نقوشِ اسلاف:شاہراہِ علم وعمل

(جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کے دارالحدیث میں، تمام اساتذہٴ جامعہ کی موجودگی میں رہنمائے اہل حق حضرت مفتی مجد القدوس خبیب صاحب رومی مدظلہ کا ایک بصیرت افروز خطاب بتاریخ:۱۳/شوال۱۴۴۷ھ مطابق۲/اپریل۲۰۲۶ء)

الحمد للہ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ وأصلّی وأسلّم علی نبیّنا المصطفیٰ وعلیٰ اٰلِه وصحبه نجو مِ الھدیٰ قادةِ التقیٰ،

أما بعد!

فأعُوذ باللہ منَ الشیطٰن الرجیم، بسْم اللہ الرحمٰن الرّحیْم۔

﴿اِنَّه لَیْسَ لَه سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطٰنُه عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّونَه وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِه مُشْرِکُوْنَ﴾(النحل)”صدق اللہ العظیم

مولانا حذیفہ وستانوی سلمہ کی بات (یعنی نمازوغیرہ کے پابند مسلمانوں پرجادونہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑے جادوگر کے مسلمان ہونے کا واقعہ)سن کرمیرا ذہن فوراً اس واقعے کی بنیاد کی طرف منتقل ہوا جو قرآنِ پاک کی دو آیات میں بیان کی گئی ہے۔

کرونا(میں نے اس کا نام ”کرو، نا“ یعنی کچھ نہ کرو، معطل ہوجاؤ، رکھا تھا۔ میں نے حکام سے بھی کہا کہ شیطان نے ہمیں اس نام سے دھوکا دیا ہے،ہم لوگ کچھ کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں،اللہ تعالیٰ اپنی مرضیات کے مطابق ہمیں کچھ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے!) اورلاک ڈاؤن کے زمانے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کے مضمون پرمجھے شرحِ صدر نصیب فرمایا:

﴿اِنَّه لَیْسَ لَه سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطٰنُه عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّونَه وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِه مُشْرِکُوْنَ﴾

(یقیناً اس(شیطان)کا قابوان لوگوں پرنہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اوراپنے رب پربھروسہ رکھتے ہیں۔ بس اس کا قابوتوصرف انہی لوگوں پرچلتا ہے جو اس سے (دوستی کا) تعلق رکھتے ہیں اوران لوگوں پرجواللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں)

اعتقادِ جازم، پورے توکل، اعتماد علی اللہ اورایمان ویقینِ کامل کے ساتھ جب ہم لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ سے تعلق قائم کرلیں گے تودنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ بگاڑنہیں سکتی اورنفسانی وشیطانی قوتیں معطل ہوجائیں گی، شیطان کا ہم پرکوئی داؤ نہیں چلے گا؛ لیکن اگرشیطان سے دوستی گانٹھیں گے، اس سے دوستی کریں گے اوراللہ کے ساتھ شرک کریں گے، تواس کے چنگل میں پھنس جائیں گے۔

 لفظ ”انما“کی علمی تشریح

 ہمارے استاذ جناب مولانا محمد اللہ صاحب (حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب کے صاحبزادے، جواپنے والدِ بزرگوار کے مکمل ترجمان اورناقل تھے) طلبہ سے”انما“کے ترجمہ سے متعلق پوچھا کرتے تھے کہ:

انما کا کیا ترجمہ کرتے ہو؟“

طلبہ کہتے تھے ”جزایں نیست“۔

حضرتؒ فرماتے کہ:

”یہ دوسوسال پہلے بولا جاتا تھا ”جزایں نیست“، اردو میں اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی بات نہیں، بس یہی بات ہے“۔

استاذی حضرت قاری صدیق احمد صاحب باندویؒ کی موجودگی میں ایک باراحقر نے جلسہٴ سیرة النبی مچھلی شہر ضلع جون پور میں عرض کیا کہ:

  ”جلسہٴ سیرةالنبی“کے بجائے اب تو ”جلسہٴ صورة النبی“ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ صورتِ نبوی ہی غائب ہوگئی ہے“۔ (حالانکہ ظاہر، باطن کا عکاس ہوتا ہے اور باطن، ظاہرکا عکاس ہوتا ہے)۔ حضرت مولانا نے اس کی تائید وتصویب فرمائی۔

اس پرمفسرینِ کرام نے فرعون کے جادوگروں کے واقعے میں ایک بڑا عجیب نکتہ لکھا ہے: فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے بلایا تو وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لباس اورحلیہ اختیارکرکے آئے، پھر وہ سجدے میں گرگئے اور مسلمان ہوگئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تعجب ہوا کہ اصل داعی تو فرعون تھا وہ مسلمان نہیں ہوا اور یہ ہمارے مقابلہ پرآنے والے جادوگرایمان لے آئے۔ توجواب ملا کہ انہوں نے تمہارا ظاہر اختیارکیا تھا۔

 اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کے ظاہرکی اتباع کی برکت سے ان جادوگروں کے باطن کوتبدیل کردیا اور وہ ایمان لے آئے۔

ہمارے حضرات کے دونوں ذوق ہیں، بعض حضرات اولاً ظاہر کی اصلاح پراوربعض حضرات اولاً باطن کی اصلاح پرزوردیتے ہیں۔ اس کی مثال ہمارے شیخ المشایخ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب تھانوی مہاجرِ مکیؒ ہیں۔ یہ حقیقت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ حضرت نے تقریباً سترہ سال سلسلہٴ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت شاہ نصیرالدین صاحب مجاہد دہلویؒ سے تعلق قائم رکھا ہے اورتین، ساڑھے تین سال حضرت میاں جی نورمحمد جھنجھانویؒ سے متعلق رہے ہیں۔ حضرت شاہ نصیرالدین صاحبؒ حضرت مولانا شاہ اسحاق صاحب محدث دہلویؒ کے داماد اور حضرت سید احمد شہید صاحب رائے بریلوی کے قائم مقام (امیرالمجاہدین) تھے۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ نے میراث میں تین ہی چیزیں چھوڑی تھیں، جس کواحقر کے نانا حضرت سید عبد الرب صوفی علیہ الرحمہ نے مولانا علی میاں رائے بریلویؒ اور مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی فرمائش پر”روحِ ولی اللہ کا خطاب“ نامی نظم میں بیان کیا ہے۔ اس کے آخری شعر پرمولانا علی میاں صاحبؒ پھڑک اٹھے اورفرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت صوفی صاحبؒ نے اس شعر میں ولی اللّٰہی فکروعمل کی پوری تاریخ سمیٹ دی ہے:

یہی ہے مختصراً خدمتِ ولی اللہ

جمے تو مدرسہ و خانقہ، اٹھے تو سپاہ

میرے استاذ اوراستاذ الاساتذہ حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہیؒ، جن سے احقرکو سترہ اٹھارہ سال استفادے کی سعادت ملی، اکثریہ جامع دعادیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے علم، عمل، عزت، عافیت اورعمرمیں برکت دے اورعافیتِ دارین نصیب کرے۔ آپ اسے ”عینی“ دعا قراردیا کرتے تھے اورکبھی یہ دعا دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ علومِ نافعہ، اعمالِ صالحہ اوراخلاقِ فاضلہ سے نوازے۔ حضرت مفتی صاحبؒ کوحضرت تھانوی رحمةاللہ علیہ نے رخصت ہوتے وقت فرمایا کہ: جاوٴ، اللہ کے سپرد!حضرت مفتی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مزید دعا کی درخواست کی ہمت نہ ہوئی، میں نے سوچا کہ بس یہی میرے حق میں حضرت کی طرف سے دعا ہوگئی۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ اپنے دونوں خلیفہ ومجازحضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ اورحضرت مولانا مفتی عبدالکریم صاحب گمتھلویؒ کوعینین (دو آنکھوں) سے تشبیہ دیتے تھے۔ اس کی وجہِ لطیف یہ تھی کہ ایک کے نام کے شروع میں اور دوسرے کے نام کے آخرمیں حرفِ”ع“ہے اور حضرت ان دونوں حضرات سے نگاہ و نظر کا کام لیتے تھے۔

تھانہ بھون کا ایک اورواقعہ یاد آگیا کہ حضرت مفتی (شفیع) صاحبؒ تھانہ بھون آئے ہوئے تھے، حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے آپ کو کچھ فتوے لکھنے کے لیے دیے؛ چناں چہ وہ بیٹھے ہوئے فتوے لکھ رہے تھے، بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلویؒ بھی اس روز وہاں موجود تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو تبلیغی جماعت کے کام کا تقاضا غلبہٴ حال کے درجہ میں عطاء فرمایا تھا؛ چنانچہ انہوں نے حضرت مفتی صاحبؒ کو دیکھ کران کو بھی تبلیغی جماعت میں نکلنے کی دعوت دی۔ حضرت مفتی صاحبؒ نے کمالِ ادب سے عرض کیا: ”حضرت! ہم تو ”کالمیت بید الغسال“ ہیں، حضرت کے حوالے ہیں، حضرت جوتجویزفرماتے ہیں، ہم اس پرعمل کرتے ہیں۔ آپ حضرت سے اجازت لے لیجیے“۔

حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ  نے حضرت تھانوی قدس سرہ سے عرض کیا تو حضرتؒ نے فرمایا: مولانا! سارے ہندوستان میں سے ان جیسا کوئی آدمی ڈھونڈکرلائیے، جواس وقت ایسی مستند تبلیغ کررہا ہوجیسی یہ کررہے ہیں اورجو خدمت یہ انجام دے رہے ہیں وہ کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا، تبلیغی گشت کے لیے بہت سے آدمی مل جائیں گے؛ اس لیے آپ ان سے یہ کام (افتاء کی تحقیقی خدمت) نہ چھوڑوائیں۔

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت تھانویؒ کی نظرِقدرشناس میں حضرت مفتی صاحبؒ کے مرتبہٴ علم وتفقہ فی الدین کی کس قدروقعت ومنزلت تھی۔

اسی نوعیت کا ایک واقعہ دارالعلوم دیوبند میں بھی پیش آیا، جب مبلغین کے ایک تبلیغی وفد نے اساتذہ سے تعلیمی سال کے دوران وقت لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پرمولانا زبیر صاحب دیوبندیؒ نے -جو نہایت سنجیدہ اورسلیم الطبع استاذ تھے- دفترِاہتمام میں بڑی پتے کی بات کہی کہ ”تقسیمِ کار کی رو سے ہماری بنیادی خدمت تدریس ہے۔ اگرآپ ہماری عدم موجودگی میں سلم، ہدایہ اورجلالین جیسی کتب کا سبق پڑھائیں توہم چلنے کوتیارہیں“۔

یہ واقعات شاہد ہیں کہ ہمارے بزرگوں کے نزدیک دین کے ہرکام کی اپنی جگہ اہمیت ہے؛ مگرلکل فن رجال کے اصول کے تحت ہرشخص اپنے مخصوص میدانِ عمل میں رہ کرہی بہترخدمت انجام دے سکتا ہے۔

احساسِ کمتری کی نفی اورعرفانِ ذات

مجھے خوب یاد ہے کہ جو طلبہ حضرت والد صاحب کے پاس تشریف لاتے، آپ ان سے فرماتے تھے:

”آپ اپنا احساسِ کمتری دورکیجیے اورعرفانِ ذات پیدا کیجیے، وہ کبرنہیں ہے!“۔

حضرت تھانویؒ کا اس موضوع پر ”تربیت السالک“ میں ایک مستقل رسالہ ہے۔ احقر کے پھوپھا اور حضرت کے قریبی عزیزمولانا شمس الحسن صاحب تھانویؒ نے نوجوانی میں اپنے رذائل کی اصلاح کے لیے حضرت کو بہت مفصل خط لکھا، تو حضرت نے اس کا بہت جامع جواب دیا، جس کا نام ”شمس الفضائل لطمس الرذائل“ ہے۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ کی مجلس میں شام کے ایک بڑے محقق حنفی محدث،شیخ عبد الفتاح ابوغدہؒ نے فرمایا کہ میں نے حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ سے پوچھا کہ: ”حضرت! آپ کے اس مکتبہٴ فکر (جسے دیوبندیت کہا جاتا ہے) کا ماتن کون ہے؟ اوراس کا ترجمان وشارح کون ہے؟“

شیخ عبد الفتاح ابوغدہؒ نے کہا: ”میں حضرت مہتمم صاحب کودیوبندیت کا ترجمان و شارح سمجھتا تھا، میں نے سوچا کہ دیکھیے کیا جواب دیتے ہیں؟“ اورواقعةً اس میں کوئی مبالغہ نہیں، احقرنے جن حضرات کو دیکھا ان میں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ سے فائق کسی کودیوبندیت کا شارح و ترجمان نہیں پایا۔

ایک دن حضرت تھانویؒ نے حکیم الاسلام قاری طیب صاحبؒ اورمفتی شفیع صاحبؒ (یہ دونوں حضرات حضرت شیخ الہندؒ سے بیعت تھے، علامہ انورشاہ کشمیریؒ کے شاگردِ رشید اورحضرت تھانویؒ کے مسترشد و مجاز تھے) سے فرمایا کہ: ”ایک بات عرض کردوں کہ نہ میں آدمی ہوں نہ آپ؛ مگرایک فرق ہے کہ میں نے کچھ آدمیوں کودیکھا ہے اورآپ نے نہیں دیکھا“۔

ہمارے استاذ مفتی مظفرحسین صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ”بھائی! جن حضرات کو دیکھا، ان کوبتایا نہیں جا سکتا کہ وہ کیا تھے“۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے اہل حق اکابرسے تسلسلِ نسبت عطا فرمایا ہے، حضرت عبد اللہ ابن مبارکؒ کا ارشاد ہے: ”الاسناد من الدین لولا الاسناد لقال من شاء ما شاء“۔(صحیح مسلم: ج ۱، ص ۱۵، مقدمه)

علامہ انورشاہ صاحب کشمیریؒ کا ایک لطیفہ میں نے سنا کہ کسی طالب علم نے پوچھا کہ: ”حضرت! اچھا مقررکون ہوتا ہے؟“ فرمایا: ”دوآدمی بہت زور دار مقررہوتے ہیں؛ ایک صاحبِ علم، جوعلم کی بنیاد پرکچھ باتیں بیان کرتا ہے اورایک بڑا جاہل بے دھڑک، جواس کے منھ میں آئے وہ کہہ دیتا ہے، ایسا جاہل عوام میں بہت مقبول ہوتا ہے اوریہ عالم خواص میں بہت مقبول ہوتا ہے، دونوں کے معیارالگ الگ ہوتے ہیں،پہلے کا معیارعلم ہوتا ہے اور دوسرے کا معیارجہل ہوتا ہے“۔

نصرتِ خداوندی کی شرط اورغفلت کے اسباب

اللہ تعالیٰ ہمیں خلوص و صدق کے ساتھ ہمت نصیب فرمائے اوراستقامت بخشے۔ اگرہم لوگوں نے اس آیت کو

﴿اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقدَامَکُمْ﴾(سورة محمد:۷)

یعنی ”اگرتم اللہ (کے دین) کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اورتمہارے قدم جما دے گا“

نظر میں رکھا توان شاء اللہ امدادِ غیبی ہوتی رہے گی؛ ورنہ دوسرا پہلو بھی ہے:

﴿وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَستَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَایَکُوْنُوا اَمْثَالَکُمْ﴾(سورة محمد:۳۸)

یعنی ”اوراگرتم منھ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے“۔

احقرنے اپنی آنکھوں سے قدرکی برکت اورناقدری کی نحوست کو دیکھا ہے۔

احقراکثرغورکرتا رہتا ہے کہ قرآنِ پاک میں جو مثالوں سے سمجھایا گیا ہے کہ دن اوررات، تاریکی اور روشنی، علم اورجہل، ایسے ہی ہرچیزمیں پورا تقابل موجودہے۔ اسی طرح اگرہمارے یہاں غفلت موجود ہے تو ذکر نہیں ہوسکتا۔آج کل غفلت کے دو بڑے ذرائع ہیں، جن سے میں اپنے بچوں اورنوجوانوں کو خبردار کرتا ہوں:

۱۔ موبائل کی بے انتہا مشغولی:

اس کا ضرورت سے زائد استعمال آدمی کو بالکل مغفل کردیتا ہے، موبائل سب سے بڑا مُغفِّل ہے۔

۲۔ اے سی (Air Conditioner) میں سونا:

میں خود اے سی میں نہیں رہتا؛ تاکہ ہوش وحواس قائم رہیں اوروقت پرسونے جاگنے کی عادت رہے۔ہمارے والد صاحب کی ہمیں بچپن سے یہ تاکید رہی کہ جلدی سوؤ، جلدی اٹھو گے اورانہوں نے یہ چیز اپنے والدین، اپنے اساتذہ اوراپنے بزرگوں سے سیکھی تھی۔

تربیتِ اولاد اور والدین کا حق

اب اس پراحقرکو جزم ہوچکا ہے کہ صحیح تربیت کی بنیاد والدین سے پڑتی ہے۔ اگروالدین نے تربیت کی ہوگی تب ہی آدمی ان کے لیے رحمت کی دعا کرے گا؛ ورنہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ والدین کی نمازِ جنازہ ہو رہی ہے اوراولاد اچھوت کی طرح دورکھڑی ہوئی ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ غفلت اور ذکر جمع نہیں ہو سکتے، ایک ہی چیز رہے گی دوسری نہیں،اگررحمت ہوگی تولعنت پاس نہیں پھٹکے گی اوراگرلعنت ہوگی تو رحمت نہیں ہوگی،اسی طرح اگر برکت ہوگی تو نحوست دور رہے گی ورنہ اس کے برعکس ہوگا۔

