دوسری قسط:
امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالیؒ (ولادت:۴۵۰ھ -وفات:۵۰۵ھ)
مترجم: حضرت مولانا زکریا صاحب کاندھلویؒ ثم المدنی (شیخ الحدیث مدرسہ عربی مظاہرعلوم، سہارن پور )
حسب ایما: مفتی مجد و القدوس خبیب رومی صاحب
پانچویں علامت:
پانچویں علامت علمائے آخرت کی یہ ہے کہ سلاطین اورحکام سے دوررہیں۔ (بلا ضرورت کے) ان کے پاس ہرگزنہ جائیں؛بل کہ وہ خود بھی آئیں، توملاقات کم رکھیں۔
اس لیے کہ ان کے ساتھ میل جول، ان کی خوشنودی اوررضا جوئی میں تکلف برتنے سے خالی نہ ہوگا۔
وہ لوگ اکثرظالم اورناجائزامورکا ارتکاب کرنے والے ہوتے ہیں، جس پرانکارکرناضروری ہے۔ ان کے ظلم کا اظہار، ان کے ناجائزفعل پرتنبیہ کرنا ضروری ہے اوراس پرسکوت دین میں مداہنت ہے اوراگران کی خوشنودی کے لیے ان کی تعریف کرنا پڑے، تو یہ صریح جھوٹ ہے اوران کے مال کی طرف اگرطبیعت کو میلان ہوا اور طمع ہوئی، توناجائز ہے۔ بہرحال ان کا اختلاط بہت سے مفاسد کی کنجی ہے۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جوشخص جنگل میں رہتا ہے، وہ سخت مزاج ہوجاتا ہے اورجو شکار کے پیچھے لگ جاتا ہے، وہ (سب چیز سے) غافل ہوجاتا ہے اورجو بادشاہ کے پاس آمد ورفت شروع کردے، وہ فتنہ میں پڑجاتا ہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو فتنوں کی جگہ کھڑے ہونے سے بچاؤ۔ کسی نے پوچھا کہ فتنوں کی جگہ کونسی ہوتی ہے؟ فرمایا: امرا کے دروازے کہ ان کے پاس جا کران کی غلط کاریوں کی تصدیق کرنی پڑتی ہے اوران کی تعریف میں) ایسی باتیں کہنی پڑتی ہیں، جوان میں نہیں ہیں۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بد ترین علماوہ ہیں، جو حکام کے یہاں حاضری دیں اوربہترین حاکم وہ ہیں، جوعلما کے یہاں حاضر ہوں۔
حضرت سمنون (جو حضرت سری سقطی رحمہ اللہ کے اصحاب میں ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے یہ سنا تھا کہ جب تم کسی عالم کو یہ سنو کہ وہ دنیا کی محبت رکھتا ہے، تواس شخص کواپنے دین کے بارے میں متہّم سمجھو۔ میں نے اس کا خود تجربہ کیا۔ جب بھی میں بادشاہ کے یہاں گیا، تو واپسی پرمیں نے اپنے دل کو ٹٹولا، تواس پرمیں نے ایک وبال پایا؛ حالا نکہ تم دیکھتے ہوکہ میں وہاں سخت گفتگوکرتا ہوں اوران کی رائے کا سختی سے خلاف کرتا ہوں، وہاں کی کسی چیز سے منتفع نہیں ہوتا؛ حتی کہ وہاں کا پانی بھی نہیں پیتا۔
ہمارے علما بنواسرائیل کے علما سے بھی برے ہیں کہ وہ حکام کے پاس جا کران کو گنجایشیں بتاتے ہیں، ان کی خوشنودی کی فکرکرتے ہیں۔ اگروہ ان سے ان کی ذمہ داریاں صاف صاف بتائیں، تووہ لوگ ان کا جانا بھی گراں سمجھنے لگیں اوریہ صاف صاف کہنا ان علما کے لیے حق تعالیٰ شانہ کے یہاں نجات کا سبب بن جائے۔
علما کا سلاطین کے یہاں جانا ایک بہت بڑا فتنہ ہے اورشیطان کے اغوا کرنے کا ذریعہ ہے۔ بالخصوص جس کو بولنا اچھا آتا ہو، اس کوشیطان یہ سمجھاتا ہے کہ تیرے جانے سے ان کی اصلاح ہوگی اوروہ اس کی وجہ سے ظلم سے بچیں گے اوردین کے شعائرکی حفاظت ہوگی؛ حتی کہ آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ان کے پاس جانا بھی کوئی دینی چیز ہے؛ حالانکہ ان کے پاس جانے سے ان کی دل داری مداہنت کی باتیں کرنا اوران کی بے جا تعریفیں کرنا پڑتی ہیں، جس میں دین کی ہلاکت ہے۔
حضرت عمربن عبد العزیز رحمہ اللہ نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کولکھا کہ مجھے ایسے مناسب لوگوں کا پتہ بتاؤ، جن سے میں اپنی اس (خلافت کے) کام میں مد دلوں!
حضرت حسن اللہ نے (جواب میں) لکھا کہ اہل دین توتم تک نہ آئیں گے اوردنیاداروں کو تم اختیارنہ کرو گے (اور نہ کرنا چاہیے یعنی حریص طمّاع لوگوں کو کہ وہ اپنے لالچ میں کام خراب کردیں گے)، اس لیے شریف النسب لوگوں سے کام لو۔
اس لیے کہ ان کی قومی شرافت ان کواس بات سے روکے گی کہ وہ اپنی نسبی شرافت کوخیانت سے گندہ کریں۔
یہ جواب حضرت عمربن عبد العزیز رحمہ اللہ کو لکھا، جن کا زہد و تقویٰ، عدل و انصاف ضرب المثل ہے؛ حتی کہ وہ عمر ثانی کہلاتے ہیں۔
یہ امام غزالی رحمہ اللہ کا ارشاد ہے؛ لیکن اس ناکارہ کے خیال میں اگرکوئی دینی مجبوری ہو، تواپنے نفس کی حفاظت اورنگرانی کرتے ہوئے جانے میں مضائقہ نہیں؛بل کہ بسا اوقات دینی مصالح اورضرورتوں کا تقاضا جانا ہی ہوتا ہے؛ لیکن یہ ضروری ہے کہ اپنی ذاتی غرض، ذاتی نفع، مال وجاہ کمانا مقصود نہ ہو؛بل کہ صرف مسلمانوں کی ضرورت ہو۔
حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا:
﴿وَاللَّہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ﴾(البقرة: ۲۲۰)
اوراللہ تعالیٰ مصلحت کے ضائع کرنے والے کو اورمصلحت کی رعایت رکھنے والے کو(الگ الگ) جانتے ہیں۔
چھٹی علامت:
چھٹی علامت علمائے آخرت کی یہ ہے کہ فتویٰ صادرکردینے میں جلدی نہ کرے۔ مسئلہ بتانے میں بہت احتیاط کرے۔ حتی الوسع اگرکوئی اہل ہو، تواس کے حوالہ کردے۔
ابوحفص نیشاپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عالم وہ ہے کہ جو مسئلہ کے وقت اس سے خوف کرتا ہوکہ کل کو قیامت میں یہ جواب دیہی کرنا پڑے گی کہ کہاں سے بتایا تھا۔
بعض علما نے کہا ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چارچیزوں سے بہت احترازکرتے تھے:
ا۔ امامت کرنے سے
۲۔ وصی بننے سے (یعنی کسی کی وصیت میں مال وغیرہ تقسیم کرنے سے)
۳۔ امانت رکھنے سے
۴۔ فتویٰ دینے سے۔
اوران کا خصوصی مشغلہ پانچ چیزیں تھیں:
ا۔ قرآن پاک کی تلاوت۔
۲۔ مساجد کا آبادکرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر۔
۴۔ اچھی باتوں کی نصیحت کرنا۔
۵۔ بری باتوں سے روکنا۔
ابن حصین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض آدمی ایسے جلدی فتویٰ صادرکرتے ہیں کہ وہ مسئلہ اگرحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوتا، تو سارے بدر والوں کواکٹھا کرکے مشورہ کرتے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ اتنے جلیل القدر صحابی ہیں کہ دس برس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ جب ان سے مسئلہ دریافت کیا جاتا، تو فرماتے: مولانا الحسن رحمہ اللہ سے دریافت کرو (یہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ مشہورفقہا اورمشہورصوفیہ میں ہیں اورتابعی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ باوجود صحابی ہونے کے ان تابعی کا نام بتاتے ہیں۔
اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جب مسئلہ دریافت کیاجاتا (حالانکہ وہ مشہورصحابی اوررئیس المفسرین ہیں)، تو فرماتے کہ جابربن زید رحمہ اللہ (جواہل فتویٰ تابعی ہیں) سے دریافت کرو۔
اورحضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما جوخود بڑے مشہورفقیہ صحابی ہیں، حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ (تابعی) پرحوالہ فرما دیتے۔
ساتویں علامت:
ساتویں علامت علمائے آخرت کی یہ ہے کہ اس کوباطنی علم، یعنی سلوک کا اہتمام بہت زیادہ ہو۔ اپنی اصلاحِ باطن اوراصلاحِ قلب میں بہت زیادہ کوشش کرنے والاہوکہ یہ علومِ ظاہریہ میں بھی ترقی کا ذریعہ ہے۔
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جواپنےعلم پرعمل کرے، حق تعالی شانہ اس کوایسی چیزوں کا علم عطا فرماتے ہیں، جواس نے نہیں پڑھیں۔
پہلے انبیا علیہم السلام کی کتابوں میں ہے کہ اے بنی اسرائیل! تم یہ مت کہوکہ علوم آسمان پرہیں،ان کوکون اتارے؟ یا وہ زمین کی جڑوں میں ہیں،ان کوکون او پرلائے؟ یا وہ سمندروں کے پارہیں، کون ان پرگزرے؛ تاکہ ان کولائے؟ علوم تمہارے دلوں کے اندر ہیں۔
تم میرے سامنے روحانی ہستیوں کے آداب کے ساتھ رہو۔
صدیقین کے اخلاق اختیار کرو، میں تمہارے دلوں میں سے علوم کوظاہرکردوں گا؛ یہاں تک کہ وہ علوم تم کو گھیرلیں گے اور تم کوڈھانک لیں گے اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے کہ اہل اللہ کوحق تعالیٰ شانہ وہ علوم اورمعارف عطا فرماتا ہے کہ کتابوں میں تلاش سے بھی نہیں ملتے۔
حضوراقدس صلی اللہ علیہ و سلم کا پاک ارشاد، جس کوحق تعالیٰ شانہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ساتھ مجھ سے تقرب حاصل نہیں کر سکتا، جومجھے زیادہ محبوب ہوان چیزوں سے، جومیں نے اس پرفرض کیں (جیسا کہ نماز، روزہ، زکوة، حج وغیرہ۔ یعنی جتنا تقرب فرائض کے اچھی طرح ادا کرنے سے حاصل ہوتا ہے، ایسا تقرب دوسری چیزوں سے نہیں ہوتا) اوربندہ نوافل کے ساتھ بھی میرے ساتھ تقرب حاصل کرتا رہتا ہے؛ یہاں تک کہ میں اس کو محبوب بنا لیتا ہوں اورجب میں اس کو محبوب بنا لیتا ہوں، تومیں اس کا کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے اوراس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے اوراس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ کسی چیز کوپکڑتا ہے اوراس کا پاؤں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔ اگروہ مجھ سے سوال کرتا ہے، تومیں اس کوپورا کرتا ہوں اوروہ کسی چیزسے پناہ چاہتا ہے، تواس کو پناہ دیتا ہوں۔ (بخاری شریف) یعنی اس کا چلنا پھرنا، دیکھنا سننا، سب کام میری رضا کے مطابق ہو جاتے ہیں۔
اوربعض حدیثوں میں اس کے ساتھ یہ مضمون بھی آیا ہے کہ جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرتا ہے، وہ مجھ سے اعلان جنگ کرتا ہے۔
اورچوں کہ اولیاء اللہ کا غوروفکرسب ہی حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے قرآن پاک کے دقیق علوم ان کے قلوب پرمنکشف ہو جاتے ہیں، اس کے اسراران پرواضح ہو جاتے ہیں؛ بالخصوص ایسے لوگوں پرجواللہ تعالیٰ کے ذکروفکرکے ساتھ ہروقت مشغول رہتے ہیں اورہرشخص کواس میں سے حسب توفیق اتنا حصہ ملتا ہے، جتنا کہ عمل میں اس کا اہتمام اوراس کی کوشش ہوتی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک بڑی طویل حدیث میں علمائے آخرت کا حال بیان فرمایا ہے، جس کوابن قیم نے ”مفتاح دار السعادة “ میں اورابو نعیم نے ”حِلیَہْ‘ ‘ میں ذکرفرمایا ہے۔
اس میں فرماتے ہیں کہ قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں اوربہترین قلوب وہ ہیں، جوخیرکو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں۔ علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے اورمال کی تجھ کوحفاظت کرنی پڑتی ہے۔
علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے اورمال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔ مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے (عالم کے انتقال سے بھی ختم نہیں ہوتا کہ اس کے ارشادات باقی رہتے ہیں)۔
پھرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک ٹھنڈاسانس بھرا اورفرمایا کہ میرے سینے میں علوم ہیں؛ کاش! اس کے اہل ملتے؛ مگرمیں ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں، جودین کے اسباب کودنیا طلبی میں خرچ کرتے ہیں یا ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں، جولذتوں میں منہمک ہیں، شہوتوں کی طلب کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں یامال کے جمع کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
غرض یہ طویل مضمون ہے، جس کے چند فقرے یہاں نقل کیے ہیں۔
آٹھویں علامت:
آٹھویں علامت یہ ہے کہ اُس کا یقین اورایمان اللہ تعالیٰ شانہ کے ساتھ بڑھا ہواہواوراس کا بہت زیادہ اہتمام اس کوہو۔ یقین ہی اصل رأس المال ہے۔
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یقین ہی پورا ایمان ہے۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یقین کوسیکھو۔
اوراس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یقین والوں کے پاس اہتمام سے بیٹھو۔ ان کا اتباع کرو؛ تا کہ اس کی برکت سے تم میں یقین کی پختگی پیدا ہو۔
اس کوحق تعالی شانہ کی قدرتِ کاملہ اورصفات کا ایساہی یقین ہو، جیسا کہ چاند، سورج کے وجود کا۔
وہ اِس کا کامل یقین رکھتا ہوکہ ہرچیزکوکرنے والی صرف وہی ایک پاک ذات ہے اوریہ دنیا کے سارے اسباب اس کے ارادہ کے ساتھ مسخر ہیں، جیسا کہ مارنے والے کے ہاتھ میں لکڑی کہ اس میں لکڑی کوکوئی شخص بھی دخیل نہیں سمجھتا اورجب یہ پختہ ہوجائے گا، تواس کوتوکل، رضا اورتسلیم سہل ہوجائے گی۔
نیزاس کواس کا پختہ یقین ہوکہ روزی کا ذمہ صرف اللہ جل شانہ کا ہے اوراس نے ہر شخص کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے۔ جواس کے مقدرمیں ہے، وہ اس کو بہرحال مل کررہے گا اورجومقدرمیں نہیں ہے، وہ کسی حال میں بھی نہ مل سکے گا۔
اورجب اس کا یقین پختہ ہوجائے گا، توروزی کی طلب میں اعتدال پیدا ہو جائے گا۔ حرص اورطمع جاتی رہے گی۔ جوچیزمیسرنہ ہو گی، اس پررنج نہ ہو گا۔
نیزاس کواس کا یقین ہو کہ اللہ جل شانہ ہربھلائی اوربرائی کا ہر وقت دیکھنے والا ہے۔ ایک ذرہ کے برابرکوئی نیکی یا برائی ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اوراس کا بدلہ نیک یا بد ضرور ملے گا۔
وہ نیک کام کے کرنے پرثواب کا ایسا ہی یقین رکھتا ہو، جیسا کہ روٹی کھانے سے پیٹ بھرنا اور برے کام پرعذاب کوایسا ہی یقینی سمجھتا ہو، جیسا کہ سانپ کے کاٹنے سے زہرکا چڑھنا (وہ نیکی کی طرف ایسا ہی مائل ہو، جیسا کہ کھانے، پینے کی طرف اورگناہ سے ایسا ہی ڈرتا ہو، جیسا کہ سانپ، بچھو سے) اور جب یہ پختہ ہوجائے گا، توہرنیکی کے کمانے کی اس کو پوری رغبت ہوگی اورہربرائی سے بچنے کا پورا اہتمام ہوگا۔
نویں علامت:
نویں علامت یہ ہے کہ اس کی ہرحرکت و سکون سے اللہ جل شانہ کا خوف ٹپکتا ہو۔
اس کی عظمت وجلال اورہیبت کا اثراس شخص کی ہرادا سے ظاہرہوتا ہو۔ اس کے لباس سے، اس کی عادات سے، اس کے بولنے سے، اس کے چپ رہنے سے حتی کہ ہرحرکت اورسکون سے یہ بات ظاہرہوتی ہو۔ اس کی صورت دیکھنے سے اللہ تعالیٰ شانہ کی یاد تازہ ہوتی ہو۔ سکون، وقار، مسکنت، تواضع اس کی طبیعت بن گیا ہو۔
بیہودہ گوئی، لغوکلامی، تکلف سے باتیں کرنے سے گریزکرتا ہو کہ یہ چیزیں فخراوراکڑکی علامات ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ سے بے خوفی کی دلیل ہیں۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ علم سیکھو اورعلم کے لیے سکون اوروقارسیکھو۔ جس سے علم حاصل کرو، اس کے سامنے نہایت تواضع سے رہو۔ جابرعلما میں سے نہ بنو۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت کے بہترین افراد وہ ہیں، جومجمع میں اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت سے خوش رہتے ہوں اورتنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے روتے ہوں۔ ان کے بدن زمین پررہتے ہوں اوران کے دل آسمان کی طرف لگے رہتے ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ سب سے بہترعمل کیا ہے؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نا جائزامورسے بچنا اوریہ کہ اللہ تعالیٰ شانہ کے ذکر سے تیری زبان تروتازہ رہے۔ کسی نے پوچھا کہ بہترین ساتھی کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ شخص ہے کہ اگرتونیک کام سے غفلت کرے، تو وہ تجھے مُتَنَبّہ کرے اوراگرتجھے خود یاد ہو، تواس میں تیری اعانت کرے۔ کسی نے پوچھا کہ براسا تھی کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے کہ اگر تجھے نیک کام سے غفلت ہو، تووہ متنبہ نہ کرے اورتوخود کرنا چاہے، تواس میں تیری اِعانت نہ کرے۔ کسی نے پوچھا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ شانہ سے ڈرنے والا ہو۔ کسی نے پوچھا کہ ہم کن لوگوں کے پاس زیادہ تراپنی نشست رکھیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن کی صورت سے اللہ تعالی کی یاد تازہ ہوتی ہو۔
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آخرت میں زیادہ بے فکر وہ شخص ہوگا، جودنیا میں فکرمند رہا ہو اورآخرت میں زیادہنسنے والا وہ ہوگا، جو دنیا میں زیادہ رونے والا ہو۔
دسویں علامت:
دسویں علامت یہ ہے کہ اس کا زیادہ اہتمام ان مسائل سے ہو، جو اعمال سے تعلق رکھتے ہیں۔ جائز، ناجائز سے تعلق رکھتے ہیں۔ فلاں عمل کرناضروری، فلاں عمل سے بچنا ضروری ہے۔ اس چیزسے فلاں عمل ضائع ہوجاتا ہے (مثلاً: فلاں چیز سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ مسواک کرنے سے یہ فضیلت حاصل ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ)۔
ایسے علوم سے زیادہ بحث نہ کرتا ہو، جو محض دماغی تفریحات اورتفریعات ہوں؛ تاکہ لوگ اس کو محقق سمجھیں، حکیم اورفلاسفرسمجھیں۔
گیارہویں علامت:
گیارہویں علامت یہ ہے کہ اپنے علوم میں بصیرت کے ساتھ نظرکرنے والا ہو۔ محض لوگوں کی تقلید میں اوراتباع میں ان کا قائل نہ بن جائے۔
اصل اتباع حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشادات کا ہے اوراسی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتباع ہے کہ وہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کودیکھنے والے ہیں اورجب اصل اتباع حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کے جمع کرنے میں، ان پرغوروفکرمیں بہت زیادہ اہتمام کرے۔
بارہویں علامت:
بارہویں علامت بدعات سے بہت شدت اوراہتمام سے بچنا ہے۔ کسی کام پرآدمیوں کی کثرت کا جمع ہوجانا کوئی معتبرچیزنہیں ہے۔ بل کہ اصل اتباع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اوریہ دیکھنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کیا معمول رہا ہے اوراس کے لیے ان حضرات کے معمولات اوراحوال کا تتبع اور تلاش کرنا اوراس میں منہمک رہنا ضروری ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ دو شخص بدعتی ہیں، جنہوں نےاسلام میں دو بدعتیں جاری کیں: ایک وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ دین وہ ہے، جواس نے سمجھا ہے اورجواس کی رائے کی موافقت کرتا ہے، وہی ناجی ہے۔
دوسراوہ شخص جودنیا کی پرستش کرتا ہے، اس کا طالب ہے۔ دنیا کمانے والوں سے خوش ہوتا ہے اورجو دنیا نہ کماوے، اس سے خفا ہوتا ہے۔
ان دونوں آدمیوں کوجہنم کے لیے چھوڑدواورجس شخص کو حق تعالیٰ شانہ نے ان دونوں سے محفوظ رکھا ہو، وہ پہلے اکابر کا اتباع کرنے والا ہے۔ ان کے احوال اورطریقہ کی پیروی کرنے والا ہے۔ اس کے لیے ان شاء اللہ بہت بڑا اجر ہے۔
بعض بزرگوں کا ارشاد ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں شیطان نے اپنے لشکروں کو چاروں طرف بھیجا۔ وہ سب کے سب پھر پھراگر نہایت پریشان حال تھکے ہوئے واپس ہوئے۔
اس نے پوچھا: کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں نے ہم کوپریشان کردیا۔ ہمارا کچھ بھی اثران پرنہیں ہوتا۔ ہم ان کی وجہ سے بڑی مشقت میں پڑ گئے۔
اس نے کہا کہ گھبراوٴ نہیں، یہ لوگ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ ہیں۔ ان پرتمہارا اثر مشکل ہے،عن قریب ایسے لوگ آنے والے ہیں، جن سے تمہارے مقاصد پورے ہوں گے۔
اس کے بعد تابعین رحمہم اللہ کے زمانہ میں اس نے اپنے لشکروں کو سب طرف پھیلایا۔ وہ سب کے سب اس وقت بھی پریشان حال واپس ہوئے۔
اس نے پوچھا: کیا حال ہے؟ کہنے لگے کہ ان لوگوں نے تو ہمیں دِق کردیا۔ یہ عجیب قسم کے لوگ ہیں کہ ہماری اغراض ان سے کچھ پوری ہوجاتی ہیں؛ مگر جب شام ہوتی ہے، تواپنے گناہوں سے ایسی توبہ کرتے ہیں کہ ہمارا سارا کیا کرایا برباد ہوجاتا ہے۔
شیطان نے کہا کہ گھبراؤ نہیں، عن قریب ایسے لوگ آنے والے ہیں، جن سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ وہ اپنی خواہشات میں دین سمجھ کرایسے گرفتار ہوں گے کہ ان کو توبہ کی بھی توفیق نہ ہو گی۔ وہ بد دینی کو دین سمجھیں گے۔
چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ بعد میں شیطان نے ان لوگوں کے لیے ایسی بدعات نکال دیں، جن کو وہ دین سمجھنے لگے، اس سے ان کو توبہ کیسے نصیب ہو؟
یہ بارہ علامات مختصر طریقہ سے ذکر کی گئی ہیں، جن کوعلامہ غزالی رحمہ اللہ نے تفصیل سے ذکرکیا ہے۔
اس لیے علما کواپنے محاسبہ کے دن سے خاص طورسے ڈرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا محاسبہ بھی سخت ہے۔ ان کی ذمہ داری بھی بڑھی ہوئی ہے اور قیامت کادن، جس میں یہ محاسبہ ہوگا، بڑا سخت دن ہوگا۔
اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے۔
(ماخوذ از: صفحہ۱۲۳/ تا ۱۵۹/ کتاب العلم، جلد اول، احیاء علوم الدین امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی رحمة اللہ علیہ
(المولود:۴۵۰ھ-المتوفی: ۵۰۵ھ)(بحوالہ: فضائل صدقات، حصہ دوم، ص۳۵۲-۴۹۸)
مترجم: حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی ثم المدنی (شیخ الحدیث، مدرسہ عربی مظاہرعلوم، سہارن پور)
ناشر: مجلس ترجمان مظاہرعلوم سہارنپور (ہند)
