پندرہویں قسط:
مولانا حذیفہ مولانا غلا م محمد صاحب وستانوی
اسلامی تعلیم وتربیت کے تصورمعرفت سے متعلق مبانی:
اسلامی فلسفے میں عقل کے پائیداراورغیرمتزلزل مقام کی بناپرمعرفت اورشناخت سے مربوط مسائل کسی منظم صورت میں علیحدہ عنوان کے تحت بیان نہیں کیے گئے؛ بل کہ شناخت سے متعلق بعض مسائل فلسفے اورمنطق کی کتابوں میں ہی مختلف ابواب میں ضرورت کے لحاظ سے زیرِبحث لائے گئے ہیں ۔
لیکن آج کل،جب کہ مغربی ثقافت اورخاص طورپر وہاں کی علم سے مربوط مباحث ہمارے معاشروں میں پوری طرح سرایت کرچکی ہیں اورالوہی فلسفے کے بہت سارے مسلّمات پرانہوں نے اعتراضات کی بوچھاڑاورانکارتک کررکھاہے ،توہمیں بھی اپنے فلسفی مباحث کواُنہی کی زبان میں جواب کے لیے روایتی طرزِفکرسے ہٹ کر نئے پیرائے میں بیان کرنے کی اشدضرورت ہے۔اس کاایک فائدہ تویہ ہوگاکہ دوسرے مکاتب سے میل جول سے خودہم اپنی گراں بہااسلامی تعلیمات کومختلف پہلووٴں سے مقابلے اوراعتراضات کے مدلل اورٹھوس جوابات کے لیے پیش کرسکیں گے،جوعلمی رشداورترقی کاباعث ہے اوردوسراہم اپنے اُس روشن فکر طبقے کے لیے،جو مغربی افکار اورتصورات کے زیرِسایہ نئے نئے اعتراضات اورنظریوں سے آشناہوئے ہیں ،اسلامی تعلیمات اورخاص طورسے اسلامی فلسفے کوان نئی جہتوں سے روشناس کرواکر انہیں اسلامی تعلیمات سے بدظن اوردورہونے سے بچاسکتے ہیں ۔
معرفت شناسی(Epistemology)جیساکہ پہلے بیان کیاگیاکہ یہ موضوع انسان سے متعلق اُس کے تصوراتی نظام اورمعروضی حقائق کے رشتے کے بارے میں آگاہی یامعرفت سے متعلق علم ہے،اس علم میں انسانی آگاہی (معرفت) اس کی قدروقیمت اوردرستی نادرستی کے معیار تعین کرنے سے متعلق مباحث شامل ہیں۔
انسان کواس جہانِ عالم کے معروضی حقائق کشف کرنے کے لیے یقینی معرفت اورآگاہی کی ضرورت ہے،جونہ صرف اس کے عقل وشعورمیں اضافے کاباعث بنتی ہے؛بل کہ اس کے لیے حقیقت کو بھی مکمل طورپرعیاں کرتی ہے ۔اسلامی تعلیمات قرآن اورحدیث کی روشنی میں اوراسی طرح بیدارانسانی فطرت اُس اہم نکتے کی طرف رہنمائی کرتے نظرآتے ہیں کہ انسان کومعروضی حقائق کی معرفت اورآگاہی کے لیے صرف حسی،سطحی اورظاہری معلومات پراکتفانہیں کرناچاہیے،جس کااکثروبیشترنتیجہ لاادری گری اورشکیت(ارتبابیت) کی صورت میں سامنے آتاہے؛بل کہ حس،تجربے،عقل ومعقولات،تاریخ،روایات،سنت،وحی اورقرآن کے ظاہراورباطنی تمام وسائل کواپنی معرفت کے لیے استعمال کرناچاہیے؛کیوں کہ یہ تمام منابع انسانی فکرونظرکی تعمیراورہدایت کے لیے موٴثر ہیں۔
البتہ ان تمام وسائل میں کوئی بھی وحی اورنبوت کے ذریعے حاصل ہونے والی معرفت اورآگاہی جیسے یقین اوراعتمادکی منزل تک نہیں پہنچتا؛ان تمام معرفت شناسانہ وسائل میں سے فقط وحی ہے،جوہرقسم کی خطا اورلغزش سے مبراہے ۔وحی اوراس کے ساتھ عقل اسلامی تصورمعرفت سے متعلق مبانی کے اہم ترین اورمخصوص ارکان ہیں،اس کی دلیل قرآن میں عقل اورفکرپرکی گئی تاکیدہے،جومغرب کے ”دین اوروحی“یاپھر”وحی اورعقل“ کے تعارض اوراختلاف کے تصورکے برخلاف ہے ۔
کیوں کہ مغربی دین منحرفِ عیسائیت ہے،جس کے انحراف سے عہدوسطیٰ کے تقریباً۱۰۰۰/سال انسانیت سوزمظالم اورعقل کی شدیدمخالفت سے بھرے ہوئے ہیں،اس منحرف دین کا جوعقل کامخالف ہے اوردینِ اسلام جوعقل اورفکرونظرکی تاکیدکرتاہے،کاآپس میں کوئی تعلق نہیں؛لہٰذااسلام عقل کی پرورش اورنشوونماکے لیے اوراُسے انحراف اورخطاسے محفوظ رکھنے کے لیے وحی کے ذریعے اس کی رہنمائی کرتاہے ۔
اس بحث سے واضح ہے کہ دینِ مبین اسلام میں معروضی حقائق اورحقیقت سے مربوط معرفت کاامکان ایک یقینی امرہے،اس کاتعلیم وتربیت پرانتہائی مثبت اورمفیداثرمرتب ہوتاہے،کیوں کہ جتنی انسانی معرفت مکمل ہوگی اتنی ہی اس کی حقیقت تک رسائی کاامکان زیادہ ہوگااورجس قدروہ حقیقت سے نزدیک ہوگا،اُس کاخداوند سے معنوی اورروحی رابطہ بڑھے گااوراس کے نتیجے میں حقیقی تربیت کے لیے بہترین اورزیادہ مساعدمواقع فراہم ہوں گے ۔
الف: حقیقی دین کی پہچان اوراس راہ میں تربیت :
جب یقینی معرفت ممکن ہو، تو اس کے نتیجے میں ایک حقیقی دین کی پہچان بھی ممکن ہے اوراس دین کی حقانیت پرایمان بھی لایا جاسکتا ہے؛ پس اسلامی تعلیم وتربیت کے لیے نصاب اورنظام کی تشکیل ایک دین کی بنیاد پرہے، جو حق ہے اور دیگر تمام ادیان سے برتر اورخاتمِ ادیان اورمکمل ترین دین ہے اورہرقسم کی ارتبابیت ، اخلاقی اضافیّت اوردینی کثرتیّت کی نفی کرتا ہے ۔
ب:تعلیم وتربیت میں وحی کاکردار:
جیساکہ مقدمے میں بیان ہواکہ خداوندتعالیٰ نے اپنے منتخب پیغمبروں کی تربیت کاذمہ خوداٹھایا اوراُنہیں وحی اورنبوت کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی توفیق اورصلاحیت عطافرمائی؛تاکہ خداوندکے بتائے ہوئے دستورالعمل کے ذریعے اس کے اولیااوربندوں کی تربیت کرسکیں اوریہی سلسلہ آگے چلتارہے ۔
اس لحاظ سے اسلامی تعلیم وتربیت کے معرفت شناسانہ اصول اورمبانی مختلف جہتوں سے وحی اورنبوت پرمنحصرہیں اورپیغمبروں کی تعلیمات نہ صرف تعلیم وتربیت کے نظام اور(نصاب) کوالوہی اوردینی بناتی ہیں؛بل کہ تعلیم وتربیت کے حصول کے جذبے،سمت اورماہیت کوبھی خدائی رنگ عطاکرتی ہیں اورتربیت یافتہ انسان کے لیے دنیااورآخرت کی سعادت کی ضمانت فراہم کرتی ہیں ۔
اسلامی تعلیم وتربیت کے تصورکائنات سے متعلق مبانی :
خدا شناسی اورخدا اورقیامت پریقین اسلامی تعلیم وتربیت کے تصورکائنات سے متعلق مبانی میں بنیادی ترین ناقابلِ تردید محور ہے ۔ ’ اس ‘ سے اور ’اسی ‘ کی طرف ؛ انا للہ وانا الیه راجعون؛ اس ساری بحث کا خلاصہ ہے ۔ لہٰذا تعلیم و تربیت کے تمام قاعدے، قوانین اورمعیاراس کے تشریعی ارادے کے تحت انسان کے لیے تربیت وتزکیے کے ساتھ اس کی طرف پلٹنے کے لیے ہیں۔
اسلامی تصورات کائنات کا تقاضہ ہے کہ تمام ہستی کو خداتعالیٰ کی مخلوق اورحقیقی وتکوینی مالکیت مانیں ۔ اسلامی نکتہ نظر سے اعتقادی نظام، تربیتی اوراخلاقی نظام سے جدا نہیں ہے؛ بل کہ اعتقادی نظام، تربیتی اوراخلاقی نظام کا مبدا اورمنشا ہے؛لہٰذا خداوند متعال جو تمام کائنات اورعالم ہستی کے حقیقی مالک اورتکوینی اورتشریعی رب ہیں، کی اجازت کے بغیر ہم کسی بھی قسم کی شئ یعنی اپنے اور دوسرے انسانوں سمیت، کسی پرکسی بھی قسم کا تصرف اوردست اندازی نہیں کرسکتے ۔
اس بحث کا خلاصہ مندرجہ ذیل چاراہم امورہیں :
(۱) حیات بخش خالق واحد کائنات……………… (۲) انسان کا وابستہ وجود… (۳) تمام امورمیں خدا محوری………………………… (۴) قیامت پراعتقاد۔
پس بطورِخلاصہ اسلامی تعلیم وتربیت کے ہستی شناسانہ مبانی اس نظام کوایک طرف تو مبد ا سے مربوط کرتے ہیں، خالق واحد ہستی بخش ، اور دوسری طرف چوں کہ خداوند تعالیٰ نے اس جہاں اورانسانوں کو ایک خاص مقصد کے تحت خلق کیا ہے تو معاد سے جوڑتے ہیں ، چوں کہ انسانی حیات کی آخری منزل اور تمام افعال کی حد قیامت ہی ہے ۔ اوراس کے نتیجے کا ” الوہی حکمت “ سے ناطہ جوڑ تے ہیں، اس طرح سے کہ الوہی حکمت کا تقاضہ یہی ہے کہ ایک مکمل نظام برقرارہو اورانسان اس طرح تربیت پائے اوراورایسی سمت اختیار کرے کہ بہترین انفرادی اوراجتماعی کمالات متحقق ہوں ۔
یوں اسلامی تربیتی نظام ، اسلامی تصورِ کائنات کے سات خاص طور سے اس کے نظامِ زندگی سے، اس طرح جڑا ہوا ہے کہ خداوند تعالیٰ کا حقیقی وجود تمام زندگی کے ہر ہر پہلو میں اورخاص طور سے تعلیم و تربیت میں نمایاں طور سے ہدایت ، تربیت، راستہ متعین کرنے اوراس کو رخ دینے میں نظر آتا ہے۔
(جاری……)