ہمارے استاذ حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے دو مستقل مجموعے ہیں: ”اسبابِ رحمت“ اور ”اسبابِ لعنت“، ان کو پڑھنا چاہیے۔

تذکیر اور اصلاحِ باہمی کا طریقہ

  آپ حضرات کے سامنے ایسی باتیں کرنا لقمان کوحکمت سکھانا ہے؛ لیکن بہرحال تذکیرکونافع قراردیا گیا ہے:﴿وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین﴾

      میں نے حضرت مولانا ابرار الحق صاحب حقی رحمة اللہ علیہ کے یہاں حضرت کے سامنے جلی حرفوں میں لکھا دیکھا، معلوم ہوتا تھا کہ حضرت نے اپنے لیے کوئی مذکِّر لکھ رکھا ہے:

دسویں صدی ہجری کے مجدد حضرت شیخ عبد الوہاب شعرانی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ:

”اگرکسی عالم کودوسرے عالم کے کسی قول وعمل پرکھٹک ہو تو اسے چاہیے کہ اس کو خیرخواہی اورنصیحت کے جذبے سے تنہائی میں سمجھا دیں، توجہ دلا دیں، ہوسکتا ہے اس کو التفات نہ ہوا ہو اورہوسکتا ہے کہ دیکھنے والے کو غلط فہمی ہوگئی ہو؛ ورنہ وہ (علماء) مداہنت کا شکارہوجائیں گے اور رضائے خالق کے بجائے رضائے مخلوق میں پڑجائیں گے“۔

   عَنْ مُعَاوِیَةَ أَنَّه کَتَبَ إِلَیٰ عَائِشَةَ – رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا – أَنِ اکْتُبِیْ إِلَیَّ کِتَابًا تُوْصِیْنِیْ فِیْهِ وَلَا تُکْثِرِیْ، فَکَتَبَتْ:سَلَامٌ عَلَیْکَ، أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ – صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْه وَسَلَّمَ – یَقُوْلُ: وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللّٰہِ بِسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مَؤُوْنَةَ النَّاسِ،وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَکَلَهُ اللّٰہُ إِلَی النَّاسِ. وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ(رواہ الترمذی)

(حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نام خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی مختصر وجامع وصیت تحریرفرمائیں؛ چنانچہ انہوں نے تحریرفرمایا:

   سلام علیک! اما بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا:

 جو شخص لوگوں کی ناراضگی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے شر سے پناہ کے لیے کافی ہوجاتا ہے، اورجو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے بجائے لوگوں کی رضا (خوشنودی) تلاش کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے (انہیں) لوگوں کے سپرد کردیتا ہے۔ و السلام علیک)

طرزِ اصلاح، مناقب کے بجائے مثالب کا اظہار

حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحبؒ کی بات سنانا چاہتا تھا۔ حضرتؒ کو کوئی صاحب دعا کے لیے لکھ رہے ہیں، وہ مسترشد تھے، اپنے احوال لکھتے ہوں گے۔ حضرتؒ کواگرکوئی اپنے صرف فضائل ومناقب لکھتا تھا تو حضرتؒ اس کو لکھتے تھے کہ: ”تمہارا تو ہرخط ”کتاب المناقب“ ہوتا ہے، اپنے مثالب (عیوب) لکھو بھئی! وہ کیا تم نے چھپا کے رکھ رکھا ہے، اس کوبتاؤ!“

ایک بڑے عالم ومدرس نے حضرت کوتین صفحہ کا خط لکھا اوراس میں حضرت کے بڑے فضائل ومناقب لکھے اوراپنی چیزیں بھی بہت سی لکھیں۔ حضرت نے اخیرمیں ڈیڑھ سطری جواب دیا:

”مولوی صاحب! وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے باتیں تو بہت اچھی اچھی لکھی ہیں، اپنے معمولاتِ یومیہ لکھیے“۔ کیوں کہ انہوں نے استرشاد، اصلاح و بیعت کا تعلق قائم کیا تھا اس لیے حضرت نے محض تعریفیں لکھنے کوپسند نہیں فرمایا۔

تلاوتِ قرآن، اللہ سے تعلق کا ذریعہ

ہمارے زمانہ کے ایک مفسر قرآن، تذکرہ نگار، مبصر وناقد نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ: ”بھئی! نام توسنا کرتا تھا کہ مولانا شاہ وصی اللہ صاحبؒ حضرت تھانویؒ کے خلفاء میں بڑا درجہ اوربڑا مقام ومرتبہ رکھتے ہیں، اب پہلی مرتبہ ان کی خدمت میں حاضری ہوئی توانہوں نے توجاتے ہی میرے نفس کا چورپکڑ لیا۔ میں تنہائی میں ان سے دعا کے لیے حاضرہوا کہ میری اصلاحِ حال کے لیے دعا فرمائیں“۔

(حضرتؒ پرخاص جذب وجلال کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی)حضرتؒ نے فرمایا: ”آپ نے کتنے سال ہمارے حضرت سے صرف قیل و قال ہی کیا؟ آپ قرآن پاک بھی پڑھتے ہیں؟ تلاوت کیا کیجیے! تلاوت سے متکلم سے تعلق ہوتا ہے، کلام کے بغیر متکلم سے تعلق نہیں ہوتا ہے۔ تلاوت کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ کہ صرف اس پرفلاں نے یہ لکھا، فلاں نے یہ لکھا۔ آپ سولہ سال حضرت سے یہی مکاتبت کرتے رہے، حضرت اعلیٰ ظرف تھے، میں کم ظرف ہوں، کہہ دیتا ہوں“۔ ان صاحب قلم نے لکھا کہ: ”حضرت نے واقعی میرے نفس کا چورپکڑ لیا، میں تلاوت نہیں کرتا تھا“ (جیسی تلاوت کرنی چاہیے تھی)۔

علامہ انورشاہ کشمیریؒ جیسے آدمی کو حضرتؒ نے لکھا تھا”قرآن پاک اللہ کا کلام ہے، اس لیے محض تلاوتِ قرآن بھی کیا کیجیے!“ انہوں نے عرض کیا: ”حضرت! تلاوتِ قرآن کے وقت معانی کا ہجوم ہوجاتا ہے“ تو حضرتؒ نے فرمایاکہ: ”طبیعت کوروک کرایک مقرروقت میں صرف تلاوتِ قرآن کیا کریں!“۔تلاوت بھی مستقل وظیفہ ہے، بعثتِ نبوی کا ایک مقصد تلاوت بھی ہے۔

علمِ دیوبند اور دینِ گنگوہ

حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ”مولویو! (حضرت شاہ صاحبؒ دورہٴ حدیث کے طلبہ کو ’مولویوں‘سے مخاطب کرتے تھے) دارالعلوم میں ہم نے علم پایا؛ مگر ہم نے دین گنگوہ میں پایا“۔حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے آپ بیعت ہوئے تھے۔ حضرت گنگوہیؒ کے بارے میں فرماتے تھے: ”یہ افقه من الشامی ہیں“ اور فرماتے تھے کہ: ”صاحبِ بحر علامہ ابن نجیم مصری کے ہم پلہ ہیں“۔ ان کی یہ دونوں باتیں میں نے اپنے اساتذہ سے تسلسل کے ساتھ سنی ہیں۔اورحضرت تھانویؒ نے حضرت نانوتویؒ اورحضرت گنگوہیؒ کے درمیان نہایت پرلطف فرق بیان فرمایا ہے کہ حضرت نانوتویؒ تومعلوم ہوتاتھا کہ کوزہ سے دریا بہارہے ہیں اورحضرت گنگوہیؒ معلوم ہوتا تھا کہ دریا کوکوزہ میں بند کررہے ہیں۔

اپنے وقت کے اکابرِ مظاہرعلوم و دارالعلوم کا حضرت تھانویؒ سے تعلق

یہ ایک عجیب علمی اتفاق ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے صدرمہتمم شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانیؒ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ اور فقیہ ملت مفتی محمد شفیع صاحبؒ، یہ سب کے سب حضرت تھانویؒ سے متعلق اورآپ کے مجازتھے؛ جب کہ دارالعلوم میں اوربھی کئی حضرات مجازینِ صحبت اورخاص تعلق رکھنے والے موجود تھے۔ اسی طرح مظاہرِعلوم کی دوعظیم شخصیات کا ذکربھی ضروری ہے؛ ایک حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ، جن کے بارے میں حضرت تھانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ”کامل پوری نہیں، کامل پورے ہیں“۔ آپ جامع معقول ومنقول اورحضرتؒ کے مجاز تھے۔ اصلاحی تعلق کی مکاتبت کے دوران جب حضرتؒ نے انہیں اجازت دی تووہ حاضر خدمت ہوئے اورعرض کیا کہ: ”حضرت! میں نے بیعت کی درخواست ادباً نہیں کی تھی کہ اصلاحی تعلق ہی اصل ہے تو پہلے اصلاح سے صلاح حاصل ہوجائے“۔ حضرتؒ نے اس پرفرمایا کہ: ”ہاں! وہ واجب ہے“۔ (واضح رہے کہ حضرتؒ کا باقاعدہ فتویٰ تھا کہ اصلاح واجب ہے اوربیعت مستحب ہے)۔ حضرتؒ نے مزید فرمایا کہ: ”دورانِ مکاتبت محسوس ہوا کہ آپ کووہ چیزحاصل ہو گئی ہے جومطلوب ہے“۔

