مثبت ومنفی کا فلسفہ

 دوسری قسط:        

از : مولانا حکیم فخر الاسلام الٰہ آبادی

پرانی شراب نیا جام؛”مثبت“ فطرت پرستی کا دوسرانام

خیال رہے کہ فطرت میں ودیعت کی گئی حقیقت کا اصل تعلق ما بعدالطبیعات سے ہے،یہ بات عقلاً ونقلاً براہینِ قطعیہ کے ساتھ مسلم چلی آرہی ہے؛مگر”عصر حاضرکے فلسفیوں کی بڑی اکثریت اِس بات پرزوردیتی ہے کہ حقیقت فطرت سے ختم ہوچکی ہے جس میں ما فوق الفطرت کچھ بھی نہیں ہے،(اس لیے) ’ انسانی روح‘ سمیت حقیقت کے تمام شعبوں کی تحقیق کے لیے سائنسی طریقہ استعمال کیاجانا چا ہیے۔“

پہلے،سائنسی طریقہ اورسائنسی مزاج کے لیے جوفطرت کا لفظ بولاجاتا تھا،اب ترجیحی طورپرفطرت کی جگہ لفظ’ مثبت‘ استعمال ہونے لگا ہے ۔ ”فلسفی وسیع پیمانے پرفطرت پرستی کوایک مثبت اصطلاح کے طورپردیکھتے ہیں۔“جوفطرت پرست ونیچری کہلانے کی بدنامی سے بچنے کی ایک ڈھال ہے،”مذہب سے تعلق رکھنے والے فلسفی فطرت پسندی کے بارے میں کم پُرجوش ہوتے ہیں“اور” آج کل چند فعال فلسفی خود کوغیرفطرت پرست کے طورپراعلان کرنے میں خوش ہیں۔“

اِس تناظرمیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ منطقی اِثباتیت پرست فلاسفہ کاشعاراِن تین مفروضوں پر ہے:۱- قطعی علم کا اِنحصارحسی تجربہ پر۔۲- زبان کے منطقی تجزیہ سے،ہرقضیے وجملے کی تصدیق تجربہ سے ۔۳- کسی جملے کے ٹھیک ٹھیک معنی کا تعین ہی اُس کی تصدیق کا رہنما اصول ہونا۔(۳۲)اورجب اُن کی اصل بے چینی پرنظرڈالتے ہیں: ”ما فوق یا ما بعدالطبیعات کا(یہ)بنیادی دعوی ہے کہ ایک مقتدرِاعلی مظہری حقیقت ہے کہ جس کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ تجربی ظواہرکے پسِ پشت جوحقیقت کارفرما ہے وہ کیا ہے،اب چوں کہ ما بعدالطبیعاتی دعاوی ،تجربی شی یاذاتوں(شی کی خصوصیات) سے بحث نہیں کرتے،اس لیے ما بعدالطبیعات سے حاصل کردہ صداقتوں اورتکذیب کی تصدیق نہیں کی جا سکتی،چناں چہ ایسی صورت میں یہ صداقتیں بے معنی اورلاحاصل ہیں۔اوراِن پرفکرکرنا تضییعِ اوقات ہے۔“(۳۲) اتویقینِ کامل ہوجاتا ہے کہ مثبتیت اورنیچریت مترادف ہیں۔

(۳۲)یہ اصولِ تصدیق پذیری، کارنپ (Carnap)ائیر(Ayer)،مورس وغیرہ کے دیے ہوئے ہیں۔(انٹرنیٹ)

 لہذا جومفاسد نیچرپرستی کے ہیں،وہی مثبت پرستی کے ہیں اورکہنے والے کی یہ بات کہ” منطقی اِثباتیت پرست مابعد الطبیعات کو بالکل نظراندازکردینے میں حق بجانب نہیں ہیں،کیوں کہ لاتعداد شواہد وتجربات اپنے ماحول کے پورے پس منظراوربے کراں وسیع ترحوالوں کی روشنی میں ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔“(۳۳) ویسی درست ہے جیسی فطرت پرستوں کے حق میں؛مگرایک اورحیثیت سے فلسفہ اِلحاد کی دیگرشاخوں کے مفکروں کے اپنے تحفظات ہیں اوروہ’ مثبتیت ‘پرنقد کرتے ہیں۔

 ناقدینِ مثبتیت

ثبوتیت کومسترد کرنے والوں میں سے ایکCombe (۱۷۸۸-۱۸۵۸ء )

ہے،اُس کی بے حد مقبول دی کنسٹیٹیوشن آف مین(انسان کاآئین) (۱۸۲۸)ہے ۔(۳۴) کتاب کے دیباچہ میں کومبے کہتاہے ”میرامقصد انسانی جسم اوردماغ کی فطری تشکیل،اِس دنیا میں بیرونی اشیاء اورمخلوقات کے ساتھ اُن کے تعلقات اورعمل کےاُن طریقوں کی چھان بین کرنا ہے جونفع بخش یا نقصان دہ معلوم ہوتے ہیں۔ “یہ کام اُس نے فرینولوجی (Phrenology)کے استعمال کے ذریعہ کیا۔(۳۵)کتاب کے” بابِ اول قدرتی قوانین پر“میں اُس نے وضاحت کی کہ”اگرقاری اِس بات کوذہن میں رکھے کہ خدا خالق ہے؛فطرت،عام معنوں میں اِس دنیاسے مراد ہے جسے اُس نے بنایا ہے اورجس میں اُس نے کوئی خاص حد مقررکی ہے،اُسے میرے مطلب کوغلط سمجھنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔“

مصنف کومبی پراُس کے قوانینِ فطرت کے عقیدہ کی وجہ سے مائل بہ اِلحاد ہونے کا اعتراض ہے، کیوں کہ یہ صحیح ہے کہ اُس نے دنیاوی آئین میں الٰہی مداخلت سے انکارکیا،اِس لحاظ سے وہ ڈی اِسٹ

 (۳۳)(انٹرنیٹ)(۳۴)ڈاکٹر قاضی قیصر الاسلام :”فلسفے کے بنیادی مسائل ص ۲۳،۲۴۔

(۳۵) فرینولوجی :کھوپڑی کی تشکیل کا مطالعہ جس میں دماغی خصلتوں کی پیش گوئی،مثلاً کسی لڑ کے کے مستقبل کا پتہ لگانے کے لیے،اُس کے سرکے ٹکڑوں کی پیمائش کرنا کرنے کے لیے کھوپڑی کے ٹکڑوں کی پیمائش شامل ہوتی ہے۔ اِسی کے قریب ایک اصطلاح فزیوگ نومی Physiognimyہے،چہرہ کی خصوصیات یا جسمانی ساخت سے نفسیاتی خصوصیات کی منظم خط وکتابت کا مطالعہ۔چوں کہ اِس طرح کے رشتوں کی وضاحت کرنے کی زیادہ ترکوششوں کو بدنام کیا گیا ہے،اس لیے اِسے سیوڈو سائنس Pseudoscience(کاذب سائنس) کہہ دیا جاتا ہے،یعنی سائنسی سے ہٹ جاتی ہے اورتجرباتی علم سے باہرکام کرتی ہے۔

 ہے(۳۶)؛ مگر، اقتباس ذکرکرنے سے غرض صرف اِس قدر ہے کہ خدا اورما بعدالطبیعات کے اِثبات کے قائل کومثبتیت پرستوں نے اپنی فکرکے لیے مخلص نہیں سمجھا؛بلکہ ہربرٹ اسپنسر(۳۷) کی ”ابتدائی سماجیات“کومٹے کے رد عمل کے طورپرسامنے آئی۔

کارل پوپر(۳۸) کی شہرت سائنسی استقرائی طریقہ کار(Inductive Method )پرمبنی نظریات کومسترد کرنے کے طورپرہے۔اِس طرح مثبتیت کے لیے جائے پناہ ملنا مشکل ہوگئی۔

مثبتیت اورفرینکفرٹ اسکول(۳۹)تھیوڈوڈبلیو ایڈورنو(۴۰)،جورجن ہیبرماس(۴۱)کے

(۳۶) ڈی اِسٹ کی شکل میں ناقص، نیچریت زدہ؛لیکن مثبتیت سے الگ اوراُس کے خلاف ہے،بایں معنی کہ اِس میں خدا کو موضوع بنانے کے نقطہٴ نظر سے ما بعدالطبیعات کا اِثبات ہے۔

(۳۷)اسپنسر(۱۸۲۰-۱۹۰۳)انگریزفلسفی،بیالوجسٹ اورجدید سماجیات کے بانیوں میں سے ایک،جس نے’ابتدائی سماجیات“میں کچھ اہم نظریات پیش کیے:۱- اجتماعی ارتقا،۲-ساخت اورکارکردگی۳-عسکری سماج،۴-صنعتی سماج۔

اِس نے سائنسی سچائی کویکجا کرنے کے لیے کومٹے کی پیروی کی؛لیکن کومٹے کے برعکس تمام فطری قوانین کو

ایک بنیادی قانون یعنی اِرتقا کے قانون تک محدود کرنے کی صورت میں سائنسی علم کویکجا کرنے کی کوشش کر ڈالی۔

(۳۸) کارل ریمنڈپوپر(Karl Popper۱۹۰۲-۱۹۹۴ء):سماجی مبصر۲۰ویں صدی کے سائنس کے سب سے

زیادہ با اثرفلسفیوں میں سے ایک۔پوپرکے مطابق تجرباتی علوم میں کوئی نظریہ کبھی ثابت نہیں ہوسکتا۔اِس کی تفصیل اُس کے بیان کیے گئے اصولِ تغلیط(Law of Falcification)میں دیکھی جا سکتی ہے۔

(۳۹) فرینکفرٹ اسکول:سماجیات اورتنقیدی تھیوری میں ایک مکتبہٴ فکر ہے،جس سے وابستہ اہم شخصیات میں میکس ہورکھائمر(Maxhorkhaimer۱۸۹۵-۱۹۷۳)،والٹربنجامین(Walter Benjamin ۱۸۹-

۱۹۴۰)،ایرخ فروم(Erich Selgmann from۱۹۰۰-۱۹۸۰)،ولہیم ریخ(Welhelm Reich۱۸۹۷-۱۹۵۷)،ہربرٹ، مارکوز(Herbert Marcuze۱۸۹۸-۱۹۷۹) جورجن ہیبرماس(Jurjen Habermas ۱۹۲۹-)ہیں۔تنقیدی نظریہ(Critical Theory )ایک سماجی،تاریخی اورسیاسی مکتبہٴ فکراورفلسفیانہ تناظرجو معاشرے میں نظامی طاقت کے تعلقات کاتجزیہ اورچیلنج کرنے پرمرکوز ہے۔

(۴۰) تھیوڈوڈبلیوایڈورنو(Theodor W. Adorno۱۹۰۳-۱۹۶۹ء)جرمنی فلسفی ماہرِموسیقی سماجی تھیورسٹ فرینکفرٹ اسکول کا ایک سرکردہ رکن۔وجودیت اورمنطقی مثبتیت پرمبنی فکری آب وہوا میں ایڈورنو نے تاریخ اورفلسفہ کا ایک جدلیاتی تصور تیارکیا جس نے (وجودیت اورمنطقی مثبتیت)کوچیلنج کیا۔

 (۴۱) ہیبرماس:فرینکفرٹ اسکول سے وابستہ اشخاص میں اوپرذکرآچکا ہے۔جرمن فلسفی،سماجی تھیورسٹ،تنقیدی عقلیت،علمیات، سماجی نظریہ کا حامل۔

درمیان سماجی سائنس کے طریقہٴ کارکے بارے میں ایک سیاسی فلسفیانہ بحث ہوئی۔

ہنس البرٹ(۴۲)(کارل پوپرکی فکرکا ہم نوا)اورایڈورنو دونوں’مثبتیت‘ کے مخالف تھے۔بحث سماجی علوم اورقدرتی قوانین کے درمیان فرق اورسماجی علوم میں اقدار کی حیثیت کے بارے میں زیادہ تھی۔یہ بحث ہائڈلبرگ ہیبرماس اورہنس البرٹ کے درمیان ایک پُرجوش بحث میں بدل گئی۔۱۹۶۱ء سے جرمن سیاست کے اندرایک وسیع تربحث میں پروان چڑھنے والا یہ تنازع ۱۹۶۹ میں شائع ہونے والے مضامین کے مجموعے پرختم ہوا،جس کا ۱۹۷۶ء میں کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔اِس تنازع نے ایک وسیع سامعین حاصل کیے۔

       ”مثبتیت“ما بعدلطبیعات اوراُس سے وابستہ امورکے انکارکی وجہ سے تومثبت کسی طرح نہیں کہلا سکتی منفی کہلانے کی مستحق ہے،نزیدبرآن بہت سے اِلحادہ فلسفوں کی نظرمیں بھی یہ آفاقی،نہ معروضی؛بلکہ وقتی اضافی اورمتعدد فلسفیانہ تحقیق سےغیرمتعلق ومعارض بھی ہے،پھربھی اِسے مثبت کہنا ایک بڑی بد فہمی تھی،اِس لیے نام ”مثبتیت“خود متنازع تھا۔یہ بحث ۱۹۶۱ء میں مغربی جرمنی کے شہرٹوبینگن میں جرمن سوسائٹی آف سوشیالوجی کی کانفرنس میں شروع ہوئی۔ کانفرنس کے مقررین کوسماجی اورقدرتی علوم کے درمیان میں فرق اورسماجی علوم میں اقدارکی حیثیت پربات کرنے کے لیے مدعوکیا گیا تھا۔۱۹۶۳ میں جورجن ہیبرماس نے اِس بحث کوگرمایا۔ہائڈلبرگ میں سوشیالوجی ڈے کے موقع پربحث(اُس وقت) زیادہ شدید تنقید کا نشانہ بن گئی جب ہربرٹ مارکوزنے اِس بحث میں شمولیت اختیارکی ۔ہنس البرٹ اورہیبرماس کے درمیان ایک پُرجوش ادبی بحث چھڑ گئی اور’ مثبتیت‘ اِس بحث کا مرکزبن گئی ۔

  (۴۲)ہنس البرٹ (Hans Albert۱۹۲۱-۲۰۲۳ء) جرمن فلسفی،سوشل سائنس کا پروفیسر ،تنقیدی عقلیت پسند، ہائیڈگر اورگڈامر سے آنے والی براعظمی ہرمینیٹک روایت کا سخت نقاد،کارل پوپرکے میکسِم فلسفہ کوترجیح دینے والا )

 میکسِم فلسفہ:ایک اخلاقی اصول جسے کسی کے فلسفے پرمنحصرسمجھا جا سکتا ہے۔ایک میکسم اکثرتدریسی ہوتا ہے اورمخصوص اعمال کی ترغیب دیتا ہے۔”زندگی گزارنے کے لیے کوئی بھی سادہ اوریادگار اصول یا رہنما …اخلاقیات کے لیے ایک سادہ لوح یا کاپی بک کے نقطہٴ نظرسے منسلک“،یعنی کسے شخص کے مقولے،امثال ،دلیلِ راہ کے طورپراصول۔”ڈیوینٹولوجیکل اخلاقیات میں،بنیادی طورپرکانٹینین اخلاقیات میں…اصولوں کے طورپرسمجھا جاتا ہے۔“

کاپی بک:ایک ایسی کتاب جوتعلیم میں استعمال ہوتی ہے جس میں ہینڈرائٹینگ کی مثالیں اورسیکھنے والوں کے لیے نقل کرنے کے لیے خالی جگہ ہوتی ہے۔

جرمن سیاسیات وسماجیات میں جھگڑااِس سوال کے گرد ہے کہ کیا سماجی علوم (جس سے ”مثبتیت“زیادہ ترمتعلق ہے)سیاست میں ایک معیاری لازمی بیان ہیں اوراُس کے اِقدامات سیاسی اعمال میں لاگوہوتے ہیں اورکیا اُن کے اِقدامات کوسیاسی طورپرجائزقراردیا جا سکتا ہے۔آپس میں جھگڑا پہلی جنگ عظیم کے پہلے کے سالوں میںVerein fur Socialpolitikکے ارکان کے درمیان ہوا۔بنیادی مخالف میکس ویبر(۴۳)ورنرسومبرٹ(۴۴) اور گسٹاووان شمولر(۱۸۳۸-۱۹۱۷)(۴۵) تھے۔

فریڈرک ہائیک(۴۶)نے سماجی علوم میں مثبتیت پسندی کومایوس کن حد تک مسترد کر دیا

                #آرنسٹ کینٹوروچز(۴۷)نے اِس امر کا اِظہار کیا کہ ”مثبتیت پسندی..کورومانوی بننے کے خطرے کا سامنا ہے جب یہ برقرار رکھتا ہے کہ سچائی کے نیلے پھول کو تلاش کرنا ممکن ہے…۔“        نوٹ:نیلا پھول رومانویت پسندی کی تحریک کے لیے تحریک کی مرکزی علامت تھا۔ اور آج بھی مغربی آرٹ میں ایک پائیدار شکل ہے۔اِس کا مطلب خواہش،محبت اور لا محدوداور ناقابلِ رسائی کے لیے ما بعدالطبیعاتی جد و جہد ہے( دنیوی لا محدوداور ناقابلِ رسائی خواہش ومحبت ہی مقصود ہے،اِسی مقصود کو ما بعدالطبیعات نام دے لیا گیا ہے )۔

 (۴۳)میکس ویبر(Max Weber۱۸۶۴-۱۹۲۰ ،ماہرعمرانیات،معاشیات،سماجی سائنس،پروٹسٹنٹ ایتھک اینڈ دی اسپرٹ آف کیپٹلزم کا مصنف۔

(۴۴ )ورنرسومبرٹ(Werner Sombart۱۸۶۳-۱۹۴۱)تاریخ داں ،ماہراِقتصادیات وعمرانیات؛جرمن تاریخی اسکول آف اکنامکس کا سربراہ ،اکیڈیمک امنامکس اورپبلک ایڈمنسٹریشن کے لیے ایک نقطہٴ نظرجو جرمنی میں ۱۹ویں ۲۰ویں صدی میں اُبھرا،اُس میں شامل پروفیسرزنے بڑی معاشی تاریخیں مرتب کیں۔

(۴۵)گسٹاووان شمولر( Gustav Von Schmoller۱۸۳۸-۱۹۱۷)تاریخی اسکول آف اکنامکس کا رہنما۔

(۴۶)فریڈرک ہائیک(Friedrich August Von Hayek۱۸۹۹-۱۹۹۲ء)،برطانوی ماہرِتعلیم اورفلسفی،سیاسی معیشت،سیاسی فلسفہ اور دانشورانہ تاریخ میں اپنی خدمات کے لیے معروف۔

 (۴۷) (Ernst Kantor۱۸۹۵-۱۹۶۳ء،قرونِ وسطی کی سیاسی اور فکری تاریخ فن کا ایک جرمن مورخ ،اسلامی معاشی تاریخ اوریورپی قرونِ وسطی کا اِسکالر ۔

  رابن جارج کولنگ ووڈ(۴۸)نے سائنسی حقائق کوتاریخی حقائق کے ساتھ ملانے کے لیے تاریخی مثبتیت پرتنقید کی ہے۔“”تاریخ نگاری میں ”مثبت“نقطہٴ نظر کے خلاف مورخین کے دلائل میں یہ شامل ہے کہ تاریخ طبیعیات اوراخلاقیات جیسے علوم سے موضوع اورطریقہٴ کارمیں مختلف ہے۔تاریخ کے مطالعہ سے جو کچھ ہوتا ہے ،اُس کا زیادہ ترحصہ نا قابلِ مقدار ہے اوراِس لیے مقداردرست (کرکے مثبت نقطہٴ نظرپیدا )کرنادرستگی سے محروم ہونا ہے۔اوریہ کہ تجرباتی طریقے اورریاضیاتی ماڈل عام طورپرتاریخ پرلاگونہیں ہوتے ہیں۔“

پیچھے ذکرآچکا ہے کہ میکس ویبر(۱۸۶۴-۱۹۲۰)’مثبتیت‘کا بنیادی مخالف تھا۔وہ میتھڈولوجیکل اینٹی پازیٹوزم کا ایک کلیدی حامی تھا،جو خالصتاً تجرباتی طریقوں کے بجائے تشریحی کے ذریعہ سماجی عمل کے مطالعہ کے لیے بحث کرتا تھا۔اینٹی پازیٹوزم نظریہ” یہ تجویزکرتا ہےکہ فطری علوم (۴۹)کےاندر استعمال شدہ تحقیقات کے طریقوں سے سماجی دائرے کامطالعہ نہیں کیا جا سکتا۔اورسماجی دائرے کی تحقیقات کے لیے ایک مستقل علمیات(۵۰) کی ضرورت ہوتی ہے۔اِس Antipositivist epistemology کابنیادی عقیدہ یہ ہے کہ تصورات اورزبان کے محققین اپنی تحقیق میں استعمال ہونے والے سماجی دنیا کے بارے میں اپنے تصورات کوتشکیل دیتے ہیں۔ “

(۴۸)رابن جارج کولنگ ووڈ(R.G.Collingwood۱۸۸۹-۱۹۴۳) فلسفی مورخ ماہرِآثارِ قدیمہ،آرٹ کے اصول(۱۹۳۸)اورآئیڈیا آف ہسٹری(۱۹۴۶) وغیرہ کے لیے مشہور۔

(۴۹) فطری علوم (Natural Science):سائنس کی ایک شاخ جس کا تعلق قدرتی مظاہرکی وضاحت،تفہیم اورپیش گوئی سے ہے،جو مشاہدے اور تجربات سے تجرباتی شواہد پرمبنی ہے۔

(۵۰) علمیاتEpistemology:فلسفہ کی وہ شاخ جو علم کی نوعیت،ماخذ اورحدود کا جائزہ لیتی ہے۔یہ علم کی مختلف اقسام کی کھوج کرتی ہے۔،جیسے حقائق کے بارے میں ’تجویزی علم‘

 جس کا تعلق قدرتی مظاہر کی وضاحت سے ہے۔ ’تجویزی علم‘ نظریاتی اور وضاحتی کہلانے والا یہ علم تین عناصرپرمشتمل ہے:۱-یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو درست اورجائز ہے۔

۲-ایک عقیدہ کے طورپریہ مانے گئے کی درستگی کے لیے ایک موضوعی وابستگی ہے،جب کہ سچائی ایک معروضی پہلو ہے۔

۳-جائزہونے کے لیے ایک عقیدہ کومعقول وجوہات پرمبنی ہونا ضروری ہے۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ محض اندازے علم نہیں ہوتے،خواہ وہ صحیح ہوں۔

تعبیرپسندی

معروضی نتائج نہیں دے سکتی،اس طرح معروضی تناظرتلاش کرنے کے بجائے،ترجمان،سماجی تعامل میں مشغول افراد میں ساپیکش(محسوس )تجربات میں معنی تلاش کرتے ہیں۔

 ۲-(فینومینولوجی،ہرمینیٹکس اورسماجی طریقوں کا جائزہ لینے والے سماجی نظریہٴ ساخت جیسا کہ معلوم ہے کہ ”ما بعد مثبتیت سے مطمئن محققین کے درمیان تعبیر پسندی (۵۱) (اینٹی مثبتیت پسندی)تیارہوئی…چوں کہ محققین کی اقداراورعقائد کواُن کی تحقیقات سے مکمل طورپرختم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے مفسرین کا خیال ہے کہ انسانوں کے ذریعے انسانوں پرتحقیق معروضی نہیں ہوسکتی۔

مثبت ہی منفی:

کومٹے کے مذکورہ تین”مراحل کے اِس سلسلہ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اگرچہ کومٹے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انسانی ترقی کوتین مراحل سے گزرنا ہے؛لیکن امورِذیل کی اُس تصورکے پنپنے میں ہمیشہ رکاوٹ رہے:

(۵۱) تعبیر پسندی فلسفیانہ فریم ورک(اینٹی مثبتیت پسندی)جیسے ہیرمینیٹکس(جو متون اور سماجی عمل کی تعبیرو تشریح پر مرکوز ہے۔(مصنوعی تفکیر)

 ،فینومینو لوجی۔ اور علامتی تعامل سے متاثر ہونے والا ایک آمادہ عمل ہے۔مطلب یہ ہے کہ تعبیر پسندی (Interpretivism) ایک فلسفیانہ اور سماجی نظریہ جو یہ کہتا ہے کہ سماجی واقعات اور انسانی عمل کا مفہوم اور معانی اُن کے مادی یا بیرونی وجود سے زیادہ اُن کی تعبیر(تفسیر )میں ہوتا ہے۔(مصنوعی تفکیر )

سماجی علوم کے بہت سے شعبوں میں تشریحی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں،بشمول انسانی جغرافیہ،سماجیات، سیاسیات ثقافتی بشریات اور دیگر “

ہرمینیٹکس : تشریح کا نظریہ اور طریقہٴ کار ،خاص طور پر بائیبل کا،فلسفیانہ متن کی تشریح،صحیفہ کی تشریح یا تفسیر،جدید ہرمینیٹکس میں ہرمینیٹکس کا اِطلاق ہیومنٹیز میں ،خاص طور پر قانون،تاریخ اور الٰہیات میں وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے۔

فینومینو لوجی: موضوعی شعوری تجربے کی معروضی تشریح سے زندہ تجربے کے معنی اور اہمیت کو تلاش کرنا۔

       علامتی تعامل :Symbolic Interactionism:عملی غور و فکر کاسماجی نظریہ عام علامتوں اور معانی پیدا کرنے کے لیے انسانوں کے مشترکہ زبان کےء خاص استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔مائکرو سوشیالوجی اور سماجی نفسیات میں موثر، علمیت پسندی کے امریکی فلسفہ سے ماخوذ اور خاص طور پر جارج بربرٹ میڈ (۱۸۶۳-۱۹۳۱ء،ماہر سماجیات،نفسیات) کے کام سے منسوب۔

(میکس ویبر -جس کا ذکر حاشیہ نمبر ۳۸ پر آیا ہے- کی” فہم(Verstehen)“کی مفہوم تعبیر پسندی کا ایک اہم عنصر ہے،جو سماجی عمل کے اندرونی معانی کو سمجھنے پر زور دیتا ہے۔مصنوعی) تعبیر پسندی سماجی تحقیق میں گہرائی اور سیاق کو مد نظر رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔یہ تحقیق میں کمی کے بجائے کیفی (Qualitative)طریقوں کو فروغ دیتی ہے۔

۱- Constitution of Society کا واضع، عصرجدید کا ماہرعمرانیات انتھونی گڈنزAnthony Giddens(۵۲)کا کہنا ہے کہ ”چوں کہ انسانیت مسلسل سائنس کونئی چیزوں کی دریافت اورتحقیق کے لیے استعمال کرتی ہے،اس لیے انسانیت کبھی بھی دوسرے مابعدالطبیعاتی مرحلے سے آگےنہیں بڑھ پاتی۔“

   اِس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ کومٹے کے مراحلِ ثلاثہ میں فلسفہ دوسرا مرحلہ قرارپایا ہے اورفلسفہ میں ما بعدالطبیعاتی حقیقت مسلم رہی ہے ،توسائنس کی نئی سے نئی چیزیں آخرکہاں سے آتی ہیں،پہلی بات۔دوسری بات یہ کہ خود سائنس ما بعدالطبیعیات کے مرحلہ سے آگے کا مرحلہ کیسے قرارپاسکتی ہے،جب کہ فلسفہ سائنس سے فائق ہے اورسائنس اُس کی محتاج ہے۔

۲-”ما بعدالطبیعیات کا رد…بے معنی ہے۔لُڈونگ وگنسٹائن (۵۳)کے ابتدائی کام پرمبنی معنی کاایک معیار(جس کی وہ خود بعد میں تردید کرنے کے لیے نکلا)؛یہ خیال کہ تمام علم کوسائنس کی ایک معیاری زبان میں قابلِ تدوین کیاجانا چاہیے اورسب سے بڑھ کر”عقلی تعمیرِنو“کا منصوبہ جس میں عام زبان کے تصورات کوبتدریج اُس معیاری زبان میں زیادہ درست مساویوں سے تبدیل کیا جانا تھا،تاہم بڑے پیمانے پرمنصوبہ ناکام سمجھاجاتا ہے۔

ایسا پلان توخود آپ اپنی موت مرجاتا ہے جوشروع ہی سے ہیرا پھیری کے ساتھ چل رہا ہواوراُسے دھکا دے کرترقی دلانے کے لیے منطق کا جنازہ نکالنے والی منطق کی فاسد وباطل قسمیں وضع کی گئیں ہوں اوراِس نئے پلان کا محرک وبانی ہی اپنے پلان سے نہ صرف دست بردارہوگیاہو؛بلکہ اُس کی تردید کوضروری خیال کیا ہو۔ ولہیم ڈیلتھی(۵۴)نے اِس مفروضہ کے خلاف سخت جدوجہد کی کہ صرف سائنس سے اخذ کردہ وضاحتیں درست ہیں۔ ویکو(۵۵)کا استدلال ہے کہ سائنسی وضاحتیں مظاہرکی اندرونی نوعیت تک نہیں پہنچتی ہیں۔(جاری………)

(۵۲)انتھونی گڈنز(Anthony Giddensپیدائش ۱۹۳۸ء)جدید ترین ماہر عمرانیات میں سے ایک۔ ڈھانچے اور ایجنٹوں کے لازم و ملزوم چوراہے پرفینومینولوجی،ہرمینیٹکس اور سماجی طریقوں کا جائزہ لینے والا سماجی نظریہٴ ساخت Constitution of Society کے حامیوں نے اس کے متوازن موقف کواپنایا اور بڑھایا۔(ویکیپیڈیا)

(۵۳) لُڈوِیگ وٹ جیسٹین(Lud Wittgenstein۱۸۸۹-۱۹۵۱)فلسفہٴ ریاضی،فلسفہٴ اور منطق کا ماہر ۔

(۵۴)ولہیم ڈیلتھی (Wilhelm Dilthey۱۸۳۳-۱۹۱۱ء،جرمن تاریخ داں ماہرنفسیات و عمرانیات ایک پولی میتھک فلسفی۔(ویکیپیڈیا)اِس نے انسانی تجربے ، ثقافت اور تاریخ کو سمجھنے میں نظریہٴ کائنات(ورلڈ ویو)کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔(ڈاکٹرعاصم افتخار”مبادیاتِ مغربیت“اشاعتِ دوم۲۰۲۵ص۱۸)

(۵۵)ویکو( GiambattistaVic۱۶۶۸-۱۷۴۴):اطالوی فلسفی جدید عقلیت پسندی اور ترقی کا نقاد،انسدادِ روشن خیلالی شخصیات میں سے ایک،نشاة ثانیہ ہیومنٹیز کے معذرت خواہ۔