مصنوعی ذہانت اور مستقبل کے دارالافتاء

تحریر و تخریج: ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی

دارالافتاء کے کام کا عمومی طریقہ کار

آجکل کے بڑے اورمعتبر دارالافتاء کے کام کا طریقہٴ کاریہ ہوتا ہے کہ سائلین اپنے انفرادی اوراجتماعی مسائل دارالافتاء سے پوچھتے ہیں اورپھردارالافتاء کے اندرمفتیانِ کرام شرعی فتاویٰ صادرفرماتے ہیں اورسائلین کا جواب تحریری صورت میں دیتے ہیں۔سائلین کے سوال پوچھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں مثلاً سائل (مستفتی یعنی سوال کرنے والا) براہِ راست دارالافتاء کے کھلنے کے اوقاتِ کارمیں دارالافتاء حاضرہوجاتا ہے اوراپنے سوال پیش کردیتا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ دارالافتاء میں خط، فیکس، ای میل، اورفون کے ذریعے بھی سائلین کے سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔ نیزبعض صورتوں میں بڑے و معتبر دارالافتاء کی ایک ویب سائٹ ہوتی ہے جو کہ عوام الناس کا اس دارالافتاء سے رابطہ کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔کوئی بھی شخص اس دارالافتاء کی ویب سائٹ پرآتا ہے، نئے سوال پوچھنے پرکلک کرتا ہے، اپنا مطلوبہ سوال لکھتا ہے اورپھروہ سوال دارالافتاء میں جمع کروادیتا ہے۔ وہ سوال دارالافتاء کو موصول ہونے پردارالافتاء میں موجود آئی ٹی کی ٹیم اس سوال کا پرنٹ آؤٹ نکال کرسائل کے کوائف کا اندراج دارالافتاء کے رجسٹرمیں ریکارڈ کردیتی ہے، تاریخِ وصولی کا اندراج کردیتی ہے اوراس سوال کو ایک فتویٰ نمبرآلاٹ کردیا جاتا ہے اورپھریہ سوال دارالافتاء میں موجود مفتیانِ کرام کی خدمت میں پیش کردیا جاتا ہے۔

بعض صورتوں میں دارالافتاء میں موجود تخصص کے طلبہ کی تمرین کے لیے وہ سوالنامہ اُن کے حوالے کردیا جاتا ہے جواس سوال کا جواب مرتب کرتے ہیں، اورپھروہ جواب مصحین، اور مصدیقین دارالافتاء کی نظروں سے گزرتا ہواآخرمیں رئیس ومفتی دارالافتاء کے دستخط سے جاری ہوجاتا ہے۔پھریہ فتویٰ اس دارالافتاء کی آئی ٹی کی ٹیم، اس دارالافتاء کی ویب سائٹ پرجاری کردیتی ہے اورسائل کو بھی اس فتویٰ کی کاپی مہیا کردی جاتی ہے۔ اس سارے عمل میں انٹرنیٹ اورویب سائٹ کا کردار صرف سوال کوسائل سے وصول کرکے دارالافتاء کومہیا کرنا اورپھرمفتیانِ کرام کی طرف سے جواب آنے کے بعد اس فتویٰ کو سائل اوردیگرعوام الناس تک پہنچانا ہوتا ہے۔ نیزاگرسائل کی جانب سے خط کی صورت میں سوال پوچھا گیا ہے توجواب خط یا ای میل کے ذریعے سائل کو مہیا کردیا جاتا ہے۔

بعض بڑے، مستند اورمعتبر دارالافتاء اپنے جاری کیے گئے فتاویٰ جات ایک منظم طریقے سے مختلف عنوانات کے تحت اپنی ویب سائٹ پرعوام الناس کومہیا کرتے ہیں جس سے عوام الناس کو سوالات کے جواب ڈھونڈنے میں کافی سہولیت میسر آجاتی ہے۔بعض دارالافتاء سائلین کی پرائیوسی کے احتیاط کے پیشِ نظر سائلین کے ناموں کو اخفا کرکے فتاویٰ ویب سائٹ پر جاری کرتے ہیں تاکہ سائلین کو کوئی ناگواری پیش نہ آئے۔کچھ دارالافتاء اپنے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر سادہ اردو فونٹ میں جوابات مہیا کرتے ہیں جبکہ بعض دارالافتاء جاری کردہ فتویٰ کی اسکین کاپی مہیا کرتے ہیں۔ نیزعمومی طورپردارالافتاء فرضی اور شخصیات سے متعلق سوال کا جواب عموماً نہیں دیتے۔جدید مسائل کے لیے مستند و معتبر دارالافتاؤں میں باقاعدہ اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ جدید موضوع کے مستند سائنسی ماہرین سے اس موضوع کی ماہیت وحقیقت سمجھی جائے، مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کی جائے اورخوب تحقیق کرنے کے بعد ہی فتویٰ جاری کیا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے حامل مستقبل کے دارالافتاء