یہی وجہ ہے کہ حضرتؒ نے اپنے تمام خلفاء میں سے صرف انہی کے خطوط ”اشرف السوانح“ میں ”عباد الرحمن“ کے نام سے نمونے کے طورپرشامل کروائے ہیں، انہوں نے اپنے نفس کے ایک ایک رذیلہ کا علاج حضرتؒ سے بالترتیب معلوم کیا تھا۔ حضرتؒ کے یہاں مولانا کامل پوریؒ کے علم، نظم، سنجیدگی اور متانت کا بڑا لحاظ تھا اورآپ ان کے ساتھ بہت ہی لحاظ سے پیش آتے تھے؛ بلکہ پہلے ہی خط میں حضرتؒ نے تحریرفرمایا تھا: ”میں اگرچہ اپنے آپ کواہلِ علم کی خدمت کا اہل نہیں سمجھتا؛ مگرامتثالاً للامر قبول کرتا ہوں“۔

اسی طرح حضرت علامہ شبیراحمد صاحب عثمانی کے بارے میں بھی منقول ہے کہ جب حضرت تھانویؒ نے ان کا وہ خطاب سنا جس کے اصل مخاطب علامہ شبلی نعمانیؒ وغیرہ تھے، حضرت تھانویؒ ان کے بیان سے اس قدر محظوظ ہوئے کہ اپنا عمامہ اتارکرانہیں پہنا دیا اور فرمایا: ”مولوی شبیر احمد عثمانیؒ اگرچہ عمرمیں مجھ سے چھوٹے ہیں؛ مگرعلم وفضل میں بڑے ہیں“۔

ماضی قریب میں مظاہرِعلوم میں حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب رامپوریؒ ثم سہارن پوری ہوئے ہیں، جن کو ”حجة الاسلام“ اور ”مناظرِ اسلام“ کے القاب و خطاب سے یاد کیا جاتا تھا۔ مولاناخاندانی اعتبار سے بھی بڑے اہل علم سے تعلق رکھتے تھے، ان کے پردادا حضرت مفتی سعد اللہ صاحب رامپوریؒ تھے، جن کی تصنیف ”فتاویٰ سعدیہ“ ہے۔

ایک دفعہ میں نے مفتی محمود حسن صاحب گنگوہیؒ سے پوچھا کہ: ”حضرت! ہمارے یہاں نمازِجنازہ میں چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کو دیوبندی اوربریلوی کی پہچان کہا جاتا ہے“۔ آپؒ نے فرمایا کہ یہ تو محض ایک عوامی بات ہے؛ ورنہ اہل علم و افتاء کے اس بارے میں چار اقوال ہیں۔ حضرتؒ نے جب تفصیل بتلائی تواس میں ہاتھ چھوڑنے کی بھی اجازت تھی، میرے یہ پوچھنے پرکہ یہ کہاں ہے؟ فرمایا کہ: ”فتاویٰ سعدیہ“ میں ہے، جو مولانا اسعد اللہ صاحبؒ کے پردادا حضرت مفتی سعداللہ صاحبؒ مفتی وقاضی ریاست رام پور کے ہیں، انہوں نے ”شرحِ فقہ اکبر“ کا ترجمہ بھی کیا ہے۔

ایک مسنون دعا

اس دعا کوامامِ اعظم ابوحنیفہؒ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، ہمارے اساتذہ اپنی سند سے اسے امام صاحبؒ سے نقل کرتے تھے۔ امام صاحبؒ سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو تفقہ فی الدین کیسے حاصل ہوا، کیا یہ کسی خاص عمل کی برکت ہے؟ توآپؒ نے فرمایا کہ: ”کوئی خاص عمل تو میرے ذہن میں نہیں ہے؛ البتہ ”اللھم انا نستعینک علی طاعتک“ کا اہتمام کرتا ہوں، ممکن ہے اس دعا کی برکت ہو“۔ مفتی سعد اللہ صاحب رامپوریؒ نے فرمایا کہ ہمارے اساتذہ طلبہ کویہ تلقین فرمایا کرتے تھے۔ حضرت تھانویؒ فرماتے تھے کہ بچپن میں جب سے میں نے یہ دعا پڑھی ہے تب سے میرے معمول میں ہے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ”مجالسِ حکیم الامت“ میں بھی اسے نقل کیا ہے۔ ہمارے حضرت جلال آبادیؒ کا بھی یہی معمول تھا اورحضرت ہردوئیؒ کا بھی یہی معمول تھا اوراحقرکا بھی ان دونوں حضرات کی تعلیم وتلقین کی بنا پراس دعا کا معمول ہے، یہ دعا اہل علم اورطلبہ کے لیے ایک عظیم تحفہ اوربہترین وظیفہ ہے۔

ہمارے حضرت مولانا ابرارالحق صاحب حقیؒ ”دعائے حفظِ قرآن“ کی تلقین فرمایا کرتے تھے اورحضرت نے اسے ”اذکارِ مسنونہ“ میں بھی نقل فرمایا ہے۔ حضرت تھانویؒ نے مناجاتِ مقبول اوراس کا تتمہ قربات عنداللہ وصلوات الرسول غالباً ۱۳۲۷ھ میں الحصن الحصین اور الحزب الاعظم کی روشنی میں تالیف فرمائی تھی، اس میں حضرتؒ کا اصل ذوق یہ صاف معلوم ہوتا ہیکہ آپ نے پہلے قرآن مجید سے دعائیں نقل کیں، اس کے بعد حدیث شریف سے دعائیں جمع کیں اوراس کے بعد حکیم مصطفیٰ صاحب بجنوریؒ کی فرمائش پر”حزب البحر“ کا اضافہ فرمایا۔ حضرت تھانویؒ نے اپنے شیخ ومرشد حضرت حاجی صاحب مہاجرمکیؒ کے حوالہ سے دعائے حزب البحر نقل فرما کر نیچے یہ تنبیہ بھی لکھ دی ہے کہ:

تنبیہ

 ”یہ دعا بے شک متبرک ہے؛ لیکن قرآنِ مجید اوراحادیث میں جو دعائیں وارد ہوئی ہیں ان کا رتبہ اوراثراس سے کہیں اعلیٰ ہے، خوب یاد رکھو، لوگ اس میں بڑی غلطی کرتے ہیں“۔! حضرت کے یہاں قرآن وحدیث سے منقول دعاؤں کی تقدیم کا خاص ذوق تھا، حضرت غیرمنقول و ماثورکو ناجائز و بدعت نہیں قرار دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں حضرتؒ کے یہاں اعتدال تھا، ایک مفکرو مصلح فرماتے تھے کہ: ”اعتدال وصفِ انبیاء ہے؛ اسی لیے اعتدال سے افراط وتفریط دونوں ہی شاکی رہتے ہیں“۔!

اشرف الفکری

تھانہ بھون میں چند بالکل اُمی قسم کے حضرات تھے؛ مگروہ حضرت تھانویؒ کی مجلس کے حاضر باش تھے۔ ان سے مفتی محمد وجیہ صاحب ٹانڈویؒ، مفتی عبد الشکورصاحب گمتھلویؒ، مفتی محمد رفیع صاحب عثمانیؒ اور مفتی محمد تقی صاحب عثمانیؒ نے فرمائش کی کہ حضرت تھانویؒ کی کوئی بات سنائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم توجاہل آدمی ہیں، حضرت کی علمی بات نہ سمجھ پاتے تھے اورنہ اسے نقل کرسکتے ہیں، بس دین کی کچھ باتیں ہمارے کان میں ضرورپڑتی رہتی تھیں۔ پھرانہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرتؒ کے یہاں خانقاہ میں کوئی عالم آئے اور پوچھا کہ آپ کے یہاں تصوف کا نصاب کیا ہے؟ تو حضرتؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

”ہمارے یہاں تصوف وسلوک کا نصاب بہت مختصر ہے، جو ضرورت سے زیادہ فکرمند آتے ہیں ان کی فکرکچھ کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اورجو زیادہ بے فکرے آتے ہیں ان میں کچھ فکرپیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، بزرگ، ابدال، اقطاب وغیرہ بنانے کے لیے تو بڑے بزرگ موجود ہیں، ہم شیخ نہیں، ہم تو میخ ہیں (مگرشریعت کی)۔ ہمارے یہاں اپنے آپ کوبزرگ بنانے کے بجائے،آدمی بننے اور بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا طریقہ اپنے آپ کوفنا کر دینا (اللہ کے لیے مٹا دینا) ہے“۔ یہ بات سن کران حضرات نے فرمایاکہ یہ روایت تو بالکل روایت باللفظ والمعنی معلوم ہوتی ہے۔

ہمارے حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی یہ بات فرمایا کرتے تھے کہ: ”بھائی! ہر بزرگ کا رنگ الگ ہوتا ہے، اس کی وجہ سے آدمی بسا اوقات ان پر معترض ہو تا ہے“(یعنی ان کو اپنے رنگ کے موافق نہ پا کر معترض ہو جاتا ہے)۔

                حضرت مفتی صاحب گنگوہی کے یہاں علمی رنگ غالب تھا، حضرت جلال آبادی کے یہاں حکمت کا رنگ غالب تھا اور حضرت ہردوئی کے یہاں انتظامی رنگ غالب تھا؛ نیز حضرت حکیم الاسلام دیوبندی کے یہاں تینوں رنگ مجتمع محسوس ہوتے تھے۔

ہرگلے را رنگ و بوئے دیگرست!

گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن

 اے ذوقؔ اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ بہت مختصروجامع تبصرہ فرماگئے ہیں کہ:حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ ملحق الاصاغربالاکابرتھے۔حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ بالکل سادہ زبان بولتے تھے اوراپنی چیزوں کوجمع ومرتب کرنے والے جامع و مرتب کو حضرت نے یہ وصیت اورنصیحت فرمائی تھی کہ: ”دیکھو! اپنے بزرگوں کے بے تکلف سیدھے سادے الفاظ لکھنا، تصنع اور بناوٹ کی کوشش نہیں، جدت اورصحافت کی فکر نہیں، سیدھے سادے الفاظ لکھا کرو! اس میں برکت اورتاثیرہوتی ہے“۔

چناں چہ ایک عزیزحاضرِ خدمت ہوئے اورانہوں نے اپنی سب سے پہلی مرتب کردہ کتاب پیش کی، جس کے پتہ میں ”مفتی الٰہی بخش اکیڈمی“ لکھا ہوا تھا۔ حضرتؒ نے جیسے ہی اس کو دیکھا تو فرمایا: ”ابے تو نے ہمارے مفتی صاحب کو کہاں اکیڈمی وکیڈمی میں پھانس دیا، سیدھا سادہ نام رکھا کریں،صرف مجلس وغیرہ کافی تھا۔“

قلم و زبان کی تقسیم اور اساتذہ کی قدر دانی

ایک دفعہ مجھ سے مولوی نورالحسن راشد کاندھلویؒ نے کہا کہ ہمارے استاذ حضرت مولانا محمد یونس صاحب جون پوریؒ کے قریبی تلامذہ، استفادہ کرنے والوں اوران کوقریب سے دیکھنے والوں میں ایک آپ بھی ہیں، تو میں نے سوچا کہ آپ سے کہوں کہ آپ بھی ان پرکچھ لکھیں۔ میں نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ والد صاحب مجھے کیا سند دے گئے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے مجھے توقلم عطا فرمایا ہے اورخبیب کو زبان۔“ چناں چہ مجھے میرے اساتذہٴ کرام لکھنے سے مستثنیٰ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”تم سبق میں بات سمجھ کر سنتے ہو پھرسن کرجو بات ہم سے پوچھتے ہواس سے زیادہ فائدہ محسوس ہوتا ہے، مثلاً اگرکوئی بات سبق میں رہ جاتی ہے یاقابلِ اشکال ہوتی ہے تو تم بعد میں اس کو کہہ دیتے ہو“۔

  چناں چہ اس قابلِ اشکال اورچھوٹی ہوئی بات کو وہ دوسرے دن دہرا دیتے تھے۔ ان میں سرِ فہرست حضرت الاستاذ مولانا سید محمد عاقل صاحب سہارن پوریؒ تھے، وہ ازراہِ خلوص وتواضع نام لے کرفرماتے تھے کہ ”بھئی! انہوں نے مجھے بعد میں توجہ دلائی کہ یہ بات تو ٹھیک نہیں، یہ تو ہمارے اہل حق حضرات کا مسلک نہیں ہے اورمیں نے اس کواہل حق کا مسلک سمجھ کربیان کردیا تھا“۔

 میں نے یہ واقعہ حضرت مفتی محمودحسن صاحب گنگوہیؒ سے عرض کیا، تو حضرتؒ نے بہت وقعت سے سنا اور فرمایا: ”بڑی قابلِ قدربات ہے اوربڑی غنیمت بات ہے؛ ورنہ بعض اساتذہ کے یہاں تو اپنی بات کی پچ ہوتی ہے کہ ہم نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا، چاہے غلط ہی کہہ دیا ہو، پھراس غلطی کا سلسلہ آگے دراز ہوجاتا ہے اوران سے پڑھنے سننے والا شاگرد بھی بے تحقیق ہی اڑاتا رہتا ہے“۔

اس پرحضرت مفتی مظفر حسین صاحبؒ اور مولانا اطہر حسین صاحبؒ سناتے تھے کہ حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب رامپوریؒ”نورالانوار“ پڑھا رہے تھے اور مفتی سعید احمد صاحب اجراڑویؒ (محشیٴ بہشتی زیورو مصنفِ معلم الحجاج وغیرہ) پڑھ رہے تھے۔ ایک موقع پرحضرت سے انطباق میں چوک ہو گئی اور بات برعکس ہوگئی، مفتی سعید احمد صاحبؒ نے عرض کیا کہ: ”حضرت! یہ بات اِس طرح سے نہیں، بلکہ اُس طرح سے ہے“۔

حضرت نے اس وقت تو فرمایا کہ ”نہیں! اسی طرح سے ہے“ مگر دوسرے دن تشریف لائے اور فرمایا:

 ”سعید احمد! کل میں نے کیا کہا تھا اورتم نے کیا کہا تھا، بتاؤ؟“

انہوں نے پوری بات دہرائی تو حضرت نے فرمایا: ”تمہاری بات ٹھیک ہے، میری غلط تھی“۔ پھر طلبہ سے فرمایا: ”سمجھ گئے بھئی! میری بات غلط تھی، میں الٹی بات کہہ گیا تھا“۔ یہ حضرات ایسے مخلص اورمتواضع تھے اوران سے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔

میں نے حضرت مولانا عاقل صاحبؒ سے اصول الشاشی، تلخیص المفتاح اوربہت سی کتابیں پڑھیں۔ اگرمیں سبق کے بعد کچھ پوچھتا تو فرماتے کہ ”بھئی! ایسا کیا کریں کہ جب میں مطالعہ کیا کروں، اس وقت آپ گھرآجایا کیجیے، میں پہلے آپ کو سنادیا کروں؛ تاکہ سبق میں وہ بات رہ نہ جایا کرے؛ ورنہ پھر دوسرے دن مجھے وہ بات دہرانی پڑتی ہے اوروقت کم رہتا ہے“۔ اس کے بعد میبذی، شرح عقائد، عقیدة الطحاوی، مقدمہ شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ اور مشکوٰة شریف کا ابتدائی حصہ اورابوداؤد شریف پڑھی۔ مشکوٰة اورابوداؤد شریف کے دوران حضرت نے اپنی پوری سند بیان فرمائی اورفرمایا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تک میری دو سندیں ہیں: ایک حضرت مولانا اسعد اللہ صاحبؒ سے اور دوسری حضرت شیخ (مولانا زکریا صاحبؒ) سے۔ پھر دونوں کے بعد اپنا نام لے کر فرمایا: ”اچھا بھائی! بتاؤ، میری سند میں میرے نام کے بعد اپنی جماعت میں کس کا نام لکھو گے؟“

پھرمولانا نے خود ہی فرمایا: ”مولوی مجد القدوس خبیب رومی کا“ (جس کو میں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں)۔

سبق کے آخری دن مولانا آبدیدہ ہوگئے اوراحقرکو مخاطب کرکے فرمایا: ”آج ایک بات کہہ دوں؟“

پھرفرمایا:”مَا انْتَفَعْتُ بِکَ اَکْثَرُ مِمَّا انْتَفَعْتَ بِی“ (یعنی تم نے جتنا نفع مجھ سے اٹھایا، اس سے زیادہ میں نے تم سے نفع اٹھایا ہے)۔ یہ ان کا کمالِ خلوص و تواضع تھا۔ پھر دریافت فرمایا کہ: ”یہ جملہ کس کا ہے اورکس کے بارے میں ہے؟ جو بتائیگا میں اس کو انعام دوں گا!“

