دیکھ کے شرمائیں یہود

شفیع احمدقاسمی اِجرا،مدھوبنی/استاذجامعہ اکل کوا

 وہ تومردودہے: 

زیرِآسمان؛کائنات کے مصلحِ اعظم ،شاہ کونین محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ”کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار“ہرنئی چیزبدعت ہے اورہربدعت گم راہی ہے اورہرگم راہی جہنم تک پہنچانے والی ہے ۔ اب کسی کے ذہن میں یہ سوال ہوسکتاہے کہ بدعت کہتے ہیں کس بلاکو ؟ تو یہ یادرہنا چاہیے کہ کوئی بھی نیاطریقہ؛جوکہ شارع علیہ السلام سے منقو ل نہیں ہے،اُسے عمارت اسلام میں ٹھونس دینے یا ایوانِ شریعت میں داخل کردینے کانام بدعت ہے ۔ایک اورحدیث میں یوں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ”من احدث فی امرنامالیس منه فہورد“جوکوئی ہماری لائی ہوئی شریعت میں کوئی نئی بات ٹھونسے، وہ مردود ہے ۔ اب اِن ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے ذہن ودماغ کے پردے پرسجاکرآگے کی تحریر کا مطالعہ کریں ۔

ہم نے گودمیں پرورش کی ہے:

الحمدللہ!ساری دنیاجانتی اورمانتی ہے کہ ہماری شریعت مطہرہ میں(New Year)کی ابتدامحرم الحرام کے متبرک ماہ سے ہوتی ہے۔چوں کہ ہم اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے ایسی امت ہیں،جن کوزندگی گزارنے کے طورطریقوں کے معاملے میں خودکفیل بنایاگیاہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم مستقل ایک کامل واکمل تہذیب وروایات کے مالک اورپاسبان وامین ہیں۔اِس لیے اپنی زندگی کی شاہِ راہ پرتنگ نظری کے پُرآشوب دورمیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاکربھکاری پن اختیارکرناشانِ مسلم کے خلاف ہے۔ہمیں کسی کے درپرجھکنے کی ضرورت ہی کیاہے؟سچ تویہی ہے کہ ہم خودساری دنیاکی سبھی اقوام کوتہذیب وشائستگی کی دولت سے مالامال کرنے اورآداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔پتایہ چلاکہ ہم اُن کے پرورش کناں ہیں،اِس لیے دوسروں کے درپرجھکناہماری شان نہیں ہے ۔

یہ بہترین اورمعززترین امت ہے:

 شانِ مسلم اوراُن کی خوبیوں کوبیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں ارشادِ رب العبادہے کہ:﴿کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۔﴾تم بہترین امت ہو،جولوگوں کی فائدہ رسانی کے لیے نکالی گئی ہو۔

 اِس آیتِ پاک کی تفسیرمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”انتم تتمون سبعین امة،انتم خیرہا واکرمہاعلی اللّٰہ“تم سترامت کومکمل کرنے والی امت ہو،تم اُن میں سے بہترین ہواورتم اللہ کے نزدیک اُن میں سے معززترین ہو،کیوں کہ اِس امت کے ذمے نبیوں والاکام رکھاگیاہے ،اِس لیے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے اوراس کی فضیلت سواہوگئی ہے۔(تحفة الالمعی:ج ۷/ص۱۶۰)

ہماری دریادلی کی داستان:

لیکن افسوس یہ ہے کہ زمانہ جوں جوں خیرالقرون سے دوراورشرالقرون سے قریب ہوتاگیا،اُسی قدرتیزرفتاری کے ساتھ امت مسلمہ فساداتِ عقائد،بدعات اورمن گھڑت کہانیوں کے دَلدل میں پھنستی چلی گئی اورہنوزیہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔کیوں کہ ہمارے اندرایک خوبی؛ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ غیروں کے پاس سے اگرالٹاسیدھاکچھ بھی ہاتھ لگ جاتاہے توبغیرکچھ سوچے سمجھے اوربلاتاخیراچک کراسے اپنے حسین دامن میں سجالیتے ہیں۔لیکن ہم اہل ایمان واسلام کی بدقسمتی یہ ہے کہ اِس ماہ محرم الحرام ہی میں نہیں،بل کہ کم وبیش ہرماہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ اپنی کرم فرمائی اوردریادلی کاخوب مظاہرہ کیاہے اوراُن کی زرخیزگودمیں بدعات کوڈال کرپرورش کی ہے اوراِن شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ جبکہ بہ حیثیت مسلمان ہمیں سمجھناچاہیے کہ دیگراقوام کی طرح نئے سال ماہ کے استقبال کااسلامی طریقہ یہ نہیں ہے کہ شرک اوربدعات وخرافات سے آغازکرکے جانے اَن جانے میں یہودونصاریٰ کی پیروی کی جائے۔

چندرسومات کی کہانی:

آج یہی دیکھنے میں آرہاہے کہ ہرچہارجانب بدعات کی رسومات کاایک سیلاب بلاخیزہے،جن پربند باندھنااب آسان نہیں رہا ۔اِس لیے قارئین سے دست بستہ التماس ہے کہ یہ بات اول مرحلہ میں لوحِ دل پرنوٹ کرلیجیے کہ ہمیں تفاصیل کی دنیامیں قدم بھی نہیں رکھناہے ۔اُن میں سے چندہی رسومات کوآپ کی خدمتِ عالیہ کے حوالے کیاجائے گا،وہ بھی اختصار کے ساتھ۔ معاشرت کی راہ میں دیکھتے ہیں توہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی مہینے کی گودبدعات ورسومات کی کہانی سے محروم نہیں ہے،بل کہ سال کے تقریباً تمام ہی مہینے بدعات وخرافات کی کہانی سے جڑے ہوئے ہیں،توچلیے اسلامی مہینوں کی ترتیب کے اعتبارسے ماہ اول محرم الحرام کاہی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،پھریکے بعد دیگرے مشہورومعروف رسوم ورواج پرروشنی ڈالی جائے گی۔

ماتم کرواورسوگ مناؤ:

                آج کل کے ترقی یافتہ مسلمان ماہ محرم الحرام کوماتم اورسوگ کامہیناکہتے ہیں اورساتھ ہی یہ تبلیغ بھی کرتے ہیں کہ اِس ماہ میں ماتم کرنااورسوگ مناناچاہیے ۔مطلب یہ ہے کہ نہ نیاکپڑاپہناکرے نہ مہندی وغیرہ سے ہاتھوں کوسجاناچاہیے اورنہ ہی شادی بیاہ وغیرہ کی حسین تقریب منعقدکرنی چاہیے ۔حالاں کہ کتابوں کے مطالعہ سے پتاچلتاہے کہ محرم کوماتم اورسوگ کامہیناقراردیناحرام ہے۔ماہ محرم میں شادی کونامسعودسمجھنا اور ناجائزکی فہرست میں ڈالناسخت گناہ اورعقائدِ اہل سنت کے خلاف ہے۔یہ شیعوں کاطریق اورشیوہ ہے۔ مذہب اسلام نے جن چیزوں کوحلال اورجائزقراردیاہے،اُن کوعملاً یااعتقاداً ناجائزاورحرام سمجھنے میں یہ خطرہ بھی موجودہے کہ کہیں ایمان واسلام ہی سے ہاتھ نہ دھوناپڑجائے۔

کھایاکسی نے اورپیٹ بھراکسی اورکا:

                ایک رسم یہ بھی چلی ہوئی ہے کہ یکم محرم سے دسویں محرم تک پانی یاشربت پلانے کااہتمام؛بڑے اہتمام سے کرتے ہیں۔اُن کاعقیدہ یہ ہوتاہے کہ کوفہ کی سرزمین پرکربلاکے میدان میں۷۲/جاں نثارانِ حسین بن علی بن ابی طالب پیاس کی حالت میں لڑتے ہوئے شہادت کی منزل پاگئے ،تواُن کاحلق ترہوجاتاہے ۔یعنی آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر”ماراگھٹنا،پھوٹاسر“والی بات ہوگئی۔یہ تودماغ سے سوچنے کی بات ہے کہ پانی توپئیں ہم اورحلق ترہوتاہے اُن شہدائے کرام کا۔یہ باتیں صرف کہنے کی حدتک اچھی لگتی ہیں امی جان کہتی ہیں کہ بیٹاتم کھاؤمیراپیٹ بھرجائے گا۔ایساکبھی نہیں ہواہے اورقیامت تک ہوبھی نہیں سکتاکہ کھائے کوئی اورپیٹ بھرے کسی اورکا۔اب ظاہرسی بات ہے کہ پانی ہم پئیں گے تورگیں اُن کی کیسے ترہوجائیں گی؟یہ جہلائے دنیاکا عقیدہ فاسدہے اوریہ رسم بدعت ہے ۔

اب ساتویں تاریخ آگئی ہے:

                تجربات کی روشنی میں دیکھیے تومحرم الحرام کے ابتدائی چھ دنوں میں کوئی خاص بات نہیں ہوتی،اِس لیے اب ساتویں تاریخ پرنظرڈالیے تواُس دن عام گھروں میں کھچڑاپکاتے،عَلم نکالتے،ڈھول تاشے بجاتے ، شراب پیتے،”یاحسین“کے فلک شگاف نعرے لگاتے اوربندروں کی طرح اچھل کودمچاتے ہیں اوریہ سلسلہ ۱۰/ محرم الحرام کی شام کوتمام ہوتاہے اورپھرآئندہ سال تک کے لیے خرگوش کی طرح سوجاتے ہیں ۔اگراُن جاہلین اورعقل کے اندھوں سے پوچھ لیجیے کہ ایساکارنامہ کیوں کرتے ہو؟وہاں سے یہی جواب ملے گاکہ حضرت حسین کا سرقلم کرنے کے بعداِسی طرح گلی کوچوں،چوک چوراہوں اور بازاروں میں نچایااورگھمایاگیاتھاتوہم بھی ان دنوں میں ماتم کرتے ہیں۔ جبکہ دنیاجانتی ہے کہ ڈھول وغیرہ کسی خوشی ومسرت کے موقع پربجائے جاتے ہیں،ماتم اورنوحہ خوانی میں نہیں۔ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف راگ الاپتے ہیں کہ یہ مہیناسوگ کاہے اوردوسری طرف ڈھول بھی بجاتے ہیں۔یہ لوگ خودایک بات پرقائم نہیں کہ محرم الحرام غم کامہیناہے یاخوشی کا؟بل کہ اُنھیں یہ پتاہی نہیں توقائم کیسے رہیں گے؟مذکورہ تمام بدعات ورسومات کو خدمت دین سمجھ کرانجام دیاجاتاہے ۔

سوگ پرڈھول:

                اِن ایام میں ڈھول بجانے اورتماشاکرنے والوں سے ادباً یہ التماس ہے کہ اگرآپ اتنے ہی بہادر اور رستم زماں ہیں توپھراپنے باپ یاکسی عزیزکی میت پرڈھول بجاکردیکھ لیجیے گا۔اِن شاء اللہ آپ کی زندگی کابھی ڈھول بج کرپھوٹ جائے گا۔ہمیں سوفی صدنہیں،بل کہ ایک سوپانچ فی صد؛یقین کامل ہے کہ کوئی بدبخت وکم بخت انسان بھی ایساکرنے کی سوچ نہیں سکتا۔اب تعجب ہوتاہے کہ دربارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سردارِ جنت کا خطاب پانے والے حضرت حسین کی شہادت پرڈھول بجانے اورطرح طرح کاڈرامہ کرنے کی ہمت کیسے کر لیتے ہیں؟

رات بھرتعزیہ سازی ہوتی ہے:

                تعزیہ بناتے ہیں اوراُس میں رات دن ایک کردیتے ہیں۔اس کارِنیک میں ایساکھوجاتے ہیں کہ یہ نظارہ بھی دیکھاگیاہے کہ کھانے پینے تک ہوش نہیں رہتا۔خودکے گمان میں سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم دن رات عبادت الٰہی میں مشغول ہیں۔اگریہی بات اُن سے کہہ دی جائے کہ تم لوگ پوری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کروتوپھردیکھ لیجیے کہ کیسے نینداپنی آغوشِ شفقت میں نہیں سلاتی ہے؟تعزیہ بناتے وقت یہ نینداُن کے پاس بھی نہیں پھٹکتی اور ساری رات تعزیہ سازی یاکارِ ثواب میں آرام سے گذاردیتے ہیں۔جبکہ تعزیہ سازی کاحرام اورخلافِ دین وایمان ہونابھی اظہر من الشمس ہے ۔اس لیے قرآن کریم پوچھ رہاہے :﴿اَتَعْبُدُوْنَ مَاتَنْحِتُوْنَ۔﴾کیاتم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو،جسے تم نے خودہی تراشااوربنایاہے؟اتناہی نہیں،پھراس میں مردوزن کااختلاط بھی ہوتا ہے۔ بعد ازاں منت مانی جاتی ہے،اُس سے مرادیں مانگی جاتی ہیں،حصول اولاداورصحت وعافیت کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں، سجدہ اورطواف کیاجاتاہے اوراُس کی زیارت کوزیارتِ حسین  سمجھاجاتاہے ۔کیایہ تمام ارکان روحِ ایمان و تعلیمات اسلام کے خلاف نہیں ہیں؟یہ تمام چیزیں بدعت ،ناجائز اورحرام ہیں۔

                بدعات محرم الحرام سے مختصراً ملاقات کے بعد اب ہم ربیع الاول کے دربارمیں قدم رکھتے ہیں۔وہاں بھی ان شاء اللہ ! شان دار معلومات کے پٹارے کھلیں گے۔

ربیع الاول میں کرشما:

                اس ماہ میں ایک بڑی غلطی ”عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم“کے دل کش عنوان سے ایجادکی گئی ہے ۔ یہ ایک عیاش بادشاہ کی ایجادہے،جسے اُس نے عیسائیوں کے مقابلے میں ایجادکیاتھا۔جیسے اُن کے یہاں بڑے دن میں خوشی کی محفل سجتی اوررونق ہوتی ہے،اسی طرح ہم بھی کریں گے۔کیامٹھائی تقسیم کرنے اورلوگوں کی بھیڑ اکٹھاکرنے سے غیراقوام کامقابلہ یااُن کی جمعیت کاتوڑ ہوسکتاہے؟اسلام کواِن وقتی اورعارضی شان وشوکت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اسلام کی شانِ عالی شان تویہ ہے کہ جب ۲۲/لاکھ مربع میل پراسلام کاپرچم لہرانے والے خلیفہٴ ثانی حضرت عمرفاروق ملک شام تشریف لے گئے اوروہاں لوگوں نے نیالباس تبدیل کرنے کی پیشکش کی توآپ نے فرمایا:”انکم کنتم اذل الناس فاعزکم اللّٰہ برسولہ فمہما تطلبوا العزة بغیرہ یذلکم اللّٰہ“تم لوگوں میں ذلیل ترین قوم تھے۔اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عزت بخشی ہے ۔اگرتم کسی اورسے عزت چاہوگے تواللہ تعالیٰ پھرسے تمہیں ذلت ورسوائی کے غارمیں دھکیل دے گا۔(حلیة الاولیاء:ج ۱/ص۸۳)

یہی محبت نبوی کے تقاضے:

                ربیع الاول میں جشن اورجلسے جلوس کازورشورسے خوب اہتمام کیاجاتاہے ۔مٹھائی کی تقسیم کے لیے چندے اورپسِ پردہ پیٹ کے دھندے ہوتے ہیں۔مساجدسجائی،بل کہ دلہن بنائی جاتی ہیں اوریہ سب کچھ ہندوانہ طرز پرہوتاہے ؛جس میں ایک چھپر بناکرجھالرلٹکاتے ہیں۔مسجدوں کی آرائش دیکھ کرتوایسامحسوس ہوتاہے کہ کسی اہل ثروت نے شادی میں اپنا گھر سجا رکھا ہے۔اب توزمانہٴ ترقیات میں دیکھاجارہاہے کہ محبت کے ٹھیکے دار گھر سے باہر نکل کر سڑکوں کوبھی سجارہے ہیں۔ روشنی اور قمقموں کااسراف ہوتاہے ،جسے قرآنی فرمان: ﴿اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ﴾ میں شیطان کا بھائی قراردیاگیاہے۔اِس کے علاوہ بھی بہت کچھ نظارے دیکھنے کوملتے ہیں، جسے سبھی لوگ جانتے ہیں، اس لیے یہاں پر حتی الامکان اختصارسے کام لیاگیاہے۔اب فیصلہ کیاجائے کہ کیا ایسے واہیات کارناموں اورخرافات وبدعات کو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سند دیں گے؟ ہاں!اِس بات پر ضرور اتفاق کیا جا سکتاہے کہ محبت اگرہے تواپنے نفس اور اُن کی خواہشات سے ۔

اِن عاشقانِ نبی کومٹھائی ہی سوجھ رہی ہے:

                اب کوئی اُن حضرات سے پوچھے کہ تم نے تواپنے نفسانی مزے کودل ودماغ میں خوب محفوظ رکھاہے، لیکن حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پرسخت مصائب کے بادل چھائے ہوئے ہیں،اُس کی مدد میں تم نے کون ساتیرمارا؟اسلام کی اِس ہچکولے کھاتی کشتی کوساحل سے لگانے کے لیے کیاسہاراپہنچایا؟ایک طرف بے چارے مظلوم مسلمان وہ ہیں،جوشجرِ اسلام کی آبیاری اوراعلائے کلمة اللہ کے لیے اپنی گردنیں کٹا رہے ہیں اورایک یہ صاحب بہادراوررستم زماں ہیں کہ اِن کوصرف سجاوٹ اورمٹھائی کھانے کی سوجھ رہی ہے ۔ اُن سے قسم دے کرپوچھ لیجیے کہ اگرفی الوقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماہوتے اورآپ سے دریافت کیاجاتاکہ یہ چندہ کاروپیاہم سجاوٹ،جھنڈے اورمٹھائی پرقربان کریں یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں باز مجاہدین اورمظلوم مسلمانوں پرلگادیں؟توخوداپنے دل پرہاتھ رکھ کربتائیں کہ کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی رائے دیتے کہ مٹھائی کے مزے لے لو؟ہم تویہی نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں کس منہ سے لوگوں سے مٹھائی کھائی جاتی ہوگی؟بے حسی کایہ عالم ہے پھربھی دعویٰ کرتے ہیں اپنے محب رسول اورعاشق نبی ہونے کا۔کیاآپ نے کبھی سوچاکہ ہم نے جشن عیدمیلادالنبی کرلیااورمجاہدین نے اپنی جان لڑائی تواِن دونوں میں سچے عاشق کاخطاب کس کوملے گا؟

تعزیوں اورآتش بازی پرچپکی سادھ لیناچاہیے:

                کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اِس میں شان وشوکت کااظہارہے ۔شایداِسی وجہ سے ایک جعلی مولوی صاحب نے کہاتھاکہ تعزیوں کومنع نہیں کرناچاہیے،کیوں کہ اِس میں کرتب دکھانے سے مشق ہوجاتی ہے ،لاٹھی گھمانے سے شجاعت(بہادری)کی تحریک ہوتی ہے،جس سے لوگوں پراثرپڑتاہے۔ایک صاحب نے یہ فرمایاکہ شب براء ت میں آتش بازی کونہیں روکناچاہیے ۔دلیل یہ پیش کی کہ اِس سے مسلمانوں میں بہادری کا (Spirit) محفوظ رہتا ہے اورسامنے والے مرعوب ہوتے ہیں۔ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں،مگریہ بھی توبتادیجیے کہ بہادری دکھانے کے لیے سال بھرمیں صرف یہی دودن رہ جاتے ہیں،باقی ۳۶۳/دن آپ کہاں اورکس کھیت میں گم ہو جاتے ہیں؟یہ بات سمجھ سے باہرہے کہ ہم پر اتنی بے حسی کہاں سے غالب آگئی ہے؟یہ تواللہ تعالیٰ کاشکرہے کہ دین اُن کے اختیارمیں نہیں۔اگراُن کے قبضہ واختیار میں دین ہوتاتویہ حضرات خداہی جانے کہ اِس میں کیا کچھ کتربیونت کرڈالتے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ”فعل الحکیم لایخلوا عن الحکمة“۔

ایک بات سمجھ میں نہیں آتی:

                وہ یہ کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زندگی میں پیش آنے والی ہرچیزکاطریقہ بتلایاہے ۔ جیسے: کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے ،سونے جاگنے،سلام کرنے ،مساجدمیں دخول وخروج اوربیت الخلامیں آنے جانے کا طریقہ بتایا۔مگرکبھی اپنی پیدائش اِس طرح دھوم دھام اورتزک واحتشام سے منانے کاطریقہ کیوں نہیں بتلایا؟ نعوذ باللہ!اگرعیدمیلادالنبی مناناکارثواب ہوتاتویہ آپ کی حیاتِ مبارکہ میں بھی ہوتا،ورنہ کم ازکم صحابہٴ رضی اللہ عنہم ضرورانجام دیتے،جواتنے پکے عاشقینِ صادقین تھے کہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوکاپانی بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے ،بل کہ اپنے چہروں پرمَل لیتے تھے،وہ جشن مناتے اور چراغاں کرتے،پھرتابعین اورتبع تابعین کانمبرآناچاہیے تھا۔مگرکبھی تاریخ میں ایسانہیں ہواتوہم کیوں کرتے ہیں؟

میلادخوانی کی کہانی:

                عنوان کی دل کشی سے توایسالگتاہے کہ میلادخوانی کاتعلق بھی ربیع الاول ہی سے تھا،لیکن عقیدت کی دنیامیں پاؤں پسارتے ہوئے اب یہ ماہ وتاریخ کی قیدسے بالکل آزادہوگئی ہے۔اب سال بھرمیلادکی محفلیں بغیرقیدوقت کے سجائی جاتی ہیں اوریہ بھی ایک بدعتی رسم ہے ،جس سے اجتناب لاز م ہے۔اُن کاعقیدہ یہ ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک اِس محفل میں آتی ہے،اِس لیے میلادخوانی کی کہانی لکھی جاتی ہے،تاکہ گھروں میں برکتوں کانزول ہواورکسی پریشانی کاورودنہ ہو۔آخرمیں سبھی کوکھڑے ہونے کی دعوت اسٹیج سے دی جاتی ہے اوراہل مجلس نمازکی طرح ہاتھ باندھ کر میلادپڑھتے ہیں۔اُن سے پوچھ کردیکھاجائے کہ اگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوتی ہے توکب؟ابتدامیں،درمیان میں یاآخرمرحلے میں؟ جواب کے لیے انتظارہی کرتے رہ جائیں گے،لیکن کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

تشریف آوری کاوقت بتادیجیے:

                اگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری ابتدائے میلادمیں ہوتی ہے توآپ کوازاول تاآخرحالتِ قیام میں ہی ہوناچاہیے۔درمیان میں آتے ہیں توآدھے کھڑے اورآدھے بیٹھ کراوراگراختتام پرتشریف فرماہوتے ہیں تواِس کاثبوت ہی کیاہے،ذراچپکے سے ہمیں بھی بتاکرممنون کیجیے گا؟اس کے بعدہم یہ پوچھنے کی جسارت ضرور کریں گے کہ اپنی مرضی سے آتے ہیں یاآپ کے دعوت نامہ پرآتے ہیں؟اہل میلاداپنی مرضی سے کھڑے ہوتے ہیں،جس سے یہ پتاچلتاہے کہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی بھی وقت اورکہیں بھی بلاسکتے ہیں، نعوذباللہ!ایسالگتاہے کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اُن میلادخوانوں کے تابع فرمان ہیں۔

گیارہویں سے مختصرملاقات:

                اب گیارہویں صاحبہ سے مل لیجیے،جس کی شرعاً کوئی اصل اوربنیادنہیں ہے۔ ہرسال ماہ ربیع الثانی میں سرتاجِ اولیاحضرت شیخ عبدالقادرجیلانی کایوم وفات بڑی دھوم دھام سے گیارہویں شریف کے نام سے مناتے ہیں۔اِس کاحکم یہ ہے کہ بے شک غوث الاعظم ایک بڑے بزرگ ہیں،جن کی عظمت ومحبت کودل میں بسانابھی ایمان کی پہچان ہے اورادنیٰ سی بے ادبی وگستاخی بھی گم راہی کی دلیل ہے ۔اہل سنت والجماعت کایہ اٹل عقیدہ ہے کہ مخلوقاتِ خداوندی میں سب سے اونچامرتبہ انبیاکاہے اورانبیاکی لمبی فہرست میں سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا۔پھرخلفائے راشدین کا،اُن کے بعدعشرہ مبشرہ صحابہ کا،پھردرجہ بہ درجہ مقام ومرتبہ ہے ۔ذراتوجہ کیجیے کہ انبیااورصحابہ جیسی مقدس ترین ہستیوں کایوم وفات منانے کی تاکید،بل کہ ادنیٰ اشارہ بھی شریعت نے نہیں کیاتوپیرانِ پیرکایوم وفات منانے کی کیاتُک ہے ؟خلاصہٴ کلام یہ نکلاکہ عقل ونقل دونوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے گیارہویں کے بدعت ہونے میں ذرہ برابربھی شک کی گنجائش نہیں ہوسکتی۔

اب بسم اللہ کیجیے:

                رسومات کی طویل فہرست میں ایک رسمِ”بسم اللہ“بھی آپ کی خدمت میں حاضرہوکردست بستہ کھڑی ہے،اس سے بھی شرف ملاقات کرلیجیے۔اِس کا(Connection)کس ماہ سے ہے؟کب اور کہاں سے چلی اورمسلمان گھرانوں میں کس چوردروازے سے داخلہ پانے میں کام یاب ہوگئی؟اِس کاپتاتاریخی صفحات بھی نہیں بتاپارہے ہیں۔بہرحال!بعض مقامات پریہ رسم بھی بڑی پابندی اوراہتمام کے ساتھ لوگوں میں رائج ہے ۔مثلاً:بچہ چارسال،چارماہ اورچاردن کاہونااپنی طرف سے مقررکررکھاہے،جومحض بے اصل ہے اور پھراِس کی اتنی پابندی کی جارہی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے،لیکن اس کی قضانہیں ہوگی اورنہ اِس کے خلاف جائیں گے۔قوم کے اَن پڑھ اورجاہل تواِس کوشریعت کی بات اوراسی کاایک حکم سمجھتے ہیں،جس کی وجہ سے عقیدہ میں خرابی اورحکم شرعی میں اضافہ کرناہے۔اصل تویہ ہے کہ جب بچہ بولنے لگے توسب سے پہلے اُس کوکلمہ طیبہ سکھایا جائے۔پھرکسی دین داربزرگ کی خدمت میں لے جاکربسم اللہ کہلوادیں اوراِس نعمت کے شکرانے میں اگردل چاہے توبغیرکسی پابندی کے حسب توفیق چھپاکرراہِ خدامیں کچھ خیرات وصدقات کردیں۔

                یہ کام لوگوں کو دکھلا کر ہرگزبھی انجام نہ دیاجائے۔مگرمعاشرے اورگھروں میں اکثریہی دیکھتے ہیں کہ جب بچہ بولناشروع کرتا ہے تو اہل خانہ اُسے ابا،امی اورباباوغیرہ ہی سکھانے کواپناشان دارکارنامہ سمجھتے ہیں۔اگراِس کی جگہ اللہ اللہ سکھایا جائے تو کتنااچھاہو،اگرزندگی کی بھاگم بھاگ میں کچھ فرصت کے لمحات میسرآجائیں تواِس پربھی غورکرلیاجائے۔

رجب کے ۲/غضب:

                پہلاغضب: ۲۲/رجب المرجب کوحضرت امام جعفرصادق کے نام کاکونڈابھراجاتاہے ۔یہ بات ہمیں معلوم ہونی چاہیے کہ شریعت اسلامیہ میں اِس کی بھی کچھ اصل نہیں،بل کہ بے سرپاؤں کی خودساختہ کہانی ہے ۔ اِس لیے اِسے بھی خلاف شرع اوربدعت ممنوعہ کی فہرست میں ڈالناپڑے گا۔کیوں کہ ۲۲/رجب کونہ امام جعفر صادق کی تاریخ ولادت ہے اورنہ تاریخ وصال ہے۔اُن کی ولادت شریفہ۸/رمضان المبارک ۸۰ھ اور وفات شوال المکرم ۱۴۸ھ ہے ۔صحیح بات یہ ہے کہ ۲۲/رجب المرجب کوکاتب وحی حضرت امیرمعاویہ کایوم وفات ہے ۔اِس حقیقت کی کھوج لگانے سے پتایہ چلاکہ یہ بھی شیعہ فیکٹری کی تراشیدہ کہانی اورایجادہے،جسے شیعوں نے اپنی کرنی کوچھپانے کے لیے امام جعفر کی طرف منسوب کردیاہے ۔

رازسربستہ کھل ہی گیا:

                یہ تقریب دراصل وفاتِ امیرمعاویہ کی خوشی میں منائی جاتی ہے ۔جس وقت یہ رسم ایجادہوئی،اُس وقت اہل سنت والجماعت کوغلبہ حاصل تھا،اس لیے کھل کراظہارِ دشمنی کرنہیں سکتے تھے۔اِس لیے دشمنانِ معاویہ نے راستہ یہ نکالاکہ شیرینی وغیرہ بہ طورحصہ علی الاعلان تقسیم نہ کیاجائے،تاکہ رازِ سربستہ رازہی بنارہے ۔سبھی لوگ گھرگھرجاکرپوری خاموشی سے اُسی جگہ یہ شیرینی کھالیاکریں،جہاں اِس کورکھاگیاہے۔لیکن کب تک عوام کی پہنچ سے باہراورنگاہوں سے دوررکھتے؟جستہ جستہ رازسربستہ سے پردہ اٹھ گیا۔جب رازفاش ہواتوبڑی چالاکی اورکمال ہوشیاری سے کونڈوں کی نسبت امام جعفرصادقکی طرف کرکے نہ جانے کس گلی سے مسلمانوں کے گھروں میں گھُسادیاکہ کسی کوپتابھی نہیں چلا۔اب مسلمان اِس کے ساتھ کیاسلوک کررہے ہیں،اِس پرکچھ کہنے سننے اورلکھنے کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں ہے ،اِس لیے آگے کی طرف کھِسکتے رہیے۔امام موصوف پریہ تہمت کی گٹھری رکھناکہ انھوں نے بہ ذاتِ خوداِس تاریخ میں فاتحہ کاحکم فرمایا،سراسربہتانِ عظیم ہے ۔یہ سب من گھڑت باتیں اورلغو کہانیاں ہیں،جن سے مسلمانوں کوبہت دوررہناچاہیے ۔

                بھول کربھی اِس بے ہودہ رسم کونہ بجالائیں اورنہ اِس میں شرکت کریں۔کچھ لوگ اِس کو”مریم روزہ کاچاند“بھی کہتے نظرآتے ہیں۔اِس ماہ کی ۲۷/تاریخ میں روزہ رکھنے کواچھاسمجھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ایک ہزارروزوں کاثواب ملتاہے ۔شرعی اعتبارسے اِس کی بھی کوئی ٹھوس دلیل خوداُن کی جھولی میں بھی نہیں ہے توہمیں کیااورکہاں سے دیں گے؟

لاکھ ہے یاخاک:

                اگرنفل روزے رکھنے کودل چاہے تواختیارہے کہ بہ صدشوقِ دل رکھاکرے۔اللہ پاک کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اوراُس کی الطاف وعنایات کاکوئی کنارابھی نہیں ہے ،اِس لیے اللہ تعالیٰ جتناثواب دینا چاہیں گے،دے دیں گے۔کیوں کہ:﴿وللّٰہ خزائن السمٰوٰت والارض۔﴾لیکن یادرہے کہ اپنی طرف سے ہزار یالاکھ کی تعدادمقررکرنے کی کوئی اصل اورسندنہیں ہے ۔تعیین کرنے والوں کواُسی وقت اچھی طرح پتا چلے گا،جب سرمحشراولین وآخرین کے عظیم الشان اجتماع گاہ میں نامہٴ اعمال کادفترکھلے گاکہ ایسے روزوں کا ثواب لاکھ برابر ہے یاخاک برابرہے ۔

                دوسراغضب:اِس ماہِ رجب المرجب میں یہ ڈھایاجاتاہے کہ ”تبارک کی روٹیاں“پکا کر عزیزواقارب اورمحلے بھرمیں تقسیم اورتبلیغِ تقسیم کی جاتی ہیں۔اب کوئی یہ سوچنے نہ لگے کہ یہ تبارک کی روٹی کون سی نئی مصیبت سامنے آکرکھڑی ہے،جومسلمان گھرانوں میں گھس کراپناسکہ چلارہی ہے؟ اِس پیش آمدہ الجھن سے نجات پانے کے لیے اپنا مطالعہ جاری رکھیے ،ساری پریشانیاں دم توڑدیں گی۔برصغیرہندوپاک کے چندنام نہاداور خود کواہل سنت والجماعت کہنے والے اعلیٰ کوالیٹی کے مسلمان رجب المرجب کے مہینے میں ہرجمعہ کواپنے مردوں پرفاتحہ دلانے کے لیے”تبارک کی روٹیاں“پکاتے ہیں۔یہ روٹیاں میدے اورسوجی سے پکائی جاتی ہیں اوراِن میں دوسرے بھی کئی لوازمات شامل ہوتے ہیں۔جب روٹیاں پک کرتیارہوجاتی ہیں توپھر اُن پر اکتالیس بار سورة الملک (سورہ تبارک) پڑھی جاتی ہے (اِس لیے تبارک کی روٹی سے موسوم ہے) اور مردوں کو بخشی جاتی ہے، پھر ہر مردے کے نام سے فاتحہ دلائی جاتی ہے ۔ فاتحہ کے بعدیہ مقدس ومتبرک روٹیاں عزیزواقارب میں بہ طورِ تبرک تقسیم کردی جاتی ہیں۔ یہ روٹیاں پکانے اور کھانے کھلانے والے حضرات اپنے گمان میں مردوں کی بخشش ومغفرت کاسامان کرتے ہیں،حالاں کہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہوتی ہے ،جس کاپتاوہاں پہنچنے کے بعدہی چلے گا۔ کیوں کہ تبارک کی روٹیاں پکانا اور کھانا نری بدعت اور دماغی پیداوار ہے، جوکہ صاحب شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ آپ کے اصحاب سے نہ تابعین اور نہ تبع تابعین سے، نہ ائمہٴ دین متین سے،نہ بزرگانِ دین سے اورنہ مجتہدین کے قول وعمل سے ثابت ہے ۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسی اختراعی رسومات سے دوری بنا کرہی رکھیں تو اُن کی کام یابی ہے ۔

آخری رسم”رسم حلوہ“پرنظر:

                اب آخری میں رخصتی سے پہلے شب براء ت کاحلوہ بھی کھالیجیے ۔ ہم اپنے تہذیب وتمدن سے مالامال معاشرے میں یہ بھی بہ خوبی دیکھ رہے ہیں کہ عالم افق پرشعبان المعظم کے جلوہ گرہوتے ہی حلوہ بھی اپناجلوہ دکھانے کوتیارہوجاتاہے ۔شعبان کی ۱۵/تاریخ میں سب سے اہم پکوان حلوہ بناناہے اورکمالِ ڈھٹائی تودیکھ لیجیے کہ اِس کاتارجنگ اُحدمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک کی شہادت سے جوڑاجاتاہے ۔کہتے ہیں کہ دندان مبارک کی شہادت کے بعدآپ نے حلوہ تناول فرمایاتھا،جبکہ اِس جنگ کاواقعہ شوال المکرم سے جڑا ہواہے،توپھرحلوہ کاجلوہ شعبان میں کیسے؟یوں سمجھ لیجیے کہ یہاں پربھی”کہیں کی اینٹ،کہیں کاروڑا، بھانمتی نے کھمباجوڑا“والی بات ہے ۔ ایک دوسراعقیدہ یہ بھی عوامی گردش میں ہے کہ مذکورہ تاریخ کومرحومین کی روحیں گھروں میں تشریف لاتی ہیں اوریہ دیکھتی ہیں کہ ہمارے اعزہ واقارب نے ہمارے لیے کچھ پکایاہے یا نہیں؟اگرپکایاہے توخوش؛ورنہ بددعادیتے ہوئے واپسی کاراستہ ناپ لیتی ہیں۔معلوم ہواکہ روحیں بھی کچھ اور نہیں توحلوہ ڈھونڈنے کوعالم برزخ سے تشریف لے آتی ہیں۔

انتظارمت کیجیے:

                حالاں کہ اِن مذکورہ دوعقائدمیں سے کسی ایک کابھی کوئی ثبوت قرآن وحدیث اورتعامل صحابہ سے نہیں ملتا۔اب اِن رسوم کوانجام دینے والے ثبوت کہاں سے اکٹھاکرتے اوردماغِ جاہلین میں ٹھونستے ہیں،وہ تو وہی جانیں۔قرآن وسنت کی روشنی میں یہ عقیدہ اٹل ہے کہ بدن سے روح نکلنے کے بعدکبھی لوٹ کردنیامیں نہیں آتی۔لہٰذایہ عقیدہ رکھناکہ روحیں گھروں میں آتی ہیں،سراسرجہالت وگم راہی ہے ،جس سے بچناضروری ہے ۔ اِس لیے شب براء ت یاپندرہ شعبان کے دن میں خاص طورپرکھانے پینے کی اشیابنانااورتقسیم کرنا؛چوں کہ ثابت نہیں،اِس لیے اِس کااہتمام اورالتزام کرنا(ثواب کاباعث سمجھنا اورنہ کرنے والوں کواچھانہ سمجھنا)بدعت ہے ۔ اگرمقصودمرحومین کوایصال ثواب ہوتواِس کے لیے کسی مہینے یادن کاانتظارنہیں کرناچاہیے،بل کہ کسی بھی دن؛ جو میسرہوصدقہ کرکے اُس کاثواب بخش دیاجائے ،مقصدحاصل ہوجائے گا۔

غیروں کی نقالی کاشوق:

                اس رات میں آتش بازی بھی خوب ہوتی ہے ،جس میں اللہ پاک کی عطاکردہ مال کاضیاع اورمنعم حقیقی کی نعمتوں کی ناقدری خوب دل کھول کرہوتی ہے اوریہی ناقدری کسی دن سلب نعمت کاسبب ہوسکتی ہے اور بھکاری بنا کرکشکولِ گدائی ہاتھ میں بھی تھماسکتی ہے ۔غیروں کی نقالی کاشوق وجذبہ اتناکوٹ کوٹ کربھراہے اور حالیہ مسلمان اِس راہ میں اندھاہوکراتناآگے نکل چکاہے کہ اب اُس کوپیچھے مڑکردیکھنے کی شایدہمت ہی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم گھرانوں میں درآئی آتش بازی کازوروشوربرادرانِ وطن کی دیوالی کوبھی مات دیتا اور شرمسارکر دیتاہے ۔یہ کفارومشرکین کی مشابہت اورضیاعِ مال کی وجہ سے ممنوع اورحرام ہے ۔ارشادرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ:”من تشبہ بقوم فہومنہم“جوقوم جس کی مشابہت اختیارکرے گی،اُس کا حشر بھی اُسی کے ساتھ ہوگا۔ اب خودہی جج بن کرفیصلہ صادرکرسکتے ہیں کہ ایسے کارنامے انجام دینے والے کس لائن میں اورکس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

غیرمسلم تاثرات:

                موجودہ وقت ایساہے کہ غیرقوم بھی ہمارے کارناموں پرمیزانِ عدل قائم کرنے لگے ہیں۔چناں چہ کچھ سمجھ دارقسم کے غیرمسلم بھی یہ کہنے لگے ہیں اوربالکل سوفی صدصحیح بات کہتے ہیں،جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ”مسلمانوں کے محرم اور ہماری رام نومی ؛اِسی طرح اُن کے شب براء ت اور ہماری دیوالی میں کوئی فرق نہیں ہے۔اس لیے کہ جس طرح ہماری رام نومی میں اچھل کودہوتاہے،اسی طرح محرم میں مسلمان بھی اچھل کودکرتے ہیں۔جیسے دیوالی کے مبارک موقع پر پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں،ٹھیک اسی طرح کانقشہ اُن کے شب براء ت میں بھی نظرآتاہے“۔اِس لیے آپ کی خدمت میں مومنانہ،مخلصانہ،مودبانہ اور عاجزانہ مشورہ پیش ہے کہ جوبھی کرناہے،وہ خوب سوچ کرکیجیے ، تاکہ سرمحشرعظیم الشان اجتماع گاہ میں رسوائی مقدرنہ بننے پائے ۔

                اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مسلم قوم کی اِن تمام عقائدِ فاسدہ اورمروجہ بدعات و رسومات سے حفاظت فرمائے ۔آمین وصلی اللہ علی النبی الکریم!