعہ “ (سنن ابوداوٴدسننِ ترمذی ، سنن نسائی ،سنن ابن ماجہ )کی صحیح وضعیف احادیث کوجداجدا شائع کیا تو،ان کی اسانید حذف کرڈالیں؛حالاں کہ علمی دیانت کا تقاضہ تھا کہ وہ سندوں کو حذف نہ کرتے،اس لیے کہ” صحیح وضعیف“ کی پہچان کا اہم مدار سند ہی ہوتی ہے ۔ میرے خیال میں اس طرزِعمل سے گویا لوگوں کو آمادہ کرنا چاہتے تھے کہ وہ شیخ کی تحقیق پرہی اعتماد کریں،اوران کی تحقیق جس حکم تک پہنچی وہ حق اور نا قابل مناقشہ ہے ۔
نیزحدیث صحیح وضعیف کے درمیان (شیخ کا اختیارکردہ ) یہ فرق محض تکلف ہے، شاید پسِ پردہ ” سننِ اربعہ “ کی ضعیف احادیث کومہمل (وناقابل استدلال ) قراردینا مقصود ہو؛ حالاں کہ بہت سی ضعیف احادیث، احادیثِ صحیحہ کے لیے ”شواہد “ ہیں ، لہٰذا ان کو صحیح احادیث سے یوں ممتازکرنا مناسب نہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنی کتابوں کی تالیف کے موقع پرخود امامِ ابو داوٴد ،امامِ ترمذی، امام نسائی اور امامِ ابن ماجہ رحہم اللہ کے بھی قطعاً یہ عزائم نہ تھے، اس لیے کہ وہ چاہتےتو محض صحیح احادیث پربھی اکتفا کرسکتے تھے ۔ بنا بریں ” سنن “ سے متعلق شیخ ناصرالدین کے اس کام کو میں ان کے غیر مستحسن کاموں میں شمار کرتا ہوں ۔
حکم حدیث کے متعلق دیگر ائمہ کے اقوال سے بے اعتنائی :
ایک اور قابلِ گرفت بات یہ ہے کہ شیخ جب کسی ایسی حدیث کو ” صحیح “ قرارد یتے ہیں، جس کو دیگر حفاظ نے ” ضعیف “ کہا ہوتو دیگر اقوال کا تذکرہ نہیں کرتے، اگروہ ذکرکردیتے تو لوگوں کوان کے اوردیگر حفاظ کے احکام کے درمیان آزادانہ موازنے کی چھوٹ مل جاتی ؛ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو محض اپنے اقوال کی اتباع پرکھڑا کرنا چاہتے ہیں، جو کسے طرح بھی قرین انصاف نہیں ۔ (جاری……)