احقرنے بلاتاخیرعرض کیا: ”حضرت! یہ جملہ امام بخاریؒ کا ہے امام ترمذیؒ کے لیے“۔

اس پرمولاناؒ نے مجھے دوروپئے بطورِ انعام عطا فرمائے تھے۔

تعلیم و تربیت میں والدین، اساتذہ اور بزرگانِ دین کا کردار

تربیت کی بنیاد والدین سے پڑتی ہے، علم اساتذہ سے حاصل ہوتا ہے، اورپھراس تعلیم پرتعمیل بزرگانِ دین کی صحبت اوران سے اصلاحی تعلق کے ذریعے ہوتی ہے۔ ہمارے حضرت جلال آبادیؒ حکمت، انتظام اورعلمی باتوں کو بالکل حسی مثالوں سے سمجھایا کرتے تھے۔ حضرت فرماتے تھے کہ: ”والدین ایک ”سپاٹ تختی“ تیارکردیتے ہیں (یہ تربیت کی مثال ہے)، اساتذہ اس پر”نقش“ کردیتے ہیں(یہ تعلیم کی مثال ہے)، اوربزرگانِ دین اس میں”رنگ“ بھردیتے ہیں (یہ اصلاح کی مثال ہے) تربیت، تعلیم اوراصلاح کی یہی ترتیب ہوتی ہے“۔ یہ حضرتؒ کا بالکل پہلا سبق ہوتاتھا۔

تصوف و سلوک کا خلاصہ

ہمارے حضرت جلال آبادیؒ آخری زمانے میں نہایت شفقت آمیز لہجہ میں فرمایا کرتے تھے کہ: ”کہاں چکرمیں پڑے ہو کہ سلوک و تصوف بہت مشکل چیز ہے، یہ تو بہت آسان ہے: زبان ذاکر رہے، دل شاکر رہے اورجسم صابر رہے“۔

مزید فرماتے تھے کہ: ”اگرمختصرمراقبہ کرنا چاہتے ہو، تواپنے نام کا مراقبہ کرلیا کرو! کہ میرا نام کیا ہے؟ اور میرا کام کیا ہے؟ کیا دونوں میں کچھ مطابقت ہے یا نہیں؟“ اب قویٰ کہاں مضبوط رہے؟ نہ قوت، نہ صحت، نہ ہمت، نہ فرصت۔

اسی طرح حضرت ڈاکٹرعبدالحئی صاحب عارفیؒ فرماتے تھے کہ ماضی پراستغفار، حال خوشگوار ہے تو شکر، ناگوار ہے تو صبراورآیندہ کے لیے استعاذہ کرتے رہنا چاہیے۔ حضرت ڈاکٹرصاحبؒ کی کتاب ”اسوہٴ رسول اکرمﷺ“ تو خزانہ ہے اوررسالہ ”معمولاتِ یومیہ“ اس کی کنجی ہے۔!

جسم اور روح کا توازن اور جسمانی صحت

حضرت مولانا حبیب الرحمن خاں شروانیؒ نے لکھا ہے کہ:

”اگرجسم صحت مند نہیں ہوگا تودماغ بھی صحت مند نہیں ہوگا، اساتذہ اور طلبہ کو اس کا خیال و لحاظ رکھنا چاہیے“۔!

حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحبؒ بھی جسمانی صحت پربہت زوردیتے تھے۔ حضرت طلبہ سے فرمایا کرتے تھے کہ انہیں حکمت اورطب بھی پڑھنی چاہیے اوراس کی وجہ یہ بیان فرماتے تھے کہ ”جسم سواری ہے اورروح سوار ہے، اگرسواری ہی کمزور ہوگی تواس پرسوارکیسے رہ سکے گا“۔ حضرتؒ کے خادم خاص نے یہ بات سنائی تھی کہ حضرتؒ کے معالجِ خصوصی نے طلبہ کویہ نصیحت کی تھی کہ:”بغیر ناشتہ کے نہ رہنا، کیوں کہ ناشتہ کی قضا نہیں ہے“۔

 ناشتے کی قضا نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب جسم رات کی غذا کو ہضم کرلیتا ہے توناشتہ دیرمیں ہونے کی صورت میں معدہ ”بدل ما یتحلل“کو پھر وصول کرنے لگتا ہے، جس سے معدہ معکوس عمل شروع کردیتا ہے، یہ بھوکے ہونے کی صورت میں ہوتا ہے؛ لہٰذا بھوکے نہ رہنا چاہیے۔

 اکابر کا زہدوفنائیت

حضرت مولانا سید صدیق احمد صاحب باندویؒ اور حضرت مولانا محمد یونس صاحب جون پوریؒ سے میں نے سنا کہ یہ حضرات اپنے افلاس اورتنگ دستی کی وجہ سے طالب علمی کے زمانہ میں بھوکے بھی رہتے تھے اورانہوں نے فاقہ کشی بھی کی تھی۔

علمی کمال کے ساتھ ساتھ تواضع اورفنائیت ہمارے اکابرکا وہ طرہٴ امتیازرہا ہے، جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ حضرت مولانا صدیق احمد صاحب باندویؒ کی ذاتِ گرامی اس کا جیتا جاگتا نمونہ تھی۔ حضرتؒ خود اپنی نسبت فرماتے تھے کہ: ”ہم بالکل ذہین نہیں تھے، جب ذہین طلبہ اساتذہ سے سوال کرتے تو ہمیں توان کا سوال بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ پوچھ کیا رہے ہیں، استاذ کا جواب سمجھنا تودورکی بات تھی۔“ یہ ان کا کمالِ بے نفسی تھا کہ وہ اپنی علمی خدمات، جیسے کہ’شرح سلم‘ وغیرہ دیکھ کر فرماتے تھے کہ یقین نہیں آتا یہ ہماری ہی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ یہ فنائیت میں ڈوبے ہوئے وہ نفوس تھے، جنہیں اپنے ذاتی کمالات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

ہمارے حضرت مولانا محمد یونس صاحب جون پوری رحمة اللہ علیہ نے ان کے انتقال کے تیسرے روزفرمایا:”بھائی ہم نے بزرگ تو بہت دیکھے؛ لیکن یہ تو ”جالبِ رحماتِ الٰہیہ“ تھے اوربڑی مقناطیسی کشش تھی، ہم سے اٹھا نہیں جاتا، ملا نہیں جاتا، لوگ ہمیں بداخلاق سمجھتے ہیں؛ مگر ہمیں واقعی عذرہوتا ہے؛ لیکن اس بڈھے کے اندرتوایسی کشش تھی کہ ہم بھاگے ہوئے اسٹیشن چلے جاتے تھے۔“

معقولات کا شوق اور حکیم برکات احمد صاحب ٹونکیؒ کا تذکرہ

حضرت باندویؒ کو معقولات سے خاص لگاؤ تھا۔ اس حوالے سے وہ اپنے استاذ حضرت مولانا عجب نورصاحبؒ (استاذ مدرسہ قاسم العلوم مراد آباد) کا تذکرہ فرماتے تھے جو معقولات کے ایسے ماہراستاذ تھے کہ دیوبند اور سہارن پور کے اساتذہ کو بھی اس فن میں’طفلِ مکتب‘ سمجھتے تھے۔ حضرت باندویؒ کی تشنگیِ علم انہیں ریاستِ ٹونک بھی لے گئی، جہاں سلسلہٴ خیرآباد کے علم و حکمت کے وارث وامین حکیم برکات احمد صاحب ٹونکیؒ مطب کے ساتھ ساتھ طلبہ کوپڑھایا کرتے تھے۔ وہاں کا ماحول بھی نرالا تھا، نہ کوئی باقاعدہ دارالاقامہ تھا نہ مطبخ۔ شوقین طلبہ وہاں کی مساجد میں امام، مؤذن یا فراش بن کررہتے اور حکیم صاحبؒ سے کسبِ فیض کرتے۔ حضرت باندویؒ فرماتے تھے کہ جب ہم وہاں پہنچے تو نہ امامت کی جگہ خالی تھی،نہ موٴذن وفراش کی، کچھ عرصہ ساتھیوں کے پاس رہے؛ لیکن جب زادِ راہ ختم ہوگیا اورفاقہ کشی کی نوبت آئی تومجبوراً چند ماہ کے بعد واپس آنا پڑا۔ آپ کو زندگی بھر اس بات کا افسوس رہا کہ وہاں رہ کر معقولات کی تکمیل نہ کرسکے۔

من لم یعرف المنطق فلا ثقة له فی العلوم اصلاً-امام غزالیؒ کا ارشاد ہے-

چنانچہ حضرت باندویؒ نے ایک مرتبہ حکیم فخرالاسلام الٰہ آبادی سلمہ کے سوال پرمعقولات کی اہمیت بتاتے ہوئے فرمایا کہ:”اس فن کے بغیرتفہیم ممکن نہیں۔ آدمی نہ خود صحیح سمجھ سکتا ہے اورنہ دوسروں کو سمجھا سکتا ہے؛ لہٰذا یہ فن درسیات کیلیے بہت ضروری ہے۔“ اسی حوالے سے حکیم برکات احمد صاحبؒ کا واقعہ نہایت دلچسپ ہے کہ جب ان کے والد انہیں حضرت نانوتویؒ کی خدمت میں دعا کے لیے لے گئے۔ حضرت نانوتویؒ نے ان کے سرپرہاتھ رکھ کریہ دعا دی:

”اللہ تعالیٰ اسے معقولات کا ماہرعالم بنائے۔“

حکیم صاحبؒ کے والد بزرگوار توحصولِ علمِ دین کی دعا کرانے آئے تھے؛ لیکن حضرت نانوتویؒ کی دوررس نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آنے والے وقت میں عقلی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے معقولات کا ماہرہونا کتنا ضروری ہوگا؛ چناں چہ حضرت نانوتویؒ نے فرمایاکہ اس زمانہ میں ایمان (اورایمانیات) کی حفاظت معقولات کے بغیردشوار ہے۔!

