مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی
مسلمانوں کی ایک بڑی کو تاہی:
مسلمانوں کی طرف سے ایک بہت بڑی کوتاہی جو ہوتی ہے،وہ یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب جوڑنا ہے توسب ٹھیک ہے، پھرمذہب میں بھی شامل ہوجائیں، تہواروں میں بھی شامل ہوجائیں۔ یاد رکھیے، انتہائی خطرناک کام ہے، اس سے ایمان خطرے میں پڑجائے گا۔
ہم دیوالی میں، ہولی میں، ان کے مذہبی کاموں میں شریک نہیں ہوسکتے۔ میں صاف کہتا ہوں، یہاں تک میں منع کرتا ہوں کہ اگران کا کوئی جلوس نکل رہا ہے تو آپ پانی پلانے کے لیے بھی کھڑے نہیں ہوسکتے، جائزنہیں، درست نہیں۔
﴿وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوافَتَمَسَّکُمُ النَّارُ﴾۔(سورة الہود: ۱۱۳)
ہلکا جھکاؤ بھی نہیں ہونا چاہیے تمہارا ان لوگوں کی طرف، جو ظالم ہیں، ورنہ تمہیں آگ دبوچ لےگی، کوئی رجحان ان کے کسی مذہبی کام میں ہمارا ہونا ہی نہیں چاہیے۔
ہمارا کام انسانیت کا ہے۔ آپ ہسپتال میں جائیں، آپ جیلوں میں جائیں، بازاروں میں جائیں، سڑکوں پرکھڑے ہوکرپانی پلائیں، آپ ان کی کمزوریاں بتائیں، نشے کا علاج کرائیں، اورجو دوسری ضرورتیں ہیں، آپ ان کو سمجھیں اوران ضرورتوں کوپورا کرنے کی کوشش کریں۔
یہ پیغامِ انسانیت کا کام ہے۔
مذہب میں شریک ہونا انتہائی خطرناک بات ہے۔
