سولہویں قسط:
مولانا حذیفہ مولانا غلا م محمد صاحب وستانوی
اسلامی تعلیم و تربیت کے تصورِ اخلاق سے متعلق مبانی :
تعلیم وتربیت ان امورمیں سے ہے، جن کا براہِ راست تعلق انسان سے ہے۔ اس ناطے تعلیم وتربیت کے مبانی میں سے ایک اقدار (اخلاق ) شناسی ہے، جس کا تربیتی اصولوں پرگہرا اثر پڑتا ہے ۔
اخلاقی اقدارکی شناخت کے مجموعے کو بعض اوقات ارزشی معرفت بھی کہا جاتا ہے۔ ایک صحیح اخلاقی نظام کی تشریح اورعلمِ اخلاق کے مبانی کا جائزہ اورتشریح فلسفہٴ اخلاق میں بیان کی جاتی ہے اورتربیتی قواعد، اصولوں اوراہداف متعین کرنے میں اس کا انتہائی اہم کردار ہے ۔
اسلامی نظامِ اقدار گو کہ انسان شناسی کی مباحث سے جدا نہیں ہے ۔ اوراسلامی تعلیم و تربیت کے انسان شناسانہ مبانی اقدارشناسی کی بحث سے کسی طرح مبرا نہیں، لیکن چوں کہ مغرب زمین کے اہم فلسفی مکاتب اخلاقی اضافیت (Moral Relativism ) کو پرچارکررہے ہیں ، جس کی وجہ اقدارشناسی کی بحث کوانسان شناسانہ مبانی سے جدا بیان کیا جارہا ہے ۔بہ طورمختصر یہاں دو اہم مورد زیر نظر ہیں ۔
الف : اقدار کا حقیقی اورغیرحقیقی ہونے کا معیار
ب: اضافیت اخلاق
الف): اقدار کا حقیقی اورغیرحقیقی ہونے کا معیار :
فلسفہٴ اخلاقی کے اہم ترین مباحث میں ایک یہ ہے کہ اخلاقی جملوں کی حقیقت ان کا اخباری جملے (Declarative )ہونا ہے یا انشائی جملے (Imperative) ہونا ؟
یعنی مراد یہ ہے کہ، کیا اخلاقی جملے معروضی حقائق کی بنا پربیان کیے جاتے ہیں، حتی کہ اگروہ انشائی جملوں کی صورت میں بھی ہوں؟ یا اخلاقی جملوں کی حیثیت صرف انشائی ہے اوران جملوں کوبولنے والے کے مطمح نظرکوئی معروضی حقائق نہیں ہوتے حتی کہ اگران جملوں کو خبری اندازمیں بیان کریں ؟ بل کہ ان کی منشا بولنے والے کے رجحانات اورخواہشات کے سوا کچھ نہیں ۔
مثلاً جب کوئی کہتا ہے کہ جھوٹ نہ بولیں یا جھوٹ نہیں بولنا چاہیے توکیا اس جملے یاقول کے پیچھے کوئی حقیقت پوشیدہ ہے یا بولنے والے نے انفرادی، ذاتی ، سماجی ، یا دیگرمفادات کے مدِ نظر یہ جملے کہے ہیں؟
یہاں اس بحث کے دو طرح جواب دئیے جاسکتے ہیں ۔ ایک تومربوط ہوجائے گا انسانِ شناسی سے ، یعنی انسان کواگرصرف ایک مادی موجود خیال (یعنی انسان کا تعلق صرف مادیت سے ہے، روحانیت کی اس کو کوئی ضرورت نہیں)کیا جائے اوراس کے کسی بھی قسم کے دوسرے پہلووٴں اوررابطوں کی نفی کی جائے، تواس ایک بعد ی انسان کے لیے ان جملوں کے پیچھے کسی بھی قسم کے معروضی حقائق اورعینی واقعیت کوثابت نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس انسان کواگردوبعدی موجود، مادی جسم اورروحانی نفس کی حیثیت سے تصور کیا جائے،توان جملوں کی معروضی حقیقت اس کی روح سے منسلک نظر آئے گی ۔