دفاعِ اسلام کے عظیم سپہ سالار

حجةالاسلام حضرت مولانامحمدقاسم صاحب نانوتویؒ کا سب سے بڑا کارنامہ دارالعلوم دیوبند کی محض علمی سربراہی نہیں ہے؛ بلکہ پورے برصغیرغیرمنقسم ہندوستان میں سناتن دھرمیوں، آریہ سماجیوں، عیسائی مشنریوں اوراہلِ رفض و شیعیت، مبتدعین وغیرمقلدین کے خلاف عقائدِ اسلام، دین و مذہب اورمسلک و مشرب کا کامیاب دفاع ہے۔ چناں چہ جب عیسائیت کا سب سے بڑا مناظرومبلغ ڈی ڈی فینڈرسات پادریوں کوساتھ لے کرسینٹ پیٹرس کالج آگرہ آیا تو حضرت نانوتویؒ نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اورڈاکٹروزیرعلی خاں صاحبؒ جیسے ماہرین کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔

حضرت نانوتویؒ نے موجودہ بائبل پرتین سو سوالات قائم کیے اورمسلسل تین دن تک ایسا مدلل بیان فرمایا کہ وہ پادری کرسیاں چھوڑ کر بھاگنے پرمجبورہو گئے۔ ہندو، انگریزاورمسلمان ججوں نے متفقہ طورپرلکھا کہ عیسائی مبلغین جواب دیے بغیر فرارہوگئے۔ یہ حضرت نانوتویؒ ہی تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل ونصرت سے مسلمانانِ ہند کے ایمان کوعیسائیت اورکفروشرک کے حملوں سے محفوظ رکھا۔

علامہ ابراہیم بلیاویؒ اور حضرت نانوتویؒ کی علمی جلالت شان

حضرت نانوتویؒ کی کتب اوران کے علمی مقام پراعتراض کرنے والوں کوعلامہ ابراہیم بلیاویؒ نے نہایت مسکت جواب دیا تھا۔ جب ایک مرکزی ادارہ کے ایک صاحب علم و فضل کے متعلق معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم تو نہ حضرت نانوتویؒ کی کتابیں دیکھیں اورنہ دوسروں کودیکھنے کا مشورہ دیں؛ کیونکہ وہ کسی کی سمجھ ہی میں نہیں آتیں توعلامہ بلیاویؒ جلال میں آگئے اوران کے پاس پہنچ کرفرمایا:”ہمارے حضرت نانوتویؒ کی کتابیں نہ ہرآدمی دیکھ سکے، نہ دوسروں کو دیکھنے کا مشورہ دے سکے توایسے آدمی کوان پراعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟“

تنقید واعتراض

علمی دنیا میں تنقید اوراعتراض کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمة اللہ علیہ ایک بڑا اہم نکتہ ارشاد فرماتے تھے۔ آپؒ کے نزدیک اعتراض کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے؛ لیکن اس کی ایک بنیادی شرط ہے اور وہ شرط”جہل“ ہے۔ یعنی اعتراض کی جڑیں ہمیشہ لاعلمی میں پیوست ہوتی ہیں۔

اسی فکرونظر کی تشریح کرتے ہوئے حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اکثرایسا ہوتا ہے کہ عوام الناس معترضین کی تائید میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معترض اورعوام دونوں کی ذہنی سطح اورعلمی درجہ ایک ہی سا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ ایک دوسرے کی بات سے جلد متفق ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو عالم جواب دے رہا ہوتا ہے، اس کی علمی سطح اس سے بلند ہوتی ہے جہاں تک عوام کی رسائی نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دو جاہل (معترض اورعوام)ایک دوسرے سے متفق ہوجاتے ہیں؛ کیوں کہ عالم کی صحیح بات ان کی فہم سے بالاترہوتی ہے۔

عالمِ دین کے چار بنیادی فرائض

حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحبؒ نے مدرسہ مظاہرعلوم کے ایک بیان میں ایک عالمِ دین کے چارکام ترتیب واربیان فرمائے تھے، جو ہرصاحبِ علم کے لیے مشعلِ راہ ہیں:

♦تعلیم وتدریس۔

♦وعظ وافتا ۔

♦تالیف وتصنیف ۔

♦تحقیق وتدقیق۔

استحکامِ عالم کے چاربنیادی ستون

حکیم الاسلام حضرت قاری صاحبؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک نہایت حکیمانہ بات فرمائی تھی، جس وقت وہ حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ کے وصال کی خبرسن کرمظاہرعلوم تشریف لائے تھے اوراحقرکی درخواست پر تعزیتی بیان فرمایا تھا، جس میں یہ بات فرمائی تھی کہ حکمائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ اس دنیا کا نظام چارچیزوں سے مستحکم ہوتا ہے، اگریہ چاروں موجود ہوں تو نظامِ عالم مستحکم رہتا ہے؛ ورنہ متزلزل ہوجاتا ہے:

♦علم العلماء ♦عدل الامراء ♦جود الاغنیاء ♦دعاء الفقراء۔

حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے علمی وعرفانی چار مآخذ

حکیم الامة حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ کے ملفوظات و مواعظ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تصوف وسلوک کی علمی و تحقیقی جدوجہد بنیادی طورپرچارعظیم ہستیوں کے علوم و معارف کی تشریح وتوضیح پرمبنی تھی:

امام ابوالقاسم قشیریؒ امام ابوحامد محمد غزالیؒ حضرت مولاناجلال الدین رومیؒ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ۔

حضرت تھانویؒ کی پوری زندگی ان اکابر کے علوم ومعارف کی گرہ کشائی اوران کی مختصر و مفصل تشریح و توضیح میں گزری، ان کے علاوہ اورحضرات بھی تھے۔ اس سلسلہ میں”معارف الاکابر“ (مرتبہ: صوفی محمد اقبال ہارون آبادیؒ) بہترین کتاب ہے،اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔!

حضرت مولانا محمد یونس صاحب محدث جونپوریؒ فرمایا کرتے تھے:

”بھئی! ہم تو حضرت تھانویؒ کے ماتن کا متن دیکھ لیا کرتے ہیں؛ کیونکہ حضرتؒ کی شرح تو اتنی طویل اورمفصل ہوتی ہے کہ اسے مکمل پڑھنا وقت و فرصت چاہتا ہے۔“

اختلاف اور مخالفت کے درمیان فرق

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کا یہ ارشاد ایسا ہے جوہرطالبِ علم اورعالم دین کے لیے مشعلِ راہ ہے، وہ یہ ہے کہ:

”اختلاف تو بات سے ہوتا ہے اور مخالفت ذات سے“۔

اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف ہمیشہ ”بات“ سے ہوتا ہے، جبکہ مخالفت ”ذات“سے ہوتی ہے۔ اختلاف کی بنیاد علم اورتحقیق پرمبنی ہوتی ہے، جو کہ ایک محمود صفت ہے، جبکہ مخالفت نفسانیت سے ناشی ہوتی ہے جو کہ مذموم صفت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی نفسانیت سے حفاظت فرمائے اورہمیں علم کی بنیاد پر صائب اختلاف کا سلیقہ عطا فرمائے۔

حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کی جامعیت اورعلمی مقام

حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمة اللہ علیہ کا مقام اکابرِ دیوبند میں نہایت بلندوممتازاورمنفرد ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کے ہاں آپ کا مرتبہ یہ تھا کہ جب حضرت تھانویؒ مطلقاً ”استاذی“ کا لفظ استعمال فرماتے تو اس سے مراد حضرت مولانا یعقوب صاحبؒ ہی ہوتے تھے۔ حضرت مہتمم صاحبؒ دارالعلوم دیوبند نے صد سالہ اجلاس کے موقع پرایک چارٹ اور کتابچہ ”ارمغان صدسالہ“ تیارکیا تھا، جس میں حضرت مولانا یعقوب صاحبؒ کے تلامذہ میں صرف دوہی حضرات: حکیم الامةحضرت مولانا تھانویؒ اور حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوریؒ کا نام لکھا تھا۔

حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ کی شخصیت کی جامعیت یہ تھی کہ آپ ایک طرف امام الاصول حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی تعلیم اوردوسری طرف فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی تربیت و اصلاح کے جامع تھے۔ آپ کو شیخ المشایخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے نسبت و اجازت کا شرف بھی حاصل تھا اوراپنے والدِ بزرگوار استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتویؒ کے تو خلف الصدق تھے ہی، پوری جماعتِ دیوبند میں حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتویؒ کے علوم کے ترجمان و شارح اوران کی فکرونظرکو مکمل طورپرپیش کرنے والے حکیم الامة حضرت مولانا تھانویؒ اور مناظراسلام مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ہی ہوئے ہیں۔

