دینداری کے لبادے میں مالی استحصال ثمیر گولڈ کا سانحہ، نظر انداز کی گئی تنبیہات اور مالیاتی شعور کی ناگزیریت

از: مفتی محمد سلمان مظاہری، وانمباڑی

بانی و ناظم: مرکز الاقتصاد الاسلامی، انڈیا

________________________________________

تمہید:

 آج کے اس عالمی اورڈیجیٹل معاشی ماحول میں، جہاں سرمایہ کاری (Investment)، آن لائن بزنس اورحصولِ دولت کے نت نئے ذرائع سامنے آئے ہیں، وہیں مالیاتی دھوکہ دہی، استحصال اورفراڈ کے طریقوں نے بھی ایک منظم اورپیچیدہ شکل اختیارکرلی ہے۔ موجودہ معاشی منظر نامے میں غیرشفاف کاروباری ماڈلز، گولڈ اسکیموں (Gold Schemes)، منافع بخش سرمایہ کاری کے پرکشش دعووں، ریفرل سسٹمز (Referral Systems)، ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM) اورپونزی اسکیموں (Ponzi Schemes) کے ذریعے عوام کو قلیل مدت میں تیزی سے امیر بننے کے سبزباغ دکھائے جاتے ہیں۔ ان تمام مالیاتی ماڈلزکا ایک مشترکہ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ بالعموم ان طبقات کواپنا نشانہ بناتے ہیں جن کے پاس مالیاتی امور، جدید معاشی ڈھانچے اورقانونی ضوابط کی تکنیکی معلومات (Financial Literacy) کا فقدان ہوتا ہے۔

اس وسیع ترتناظرمیں، یہ امرانتہائی تکلیف دہ ہے کہ امتِ مسلمہ کا ایک محترم اورباوقار طبقہ خصوصاً ”ائمہ مساجد، علمائے کرام، مدارسِ اسلامیہ سے وابستہ اساتذہ وطلبا، بیوائیں اوربالعموم دیندارعوام“اکثر ایسی غیرشفاف اورپرفریب اسکیموں کا بآسانی شکاربن جاتے ہیں۔ مالیاتی جرائم کی اصطلاح میں اس رجحان کو ”مذہبی ہم آہنگی پرمبنی فراڈ“ (Affinity Fraud) کہا جاتا ہے۔ اس میں دھوکہ دہی کرنے والے عناصر بڑی ہوشیاری سے ”حلال منافع“، ”مضاربہ“، ”اسلامی سرمایہ کاری“، ”خدمتِ خلق“ اور”سنتِ نبوی کی ترویج“ جیسی مقدس مذہبی اصطلاحات کا لبادہ اوڑھ کر، ان طبقات کے مذہبی جذبات اورقلبی سادگی کا استحصال کرتے ہیں۔

یہ منظم گروہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں علما اورائمہ کا ایک خاص مقام اورسماجی اثرورسوخ ہوتا ہے؛ چناں چہ جب وہ اس طبقے کو اپنا ہم نوا بنا لیتے ہیں، تو ان کے واسطے سے ہزاروں عام مسلمان بھی بغیرکسی تحقیق کے اپنی جمع پونجی ان اسکیموں کی نذرکردیتے ہیں۔

یہ طرزِعمل نہ صرف انفرادی سطح پرلوگوں کوان کی زندگی بھرکی حلال کمائی سے محروم کردیتا ہے، بل کہ مسلم معاشرے کے اجتماعی معاشی نظام، دینی قیادت کے وقاراورفلاحی کاموں پرعوام کے اعتماد کوبھی گہری ٹھیس پہنچاتا ہے۔ زیرِنظر تحقیقی اوردستاویزی رپورٹ میں حال ہی میں ”ثمیر گولڈ“ (Sameer Gold) کے نام سے منظرِعام پرآنے والے ایک سنگین واقعے کا تفصیلی، غیرجذباتی اورشرعی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں Millat Times کی ایک حالیہ انکشافاتی ویڈیو اور”مرکزالاقتصاد الاسلامی، انڈیا“ کی جانب سے دو سال قبل جاری کی گئی تفصیلی تنبیہات کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے، تاکہ مستقبل کے لیے امتِ مسلمہ کے لائحہ عمل کا واضح تعین کیا جا سکے۔

ویڈیوکا خلاصہ اورمرکزی دعویٰ: Sameer Gold اسکیم کے انکشافات

دستیاب معلومات اور Millat Times کے چیف ایڈیٹرشمس تبریز قاسمی کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ تفصیلی ویڈیورپورٹ کے مطابق، ”ثمیر گولڈ بزنس“ (Sameer Gold Business) اور ”جماعتِ رضائے الٰہی فاؤنڈیشن“ کے نام پرایک بڑے پیمانے کی مالی دھوکہ دہی سامنے آئی ہے۔ یہ ویڈیوانتہائی محتاط، دستاویزی اورصحافتی شواہد کی بنیاد پریہ سنگین دعویٰ پیش کرتی ہے کہ ایک منظم طریقے سے ہزاروں افراد، بالخصوص دینی طبقے کو سرمایہ کاری کے نام پردھوکہ دیا گیا ہے۔ اگریہ دعوے درست ہیں، تو یہ حالیہ تاریخ کے بڑے معاشی اسکینڈلزمیں سے ایک ہوسکتا ہے۔ دستیاب شواہد کی روشنی میں اس اسکیم کے خدوخال اورویڈیومیں پیش کردہ حقائق کودرج ذیل عنوانات کے تحت منظم کیا جا سکتا ہے:

کس طبقے کونشانہ بنایا گیا؟

اس اسکیم کی سب سے افسوسناک اور قابلِ توجہ بات اس کا مخصوص ہدف ہے۔ اس اسکیم میں بالخصوص معاشرے کے کمزوراورمذہبی طورپربااثر، لیکن معاشی معاملات میں سادہ لوح افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیوکی تفصیلات کے مطابق، اس اسکیم کے براہِ راست متاثرین میں 20,000 سے زائد مساجد کے ائمہ اورمدارس کے اساتذہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیواؤں، معذورافراد، یتیموں کے سرپرستوں اورغریب طبقے کے لوگوں کو یہ باورکرایا گیا کہ یہ کوئی عام بزنس نہیں ہے، بل کہ ان کی معاشی کفالت اورغربت کے خاتمے کے لیے ایک ”دینی تحریک“ہے۔ اس طبقے کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیوں کہ یہ حضرات عموماً روایتی بینکاری کے نظام اور فنانشل مارکیٹس کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہوتے ہیں اورشرعی اصطلاحات سن کرجلد اعتماد کرلیتے ہیں۔

کاروبار یا سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا تھا؟

اسکیم کے مرکزی منتظم، جس کی شناخت ثمیراحمد خان (جو بنیادی طورپرلکھنوٴ سے تعلق رکھتے ہیں اور مبینہ طورپراب دبئی میں مقیم ہیں) کے طورپرکی گئی ہے، نے عوام سے ”بیع مضاربہ“ کے نام پررقوم اکٹھی کیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقوم سونے کی خرید وفروخت (Gold Business) کے منافع بخش کاروبارمیں لگائی جاتی ہیں، جس سے حاصل ہونے والے کثیرمنافع کو سرمایہ کاروں میں شرعی اصولوں کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ امرانتہائی حیرت انگیزتھا کہ اس مبینہ کاروبار کے بنیادی ڈھانچے، تجارتی مراکز، دفاتر، سونے کی درآمد و برآمد کی تفصیلات، یا کمپنی کی قانونی حیثیت کی کبھی کوئی قابلِ تصدیق تفصیل فراہم نہیں کی گئی اورنہ ہی سرمایہ کاروں کو دفاترکا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی۔

منافع یا ریٹرن (Return) کا وعدہ کس نوعیت کا تھا؟

سرمایہ کاروں کواپنی طرف تیزی سے راغب کرنے کے لیے انتہائی غیرمعمولی، غیر حقیقی اورضمانت شدہ منافع (Guaranteed Profit) کے پیکجز متعارف کرائے گئے۔ ویڈیو کے مطابق، منافع کی شرحیں اس قدربلند تھیں جو کسی بھی روایتی، قانونی اورحقیقی کاروبار میں ناممکنات میں شمارہوتی ہیں۔

 اسلامی مالیات اورجدید معاشیات کا کوئی بھی ادنیٰ طالب علم ان اعداد و شمارکو دیکھ کربخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس قسم کے غیر معمولی اورفلکیاتی منافع جات بنیادی طورپرپونزی اسکیم (Ponzi Scheme) کے قدیم ماڈل کی صریح نشاندہی کرتے ہیں، جہاں کوئی حقیقی تجارت نہیں ہوتی، بل کہ صرف نئے سرمایہ کاروں سے لی گئی رقوم کو پرانے سرمایہ کاروں میں بطورمنافع بانٹا جاتا ہے۔

لوگوں کو اعتماد دلانے کے لیے مذہبی، سماجی یا شخصی اثرورسوخ کا استعمال

 کسی بھی پونزی اسکیم کو چلانے کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوام کا ابتدائی اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے منتظمین نے خالصتاً مذہبی، جذباتی اورخیراتی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ سرمایہ کاروں اوربالخصوص علماء کو خصوصی عطیات، تحائف (جیسے عطر، قیمتی جائے نماز، کپڑے)، اوربعض بااثر شخصیات کو مہنگے عمرہ کے سفر (Umrah Trips) اسپانسر کیے گئے۔ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے صدقات اورزکوٰة کی تقسیم کی تشہیر کی گئی تاکہ اسکیم اوراس سے وابستہ افراد کو ایک خالص دینی اورفلاحی ادارے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ لوگوں کو یہ تاثردیا گیا کہ یہ شخص ”محسنِ امت“ ہے اور غریبوں کی دعائیں لے رہا ہے۔ اس مذہبی اورروحانی لبادے نے عوام کے فطری شکوک وشبہات کو دبانے اور بغیرتحقیق کے اندھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں کلیدی کردارادا کیا۔

فراڈ یا نقصان کا پہلو کہاں سے ظاہرہوا؟

رپورٹ اوردستیاب معلومات کے مطابق، اس نام نہاد غبارے سے ہوا نکلنے کا آغازاس وقت ہوا جب مبینہ طورپرتقریباً دوسال قبل (یا بعض رپورٹس کے مطابق جنوری 2024 کے بعد) منتظمین کی جانب سے منافع اوراصل رقوم کی ادائیگیوں کا سلسلہ مکمل طورپرمنقطع ہوگیا۔ منتظم کے ہندوستان سے باہر (دبئی) منتقل ہونے، کمپنی کی ہندوستان یا دبئی میں کسی بھی مصدقہ قانونی رجسٹریشن کے نہ ہونے، اورسب سے بڑھ کریہ کہ لین دین کے لیے کارپوریٹ بینک اکاؤنٹس کے بجائے مختلف غیرمتعلقہ افراد کے ذاتی یو پی آئی (UPI) اورسیونگ بینک اکاؤنٹس کے مسلسل استعمال سے یہ حقیقت کھل کرسامنے آئی کہ یہ ایک سوچی سمجھی مالی دھوکہ دہی تھی۔ ویڈیو کے دعوے کے مطابق، اس اسکیم میں ملوث مجموعی رقم ایک ہزارکروڑ (1000 Crore) روپے سے تجاوزکرسکتی ہے۔ آج ہزاروں ائمہ، مدارس کے اساتذہ اورعام مسلمان شدید مالی بحران، قرضوں کے بوجھ اورذہنی اذیت کا شکارہیں، اورسماجی رسوائی کے خوف سے اپنے حق کے لیے قانونی کارروائی کرنے یا آوازاٹھانے سے بھی کتراتے ہیں۔

مرکز الاقتصاد الاسلامی انڈیا کی سابقہ تنبیہات کا تجزیہ

کسی بھی المیے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس کے وقوع پذیرہونے سے قبل دی جانے والی مخلصانہ تنبیہات کونظراندازکردیا جائے۔ یہ امرانتہائی قابلِ غوراورلائقِ تحسین ہے کہ جس مالی دھوکہ دہی کا آج عوام الناس، متاثرین اورذرائع ابلاغ میں ماتم ہورہا ہے، اس کی تکنیکی نشاندہی اورشرعی بنیادوں پر اس کا پردہ چاک کرنے کا اہم فریضہ ”مرکزالاقتصاد الاسلامی، وانمباڑی، انڈیا“ نے دوسال قبل ہی نہایت کمالِ دیانت اورعلمی رسوخ کے ساتھ انجام دے دیا تھا۔

 ادارے کے بانی و ناظم حضرت مولانا مفتی محمد سلمان مظاہری اوران کی زیرِ نگرانی شعبہ ”تخصص فی فقہ المعاملات المالیہ“ (Specialization in Islamic Financial Transactions) کے محقق طلبا نے ایک تفصیلی 13 صفحات پرمشتمل دستاویزی جائزہ بعنوان ”Sameer Gold / ثمیرگولڈ بزنس کی حقیقت اوراس کی شرعی حیثیت“ شائع کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک سخت تنبیہی نوٹ (Warning Alert) بھی جاری کیا گیا تھا جس میں اس نام نہاد کاروباری ماڈل کو صراحتاً مشتبہ، غیرشرعی اورقانوناً خطرناک قراردیا گیا تھا۔ ان دستاویزات کا بغور مطالعہ کرنے سے درج ذیل کلیدی نکات نمایاں ہوتے ہیں، جنہیں مرکز نے وقت سے پہلے امت کے سامنے رکھ دیا تھا:

کاروباری ماڈل پراٹھائے گئے بنیادی اورتکنیکی سوالات

ادارے نے اپنے فتوے اورتحقیقی مقالے میں اس بات پرشدید حیرت اورتکنیکی اعتراض کا اظہارکیا تھا کہ ثمیرگولڈ کی جانب سے چھ ماہ میں سرمایہ دوگنا کرنے اورماہانہ بنیادوں پرمتعین اورغیر معمولی منافع دینے کے دعوے سراسرغیرحقیقی، غیرمنطقی اورمعاشی حقیقتوں کے منافی ہیں۔ ادارے کے محققین نے ہندوستانی معیشت کے مستند اعداد وشمارپیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریزروبینک آف انڈیا (RBI) کے بانڈزکی سالانہ آمدنی اوسطاً 8 فیصد ہوتی ہے، اور اسٹاک مارکیٹ (Stock Market) جیسے انتہائی منافع بخش (اوررسک والے) ادارے بھی اوسطاً 7 سے 20 فیصد سالانہ منافع دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ثمیر گولڈ کا یہ دعویٰ کہ وہ دس ہزارکی سرمایہ کاری پرماہانہ پندرہ سو سے دو ہزار روپے (جو سالانہ 180% سے 240% منافع بنتا ہے) دے گا، کسی بھی حقیقی اورقانونی تجارت میں ناممکن ہے۔ ادارے نے صراحت کی کہ دنیا کا کوئی بھی مستند مالیاتی ادارہ مستقل بنیادوں پراس قدرزیادہ نفع نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ ایک منظم فراڈ پرمبنی پونزی اسکیم (Ponzi Scheme) ہو۔

شفافیت کا فقدان، اندھی سرمایہ کاری اور فنانشل آڈٹ کا مطالبہ

مرکزالاقتصاد الاسلامی،انڈیا نے امت کو اندھی سرمایہ کاری کے مہلک اثرات سے بچانے کے لیے یہ اصولی اور پیشہ ورانہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر ثمیرگولڈ واقعی اتنا منافع بخش، جائزاورکامیاب کاروبارکررہا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی گزشتہ کارکردگی کی فنانشل آڈٹ رپورٹ (Financial Audit Report) اورپرافٹ اینڈ لاس اسٹیٹمنٹ (Profit and Loss Statement) منظرِعام پرلائے۔ یہ مطالبہ شرعی اعتبار سے جہالت اورغررکو دور کرنے کے لیے بھی لازم تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوسکتا تھا کہ کمپنی حقیقت میں اتنا نفع کما بھی رہی ہے یا صرف نئے لوگوں کے سرمائے کو پرانے لوگوں میں بانٹ کر”حلال نفع“ کے نام سے دھوکہ دے رہی ہے۔ تاہم، کمپنی اوراس کے حامیوں کی جانب سے اس بنیادی مالیاتی تقاضے کو ”کاروباری راز“ کا عذربنا کرمسترد کردیا گیا، جو کہ بذاتِ خود اس اسکیم کے کھوکھلے پن اوردھوکہ دہی کی ایک واضح علامت تھی۔

مذہبی نسبت اور بلاتحقیق اعتماد کا مدلل رد

ادارے نے اس جذباتی اورغیرمعقول رویے پرکڑی علمی تنقید کی کہ محض کسی فرد کے ظاہری دینی حلیے، ”خدمتِ خلق“ کے پُرکشش دعووں اور ”استخارہ“ کی تلقین کے نام پرشریعت اورملکی قانون کے طے شدہ تجارتی اصولوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کمپنی کا یہ دعویٰ تھا کہ ”ہمارے کام میں استخارہ کرکے شامل ہوں“، جس پرادارے نے زبردست علمی گرفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ شرعی اصول کی رو سے استخارہ ان امورمیں کیا جاتا ہے جوظاہرمیں مباح، جائزاورمکمل طورپرواضح ہوں، نہ کہ ان معاملات میں جن کی بنیادی ساخت ہی غیرواضح، مشتبہ اورغرر (Uncertainty) پرمبنی ہو۔ یہ اصولی بات واضح کی گئی کہ محض کسی عالم، مفتی، یا مذہبی شخصیت کی شمولیت یا کسی کے دینی دعووں کی وجہ سے کسی مالیاتی اسکیم کوشرعاً و قانوناً قابلِ اعتماد نہیں مانا جا سکتا، جب تک کہ اس کا معاشی ڈھانچہ اورعقد (Contract) شریعت کے ترازوپرپورا نہ اترے۔

قانونی حیثیت اوررجسٹریشن کی عدم موجودگی پرسخت انتباہ

 مرکز الاقتصاد الاسلامی،انڈیا کے محققین نے اپنی رپورٹ میں خاص طورپراس مشکوک عمل کی نشاندہی کی تھی کہ کمپنی اپنے سرمایہ کاروں کو روزانہ نئے بینک اکاؤنٹس میں رقوم جمع کروانے کی ہدایت کرتی تھی اورپرانے اکاؤنٹس میں رقم بھیجنے سے منع کرتی تھی۔ مرکز نے پوری بصیرت کے ساتھ متنبہ کیا کہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ ادارہ قانونی طورپرکہیں بھی رجسٹرڈ نہیں ہے اور وہ حکومت کے ضوابط اورٹیکس نظام سے بچنے کی دانستہ کوشش کررہا ہے۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے ضابطہ کارمیں کاروباری اورمالیاتی امورکے ماہرین کو اسکیم میں شامل ہونے سے روک دیا تھا، چاہے وہ عالمِ دین ہی کیوں نہ ہوں۔ محققین نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ مالیاتی شعوررکھنے والا کوئی بھی شخص ان کے کھوکھلے دعوؤں کی حقیقت اورمالیاتی تضادات کوفوراً بھانپ لے گا، اس لیے انہوں نے صرف معاشی طورپرکمزور اورلاعلم طبقے کو اپنا ہدف بنایا۔

تقابلی جائزہ: ویڈیو بمقابلہ سابقہ تنبیہات

دستیاب معلومات اوردستاویزات کا تقابلی مطالعہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتا ہے کہ آج جو حالات ویڈیو کی شکل میں ایک سانحے کے طورپرسامنے آ رہے ہیں، مرکزالاقتصاد الاسلامی،انڈیا نے اپنے تحقیقی جائزے میں ان کی من وعن پیشین گوئی دو سال قبل کردی تھی۔ اس چشم کشا تقابل کو درج ذیل جدول میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:

Millat Times 

Millat Times کی ویڈیو میں سامنے آنے والے حالیہ انکشافات

مرکز الاقتصاد الاسلامی انڈیا 

مرکزالاقتصاد الاسلامی انڈیا کی دو سال قبل کی تحریری تنبیہ 

آج کے حالات

آج کے حالات سے اس تنبیہ کی تصدیق اورامت کے لیے عملی سبق

ٹارگٹڈ آڈینس:

دعویٰ کیا گیا کہ 20,000 مساجد کے ائمہ، مدارس کے اساتذہ، بیواؤں، معذوروں اورغریبوں کو نشانہ بنایا گیا اوراربوں روپے بٹورے گئے۔

پہلے سے موجود انتباہ:

مرکزنے تنبیہ کی تھی کہ کمپنی نے دانستہ طورپربزنس مین حضرات کو دوررکھا ہے اورصرف غریب اوردینی طبقے کولالچ دے کرنشانہ بنا رہی ہے۔

تصدیق و سبق:

 ثابت ہوا کہ ہدف کا انتخاب اس لیے تھا تاکہ کوئی ان کے ناممکن منافع پرماہرانہ اورتکنیکی سوال نہ اٹھائے۔ معاشی جہالت استحصال کا سب سے بڑا سبب ہے۔

مذہبی استحصال:

 اسے خالصتاً ”بیع مضاربہ”، غریبوں کی ہیلپ، اور دینی تحریک بتایاگیا۔ سرمایہ کاروں کوعطر، جائے نماز اورعمرہ کے ٹکٹ دیے گئے۔

پہلے سے موجود انتباہ:

 مرکزنے واضح کیا تھا کہ تجارت اورخدمتِ خلق دو مختلف چیزیں ہیں۔ غیرشفاف ماڈل کو شرعی نام دے کرعوام کودھوکہ دیا جا رہا ہے۔

تصدیق و سبق:

 ثابت ہوا کہ مذہبی جذبات اورخیرات کو محض مارکیٹنگ اوربرین واشنگ ٹول کے طورپراستعمال کیا گیا۔ ظاہری دینداری قانونی شفافیت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔

مالیاتی ساخت:

 تمام لین دین ذاتی UPI اور روزانہ بدلتے ہوئےغیر متعلقہ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کیا گیا۔ کوئی بھی آفیشل کارپوریٹ اکاؤنٹ استعمال نہیں ہوا۔

پہلے سے موجود انتباہ:

 مرکزنے سختی سے تنبیہ کی تھی کہ روزانہ اکاؤنٹ تبدیل کرنا غیر قانونی ہونے اورحکومت کی نظروں سے بچنے کی علامت ہے۔ ایسی کمپنی باآسانی فرارہوسکتی ہے۔

تصدیق وسبق:

 بغیرقانونی کارپوریٹ رجسٹریشن کے انفرادی اکاؤنٹس میں رقوم جمع کروانا صریح غفلت ہے۔ ایسی اسکیمیں قانون کی گرفت سے دوررہ کر بالآخر فرارہی ہوتی ہیں۔

سرمائے کا ڈوبنا:

 منافع اوررقوم کی ادائیگی رک گئی اورمبینہ طورپر کمپنی کے ذمہ داران دبئی منتقل ہوکررابطے سے غائب ہوگئے، جس سے اربوں کا نقصان ہوا۔

پہلے سے موجود انتباہ:

 مفتی سلمان صاحب مظاہری نے واضح پیشین گوئی کی تھی کہ یہ ایک پونزی اسکیم ہے، جوماضی قریب کی (IMA) اور (Heera Gold) کی طرح جلد ہی ڈوب جائے گی اورلوٹ کرفرار ہو جائے گی۔

تصدیق و سبق:

 تاریخ نے خود کو دہرایا۔ پونزی اسکیمیں ریاضیاتی اور معاشی طورپرناکام ہونے کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں۔ غیرمتناسب نفع ہمیشہ دھوکوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

غیر منطقی منافع:

 28 ہزار کی سرمایہ کاری پر 12 ہزار روپے ماہانہ (منافع اور تنخواہ کی مد میں) جیسی غیر حقیقی پیشکشیں کی گئیں اور سرمایہ ڈبل کرنے کی بات کی گئی۔

پہلے سے موجود انتباہ:

 محققین نے لکھا تھا کہ دنیا کا کوئی مالیاتی ادارہ 6 ماہ میں پیسہ ڈبل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے Financial Statements اورآڈٹ رپورٹ طلب کرنے پرزوردیا تھا۔

تصدیق و سبق:

 جب سرمایہ کاروں نے بغیرآڈٹ رپورٹ دیکھے اندھا اعتماد کیا توانجام یقینی تباہی تھا۔ فنانشل اورآڈٹ اسٹیٹمنٹ کے بغیرہردعویٰ محض سراب ہے۔

 

شرعی و فقہی تجزیہ: اسلامی مالیات کے اصولوں کی روشنی میں

اس پورے اندوہناک واقعے کو محض ایک عام دھوکہ دہی سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے اسلامی معاشیات (Islamic Economics) اورفقہ المعاملات المالیہ کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں پرکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ آئندہ کے لیے ایک مضبوط فکری اورفقہی کسوٹی فراہم کی جا سکے، جس پررکھ کرکسی بھی جدید اسکیم کوجانچاجاسکے۔

کاروبارمیں شفافیت اورعقد کی وضاحت

شریعتِ مطہرہ کسی بھی تجارتی معاملے کی صحت اورجوازکے لیے کامل شفافیت (Transparency) اورایجاب وقبول میں غیرمبہم وضاحت کا تقاضا کرتی ہے۔ فریقین کے مابین عقد کا تعین، کاروبارکی حقیقی نوعیت، اورمال کا مصرف قطعی طورپرمعلوم ہونا چاہیے۔ ثمیرگولڈ کے معاملے میں کاروبار کی نوعیت”کہ سونا کہاں سے خریدا جا رہا ہے، کس عالمی یا مقامی مارکیٹ میں بیچا جا رہا ہے، اس کی سپلائی چین کیا ہے”مکمل طورپرمجہول اورپردہٴ راز میں رکھی گئی، جو کہ شرعی لحاظ سے عقد کو فاسد کرنے کے لیے کافی ہے۔

غرر، جہالت، دھوکہ اور تدلیس

فقہ اسلامی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ ”غرر” (ایسی جہالت جس کا انجام نامعلوم ہویا جس میں دھوکہ اورغیر یقینی صورت حال پنہاں ہو) پر مبنی ہربیع اورمعاملہ باطل یا فاسد ہوتا ہے۔ ثمیرگولڈ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں یہ حیران کن شرط رکھی گئی تھی کہ ”ہرادارے کا اپنا اصول ہوتا ہے جسے ماننا ضروری ہے، چاہے وہ اصول سمجھ میں آئے یا نہ آئے… نیزوہ اصول فی الحال تحریری شکل میں موجود ہو یا بعد میں کسی بھی وقت بیان کیا جائے، ہروقت ہرقسم کے اصول ماننے کے لیے تیاررہنا ضروری ہے”۔ یہ شرط صریحاً ”غررِ فاحش” (ایسا دھوکہ جس کا اثربہت زیادہ ہو) ہے، کیونکہ اس میں سرمایہ کارکی باخبررضامندی کویکسرختم کردیا گیا ہے۔ ایسے اندھے معاہدے اسلام کے عادلانہ معاشی نظام کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

رأس المال کی ضمانت (Guarantee of Principal) اورسود کا ارتکاب

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ وہ ”مضاربہ” کررہی ہے۔ فقہ اسلامی میں عقدِ مضاربہ کی واضح تعریف یہ ہے کہ سرمایہ کار (رب المال) سرمایہ فراہم کرتا ہے اور مینیجر (مضارب) اپنی محنت و مہارت لگاتا ہے۔ نفع دونوں کے درمیان طے شدہ فیصد (Percentage Ratio) کے لحاظ سے تقسیم ہوتا ہے، جبکہ کاروباری نقصان (جو مضارب کی غفلت یا شرائط کی خلاف ورزی کے بغیرہوا ہو) خالصتاً رب المال برداشت کرتا ہے، اورمضارب کی محنت ضائع جاتی ہے۔ ثمیر گولڈ کے ہدایت نامے میں درج تھا کہ ”جب پروفٹ ڈپازٹ کے برابرہوجاتا ہے تواصل پونجی ہم رٹرن کرتے ہیں، جس کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ مہینے لگتے ہیں”۔ یہ شرط درحقیقت اصل سرمائے (Principal Amount) کی مکمل ضمانت تھی۔ فقہی اصول ہے کہ جب رأس المال کی ضمانت دے دی جائے، تو وہ عقدِ مضاربہ نہیں رہتا بلکہ وہ عقدِ قرض (Loan Agreement) بن جاتا ہے۔ اورفقہ کا مشہور قاعدہ ہے ”کل قرض جر نفعا فہو ربا” (ہر وہ قرض جو اپنے ساتھ نفع کھینچ لائے، وہ سود ہے)۔ لہٰذا اس ضمانت شدہ سرمائے پرملنے والا ہرقسم کا منافع صریح سود کے زمرے میں آتا ہے، جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔

پونزی اسکیم اورایم ایل ایم (MLM) نما ساخت کے شرعی اشکالات

جدید فقہی مجامع (Islamic Fiqh Academies) اور ماہرینِ معاشیات نے پونزی اسکیموں، ایم ایل ایم اورغیرحقیقی ریفرل ماڈلزکوحرام اورناجائزقراردیا ہے، کیونکہ ان میں نہ توکوئی حقیقی معاشی سرگرمی ہوتی ہے، نہ ہی اشیاء و خدمات کا تبادلہ ہوتا ہے، اورنہ ہی اثاثوں کی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ محض ایک ہاتھ سے رقم لے کردوسرے کو دینے، اورنئے ممبران کی شمولیت پرکمیشن کھانے کا نام ہے، جو کہ غصب، اکلِ مال بالباطل، اوردھوکہ دہی (Scam) کی صریح اقسام میں شامل ہے۔

علماء کے نام اورمذہبی جذبات کے استعمال کا اخلاقی حکم

کسی بھی مالی بدعنوانی کوجائزاورپرکشش قراردینے کے لیے دینداری کا لبادہ اوڑھنا، دینی شخصیات اورعلماء کے ناموں یا تصاویرکا بے دریغ استعمال کرنا، اور اسے ”سنت کوزندہ کرنے کی تحریک” قرار دینا اخلاقی اورشرعی طورپرانتہائی مذموم عمل ہے۔ یہ درحقیقت دینِ مبین کا دنیاوی اور مذموم مقاصد کے لیے افسوسناک استحصال ہے، جسے شریعت نے سخت ناپسند کیا ہے۔ اس سے دین کی توہین اورشعائرِاسلام کی بے حرمتی لازم آتی ہے۔

معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی پہلو: ایک ہمہ گیرالمیہ

جب دینی طبقہ، مدارس سے وابستہ افراد، ائمہ مساجد اورمعاشرے کے بااثرافراد ایسی مالیاتی اسکیموں کا نشانہ بنتے ہیں، تواس کے تباہ کن اثرات محض چند افراد کے دیوالیہ ہونے یا مالی نقصان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ پوری امت اورمعاشرتی تانے بانے کے لیے دوررس اورانتہائی منفی نتائج پیدا کرتے ہیں:

1.            دینی قیادت اورمنبرومحراب کے وقارکودھچکا:

ائمہ مساجد اورعلماء معاشرے کے روحانی اورفکری رہبرسمجھے جاتے ہیں۔ جب وہ اس طرح کی غیرمنطقی اورمشکوک اسکیموں کا حصہ بنتے ہیں، اورمزید افسوسناک بات یہ ہے کہ جب وہ چند پیسوں اورکمیشن کی لالچ میں اپنے مقتدیوں کوبھی اس کا حصہ بننے کی ترغیب دیتے ہیں، توعوام کی نظرمیں ان کی علمی حیثیت، دیانت اورفراست پرایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں علماء کا مجموعی تاثرمجروح ہوتا ہے، اوردین سے دوری پیدا ہوتی ہے۔

2.            عوامی اعتماد کا سنگین زوال:

 وہ بے شمارعام مسلمان اورغریب افراد، جنہوں نے محض اپنی مساجد کے ائمہ اوربظاہرمتقی علماء کواس اسکیم میں سرمایہ کاری کرتے دیکھ کراپنی زندگی بھرکی جمع پونجی لگائی، آج ان کا اعتماد نہ صرف مالیاتی اداروں سے بلکہ دینی رہنمائی اورظاہری دینداری سے بھی اٹھ جاتا ہے۔ ایک عام مسلمان جب یہ دیکھتا ہے کہ اس کے امام صاحب ہی اسے ایک فراڈ اسکیم میں لے گئے ہیں، تو یہ صورت حال شدید معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اورمایوسی کا باعث بنتی ہے۔

3.            مذہبی و فلاحی اداروں اور NGO’s کی بدنامی:

چوں کہ اس اسکیم کے منتظمین نے ”رضائے الٰہی فاؤنڈیشن”، ”یتیموں کی کفالت” اورزکوٰة و صدقات جیسے پاکیزہ مقاصد کے نام کوبطورڈھال استعمال کیا، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ آئندہ کے لیے ان تمام حقیقی اورمخلص فلاحی اداروں کے لیے فنڈزاکٹھا کرنا اورکام کرنا مشکل ہوجائے گا جو واقعی امت کی خدمت کررہے ہیں۔ مخیرحضرات اورعوام خیر کے حقیقی کاموں میں حصہ لینے اورعطیات دینے سے بھی خوفزدہ اور بدگمان ہوجائیں گے۔

امت کے لیے عملی اور جامع رہنما اصول (Practical Guidelines)

اس سنگین، المناک اورسبق آموزواقعے کو سامنے رکھتے ہوئے، آئندہ کے لیے عوام الناس، سرمایہ کاروں، اوربالخصوص مساجد، مدارس اورفلاحی اداروں کے ذمہ داران کے لیے درج ذیل جامع رہنما اصول (Guidelines) مرتب کیے جا سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی مالیاتی سانحے کا مستقل سدباب کیا جا سکے:

1.            قانونی رجسٹریشن کی لازمی اورازخود جانچ: کسی بھی نئی کمپنی، انویسٹمنٹ اسکیم، یا فرد کے پاس اپنی محنت کی رقم جمع کروانے سے قبل اس ادارے کا قانونی اورملکی وجود چیک کرنا شرعاً اورعقلاً لازم ہے۔ یہ معلوم کریں کہ کیا وہ ادارہ متعلقہ سرکاری ریگولیٹری اداروں (جیسے وزارتِ کارپوریٹ امور MCA، SEBI، یا RBI) کے ہاں رجسٹرڈ ہے؟ کیا اسے عوام سے سرمایہ اکٹھا کرنے (Public Fund Raising) کا قانونی اختیار (License) اور اجازت حاصل ہے؟

 2.            مالیاتی شفافیت (Financial Transparency) کا غیرمتزلزل مطالبہ: کوئی بھی دعویٰ، خواہ وہ بظاہرکتنا ہی پرکشش اوراسلامی کیوں نہ نظر آئے، اس کی بنیاد مستند فنانشل اسٹیٹمنٹس (Financial Statements) پرہونی چاہیے۔ سرمایہ کاری سے قبل کمپنی سے ان کی آڈٹ رپورٹ (Audit Report)، بیلنس شیٹ (Balance Sheet)، پرافٹ اینڈ لاس اسٹیٹمنٹ (Profit and Loss Statement)، اور ٹیکس/جی ایس ٹی (GST/Tax) کی تفصیلات لازماً طلب کریں۔ جو کمپنی ان بنیادی قانونی اورمعاشی دستاویزات کو ”کاروباری راز” کہہ کرچھپائے اور پیش کرنے سے گریزکرے، وہ سو فیصد دھوکہ دہی اورفراڈ کررہی ہے۔

3.            ضمانت شدہ اورغیرمعمولی منافع سے قطعی اجتناب: اسلامی اورحقیقی کاروبارکا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اس میں نفع اورنقصان دونوں کا یکساں امکان موجود ہوتا ہے۔ اگرکوئی آن لائن یا آف لائن اسکیم آپ کوایک ”فکسڈ ریٹرن” (Fixed Return) اورمخصوص مدت میں آپ کی اصل پونجی (Principal Amount) کی واپسی کی 100% گارنٹی دیتی ہے، تومعاشی طورپروہ آپ سے جھوٹ بول رہی ہے اور شرعی فقہی اعتبار سے وہ صریح سود (Riba) کے زمرے میں آ رہی ہے۔

 4.            شخصی اثرورسوخ اورجذباتیت سے گریز: کسی شخص کی ظاہری دینداری، اس کے چہرے کی سنت، اس کی میٹھی گفتگو، یا اس کی جانب سے کی جانے والی بے پناہ خیرات وعطیات کواس کے کاروبار کے حلال یا قانون ہونے کی حتمی دلیل ہرگزنہ سمجھیں۔ مالیاتی معاملات محض عقیدت اورجذبات سے نہیں بلکہ ٹھوس کاغذات، دستاویزی ثبوتوں اورقانونی معاہدوں کی بنیاد پرطے ہوتے ہیں۔ قرآن مجید (سورة البقرة: 282) میں اللہ تعالیٰ نے مالی لین دین، قرض اورتجارتی معاملات کو باقاعدہ تفصیلی تحریرمیں لانے اوراس پرگواہ بنانے کا واضح حکم دیا ہے، محض توکل کے نام پراندھا اعتماد کرنے کا نہیں۔

5.            ماہرانہ اور تکثیری رائے (Diverse Expert Opinion) طلب کرنا: کسی بھی نئی اورغیرمانوس اسکیم میں اپنا سرمایہ لگانے سے پہلے کم از کم تین قسم کے مختلف ماہرین سے الگ الگ رائے حاصل کریں:

 o             مالیاتی ماہر (Financial / Economic Advisor): جواس کمپنی کے بزنس ماڈل، اس کے سرمائے کی ساخت، اورمارکیٹ کے حقیقی رسک (Risk Factor) کوسمجھے اوراس کا تجزیہ کرے۔

o             قانونی ماہر (Legal Expert / Corporate Lawyer): جو اس کے معاہدے کی قانونی حیثیت، حکومتی ضوابط کی پاسداری اوررقم ڈوبنے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کے امکانات کوپرکھے۔

o             ماہرمفتی / شریعہ اسکالر: جو روایتی حلال حرام کے بجائے باقاعدہ ”فقہ المعاملات المالیہ” (Islamic Financial Transactions) کا ماہرہو اورجدید معاشی تناظر میں اس کے شرعی جوازکودستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں واضح کرے۔

6.            جلد امیر بننے والی (Get Rich Quick) اسکیموں کا کلی مقاطعہ: ہروہ اسکیم جوپونزی (Ponzi Scheme)، ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM)، یا چین ریفرل (Chain Referral) پرمبنی ہو، جہاں آپ کواپنا منافع کمانے کے لیے مزید دویاچارافراد کوشامل کرنا لازمی ہو، اس سے مکمل اور فوری اجتناب کریں۔ ایسی اسکیمیں حقیقت میں کوئی دولت پیدا نہیں کررہیں، بلکہ محض ایک جیب سے نکال کردوسری جیب میں ڈالنے کا مکروہ کھیل کھیل رہی ہوتی ہیں۔ یہ جدید دورکا جوا (Gambling) اوردھوکہ ہے۔

7.            معاہدے کی تحریری شکل: اصل کاروبار کی نوعیت، منافع کے ذرائع (Sources of Profit)، ممکنہ نقصان کی صورت میں ذمہ داری کا تعین، اور رقم کی واپسی کے طریقہ کارکومکمل طورپراورواضح تحریری شکل (Written Contract) میں معلوم اورمحفوظ کریں، تاکہ بعد میں کسی فریق کو مکرنے کا موقع نہ ملے۔

مرکز الاقتصاد الاسلامی، انڈیا کا اصولی اور مخلصانہ موقف

اس پوری صورتِ حال میں ”مرکز الاقتصاد الاسلامی، وانمباڑی، انڈیا” کا کردارایک سچے خیر خواہ، ہمدرد اورمخلص ناصح کا رہا ہے۔ ادارے کے سربراہ مفتی محمد سلمان صاحب مظاہری اوران کے رفقائے کار (محققین کی ٹیم) نے اپنی دستاویزمیں نہایت متانت اوروقار کے ساتھ یہ بات واضح کردی تھی کہ ان کی اس تنبیہ کا مقصد کسی فرد یا کمپنی کی ذاتیات کونشانہ بنانا، کسی پرکیچڑ اچھالنا یا خدانخواستہ ”علماء کے رزق پرلات مارنا” ہرگز نہیں ہے۔ ایک ذمہ دار دینی ادارے اور دردمند محقق کی حیثیت سے ان کی واحد تڑپ یہ تھی کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص ہمارے معزز علمائے کرام معاشی تباہی اورسماجی رسوائی کے اس بھیانک بھنور سے محفوظ رہیں، جس کی ہولناک تباہ کاریاں وہ اس سے قبل ‘آئی ایم اے’ (IMA) بنگلور اور’ہیرا گولڈ’ (Heera Gold) حیدرآباد کے سانحات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔

لیکن یہ امرکس قدرافسوس ناک اورکیسا تکلیف دہ المیہ ہے کہ جب ادارے کے محققین نے ٹھوس معاشی حقائق اوردلائل کی روشنی میں اپنا علمی تجزیہ پیش کیا، تواس کا جواب دلیل کے بجائے جذباتیت، طعن وتشنیع اوربے جا الزامات سے دیا گیا۔ ان خیرخواہوں کو ”مایوسی پھیلانے والے” اور ”علماء کی ترقی سے جلنے والے” قراردیا گیا۔ درحقیقت، یہ رویہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب معاشی معاملات کی ناواقفیت کے ساتھ وقتی حرص اورمذہبی جذباتیت بھی آ ملے، توانسان پرعقلِ سلیم، منطق اورسوچنے سمجھنے کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔

                کاش! اس وقت مرکز کی ان مخلصانہ، علمی اور شرعی تنبیہات کو سنجیدگی سے لیا جاتا۔ کاش! جذبات کے غلبے کی بجائے تھوڑی سی معاشی ہوشمندی سے کام لیا جاتا، تو آج ہزاروں خاندان اور ہمارے قابلِ احترام علماء اپنی زندگی بھر کی خون پسینے کی کمائی لٹانے، قرضوں کی دلدل میں دھنسنے اور معاشرے میں اپنا وقار کھونے کے اس جانکاہ صدمے سے یقینی طور پر محفوظ رہتے۔

اختتامیہ

 اسلامی معاشیات اورفقہ المعاملات کا عظیم اورمقدس مقصد محض مالیاتی معاملات پر حلال یا حرام کا رسمی فتویٰ یا ٹھپہ لگانا نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف مسلم معاشرے میں ایک ایسا شفاف، عادلانہ، متوازن اوراستحصال سے پاک معاشی نظام قائم کرنا ہے جس میں کسی شخص کا مال ناحق نہ کھایا جائے۔ ثمیرگولڈ (Sameer Gold) کا یہ المناک واقعہ دراصل ہماری اجتماعی معاشی سادگی، مالیاتی تعلیم کی سنگین کمی، جدید بزنس ماڈلز سے ناواقفیت، اورمذہب کے پاکیزہ نام پرہونے والے افسوسناک استحصال کی ایک اندوہناک داستان ہے۔

 مرکزالاقتصاد الاسلامی، وانمباڑی انڈیا نے جس جرات، تحقیق اورعلمی استقامت کے ساتھ دو سال قبل اس طوفان کی نشاندہی کی تھی، وہ ایک عظیم علمی، فکری اورعملی خدمت تھی، جسے نظراندازکرنے، اور وقتی لالچ کا شکارہونے کی بھاری قیمت آج پوری امت، بالخصوص ہمارے باوقارعلماء، ائمہ مساجد اور غریب طبقہ چکا رہا ہے۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ، بالخصوص ہمارے دینی طبقات، مساجد کے منبرومحراب، اور مدارسِ اسلامیہ کے نصاب میں جدید اوربنیادی مالیاتی شعور (Financial Literacy) کو لازمی طورپرشامل کیا جائے۔ معاشی دھوکہ دہی، مالی استحصال اوراخلاقی زوال کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب سے بچنے کا واحد اورآخری راستہ یہی ہے کہ ہم آنکھیں بند کرکے عقیدت، شارٹ کٹ، اوروقتی حرص کی بنیاد پرمالی فیصلے کرنے کے بجائے تحقیق، شفافیت، شرعی اصولوں کی پاسداری، اورملکی قانون کی احتیاط کواپنا مستقل شعاربنائیں۔

از: مفتی محمد سلمان مظاہری، وانمباڑی

بانی و ناظم: مرکز الاقتصاد الاسلامی، انڈیا

بتاریخ: 07/05/2026

________________________________________