عالمی سطح پریہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے آٹومیشن یعنی خودکارطریقے سے فتویٰ جاری کرنے کو رواج دیا جائے۔ مصنوعی ذہانت کوفتویٰ نویسی میں استعمال کرنے کے حامی حضرات فتویٰ نویسی میں اس کے استعمال کے کئی فوائد گنواتے ہیں مثلاً مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے حامل مستقبل کے دارالافتاء اپنے کام کرنے میں خودکارہوں گے۔ یعنی جب کوئی سائل اپنا سوال دارالافتاء میں جمع کروائے گا تو مصنوعی ذہانت کے الگوریتھمز اس سوال کا جواب مع حوالہ جات فوراً مہیا کردیں گے۔ اس طریقہٴ کارسے کئی اور بھی نتائج حاصل کیے جاسکیں گے۔مثلاً، اول یہ کہ مصنوعی ذہانت کے الگوریتھم کی اپنی تربیت Training کی بنیاد پرایک خاص رُجحان فتویٰ نویسی میں اختیارکرسکیں گے۔ دوم یہ کہ دارالافتاء کی افرادی قوت Human Resource پیدا کرنے اوراُن کی تربیت کرنا بھی ضروری نہیں ہوگا یعنی تخصص کے لیے جو دو اورتین سالہ کورسس کا اہتمام مدارسِ دینیہ میں ہوتا ہے اس کی چنداں ضرورت باقی نہ رہے گی، حتٰی کہ دارالافتاء میں انسانوں کی ضرورت نہیں رہے گی اورصرف مشین (کمپیوٹر) ہی سارے کا م انجام دے گی۔سوم یہ کہ حکومتوں کو جن مسائل میں ایک خاص مؤقف کسی خاص مسئلہ سے متعلق رائج کرنا ہے، اسی مؤقف کی ترویج و اشاعت اور فتویٰ نویسی کے ذریعے رائے عامہ کو ہموارکرنے میں مدد مل سکے گی۔چہارم یہ کہ بہت سارے علمی مواد تک رسائی اورفتویٰ کا صارفین تک جلدی پہچانے کا نظم بھی قائم ہوجائے گا۔پنجم یہ کہ مصنوعی ذہانت کا فتویٰ نویسی میں استعمال سے فتویٰ جاری کرنے کا عمل مزید بہتراورشفاف ہوگا۔

فتویٰ نویسی کے لیے مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیارکرنا

تاریخی طورپرفتویٰ نویسی کے لیے مصنوعی ذہانت کواستعمال کیا جاتا رہا ہے، مگرچوں کہ اب سے پندرہ بیس سال پہلے مصنوعی ذہانت میں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی لہٰذا مصنوعی ذہانت ایک مخصوص طریقہ کارسے ہی فتویٰ نویسی میں استعمال ہوتی تھی۔ شروعات میں مصنوعی ذہانت کوبالکل بنیادی کاموں میں استعمال کیا جاتا تھا مثلاً ایک سسٹم بنایا جاتا تھا کہ اگرکوئی انگریزی کے بجائے اردو یا عربی میں سوال کرے تو مصنوعی ذہانت کے الگوریتھمز کے ذریعے اس زبان کو کمپیوٹرپہچان سکے اورپھراس کے مطابق مواد ڈھونڈ سکے۔ اسی طریقے سے اگرکوئی اسکین شدہ سوال آئے تواس اسکین شدہ عبارت کو پڑھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کواستعمال کیا جاتا تھا۔ پھررفتہ رفتہ مصنوعی ذہانت میں مزید ترقی ہوئی تو باقاعدہ مصنوعی ذہانت کے براہ راست فتویٰ نویسی کے سسٹم تیار ہونے لگ گئے اوران میں کچھ کوششیں حکومتی سطح پرمصراورمتحدہ عرب امارت کی جانب سے ہوئیں، جن کے اداروں نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے فتوے جاری کرنا شروع کیے ۔ ان میں پہلا ادارہ دبئی کا ”دائرة الشؤون الإسلامیة والعمل الخیری“ ہے جبکہ دوسرا مصر کا ”مرکز الأزہر العالمی للفتوی الإلکترونیة“ ہے۔ عمومی طورپرمصنوعی ذہانت کوفتویٰ نویسی میں استعمال کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے وہ یہ تھا کہ اب تک کے جاری کردہ فتاویٰ کا ایک مجموعہ کمپیوٹرپرمحفوظ کرلیا اورپھرجب کوئی سائل سوال دریافت کرتا تواس سوال میں موجود کلیدی الفاظ کواستعمال کرتے ہوئے ان پہلے سے دیے گئے فتاویٰ جات میں سے تلاش کرکے فتویٰ سائل کو مہیا کردیا جاتا۔مثلاً طلاق سے متعلق جتنے سوالات آج تک کیے گئے اور ان پر جتنے فتویٰ جاری ہوئے، سب کمپیوٹرمیں محفوظ کرلیے جاتے اورجب کوئی مستفتی سوال پوچھتا تواس کوان ذخیرہ شدہ فتاویٰ میں سے فتویٰ ڈھونڈ کردے دیا جاتا۔اس طرح کے فتویٰ نویسی کے کمپیوٹرنظام کوریٹریول بیسڈ یعنی ذخیرہ شدہ مواد سے مخصوص معلومات کو بازیافت کرنے کا ایک نظام Retrieval Based AI Systems or Bots کہا جاتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں مصنوعی ذہانت کے اندرمزید ترقی ہوئی ہے اوراب لارج لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم) Large Language Models (LLMs) وجود میں آچکے ہیں جو کہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت Generative Artificial Intelligence (Gen AI) کی بنیاد پرکام کرتے ہیں۔نیزاب تو”ریگ“ Retrieval Augmented Generation (RAG) کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بھی فتویٰ نویسی میں استعمال ہونے لگ گئے ہیں،، ۔

مصنوعی ذہانت کی اس ترقی کواستعمال کرتے ہوئے اس وقت عالمی و قومی سطح پرفتویٰ نویسی کے لیے مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیارکرنے کی کوششیں جاری ہیں اورکچھ لوگوں نے ایسے ماڈل تیاربھی کرلیے ہیں مثلاً چیٹ جی پی ٹی کی ویب سائٹ پرتلاش کرنے سے ”مفتی جی پی ٹی“، ”حلال جی پی ٹی“، ”فتویٰ جی پی ٹی“، ”شریعہ ایڈوائزر جی پی ٹی“، ”شریعہ کمپلائنس جی پی ٹی“ اوردیگرکئی اقسام کے جی پی ٹی مل جاتے ہیں۔نیز یہ کام اتنا آسان ہوچکا ہے کہ کوئی بھی شخص چیٹ جی پی ٹی کی ویب سائٹ پرجائے اوراپنی ضروریات کے مطابق اپنا جی پی ٹی لانچ کردے۔

آسان الفاظ میں ایک کمپیوٹر سافٹ وئیر (پروگرام) بنایا جاتا ہے ،جو کہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت کواستعمال کرتے ہوئے کسی بھی صارف کے پوچھے گئے دینی سوالات کا جواب فتویٰ کی صورت میں دیتا ہے۔مثلاً کسی شخص نے سوال پوچھا کہ شراب حلال ہے تویہ مصنوعی ذہانت کا ماڈل خود اپنی مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے فتویٰ جاری کرے گا اوراس شخص کے سوال کا جواب دیگا اوریہ جواب مصنوعی ذہانت کے ماڈلزکی ٹریننگ پرانحصارکرے گا۔یعنی آج تک جتنے بھی سوالات شراب سے متعلق پوچھے گئے اورآج تک جتنے بھی جوابات فتویٰ کی صورت میں جاری کیے گئے، نیزانٹرنیٹ پرموجود تمام مواد جس میں تفسیر، احادیث وفقہاء کرام کی کتابیں موجود ہیں اوراس کے علاوہ دنیا بھرمیں جدید شائع شدہ مواد جو کہ انٹرنیٹ پرموجود ہے، ان سب سے استفادہ کرکے، تخمینہ (پیشین گوئی) کی بنیاد پرفتویٰ جاری کرے گا یعنی اس کے لیے پہلے سے جاری کیے گئے تمام فتاویٰ کے پیٹرن اور رجُحانات کا تجزئیہ کرتے ہوئے اُن فتاویٰ کی درجہ بندی کرے اورنتائج اخذ کرے اوران اخذ کردہ نتائج کی بنیاد پرمصنوعی ذہانت (کمپیوٹریا مشین) نئے فتاویٰ کی پیشین گوئی کرے گا۔ ایسا کرنے میں جو جواب آئے گا وہ پچھلے جوابات کا مرکب ہوگا اوراس میں مصنوعی ذہانت اپنی طرف سے بھی مواد کا اضافہ کرسکتا ہے۔

قارئین کی مزید آسانی کے لیے واضح کرتے چلیں کہ اگرکئی فتاوی مختلف دارالافتاء سے شراب کے حرام ہونے کے جاری ہوچکے ہیں، کئی فقہی کُتب میں شراب کی حرمت پردلائل دیے گئے ہیں تو یہ کچھ مواد ایک جگہ سے لے گا اورکچھ دوسری جگہ سے، اوراس کو انتہائی شائستہ اسُلوب میں بطور جواب پیش کردے گا۔نیزیہ بھی ممکن ہے کہ اپنی طرف سے حوالہ اورعبارت پیش کرے جو کہ قوائد زبان، صرف و نحو کے حساب سے تو درست ہو مگر وہ من گھڑت ہو اوروہ کسی کتاب یا بنیادی مآخذ میں سرے سے موجود ہی نہ ہو۔

یہ فتویٰ نویسی کا ایک نیا اُسلوب ہے اوراس کے اندرسائلین کے سوالات کے جوابات مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تخمینہ کی بنیاد پردیتے ہیں۔ دیئے گئے جوابات اتنی عمدہ، سلیس، اور شائستہ زبان میں دیئے جاتے ہیں کہ پڑھنے والا ششدررہ جاتا ہے اورایک عام انسان ان مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے متاثرہوئے بغیر نہیں رہتا۔جب کبھی ان مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے ایسے مشکل سوالات پوچھے جاتے ہیں جو کہ فرقہ وارانہ اختلافات کوظاہرکرتے ہیں یا کسی خاص گروہ یا طبقے کے عقائد سے متعلق ہوتے ہیں تو یہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلزایسے طریقے سے جواب دیتے ہیں کہ (بعض لوگوں کے مطابق) وہ جوابات انتہائی معتدل ہوتے ہیں اورکسی گروہ کی تنقیص، تردید، اورمذمت نہیں ہوتی، یعنی جوابات سیاسی قسم کے ہوتے ہیں جس سے کسی کی بھی دل شکنی ودل آزاری نہ ہو۔ان جوابات کومزید معتبربنانے کے لیے یہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلزقرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اورفقہی حوالہ جات بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے عام سائل متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

خلاصہ کلام یہ کہ بعض حلقوں کی جانب سے فتویٰ نویسی کے اس نئے اسلوب کواختیار کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اوربعض دارالافتاء نے مصنوعی ذہانت کو بطورمعاون استعمال بھی کرنا شروع کردیا ہے۔ نیز مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ بعض بڑے مدارسِ دینیہ کے دارالافتاء میں موجود جدیدیت سے متاثر نوجوان مفتیانِ کرام مصنوعی ذہانت کواب باقاعدہ فتویٰ نویسی میں استعمال کرنا شروع کرچکے ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں بات آئی کہ جب کوئی تخصص کا طالبِ علم اپنے لکھے گئے فتویٰ کو جب مصحین اورمصدیقین کے پاس ان کے دستخط حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ حضرات چیٹ جی پی ٹی وغیرہ سے اس فتویٰ کے متعلق پوچھ کران تخصص کے طلباء کوجواب دیتے ہیں۔یہ طرزِعمل اکابرمفتیانِ کرام اوران بڑے مدارسِ دینیہ کے منہج کے سراسرخلاف ہے۔ راقم بطورکمپیوٹرسائنسدان یہ گزارش کرے گا کہ خدارا تخصص کے طلباء کے مستقبل سے مت کھیلئے اوران کی علمی و فقہی استعداد بننے دیجئے۔نیز اکابرینِ مدارسِ دینیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تخصص کے طلباء کرام مصنوعی ذہانت کوفتویٰ نویسی میں سرے سے استعمال ہی نہ کریں۔