حضرت مولانا نوال الرحمان صاحب (مقیم شکاگو) احاطہٴ جامعہ میں

استاذ کا صاحب نسبت ہونا ضروری ہے:

            اللہ تعالیٰ نے جامعہ اوررئیسِ جامعہ کو عوام و خواص مں بڑی مقبولیت دی ہے، برایں بنا زیارتِ جامعہ اورملاقاتِ رئیس جامعہ کے لیے چیدہ چیدہ علما، اہل دل ، اورداعیِ اسلام کی آمد وقفے وقفے سے جامعہ میں ہوتی رہتی ہے، اورمنتظمین جامعہ ان کی آمد کوغنیمت جانتے ہوئے اہل جامعہ کوان ذی علم اورصاحب قلوب حضرات سے استفادے کا موقع عنایت فرماتے ہیں ۔

            ایسے ہی حضرت مولانا کی آمدِ جامعہ کو غنیمت جانتے ہوئے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان آپ کی مجلس رکھی گئی اور آپ نے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان بڑی ہی چشم کشا اورمفید باتیں بیان کیں ۔ ۲/ چار قیمتی باتیں قارئین شاہراہ کے نظر کرتے چلتے ہیں :

            آپ نے اساتذہ کی مجلس میں قرآن مجید کی اس آیت: ﴿إنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْریٰ لِمَنْ کَانَ لَه قَلْبٌ أوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ ﴾کی روشنی میں مقامِ اساتذہ ، اوصافِ اساتذہ کوبڑے ہی دل لگتے انداز میں بیان کیا ۔

            آپ نے فرمایا: آیتِ کریمہ میں” له قلب“ سے مراد عالم ہے ، اور” القی السمع“ سے مراد تعلیم ہے اور قلب سے مراد قلبِ معرفت ہے ۔ استاذ کا مقام یہ ہے کہ وہ صاحب ِمعرفت ہو، اسی طرح تمام معلمین ”انما بعثت معلما“ کی تجلیات ہیں، جو فریضہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ، اسی فریضے کے ساتھ ہم بھی منسوب ہیں ، تو صفاتِ معلم بھی ضروری ہے اورصفات معلمیت میں صاحب ِقلب ہونا ہے ۔

            آپ کے والد بڑے صاحبِ نسبت اور اہل دل بزرگ تھے ، انہوں نے ایک موقع پر فرمایا کہ علم توو ہ ہے جو ” علیم “ تک پہنچا دے ۔

            معلم کا قلب‘ قرآنی ہونا چا ہیے ، قلبِ قرآن کی خصویت باخبر ہونا ہے’ ’ الرحمن فاسئل بہ خبیر ا “ ․

            رحمن کا پتا تو کسی باخبر سے پوچھنا ہوگا۔ اسی لیے اکابر ین، صوفیا، مجددین کے یہاں استاذ کا صاحب نسبت ہونا نہایت اہم تھا۔ حضرت تھانوی کے ملفوظات میں ہے کہ فارغ ہونے والا جب تک کسی شیخ کی صبحت میں ۶/ مہینے نہ گزارے اسے سند نہیں دینی چاہیے ۔

            علم قرآنیہ اور حدیثییہ میں جو نزاکت ہوتی ہے، اس کی سمجھ اہل اللہ سے استفادہ کیے بغیر ، تعلق قائم کیے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ۔

            صاحب ِنسبت عالمِ دین کا علم کو نویں اور چشمے کے پانی کی طرح ہوتا ہے ، اور غیر صاحبِ نسبت کا علم حوض کے پانی کے مانند ہوتا ہے ؛اس لیے استاذکا صاحب ِنسبت ہونا ضروری ہے ، یا کم ازکم بزرگوں سے تعلق ضروری ہے ، تب جاکر طلبہ کو ہم سے مطلوبہ فائدہ حاصل ہوگا ۔

            اسی طرح آپ نے طلبہ کے درمیان حصول علم کی نیت ، مقصد ، طریقہ ، آداب ،فضیلت علم ، مفسدِ علم وغیرہ پر نہایت موٴثر انداز میں خطاب کیا ۔

            آپ نے فرمایا: حصولِ علم کا مقصد ارتفاعِ دین ہونا چاہیے ،نہ کے اکتسابِ دنیا۔

            علم سے ایسی عزت نصیب ہوتی ہے، جس کے بعد کوئی ذلت نہیں، لیکن علم کو جب تک ہم اپنا سب کچھ نہ دے دیں،علم ہمیں اپنا بعض حصہ بھی نہیں دیتا ۔

            جو طالب ِعلم جس قدر جد وجہد اور فکری انہماک سے علم حاصل کرے گا، وہ اسی قدر باصلاحیت عالم ہوگا ۔

            اسی طرح تحصیل علم میں دوستی بڑی مہلک چیزہے ۔

            ہم طلبا کو ہر ایسی بات سے گریز کرنا چاہیے جو حصول علم کے لیے سدِّراہ ہو۔

            اس درسِ نظامی کی بڑی خصوصیت ہے، جو اسے اہتمام کے ساتھ پڑھ لے گا، وہ اسلام پر ہونے والے اشکالات واعتراضات کا بحسن ِخوبی دفعیہ کرلے گا۔

            ہمارے اندر قابلیت اور مقبولیت اساتذہ ٴکرام کی دعاوٴں، اپنی محنت اور اس راہ میں پیش آنے والی تمام تکالیف کو جھیلنے سے آتی ہے۔

            بس حصولِ علم کے طریقے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پوری لگن اور محنت سے علم حاصل کرنے اور ماہر عالم بننے کی ضرورت ہے ۔

            آپ نے اس طرح کی بہت سی مفید باتیں طلبا کو گوش گزار کیں ۔

            اللہ تعالیٰ ہم اساتذہ اور طلبہ کو آپ کی ان قیمتی نصائح سے مکمل فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور حضرت مولانا کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین