خو ش کن تا ٴثریعنی جنوبی افر یقہ کا ایما ن افر وز سفر

اداریہ:
سترہویں قسط:

مولانا حذیفہ مولانا غلام محمد صاحب وستانوی


مدرسة النور (برائے نابینا طلبہ)
جنوبی افریقہ کے دوسرے سفر میں ہم نے جب ”پیٹر میرژ برگ“ کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ کہ وہاں ”مدرسة النور للمکفوفین“ (Mdadrsa Al-Noor for The Blind) ہے ،جو نابینا طلبہ کے لیے خاص ہے، جس کو مولانا مَرچی صاحب نے بنایا ہے، اورمولانا مرچی ہمارے والد کے خاص دوستوں میں سے ہیں، تو ساتھیوں نے کہا کہ چلو اس کی زیارت کرتے ہیں۔ ہمارے چچا زاد بھائی سلیم یعقوب راندیرا کے ساتھ ہم وہاں پہنچے، مولانا مرچی صاحب دامت برکاتہم ہندوستان کے دورے پر تھے، لہٰذا ملاقات نہ ہو سکی؛ البتہ دیگر ذمہ دار احباب نے مدرسہ کی زیارت کروائی، واقعتا یہ ادارہ بھی اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بے مثال عالمی ادارہ ہے جو آنکھوں سے معذور اور بینائی سے محروم نونہالانِ امت کو تعلیم سے آراستہ کررہا ہے۔
مدرسة النور کا آغاز ۱۹۸۶ء ”پیٹر میرژ برگ“ شہرمیں ایک چھوٹے سے کمرے میں ہوا، جس میں اولاً نابینا طلبہ کوبریل (نابیناؤں کی مخصوص کتاب)میں نورانی قاعدہ اور بنیادی تعلیم دی گئی، ایک طالب علم اورایک استاذ سے اس کا آغاز ہوا۔
مولانا مرچی صاحب نے جب دیکھا کہ مسلم نابینا افراد معاشرے پربوجھ ہورہے ہیں، کیوں کہ ان کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں، اوردیگر مذاہب کے پیروکاروں نے اس کا اہتمام شروع کردیا تھا، مگر مسلمان نابینا بچوں کے لیے اسلامی تعلیم کا کوئی نظام نہیں ہے، توآپ نے اللہ کا نام لے کر یہ بیڑا اپنے سر لیا۔ اس زمانہ میں ساوٴتھ افریقہ میں خاص طورپرعبقریت یعنی ذات پات کا جادو سرچڑھ کربول رہا تھا، کیوں کہ سفید فاموں کی حکومت تھی اور وہ ایسی چیزوں کو خوب ہوا دے رہے تھے، اس طرح ۱۹۸۶ء میں آغاز کے بعد مختصر عرصے میں طلبہ کی تعداد ۳ ہوگئی، اورماشاء اللہ صرف ایک سال کی مدت میں وہ طلبہ بیریل پر انگلیوں کے سہارے قرآنِ کریم کی تلاوت پرقادر ہوگئے، اور دوسرے ہی سال انہوں نے حفظ بھی شروع کردیا۔
آہستہ آہستہ طلبہ کی تعداد بڑھنے لگی اور دنیا کے مختلف ملکوں سے اچھی خاصی تعداد میں نابینا طلبہ یہاں آنے لگے؛ مگرجگہ کی تنگی کی بنا پر مدرسہ شہر سے باہر وسیع وعریض جگہ پر منتقل کردیا گیا۔
۱۵/ سال کے بعد یعنی ۱۹۹۹-۲۰۰۰ میں جب مدرسہ وسیع جگہ پر منتقل ہوا تو اب وہاں بریل میں طباعت کے لے جو آلات لگتے تھے وہ بھی خریدے گئے اور نابینا بچوں کے لیے ”صوتی ریکارڈ“ کی گئی کیسیٹوں کو ڈاک کے ذریعہ دنیا کے مختلف ملکوں میں ارسال کیا گیا۔
مولانا مرچی ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
”ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا حدیث، فقہ، تفسیر، نحووصرف، وغیرہ کی کتابوں کو بیریل میں منتقل کرنا؛ مگر الحمد للہ ہم کامیاب ہوئے، ایک طرف بیریل میں درسی کتابیں تیارہوتی رہیں اور دوسری جانب نابینا طلبہ دینی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ ۲۰۰۴ء میں ایک نابینا بچی اورایک لڑکے نے صحاح ستہ اور دیگر درسِ نظامی کتابیں پڑھ کر شہادة الفضیلة حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
مدرسة النور کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں میں مقبولیت حاصل ہونے لگی،اوراس کے طرزپردیگر ملکوں میں ادارے قائم کئے گئے۔
خلاصہ یہ کہ مدرسة النور ایک عالمی ادارہ ہے ، جو معذور اورنابینا افراد کی تعلیم کے لیے کامیاب خدمات انجام دے رہا ہے۔
اس طرح تقریباً جنوبی افریقہ کے سفر کی روداد پوری ہوئی آئندہ قسط میں جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کے لیے چند تجاویز اورمشورے قلم بند کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس طرح یہ سفرنامہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ان شاء اللہ
(جاری……)