مغربی شکّاکانہ افکار اورتصورات(یعنی مغرب کے افکار وتصورات تمام ترشکوک ،غیر یقینی اور قطعیت سے کلی طورپرعاری ہیں) میں انسان ایک مادی جسم کے سوا کسی دیگر وجود کا حامل نہیں مانا جاتا، تواس صورت میں اخلاقی نظام کا عدمیت (Nihilism )کے علاوہ اورکوئی نظام تشکیل نہیں پاسکتا ۔
دوسرا جواب انسانی پہلووٴں کے بجائے اس کے اہداف سے مربوط ہے، کیوں کہ اخلاقی مسائل انسان کی اختیاری حرکات وسکنات سے مربوط ہیں، اس لیے جب وہ کسی عمل کواختیارکرتا ہے تو لازمی طور سے اس اختیاراورارادہ کے پیچھے کوئی ہدف موجود ہوتا ہے، جو اسے اس عمل کی طرف رغبت دلاتا ہے ۔ لہٰذا اس کی حرکات وسکنات ، افعال وکردار کی قدربھی اس ہدف کے تحت متعین ہوتی ہے، ہدف جتنا بلند اوراعلیٰ ہوگا اتنا ہی اس تک پہنچنے کا وسیلہ جوانسانی کردار ہے ، با ارزشی اور قابل قدرہوگا ۔
ہدف کا تعین اورانتخاب ہمارے اس مسئلے کا حل ہے ۔ آیا وہ ہدف جس کے حصول کے لیے انسان کوشش کرتا ہے، صرف اپنی طبیعت ، دنیوی اورحیوانی خواہشات کی تکمیل ہے ؟ یا سماجی مفادات اورمصلحتوں کے تابع ہے، اور معاشرے میں بد نظمی سے پرہیز کے لیے ہیں ؟ یا معنوی اور روحی کمال اورابدی خوش بختی اس کا ہدف ہے ؟
مادی انسان کی مادہ پرستانہ عقل ہرقسم کے نظامِ اقدارواخلاقی اصولوں کے تعین کے لیے پہلے دوسوالوں کے جواب تہیہ کرنے کی تگ و دو میں مشغول عارضی قراردادیں منعقد کرتی نظر آتی ہے، جب کہ مبدا معاد (خدا وقیامت ) سے جڑے ، مادے کے علاوہ روحانی انسان کی وحی کے زیرِ سایہ قدسی عقل نظامِ اقداراوراخلاقی اصولوں کے تعین کے لیے آخری سوال کے جواب تلاش کرتی نظر آئے گی ، اوراس سلسلے میں دنیوی اورحیوانی خواہشات یا سماجی مفادات سے ہٹ کرمعنوی اورروحی کمال اورابدی حیات کے حصول کے معیاراس کے اقداراوراخلاق کے نظام کو متعین کرتے ہیں ۔
نتیجہ یہ کہ اسلامی نظامِ اقداراوراخلاقی اصولوں کے معیاراوربنیادیں قابلِ استدلال عقلی برہان ہیں ۔ البتہ اس ضمن میں مکمل بحث کا فلسفہ اخلاق میں تفصیل سے جائزہ لیا جاسکتا ہے، جو یہاں ممکن نہیں ۔
(ب) اضافیت اخلاق : اخلاقی اضافیت بھی فلسفہ اخلاق کی اہم ترین بحثوں میں سے ہے ، جس کے کئی اہم فکری اورعملی نتائج سامنے آتے ہیں ۔ اخلاقی جملوں کو انشائی قراردینے اورانہیں انسانی خواہشت اور رجحانات سے اور سماجی قرار دادوں (Social Contracts ) سے منسوب کرنے کے نتیجے میں نظامِ اقدارمیں اضافیت کا نظریہ وجود میں آیا ہے ۔
البتہ اس کا بڑا واضح جواب موجود ہے، جواسلامی مکتبِ فکر کے فلسفیوں نے انتہائی مدلل اندازمیں فلسفہٴ اخلاق کے تحت پیش کیا ہے ۔ مختصراً یہ کہ مسئلہ اخلاق کی نسبت دوطرح کی فکراورنظرموجود ہے ۔
الف: اخلاق انسان کی ایک ذاتی واقعیت اور ضرورت کی حیثیت سے ۔
ب: اخلاق انسان کی ذات سے ہٹ کرایک بیرونی واقعیت ۔
جو کوئی اخلاق کوانسان کے لیے ایک ذاتی واقعیت کی حیثیت سے تصورکرتا ہے، تو وہ انسانی ذات پرحاکم قواعد کے تناظر میں اخلاقی نظام کی شناسائی اوراخلاقی مسائل، اصول اورمعیارکوبغیرزمان اورمکان اوردیگرشرائط کی تاثیر کے بیان کرے گا ۔ پھر انسانی صفات اور کردار کو اخلاقی لحاظ سے اچھے اور برے اعمال میں تقسیم کرے گا ۔
جب کہ جو کوئی اخلاق کوانسان سے ہٹ کرمد نظرقراردیتا ہے، تواخلاقی نظام کو اپنے اندرموجود قابلیت ، رجحانات، خواہشات ، سماجی مسائل، ثقافت، رسم ورواج اورمکان و زمان میں حاکم شرائط کے ساتھ اپنائےگا اورایسے نظام میں مادی قدروں کے سوا کوئی قدراورتجربی بنیادوں کے سوا کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی ۔اکثرمغربی مکاتبِ فکرکے مبانی اورنظری بنیادیں اسی لیے متزلزل اورمتغیرہیں، سیکولرزم اور پلورلزم (کثرتیت ) انہیں تجربی اورمادہ پرستانہ فکری تصورات کا ماحصل ہیں، اوران کا نتیجہ عدمیت (Nihilism )اوراخلاقی انحطاط ہے، جس کا آج کل مغرب کو شدت سے سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس اخلاق میں خیروشرکا کوئی مستقل معیارنہیں۔کردار کے حسن وقبح کے لیے کوئی اصول نہیں ہے، ہرچیزاضافی اورعارضی ہے، جب کہ دینِ اسلام کثرتیت (Pluruism) کو شدت سے جھٹلاتا ہے ۔
﴿ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه وہو فی الآخرة من الخسرین ﴾
ترجمہ: اورجواسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا،تووہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اوروہ قیامت کے دن خسارے میں ہوگا ۔
بے شک ایک صحیح اورقابلِ قبول اخلاقی نظام ہی کے زیرِسایہ ایک تعلیمی اورتربیتی نظام کو مرتب کیا جاسکتا ہے، تاکہ جو بھی اخلاقی نظام کی ضروریات ہوں وہ تعلیم وتربیت میں شامل کرکے انسان کواس کی انسانیت کے کمال تک پہنچنے کے لیے رہنمائی فراہم کی جا سکے ۔
اسلامی تعلیم وتربیت کے تصورِانسان سے متعلق مبانی :
دنیا میں موجود ہرتربیتی مکتبِ فکرانسان کی خلقت کے ہدف اوراس کے اعلیٰ ترین کمال کے بارے میں اپنی ایک مخصوص فکراورنظررکھتا ہے، اوراسے انسانی تعلیم وتربیت میں ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے تر بیتی نظام کو تشکیل دیتا ہے۔ تعلیم وتربیت کا موضوع چوں کہ انسان ہے،اس لیے انسان شناسی تعلیم وتربیت کے اہم ترین مبانی کی حیثیت رکھتی ہے ۔
اسلامی تربیتی مکتب میں انسان کی تربیت ایک انتہائی مقدس اورالوہی امر ہے ۔ انسان مختلف طریقوں اورراستوں سے تربیت پاکر خداوندِ متعال کی حقیقی جانشینی کا اہل قرارپاتا ہے ۔ وہ مقام جس سے بڑھ کرمقدس مقام انسان کے لیے کسی اورمکتب میں قابلِ تصورنہیں، اس سلسلے میں انسانی قدروقیمت ، فطرت،خواہشات اورمعرفت کے مرتبوں کے بارے میں مسائل ، اسلامی تعلیم وتربیت کے انسان شناسانہ مبانی میں زیرِبحث آتے ہیں ۔ اس تناظرمیں یہاں انسان کی اسلامی نقطہٴ نگاہ سے حقیقت، ماہیت اوراس کی قابلیتوں اورخصوصیات کو صرف عنوان کے حد تک بہ طورمختصربیان کریں گے ۔
الف: اسلام کی نظر میں انسان کی حقیقت :
انسان صرف ایک مادی جسم نہیں؛ بل کہ طبیعت اورماورائ طبیعت کا مرکب ہے ۔ کیوں کہ انسانی فطرت میں جمادات، نباتات اورحیوانات میں موجود عناصر سے بڑھ کرایک اورعنصر موجود ہےجواس کی دیگر موجودات پربرتری اور قابلیت کا غماز ہے ۔ جس کی بنا پروہ اس کائنات کی تمام مخلوقات کومسخرکرنے پرقادرہے۔ اوریہ برترعنصر بدن کے مٹ جانے کے بعد بھی باقی اورہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ انسانی وجود میں موجود مادے سے برتراسی عنصر کا ظہوراورنشو ونما ہی اس بات کا باعث بنتا ہے کہ انسان کا مقام اورمرتبہ دوسری تمام مخلوقات کے مقابلے میں نمایاں اوربرترجلوہ گر ہو ۔
ب: انسانی ذات اورماہیت :
اسلامی مکتبِ فکرمیں انسانی فضیلت اوربرتری صرف اس کی جسمانی اورزندگی گزارنے کی خصوصیات یا اس کی بدنی اورذہنی قوت تک منحصر نہیں ، بل کہ ان سب کے ساتھ انسانی ذات اور ماہیت ایک مجرد وجود پرقائم ہے، جسے مختلف جہتوں سے روح ، نفس، قلب اورنفخہٴ الوہی کہا جاتا ہے اوریہی وہ انسانی جہت ہے جس کا تعلق ماورائے طبیعت اور قیامت (معاد) کی بحث سے جڑا ہوا ہے ۔
لہٰذا انسان کی انسانیت اس کی مجرد روح کی بنا پرہے اورانسان کی ذات اورماہیت اسی روح کے ناطے ہے؛ چوں کہ انسان کا دوسری مخلوقات سے فرق ڈالنے والا عنصر یہی روح ہے نہ کہ مادی بدن اوریہی لافانی انسانی روحِ اسلامی تربیتی علوم کا موضوع ہے ۔ جب کہ بدنی وجسمانی تربیت وسیلے اور مقدمے کے طورپرمورد نظر ہے۔
دوسری طرف معاصر مغربی نظام فکر انسان شناسی کو فقط انتھرو پولوجی (Anthropology ) تک محدود کرکے انسان کو ایک حیوانی حیثیت سے زیرِ بحث لاتے ہیں ،اورفقط اس کے جسمانی اورتمدنی حالات سے متعلق بحث کرتے نظر آتے ہیں۔
اسلامی نقطہٴ نگاہ سے انسان میں موجود خصوصیات اورقابلیتوں کے ذکرپراس بحث کوختم کرتے ہیں۔ اگراختصار سے بیان کریں تو تعلیم وتربیت انسان کی بالقوہ قابلیتوں کواس کے انفرادی اور اجتماعی کمال کی راہ میں فعلیت تک پہنچانے کا نام ہے ؛لہٰذا سب سے پہلے ایک تربیتی نظام میں انسان کی قابلیتوں اورخصوصیات کی شناسائی اہمیت کی حامل ہے ۔ جوبہ طورکلی اسلامی تصور انسان میں درج ذیل ہیں ۔
- علم اورآگاہی حاصل کرنے کی قابلیت ۔
- انسانی روح میں موجود مختلف رجحانات اور میلانات ۔
- انسانی اختیار،آزادی اور انتخاب کی صلاحیت ۔
- انسانی توانائی اور ارادہ ۔
- انسانی شخصیت میں تبدیلی اوراس پرموٴثرعوامل ۔
ان میں سے ہرایک کی تفصیل کا بیان یہاں ممکن نہیں ۔
تصورِانسانی کی تفصیل کی روشنی میں تعلیم وتربیت کے ذریعے انسانی کمال کے اعلیٰ ترین عرفانی اور فلسفی مقام کا تعین اوراس کے حصول اوراس کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں؛ جو خود انسانی ذات میں موجود ہیں اور جو ماحول اور حالات کی وجہ سے پیش آتی ہیں، ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مناسب تعلیم و تربیت کے نظام کے عمومی اصول اور پھر قواعد اورطریقِ کارمتعین کیا جاسکتا ہے ۔
اختتامی نتیجہ :
جن چاراہم ترین مبانی پراسلامی اورمغربی تعلیم وتربیت کے نظام کا موازنہ کیاگیا ہے یہ اساسی ترین اوربنیادی ترین امورمیں سے ہیں ۔ ان کے علاوہ جغرافیائی حالات اور شرائط ، علاقائی رسم ورواج ، سماج، ثقافت، نفسیات ، تہذیب وتمدن اور مخصوص ماحولیاتی مشکلات اورشرائط کو بھی مدِ نظررکھنا اصول اورمبادی متعین کرنے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
دو تربیتی مکاتب کے مبانی کا تقابلی جائزہ :
اسلامی اور مغربی تربیتی مکاتب کے مبانی کے تجزیاتی مطالعے کو یہاں بہ طور مختصر موازنے کی صورت میں ایک جدول میں پیش کیا جارہا ہے ۔
تعلیم وتربیت کے مبانی
مکتب اسلام
مکتب غرب
تصور علمیات Epestimology
عقل ، حس، وحی ، شہود
اثباتیت اور اتباعیت
تصور کائنات Ontology
خدا محور (مبدا سے معاد)
انسان محور (Humanism)
نظامِ اقدار Axiology
ذات انسان اورواقعیت پرمبنی
اضافی وعارضی
تصور انسان Anthropology
خدا سے خدا تک (مادی وروحی )
مادی فقط (ماورائے طبیعت سے جدا)
ان دونوں مکاتب میں کسی قسم کی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی، لہٰذا جوانسانی علوم جس مکتب میں تشکیل پائیں گے، اس کی مناسبت سے وہی رنگ اپنائیں گے۔ اسی لیے اسلامی معاشروں میں ہمیں اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کے لیے انسانی علوم کو خالص اسلامی فکر کے تحت احیا کرنے اور ڈھالنے کی ضرورت ہے ۔
ورنہ مغرب کے اس تصورِ حیات کا فکری اورنظری نتیجہ دیکھیں توایک وقت ایسا تھا کہ مغربی مفکرین کسی بھی چیزکو بغیر اپنے تجربے کی کسوٹی پرلائے، ماننے کے لیے تیارنہ تھے اورافراطی اثباتیت (Positivism)کے قائل تھے ، آج ان کے فلسفہ علم کے تحت تحریروں پرنگاہ دوڑائیں، تواس کے قائل نظرآئیں گے کہ انسان کسی چیز کے بارے میں سرے سے جان ہی نہیں سکتا !
جب کہ ان کے ملحدانہ تصور ہستی اور تصورِ حیات کا عملی نتیجہ تاریخ کے میوزیم کی نذرہوئے۔ کمیونزم اورلیبرل ڈیموکریسی کی اہم ترین علامت ” وال سٹریٹ“ کے گرد ظلم کی چکی میں پسے، ۹۹/ فی صد افراد کا احتجاج اوران کے ساتھ آزادی بیان کے حامیوں کے بہیمانہ سلوک کی صورت میں سب پرعیاں ہے ۔ لیبرل ڈیمو کریسی ، جس کے بارے میں اس نظریہ کے حامی اسے انسانی فکر کے ارتقا کا آخری مرحلہ قرار دیتے ہیں ، ایک متناقض (Paradoxical) اصلاح ہے ، چوں کہ لیبرلزم کے پیچھے فردیت(Individualism )کا تصور ہے ، جب کہ ڈیموکریسی ایک اجتماعی فکر (Collectivism )کی عکاس ہے ، پھران کے آپس کے جوڑ میں کیا راز پوشیدہ ہے ؟ ! شاید اس کا جواب ایک فیصد مراعات یافتہ طبقہ اوران کی اندھی تقلید میں غرق افراد ہی بتا سکتے ہیں ۔
…………………………
(۱) محمد بن مکرم، لسان العرب ج۵، ص ۱۲۶
(۲) اردو لغت ، ج ۵ ص ۵۹۰
(۳) جان دیوی ، منطق تئوری تحقیق ، ص ۱۲
(۴) ژان شاتو مربیان بزرگ ، ص ۳۳۹
(۵) راغب اصفہانی ، مفردات الفاظ القرآن ، ج۱ص ۵۸۰
(۶) فلسفہ تعلیم وتربیت، حوزہ ودانشگاہ ، ص ۳۳۷
(۸) سید احمد رہنمائی ،درآمدی، برفلسفہ تعلیم وتربیت ، ص ۶۹،۶۸
(۹) شہید مرتضیٰ مطہری ، مجموعہ آثار، ج ۲، جہاں بینی توحیدی، ص ۷۵۔
(۱۰) اردو لغت بورڈ کراچی ، ج ۱۷، ص ۲۷۵
(۱۱) مہدی ابو طالبی ،تربیت دینی ، ص ۱۱۳، ۱۱۹
(۱۲) حبیب اللہ طاہری ، مبانی فرہنگ غرب ، ص ۳۱
(۱۳)سید احمد رہنمائی ،درآمدی، برفلسفہ تعلیم وتربیت ، ص۱۰۵،۸۶
(۱۴ ) Fukuyama fracis "End of History and the last Man”
تعلیم وتربیت کے بارے میں اسلام اورمغرب میں جو واضح فروق پائے جاتے ہیں، اب تک اُسے بیان کیا گیا،اب ہم سائنس کی طرف آتے ہیں ، کہ سائنس کے بارے میں اسلام اورمغرب کا کیا نظریہ ہے؟ اس لیے کہ مغرب نے نصابِ تعلیم اور میڈیا کے ذریعے اپنے سائنسی برتری کو ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا،اوراسی سائنس کے راستے سے اس نے اپنے آپ کو دنیا میں برتر اورغالب ہی نہیں ثابت کیا؛ بل کہ اس کی آڑمیں اپنے جراثیم اورانسانیت سوز مظالم پربھی پردہ ڈال دیا، اورسائنس کے نام پرلوگوں کو اپنے مذاہب اورادیان سے بر گشتہ اور منحرف کردیا؛ حالاں کہ سائنسی ترقی میں دنیا کی قدیم وجدیدتمام تہذیبوں کا حصہ رہا ہے، اوراسلامی تہذیبوں کا اہم اور بڑا حصہ رہا ہے،لہٰذا آج کی ترقی یافتہ سائنس در اصل اسلامی تہذیبی ورثہ کی مرحونِ منت ہے، نہ کہ مغربی تہذیب کا شاخسانہ،اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ہمارے والدین اوراساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کو یہ بات واشگاف کراکے ان کے ذہن کو صحیح سمت میں ڈالیں۔
آئند ہ قسطوں میں ان شاء اللہ اسلام اورمغرب کے درمیان سائنسی اعتبار سے بنیادی فروق کوذکرکرنے کی کوشش کی جائے گی ؛کیوں کہ لوگ اس سلسلے میں مختلف زاویۂ نگاہ رکھتے ہیں۔
(۱) بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ اسلام سائنس کا مخالف ہے، اورمغرب کا پورا مدار سائنس پرہے، لہٰذا یہ سنگ نا ممکن ہے۔
(۲)بعض کا ماننا ہے کہ اسلام اورمغرب دونوں سائنس کو مانتے ہیں ،اور دونوں کا طریقہ بھی ایک ہے۔
مگر صحیح نقطہٴ نظریہ ہے کہ اسلام ہرصورت میں سائنس کو بھی اللہ کا واحدنیت ، خالقیت ، مالکیت اور ربوبیت کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے، جب کہ مغرب سائنس کو ملحدانہ روپ دینا چاہتا ہے، لہٰذا ہم دونوں فلسفوں کے مرکزی اختلافات کو بتلانے کی کوشش کریں گے۔
(جاری……)