مظاہرِ علوم اوردارالعلوم کے مقاصد

حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کاجو مقام مظاہرِعلوم سہارن پورمیں تھا وہی مقام حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ کو دارالعلوم دیوبند میں حاصل تھا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے اداروں کے لیے دو بنیادی مقاصد پراتفاق کیا تھا:

♦احیائے علومِ دینیہ ♦اشاعتِ سنتِ نبویہ

مظاہرِعلوم کے اکابرمیں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب انبہٹویؒ کو حضرت مولانا محمد مظہرصاحبؒ، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارن پوریؒ اور حضرت مولانا سعادت علی فقیہ سہارنپوریؒ سے خصوصی تلمذ اورصحبت حاصل رہی۔ان تینوں حضرات کو حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ سے صحبت واستفادہ تلمذ ونسبت حاصل تھی۔

حضرت سید احمد شہیدؒ اورعشقِ الٰہی باتباعِ سنتِ نبوی

حضرت مولانا سعادت علی صاحب فقیہ سہارن پوریؒ کوتلمذ حضرت شاہ محمد اسحاق صاحبؒ سے حاصل تھا اوراستفادہ حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب محدث دہلویؒ سے حاصل تھا؛ البتہ بیعت واسترشاد کا تعلق حضرت سید احمد شہیدؒ سے تھا۔ حضرت سید صاحبؒ کی نسبت کی برکت کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ جب حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکیؒ بچے تھے تو انہیں حضرت سید صاحبؒ کی گود میں دیا گیا کہ ان سے بیعت تبرک کے ساتھ دعا حاصل کریں۔ چناں چہ حضرت سید صاحبؒ نے کمالِ شفقت سے انہیں پیارکیا اورگود میں لیکر فرمایا: ”یہ بچہ ان شاء اللہ سید الاولیاء ہوگا“۔!

ہمارے بزرگوں کا حضرت سید احمد شہیدؒ سے تجدیدِ بیعت کا ایک خاص سلسلہ بھی ہے، مثلاً حضرت شاہ عبدالرحیم افغانیؒ (مرشد حضرت میان جی نور محمد جھنجھانویؒ) نے اپنے تمام متعلقین کو حضرت سید صاحبؒ سے تجدیدِ بیعت کا حکم دیا تھا۔ اس تجدید کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلم معاشرے میں عشقِ الٰہی باتباعِ سنت کے رنگ کوعام کیا جائے۔ حضرت شاہ عبدالعزیزصاحبؒ نے حضرت سید احمد شہیدؒ کو اپنا جانشیں بناتے وقت فرمایا تھا کہ ”یہ ہاتھ سید احمدکا نہیں، بلکہ عبد العزیز کا ہاتھ ہے“۔ اس طرح سید صاحبؒ امیرالمجاہدین کی حیثیت سے ان کے جانشیں ہوئے اورحضرت شاہ عبدالعزیزصاحبؒ کے علمی و روحانی فیض سے شاہ محمد اسحاقؒ (روایةً) اورشاہ اسماعیل شہیدؒ (درایةً) وابستہ ہوئے اور ان سے ہمارے مادرِعلمی مظاہرعلوم اوردارالعلوم کے اکابر کے اکابر وابستہ ہوئے۔

حضرت سید احمد شہیدرائے بریلوی ،حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب محدث دہلوی،اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کو تعلیم تربیت اصلاح حضرت عبد العزیزصاحب محدث دہلوی سے حاصل تھی اور آپ کو اپنے والدمسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے تلمذ واستفادہ،صحبت ونسبت اور اجازت کاملہ حاصل تھی۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء

حضرت مولانا ابرارالحق صاحب حقی ہردوئیؒ فرمایا کرتے تھے کہ دینی و علمی، دعوتی و تبلیغی، احسانی و ارشادی خدمات کرنے والے ایک دوسرے کو اپنا فریق نہ سمجھیں؛ بلکہ رفیق سمجھیں۔“ یہ نہیں کہ ہم کوتوبس ان کے عیب دیکھنے ہیں اوران کو ہماری کمیاں دیکھنی ہیں۔ فرمایا: ”اگرسب اس کام میں لگ گئے تو یہ نہایت فضول اورواہیات کام ہے،اس کے ضرر اور نقصان سے تو پھر کوئی بچ نہیں سکے گا۔“

حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہیؒ فرماتے تھے کہ”جو آدمی اپنے بڑوں کو تسلیم کرتا ہے، پھر اپنے برابر والوں کو تسلیم کرتا ہے، پھراپنے چھوٹوں کو تسلیم کرتا ہے، اس کے ہاں برکت ہوتی ہے۔“ اور یہ چیز معمولی نہیں ہے۔ اس میں صرف دو آڑے آتے ہیں، ایک ہمارا نفس، دوسرے شیطان۔ ایک داخلی دشمن، دوسرا خارجی دشمن۔

حضرت حاجی امداد اللہ صاحب فاروقی تھانوی مہاجر مکیؒ کا ارشاد ہے:”میں دنیا میں صرف دو ہی سے ڈرتاہوں، ایک اپنے نفس سے اور دوسرے شیطان سے“۔

جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا، نندوربار، مہاراشٹرہند کی علمی و روحانی نسبتیں

حضرت مولانا غلام محمدصاحب وستانویؒ بانی وموٴسسِ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا کی شخصیت علم وعمل کا ایک حسین امتزاج تھی۔ آپ کوجن اکابر سے خدمت، تلمذ، صحبت اورنسبت حاصل رہی، ان کا سلسلہ یہ تھا:

آپ نے حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوریؒ اور حضرت مولانا قاری صدیق احمد صاحب باندویؒ سے استفادہ واستفاضہ کیا۔

اسی طرح آپ کو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ اورمناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحبؒ سے صحبت ونسبت حاصل رہی۔

ان حضرات کی علمی وعملی نسبتیں مزید آگے بڑھ کران عظیم اساطینِ علم وعمل سے جڑتی ہیں:

 ان دونوں حضرات نے حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کامل پوریؒ اور حضرت مولانا عبداللطیف صاحب پورقاضویؒ سے فیض پایا۔

یہ حضرات براہِ راست حکیم الامة حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ،محدث وفقیہ حضرت مولانا خلیل احمدصاحب سہارنپوریؒ اورمحدث ومجاہد حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ کے تعلیم وتربیت یافتہ اورصحبت و اصلاح یافتہ تھے۔

یہ وہ مبارک علمی وعملی شجرہ ہے جس نے برِصغیر میں قال اللہ وقال الرسول کی شمع کوروشن رکھا اور حفاظتِ دین و اشاعت علم کا کام کیا،اسی تسلسلِ نسبت کا ثمرہ ہے کہ آج جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم سے بھی علم وعمل کی اشاعت بفضلہ تعالیٰ جاری ہے۔

 ایک بات میں نے مؤسس جامعہ حضرت مولانا وستانوی رحمہ اللہ سے متعدد مرتبہ سنی کہ اس ادارہ اشاعت العلوم کے قیام کے وقت اس کی زمینی اورتعمیری جو ضرورت تھی، اس میں بنیادی محرک اورمجوزکی حیثیت سے حضرت مولانا عبدالحق میاں صاحب سملکی رحمة اللہ علیہ ان کے معاون ہوئے تھے؛ البتہ روحانی توجہ و سرپرستی اور نسبت و برکت ہمارے حضرت الاستاذ مولانا قاری سید صدیق صاحب باندوی رحمة اللہ علیہ کی تھی۔

خدا کرے ہمارے برادرانِ عزیز سلّمہما اللہ تعالیٰ وزیدت حسناتہما اور آپ حضرات جوان کے لیے دل، دماغ، ہاتھ، پیرسب کچھ ہیں، ہمارے حضرت مولانا محمد یونس صاحبؒ کی یہ بات بھی بہت کام کی ہے، وہ فرماتے تھے: میاں! یہ در و دیوار، اس کا نام جامعہ نہیں ہے، یہ جو اساتذہ کرام اور طلبہٴ عزیز ہیں، یہ جو آپ کے منتظمین و معاونین ہیں، آپ ان کی قدرکریں اور یہ آپ کی قدرکریں، یہ سب حضرات درحقیقت جامعہ کا صحیح مصداق ہیں۔

دل سے دعا ہے کہ برادرانِ عزیز جامعہ کے معاونین ورفقائے کارکے ساتھ اپنے والدِ بزرگوار کے قائم کردہ اس ادارے کو واقعةً اشاعتِ علومِ دینیہ اورحفاظتِ سنت نبویہ کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ اس کہنے اور سننے کو قبول فرمائیں اورہم سب کو وقت پراپنے اسلاف کے ان نقوش کا استحضار اورعمل کی ہمت نصیب فرمائیں،جو واقعةً ہمارے لیے شاہراہِ علم وعمل ہیں۔ آمین۔!

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین