دوسری قسط:
اسلام (مقاصد الشریعة الاسلامیة/اصول الفقہ الاسلامی)
کے مذہب انسانیت/ ہیومن ازم
پر
منطق جدید کے تناظر میں اعتراضات وسوالات
(حصہ اول)
کاوش: محمد محسن گلزار
معلم تدریب المعلمین فی العلوم الاسلامیة
سرپرست مجلس ارشاد المطالعة
عنوان: عقلستان کا وہ خالی تخت
کہانی نہیں، ایک سانس ہے جو کسی ماورائی لمحے میں رکی تھی اورشاید ابھی تک رکی ہے۔
پہلا منظر: شہرِعقلستان
ایک دورافتادہ سرزمین تھی، جسے لوگ عقلستان کہتے تھے۔ وہاں کی فضا میں منطق کا غرورجھلکتا، الفاظ ناپ تول کربولے جاتے، اورہرجذبہ دلیل کے ترازو پرتول کرہی تسلیم کیا جاتا۔ شہرکا دستورتھا: ”جسے عقل نہ مانے، وہ باطل ہے!”
یہاں ایک بوڑھا بادشاہ رہتا تھا جس کا نام جنابِ خرد تھا۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ ”ہمارے شہرمیں صرف وہی بات سچی ہے، جوعقل کی کسوٹی پرپوری اُترے!” مگروہ یہ بھول گیا کہ عقل کی کسوٹی خود کس کسوٹی سے تولا جائے گی؟
دوسرا منظر: بچے کی ہنسی اورعقلیت کا اضطراب
ایک دن ایک بچہ شہرکے چوک میں کھیلتا ہوا ہنسا۔ ایک خالص،بے لوث، بے سبب قہقہہ۔
عقل کے نگہبان فوراً لپکے۔ پوچھا: ”کیوں ہنسے ہو؟ دلیل دو! سبب بتاؤ! استدلال کرو!”
بچہ معصومیت سے بولا: ”بس… ہنسی آ گئی۔”
یہ سن کرعقل کے سرداروں نے ایک دوسرے کودیکھا، اوران کے چہروں پرشک کی لکیریں ابھرآئیں۔ ان کے قاعدوں میں ”بس” کا کوئی خانہ نہیں تھا۔
تیسرا منظر: منطق کا خودکشی نوشتہ
رات کے آخری پہرایک فلسفی، جسے لوگ ابنِ حِیرت کہتے تھے، شہرکی فصیل پربیٹھا تھا۔ وہ خود سے سوال کررہا تھا:
”اگرعقل ہی سب کچھ ہے، تو یہ یقین کہاں سے آیا کہ عقل ہی سب کچھ ہے؟ اگرعقل دلیل مانگتی ہے، توکیا یہ عقیدہ خود عقل سے ثابت ہے؟ اوراگرنہیں، تو یہ خود عقل کی عدالت میں ایک بے نام مدعی ہے!”
اس نے اپنا سردونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ آسمان پرستارے گواہ تھے کہ عقل کا تخت خالی پڑا تھا، اوروہاں صرف خاموشی کا سکہ چلتا تھا۔
چوتھا منظر: تخیل کی دیوی کا ظہور
اسی شہرکی سنسان گلی میں ایک خوبصورت عورت نے قدم رکھا، اس کا لباس تشبیہات کا تھا، آنکھوں میں استعاروں کا عکس، اورلبوں پروہ لفظ جو کسی لغت میں نہ تھے۔
اس کا نام دیویِ تخیل تھا۔
اس نے ابنِ حیرت کے سرپرہاتھ رکھا اورکہا:
”عقل، اگراپنی حد پہ فخرکرے، تو وہ خود کو محدود کردیتی ہے۔ عقل تو دریا ہے، لیکن دریا بھی کسی سمندر کی طرف بہتا ہے!”
ابنِ حیرت روپڑا۔ کہا: ”توکیا عقل کافی نہیں؟”
دیویِ تخیل بولی:
”عقل آنکھ ہے، لیکن بصیرت دل کی روشنی سے دیکھتی ہے۔ اوراگردل خالی ہو، توآنکھ دیکھتی ہے مگر سمجھتی نہیں۔”
پانچواں منظر: فہم کا سجدہ
صبح طلوع ہوئی۔ شہرِعقلستان کے چوک میں پہلی باراذان کی آواز گونجی۔ لوگ حیران ہوگئے۔ اذان؟ یہاں؟ کہاں کی دلیل، کیسا استدلال؟
ابنِ حیرت نے ہاتھ اٹھا کرکہا:
”ہم نےعقل کے نام پراپنے معبود کوچھوڑدیا۔ لیکن عقل، خود ایک غیب کی گوہری حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح پیاس پانی کی دلیل ہے، اسی طرح عقل خالق کی تلاش کا پہلا قدم ہے۔ اوروہ خالق عقل سے ماوراء ہے۔”
لوگ رو پڑے۔ دیویِ تخیل آسمان کی جانب اڑگئی، جیسے پیغام پورا ہوچکا ہو۔
آخری منظر: تختِ عقل پرسجدہ
عقلستان کا خالی تخت دوبارہ آباد ہوا،مگراب وہاں ایک تخت کے بجائے دوکرسیوں کا اضافہ ہوا تھا:
ایک پرعقل بیٹھی تھی، اوردوسرے پروحی۔
اوردونوں نے مل کرشہر کے قانون کو یوں بدل دیا:
”عقل، تلاش کا آغازہے۔ وحی، منزل کا اعلان۔ اوردل… وہ دروازہ ہے، جہاں سے یہ دونوں گزرتے ہیں۔”
اختتامیہ:
اوریوں، وہ افسانہ جو تضاد سے شروع ہوا تھا،سجدے پرختم ہوا۔ یہ سجدہ عقل کا تھا، مگروحی کی چوکھٹ پر؛کیوں کہ عقل وہ چراغ ہے، جسے اگرخود جلایا جائے، تو دھواں دیتا ہے، اوراگررب کی روشنی سے روشن ہو، تواندھیرے کو راہ دکھاتا ہے۔
عنوان: ”شہرِ عقلستان اور سلطنتِ ایمان”
پہلا منظر: عقل کا باغ
شہرِعقلستان میں ایک عجب موسم تھا۔ شہرکی سڑکوں پرہرجانب لفظوں کی تال میں جادوتھا، اورہرگفتگو میں ”عقل” کی عظمت کا ذکرتھا۔ وہاں کا دستورتھا کہ حقیقت وہی ہے جوعقل سمجھ سکے، اورہرفرد کی ذمہ داری تھی کہ وہ عقلی بنیادوں پراپنی زندگی کے ہرپہلو کا جائزہ لے۔ ان کی بنیاد یہ تھی کہ ”صرف عقل ہی حقیقت کا دروازہ ہے”۔
ایک دن، عقل کے ایک عظیم فلسفی، جنابِ ”رشد” نے شہر کے دروازے پرکھڑے ہوکرایک اعلان کیا:
”صرف عقل ہی ہے جو انسان کی تقدیرکا فیصلہ کرسکتی ہے۔ وہ جوعقل کے دائرے میں آتا ہے، وہی سچائی ہے۔”
یہ سن کرشہرکے لوگ بادلوں میں تیرتے ہوئے عقل کے اس قلعے کے گرد جمع ہوگئے۔ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی تقدیرکا فیصلہ عقل کرے گی، اورعقل ہی ان کا رہبر ہے۔ لیکن، کچھ دیربعد، ایک سوال ان کے دلوں میں جاگ اٹھا:
”کیا عقل ہی خود اپنی حقیقت ثابت کرسکتی ہے؟”
دوسرا منظر: ایمان کا درخت
شہرِعقلستان میں ایک دن ایک درخت اُگا، جس کے پھولوں میں ایمان کی خوشبوتھی۔ اس درخت کے نیچے ایک بزرگ، جن کا نام ”حکمت” تھا، بیٹھا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ ان لوگوں کو نصیحت کرتا جنہیں حقیقت کی تلاش تھی۔ وہ کہتا تھا:
”عقل کے دائرے میں جتنی روشنی ہو، اتنی ہی وہاں اندھیرے بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ عقل کا کام صرف چیزوں کو سمجھنا ہے، لیکن حقیقت کے اندرجوراز ہیں، وہ عقل کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں۔”
یہ سن کرایک نوجوان، جس کا نام علاء تھا، آگے بڑھا اورکہا:
”لیکن حضرت، اگرعقل ہی سب کچھ ہے، تو پھر ایمان اور وحی کی ضرورت کیوں؟”
حکمت نے ایک گہری سانس لی اورپھرکہا:
”بیٹے، عقل حقیقت کا دروازہ کھولتی ہے، لیکن اس دروازے کے اندرجاکرجوحقیقت ہے، وہ عقل کی پہنچ سے باہر ہے۔ وحی اورایمان وہ رہنما ہیں جوانسان کو اس گہرائی میں لے جاتے ہیں جہاں عقل کی روشنی نہیں پہنچ پاتی۔”
تیسرا منظر: بے چین دل کا سوال
شہرکے کچھ لوگ جوعقل کی مضبوطی میں اُلجھ کررہ گئے تھے، اپنے دلوں میں ایک اضطراب محسوس کررہے تھے۔ ایک دن، ”مریم” نام کی ایک لڑکی، جو عقل کے اصولوں میں کھوچکی تھی، حکمت کے پاس آئی اورکہا:
”حضرت، ہمیں بتایا گیا ہے کہ عقل ہی حقیقت ہے، لیکن میں اندرسے بے چین ہوں۔ کیا عقل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پرانسان چل سکتا ہے؟ یا کچھ اوربھی ہے جوہمیں رہنمائی دے سکتا ہے؟”
حکمت نے اسے نرم آوازمیں جواب دیا:
”بیٹی، عقل اورایمان میں کوئی تضاد نہیں، لیکن عقل صرف سچائی کے چھوٹے ٹکڑے جان سکتی ہے، جبکہ ایمان انسان کواس سچائی کا مکمل منظردکھاتا ہے۔”
چوتھا منظر: عقل کا امتحان
ایک دن شہرکے دروازے پرایک عجیب سی مخلوق آئی، جس کا نام ”شکوک” تھا۔ اس نے شہر کے لوگوں سے سوال کیا:
”تم عقل کومعصوم اور بے گناہ سمجھتے ہو، لیکن کیا عقل خود اپنے دائرے سے باہرجا کریہ کہہ سکتی ہے کہ‘یہ عقل ہی ہے جو حقیقت ہے’؟”
شکوک کی آوازمیں ایک چیلنج تھا، اورعقلستان کے لوگ ہیرپھیرمیں پڑ گئے۔ ایک حکیم، جوابنِ تقویٰ کہلاتا تھا، شکوک سے مخاطب ہوا اورکہا:
”عقل کے دائرے میں رہ کرانسان حقیقت کوسمجھ سکتا ہے، لیکن حقیقت کو پورا سمجھنے کے لیے انسان کوایمان کی روشنی کی ضرورت ہے۔”
پانچواں منظر: وحی کا دریا
ایک دن، حکمت اورابنِ تقویٰ دونوں شہر کے چوک میں کھڑے تھے، اوران کے سامنے ایک دریا تھا جس کی سطح پرآیاتِ قرآن کی کرنیں چمک رہی تھیں۔ حکمت نے کہا:
”یہ دریا عقل کے سمندر سے مختلف ہے۔ عقل ہمیں حقیقت کے کنارے تک پہنچاتی ہے، مگرجو کچھ اس کے اندر ہے، وہ وحی اورایمان کے بغیرنہیں سمجھا جا سکتا۔”
ابنِ تقویٰ نے کہا:
”یادرکھو، عقل کوکبھی اس بات پرفخرنہیں کرنا چاہیے کہ وہ سب کچھ جانتی ہے، کیونکہ جب انسان نے عقل کو صرف اپنےآپ تک محدود کیا، وہ اپنے اصل مقصد سے منحرف ہوگیا۔”
چھٹا منظر: حقیقت کی سچائی
شہرِعقلستان میں ایک دن عظیم معرکہ ہوا۔ اس معرکے میں عقل اورایمان کا مقابلہ تھا۔ لوگ اس جنگ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ لیکن اس لڑائی کے درمیان ایک طاقتورآوازگونج اُٹھی:
”عقل حقیقت کوسیکھنے کا ایک ذریعہ ہے، مگراس کی حقیقت تک پہنچنا ایمان کی رہنمائی سے ممکن ہے۔”
یہ آوازوحی کی تھی، اوراس کے بعد شہرمیں خاموشی چھا گئی۔
اختتام:
شہرِعقلستان میں پھرکوئی اورسوال نہ اٹھا، اورلوگ سمجھ گئے کہ عقل وہ دروازہ ہے جس سے انسان سچائی تک پہنچتا ہے، لیکن ایمان وہ روشنی ہے جو انسان کواس سچائی کی مکمل گہرائی تک لے جاتی ہے۔
یہ حقیقت کا راستہ نہ عقل کی طاقت سے ہے، نہ ایمان کی اندھی روشنی سے، بل کہ یہ دونوں مل کرانسان کو اپنے خالق کی حقیقت تک پہنچاتے ہیں۔
اوراس طرح، ہیومن ازم کی عقلی سچائی اپنی جگہ پررہ گئی، لیکن ایمان اوروحی کی حقیقت نے اسے ایک اورجہت میں بدل دیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جونہ صرف عقل سے ماوراء تھی، بل کہ روح اوردل کی گہرائیوں میں بھی اترگئی۔
نتیجہ:
شریعتِ اسلام نے انسان کی حقیقت کومکمل طورپرسمجھنے کے لیے عقل اورایمان دونوں کی اہمیت پرزوردیا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا:
”تمہارے لیے عقل سے کام لینے والی نشانیاں ہیں” (آل عمران: 190)
لیکن ساتھ ہی، ایمان کو بھی غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ عقل کو محدود اورمشروط حقیقت سمجھنا اسلام کا اصول ہے، اوراس سے انسان کورب کی رہنمائی کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ یہی وہ رہنمائی ہے جس نے ہیومن ازم کے عقلی دعووں کو ناکام کیا، اورایمان کی حقیقت نے اسے بے بنیادثابت کردیا۔ (جاری……)
