انوار قرآنی :
مولانا مرشد صاحب قاسمی بیگوسرائے
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَااللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰)(حم السجدة)
ترجمہ : (دوسری طرف)جن لوگوں نے کہا کہ : ” ہمارا رب اللہ ہے “ اورپھروہ اس پرثابت قدم رہے، توان پربے شک فرشتے (یہ کہتے ہوئے ) اتریں گے کہ : ” نہ کوئی خوف دل میں لاوٴ، نہ کسی بات کا غم کرو، اوراس جنت سے خوش ہوجاوٴجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ایمان ایک عظیم قیمتی سرمایہ ہے، ہم نے رب کی ربوبیت کا اقرارکیا،اللہ تعالیٰ کواپنا خالق، معبود، مربی اورمحافظ مانا،یقینا یہ ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اسی بنیاد پرجنت کی ابدی راحت ، اس کی انوکھی، نرالی، لذیذ ترین نعمتیں اورربِ کائنات کا دیدارنصیب ہوگا ۔ ہم نے بہت ہی آسان کلمہ” لاَ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وسلم ) دل کی گہرائیوں کے ساتھ زبان سے کہہ کراپنا ایمان اورعقیدہ بنالیا کہ وہی ایک اکیلا معبود، لائقِ پرستش اورقابلِ سجود ہے اورپھراس کے نازل کردہ تمام احکام، کتابیں اورپیغمبربرحق ہیں ۔
الغرض ! کلمہٴ طیبہ اورایمان کے آسان ہونے کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ایک شخص کو جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ہورہا ہوگا، ممکن ہے کہ وہ مومن نہ ہونے کے باوجود ایمان اوراہلِ ایمان سے محبت اوران کی نصرت کرتا ہوگا، چوں کہ اللہ تعالیٰ کودین اورایمان پسند ہے، تواس سے محبت اوراس کی نصرت بھی پسند ہے، اس شخص کے تلوے کے نیچے ایک چنگاری رکھ دی جائے گی جس سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولے گا ، وہ تمنا کرے گاکہ کاش! آج میرے پاس دنیاکی دولت ہوتی؛تومیں اس کو دے کراپنی جان اِس عذاب سے چھڑا لیتا،اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے بندے ! آج تو پوری دنیا کی دولت دینے کو تیار ہے ؟ میں نے تو دنیا میں تمہارے سامنے بڑی آسان چیز پیش کی تھی یعنی کلمہ طیبہ” لا الٰه الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا اقرارکرکے اس عذاب سے بچ جاتا ۔
ایمان سراسر فضلِ الٰہی ہے :
لیکن ایمان وہدایت کے سلسلے میں ہمیشہ یہ بات ہمارے پیشِ نظررہے کہ یہ ساری توفیق محض اُس ذات کے فضل اورعنایتوں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایمان والوں کی شان بیان کی :
﴿الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلوٰة ، ومما رزقنٰہم ینفقون ، والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالاٰخرة ہم یوقنون﴾․
متقی وہ حضرات ہیں جو غیب پرایمان رکھتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں،اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔اوروہ حضرات جوان تمام باتوں پرایمان رکھتے ہیں جوآپ کی طرف اورآپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف نازل کی گئیں،اورآخرت پریقین رکھتے ہیں․
ایمان والوں کے اِن تمام اوصاف کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی آنکھیں کھول دی ہیں، فرمایا: ﴿اولئک علی ہدی من ربہم ﴾یہ سارے لوگ اپنے رب کی جانب سے ہدایت پرہیں ۔ اگررب کی عنایت اوراس کافضل نہ ہوتا توہم ہرگزایمان وہدایت والے نہ ہو تے ۔
ہم سوچیں جس دن ہم پیدا ہوئے اُس دن ہزاروں جانوربھی پیدا ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ چاہتا توہم کوجانوروں میں پیدا کردیتا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ مزید سوچیں اس دن ہزاروں انسان بھی پیدا ہوئے ہوں گے اور وہ نہ جانے کس کس باطل مذہب اورکیسے کیسے من گھڑت عقیدوں کی طرف گئے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو صحیح مذہب اورصحیح عقیدے کے لیے چنا، ہم اپنے ایمان کی قدرکرتے ہوئے اس عظیم سرمائے کی حفاظت میں ہرقسم کی کوتاہی سے گریزکریں ۔
ایمان کی حفاظت کی ضرورت کیوں ؟
یہ قیمتی سرمایہ ہم کو بغیراستحقاق اورکسی طلب و سوال کے مل گیا ،کہیں ایسا نہ ہو (نعوذ باللہ )کہ ایمان کا کوئی لٹیرا،کوئی دشمنِ اسلام ہمارے ایمان کوبگاڑدے،اس کو لوٹ لے جائے،آج کے دورمیں اس کی حفاظت کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ حضرات صحابہٴ کرامؓ اپنے ایمان کے بارے میں ہمیشہ خائف رہتے ،جب کہ وہ زمانہ خیرالقرون کاتھا۔ اُس زمانے میں اتنے فتنے اوراتنے گناہ کے آلات توکیا؛خیالات بھی نہیں تھے، آج توہرطرف باطل کا دوردورہ ہے،ہرطرف بے دینی کابازارگرم ہے،قدم قدم پرفتنے ہی فتنے ہیں، نت نئی شکلوں میں فتنے اورباطل عقیدے سامنے آرہے ہیں، گناہ کے آلات لاتعد ولاتحصٰی(بے شمار )ہیں، دشمنانِ اسلام نے گناہ کے اِن آلات؛بل کہ جراثیم کوآج ہرگھرمیں ہی نہیں ہرہاتھ میں پہنچادیا ہے، ایسے سنگین اورپرخطر ماحول میں آج ہم کو اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر، اورایمان پراستقامت کی دعا قرونِ اولیٰ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایمان پراستقامت :…آج وقت کی اہم پکار…ایمان والوں کو ایمان پرجمنے کی دعوت ہے۔
تمام دشمنانِ اسلام کی تحریکوں ،تنظیموں، اسکول،کالجزکے نظام اورنصاب کی پوری؛بل کہ جان توڑکوشش یہی ہے کہ ایمان والوں کا ایمان متزلزل ہوجائے ، وہ اپنے ایمان سے ڈگمگا جائیں،کسی بھی طرح ایمان وایقان کی گاڑی پٹری سے اترجائے ۔ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فقط ایمان ہی کا تذکرہ نہیں کیا ؛بل کہ اس کے ساتھ استقامت اوراس ایمان پرجمنے کا بھی تذکرہ کیا ، فرمایا : ﴿قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا ﴾ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھروہ اس پرجم گئے ۔
ایک مرتبہ ایک صحابی سفیان بن عبداللہ سقفیؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اورفرمایا : ”قل لی فی الاسلام قولا لا اسال عنه احد غیرک فقال قل آمنت باللہ ثم استقم “(الجمع بین الصحیحین)
مجھ سے آپ اسلام کے بارے میں ایسی جامع بات ارشاد فرمادیں کہ آپ کے بعد کسی اورسے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہہ میں اللہ پرایمان لایا، پھراس پرجم جا۔
استقامت چھوڑنے پرعذابِ جہنم کا اندیشہ :
استقامت کے چھوڑنے پرعذابِ جہنم کا قوی اندیشہ ہے ۔ حضرت سری سقطی ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے ، تو درخت سے آوازآئی:” یا سری کن مثلی “اے سری میری طرح ہوجائیے، آپ نے پوچھا تیری طرح ہونے کا کیا مطلب ہے؟درخت نے کہا : ” الناس یرمونی بالاحجار واناارمیہم بالاثمار“ لوگ میرے اوپر پتھر پھینکتے ہیں اورمیں ان کو پھل دیتا ہوں ۔ پھرآپ نے پوچھا لیکن یہ بتا وٴ، فکیف مصیرک إلی النار “ تیرا ٹھکانہ آگ کیوں ہوتا ہے؟ بالآخر لوگ تجھے کاٹ کرکیوں جلادیتے ہیں، تو درخت نے کہا دراصل میں استقامت سے محروم ہوں، ہوا جب چلتی ہے تو کبھی دائیں کبھی بائیں جھک جاتا ہوں ، اس لیے مجھے آگ میں جھونک دیا جاتا ہے، خدانہ کرے کہ ہم بھی اُس درخت کی طرح ہوجائیں کہ جدھرکو ہوا چلے،بس ادھر کو جھک جائیں اوردین وشریعت کے ماحول کواپنی خواہشات کے تابع کردیں۔
مسجد ومدرسہ کے ماحول میں ،اللہ کے راستے میں نکلنے کے دوران تو ہم مسلمان رہیں، ایمان وشریعت پر جمے رہیں،اوراس ماحول کے ختم ہوتے ہی ہم سب کو خیرآباد کہدیں،بازارمیں ہوں تو بازاری ہوجائیں،آفسوں اورکاروبار میں اسلام اوراحکامِ اسلام سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔ ہمارا یہ رویہ ایمان اورتقاضہٴ ایمان کے بالکل خلاف ہوگا۔
استقامت کی حقیقت و اہمیت :
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈاڑھی کے بالوں کی سفیدی دیکھ کر ایک صحابی نے تعجب کیا اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر جلدبڑھاپا آگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیبتنی ہود“ مجھے سورہٴ ہود نے بوڑھا کردیا ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے سورہٴ ہود کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواستقامت کا حکم دیا گیا ہے ﴿فاستقم کما امرت﴾ کہ آپ ایسااستقامت اختیار کریں جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین اوراعمال کے سلسلے میں ہمیشہ استقامت اختیار کرتے،لیکن فکراورغم یہ رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے منشا اورمرضی کے مطابق استقامت ہوئی یا نہیں ؟
حضرت عمرفاروقؓ نے استقامت کی بڑی اچھی تشریح فرمائی :
” ان تستقیم علی الأمر والنہی ولا تروغ منه روغان الثعالب “ استقامت یہ ہے کہ تو سارے اوامر اورنواہی پراپنے آپ کو جمادے ، اوراس سے بچنے کے لیے لومڑی کی طرح راہِ فراراختیار نہ کر۔ یعنی استقامت یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سارے حکموں کو پورا کریں، ساری منع کی ہوئی چیزوں سے بچیں ، اوامر ونواہی کے لیے کوئی حیلہ وتدبیر نہ کریں، حلال کوحرام یا حرام کو حلال کرنے کی کوئی تدبیر نہ تلاش کریں کہ کس طرح ہم سے یہ حکم معاف ہوجائے۔
استقامت کی فضیلت :
اللہ تعالیٰ نے آیتِ کریمہ میں استقامت اختیارکرنے والوں کو بشارت سنائی کہ فرشتے ان پراترتے ہیں اوریہ کہتے ہیں کوئی اندیشہ نہ کرو، کچھ غم نہ کرو، اورجنت کی خوش خبری سن لو۔ روایتوں میں آتا ہے کہ فرشتوں کی جانب سے یہ بشارت تین موقع پرسنائی جاتی ہے۔موت کے وقت ، قبرمیں ،اورحشرمیں ۔ سب سے پہلے یہ بشارت موت کے وقت سنائی جاتی ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے دنیا سے مسکراتے ہوئے جاتے ہیں اورموت کے وقت ان کے چہرے پرتبسم ہوتا ہے۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ؎
نشان مرد مومن باتو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست
میں تم کو کامل مومن کی ایک پہچان بتلاتا ہوں،جب ان کو موت آتی ہے، تومسکراہٹ ان کے ہونٹ پرہوتی ہے، اس طرح ملائکہ مزید بشارت سناتے ہوئے کہتے ہیں،جس طرح ہم دنیا میں رفیق تھے اورتم کوخیرکے کاموں پرآمادہ کرتے رہتے تھے،اسی طرح آخرت میں بھی ہم تمہارے رفیق ہیں۔ اورآج تمہارے لیے وہ تمام نعمتیں ہیں،جن کی تمہیں خواہش ہواورجوتم طلب کرو۔ آج خصوصی مہمان نوازی ہے،بڑے معاف کرنے والے بڑے مہربان رب کی طرف سے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان تمام بشارتوں کا مستحق بنائے،ہم سب کا ایمان پرخاتمہ فرمائے اوراس پرفتن دورمیں ایمان اوراعمالِ صالحہ پراستقامت نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین!
