(ما بقیہ گذشتہ شمارہ)
مولاناافتخار احمد بستوی(استاذ جامعہ اکل کوا)
خورشیدِرسالت کا غروب :
اب عرب کا ذرہ ذرہ اسلام کی روشنی سے منور ہوچکا تھا، وادی وصحرا نعرہائے تکبیر سے گونج رہے تھے اورجو قوم سب سے زیادہ خدا سے بے گانہ تھی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضِ صحبت سے سب سے زیادہ خداشناس ، خدا ترس (Pious) اور خدا پرست بن چکی تھی، اوراس قابل ہوگئی تھی کہ مدرسہٴ عالم میں روحانیت واخلاق اورتقویٰ وپاکیزگی کی عالم ومعلم بنے۔ اس لیے وقت آگیا کہ یہ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب دنیا سے رخصت ہونے کی تیاریاں شروع فرمادیں،۱۰ ء ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کا ارادہ فرمایا، ارکانِ حج سے فراغت کے بعد ایک لا کھ بیس ہزار فدائیوں کے مجمع مقدس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری ہدایات دیں ۔ یہ ہدایات آج بھی کائنات کے لیے دینی ودنیوی امراض کے لیے بہترین نسخہٴ شفا ہیں اورتاریخ وسیرمیں ” خطبة الوداع “ کے نام سے مشہور ہیں ۔ اس خطبے کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار حاضرین سے پوچھتے تھے کہ بتاوٴ ” میں نے خدا کا پیغام اس کے بندو ں تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی، میں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا یا نہیں ؟ “ حاضرین جواب دیتے کہ ” اے پیغمبر خدا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کا حق ادا کردیا “ عین اس وقت یہ وحی نازل ہوئی :
﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾(المائدہ)
” اے لوگو! آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی، اورتمہارے لیے دینِ اسلام کو چن لیا ۔ “
رسالت کے فرائض کی بہترین ادائیگی، دینِ خدا وندی کی اعلیٰ تکمیل اوررضائے خداوندی کے مکمل حصول کے بعد آقائے مدنی سرتاجِ انبیا، سید المرسلین رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول ۱۱ ھ کو دو شنبہ کے دن ترسٹھ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہٴ مبارکہ میں وفات پائی اوروہیں یہ بہترین امانتِ خداوندی سپرد زمین ہو ئے ۔ اللّٰہُمَّ صَلِ وَسَلِّمْ وَعَلٰی آلِه وَصَحْبِه اَجْمَعِیْن ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
۱)سیرت مصطفی ،اول،دوم، سوم۔۲)اصح السیر۔۳)سیرت النبی۔۴)تاریخ اسلام (نجیب شاہ اکبر آبادی)۔۵)دریتیم۔۶)مختارات(عربی)۔۷)منثورات۔۸)قاموس القرآن /۴۹۶ مولانا قاضی زین العابدین بن سجاد میرٹھی۔۹)نشرالطیب فی ذکر حبیبﷺ۔
