انوارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
(انتخاب مدیر شاہراہ ترتیب منیجر شاہراہ)
عَنْ مُعَاوِیَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أبِیْه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ : ” إذَا فَسَدَ أہْلُ الشَّامِ فَلَا خَیْرَ فِیْکُمْ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ اُمَّتِیْ مَنْصُوْرِیْنَ ، لَا یَضُرُّہُمْ مَّنْ خَذَلَہُمْ حَتّٰی تَقُوْمُ السَّاعَةُ “ ۔ (سنن الترمذی : 2192 ، باب ما جاء فی الشام، حدیث صحیح )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اہلِ شام تباہی وبربادی کا شکار ہوجائیں تو پھر تم میں کوئی خیر باقی نہ رہے گی اور میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی، جسے اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت حاصل ہوگی اور اسے نیچا دکھانے والے قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ “
تشریح (از عمدة القاری)
ملک شام کے اب چار ملک بن گئے ہیں : (۱) سوریہ : جس میں دمشق ، حمص ، حمات اورحلب واقع ہیں (۲) لبنان (۳) اردن جس میں عمان اورخلیج عقبہ ہیں (۴)فلسطین جس میں قدس اورغزہ ہیں ۔
شام کے فضائل میں متعدد روایات آئی ہیں ، اور بعض روایات میں وہاں کے فتنوں کا بھی ذکر آیا ہے ۔
حضرت قرة بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(۱) : أذا فسد اہل الشام فلا خیر فیکم ، : جب شام والوں میں بگاڑ آجائے تو تم میں کوئی خیرنہیں، (اس کا پہلا ظہور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوا )۔
(۲) اور فرمایا ’’لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ اُمَّتِیْ مَنْصُوْرِیْنَ ، لَا یَضُرُّہُمْ مَّنْ خَذَلَہُمْ حَتّٰی تَقُوْمُ السَّاعَةُ “ : میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ مدد کیا ہوا رہے گا، ان کو ضررنہین پہنچا سکیں گے،وہ لوگ جوان کو رسوا کرنا چا ہیں گے، تا آں کہ قیامت قائم ہوجائے ۔
تشریح : امام ترمذی نے امام بخاری کے حوالہ سے حضرت علی بن المدینی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ طائفہ منصورہ : محدثین کرام ہیں ، آپ کی یہ بات صحیح ہے مگر تمام حقیقت نہیں؛بل کہ تمام اہل السنة والجماعہ اس کا مصداق ہیں، خواہ وہ مفسرین ہوں ، محدثین ہوں، فقہا ہوں ، ارباب زوایا ہوں یا ارباب سیف و سنان ، سب اہل حق اس حدیث کا مصداق ہیں۔
آمدم برسر مطلب:
موجودہ حغرافیائی تقسیم میں ” اہل شام “ سے فلسطین، شام ، اردن اورلبنان کے باشندے مراد ہیں۔ فلسطینی باشندے تو کئی عشروں سے اسرائیلی درندگی کا شکارہوکراپنی سرزمین سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لبنان کے مسلمان نا گفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں اور شام میں تو ہر گزرنے والا دن تباہی وبربادی کی نئی داستانیں رقم کررہا ہے ، شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے اعداد وشمار کے مطابق بشار الاسد ، ایران، حزب اللہ ، داعش اوردیگر مسلح ملیشیا کے ہاتھوں 2011 ء سے اب تک 2لاکھ 15ہزار سے زائد شامی مسلمان ہلاک ہوئے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں، عورتوں اوربچوں کی ہے؛جب کہ بیرون ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد 40 لاکھ اوراندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی تعداد 76 لاکھ سے متجاوز ہے، دنیا کی تمام طاغوتی طاقتیں دہشت گردی ختم کرنے کے نام پرشام کی شہری آبادیوں پرآگ وبار ود برسارہی ہیں۔ سرزمینِ شام پرماضی قریب وبعید کے مختلف ادوار میں سنگین حالات آرتے رہے ہیں؛ لیکن ایسی خوفناک تباہی وبربادی کی مثال ” شام “ کی قدیم ترین تاریخ میں بھی نہیں ملتی ۔ سب سے بڑھ کر پریشان کن صورتِ حال یہ ہے کہ امت مسلمہ ابھی تک بے حسی اورغفلت کی نیند سورہی ہے، اور مسلم ممالک مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے کے بجائے ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔
یاد رکھیں ! احادیثِ مبارکہ کی رو سے ” شام واہل شام “سے امت مسلمہ کا مستقبل وابستہ ہے، اگر وہ یونہی برباد ہوتے رہے تو پوری امتِ مسلمہ کی بھی خیر نہیں۔
حلب شہر نشانے پر کیوں ؟
بشارالاسد ، روسی افواج اورایرانی پاسداران انقلاب نے حلب شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے، ہسپتالوں، کلینکوں، اسکولوں کالجوں بازاروں اورمسجدوں پربمباری جاری ہے اورمعصوم بچے، عورتیں اور مرد خون میں نہائے نظر آرہے ہیں ۔ اس ظلم و دورندگی کے پیچھے ایک خاص سوچ اور جذبہ کارفرماہے ؟ جسے جاننے کے لیے حلب شہر کی درج ذیل خصوصیات پہ نظرڈالیں :
۱- یہ شام کا سب سے بڑا شہر ہے جو قدیم ثقافتوں کا مرکزرہا ہے ۔
۲- یہ شہر حضرت عمربن الخطابؓ کے دورِ خلافت میں فتح ہوا اور ہمیشہ مسلم حکمرانوں کی توجہات کا مرکزبنا رہا ۔
۳- یہ شہر ” شیراسلام سلطان عماد الدین زنگی “ کا دارالخلافہ رہا ۔
۴- اس شہر کو ” روضہٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ سلطان نورالدین زندگی “ کے دارالخلافہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہو ا ۔
۵- اسی شہر سے سلطان نورا لدین زنگی باطل قوتوں کو للکارتے اوران کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کرتے رہے ۔
۶- اسی شہر نے سلطان صلاح الدین ایو بی کو جگہ دی ، جنہوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کوعبرتناک شکشت دے کر بیت المقدس آزاد کروایا ۔
۷- اس شہر میں سلطان رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں تاتاری شکست کھاتے اور بھاگتے نظر آئے ۔
۸- یہ شہر علوم وفنون اورتجارت وسیاست کا ہر دور میں مرکز رہا ۔
۹- اس شہر کے غیور لوگ قاتل بشار الاسد، اس کے باپ حافظ الاسد اوردیگر استعماری طاقتوں کے آگے ہمیشہ ڈٹے رہے ۔
اہل شام پر مظالم اور ہماری ذمہ داریاں
۱- انفرادی اجتماعی طورپرتوبہ واستغفار کا خوب اہتمام کریں۔
۲- مظلوم شامی بھائیوں کے لیے رورو کرخصوصی دعائیں مانگیں۔
۳- مستند خیراتی اداروں کے ذریعے شامی مسلمانوں کے ساتھ مالی تعاون کریں۔
۴- سوشل میڈیا ، الکٹرونک میڈیا اوردیگر ذرایع ابلاغ سے منسلک حضرات ، شامی مسلمانوں پہ ڈھائے جانے والے مظالم سے لوگوں کو آگاہ رکھیں، اور ہر پلیٹ فارم پران کے حق میں آواز اٹھائیں ۔
۵- جذباتیت اور اشتعال میں آنے کے بجائے صبر وتحمل اوربردباری کا مظاہرہ کریں۔
۶- ظالم طاقتوں کی ضرور نشاندہی کریں؛ لیکن فرقہ ورایت اور مسلکی تعصب سے بچتے ہوئے باہم اتحاد واتفاق کی فضا قائم رکھیں ۔
۷- حکومت ، ارکانِ پارلیمنٹ اوربا اختیار اداروں پرزوردیں کہ وہ اسلامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ مل کرمظلوم شامی مسلمانوں کے حوالے سے اجتماعی لائحہ عمل طے کریں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : وَمَالَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا،وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّاجْعَلْ لَّّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا۔(النساء : ۷۵)
اور (اے مسلمانو! ) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اوران بے بس مردوں،عورتوں اوربچوں کی خاطر نہ لڑو، جو یہ دعا کررہے ہیں کہ ” اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لائیے،جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں ، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مدد گارکھڑا کردیجئے “ ۔
