انوار قرآنی: تیسری قسط
(استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا)مفتی عبد المتین صاحب اشاعتیؔ کانڑ گانویؔ
(گذشتہ قسط میں آٹھ آیتوں کا خلاصہ، عملیات، علمیات اور پیغام واحکام کا ذکر کیا گیا، اب یہاں سے آگے واقعۂ اصحابِ کہف اور اس سلسلے میں کچھ تنبیہات مذکورہیں!اول تنبیہات ملاحظہ فرمائیں!)
قابلِ توجہ تنبیہات
تنبیہ (۱):قرآن کریم کے بیان کردہ جن واقعات میں خصوصیت سے افسانہ طرازی، جولانیئ طبع، اورخیال آرائیوں سے کام لے کرایک حقیقی اور سچے واقعہ کو کہانی اور بے حقیقت افسانہ بنایا گیا ہے، انہیں میں سے اصحابِ کہف ورقیم کا بھی واقعہ ہے، اس سلسلے میں ابن جریر نے اپنی تفسیرمیں بہت سی ایسی خبریں اورروایتیں تحریرکی ہیں، جن کی تفصیلات سے قرآن خاموش ہے، آیاتِ قرآنی کا مفہوم ان جھوٹی اور بے بنیاد روایتوں کے بغیر بھی واضح اور صاف ہے، اس کے باوجود ان روایتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اوران روایتوں کے ضعف، موضع یا قابلِ اعتبار ہونے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے، جس سے قاری کو دھوکہ ہوتا ہے۔(تفسیروں میں اسرائیلی روایات:ص/۲۹۱)
تنبیہ (۲): علامہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ابن اسحاق کی ایک طویل روایت لکھی ہے، اس کے علاوہ وہب ابن منبہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایتیں بھی نقل کی ہیں، یہ کون لوگ تھے؟ کیسے تھے؟ کس زمانے میں تھے؟ کس جگہ ٹھہرے تھے؟ کس زمانے میں وہ پیدا ہوئے؟ ان کی تعداد کیا تھی؟ ان لوگوں کے نام کیا تھے؟ ان کے کتے کا کیا نام تھا؟ کتے کا رنگ کیسا تھا؟ زرد تھا یا سرخ؟ ان سارے سوالات کو ان روایتوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جب کہ قرآن میں بالقصد اس کو پوشیدہ رکھا گیا ہے، اوربیان نہیں کیا گیا ہے، احادیثِ صحیحہ سے بھی ان سوالات کے جوابات پرکوئی روشنی نہیں پڑتی ہے، صحیح معلومات کے یہ دونوں مستند ذریعے جب اس مسئلہ میں خاموش ہیں، توظاہر ہے کہ یہ معلومات کسی غیرمستند ذریعہ ہی سے آئی ہوگی، اس لیے ان روایتوں کی نہ تصدیق کی جاسکتی ہے، اورنہ تکذیب۔ (تفسیروں میں اسرائیلی روایات:ص/۳۹۱)
تنبیہ (۳): دشمنانِ اسلام کی طرف سے بالقصد اسلام کے خلاف ایک گہری اور دُوررَس سازش کے تحت، بدنیتی سے بہت سی ہوائی باتیں اُڑائی گئی ہیں،بددینوں اورملحدوں نے چاہا کہ اسلام کے اندرایسی بے سروپا، خلافِ عقل اور دیومالائی واقعات بھر دیے جائیں کہ مسلمان ساری دنیا میں توہم پرست، خلافِ عقل ومشاہدہ باتوں پریقین کرنے والاایک فرقہ بن کررہ جائے، خدا محدثین عظام کی قبروں کو رحمت کے پھولوں سے بھردے کہ انہوں نے کسوٹی پرپرکھ کر ان جھوٹے قصوں، کہانیوں اورافسانوں کے تار پود بکھیر کر رکھ دیے ہیں، اگر اتنی کڑی چھان بین نہ کی جاتی، تو آج اسلام کی تعلیمات اوراس کی کتاب مضامین ومفاہیم کے لحاظ سے محرف ہوکرانجیل وتورات کی پوزیشن میں آجاتی، اور حقیقت خرافات میں گم ہوکر رہ جاتی۔(تفسیروں میں اسرائیلی روایات:ص/۵۹۱،۶۹۱)
پہلی قسط میں سورۂ کہف کی موضوعی تقسیم میں وضاحت کی گئی تھی کہ سورہ کہف ایک مقدمہ اور چھ قسموں پرمشتمل ہے، اُن میں سے آج کی قسط میں قسمِ اول: ۹- تا-۱۳/، کل۳ ۲/ آیتوں میں فتنۂ دین وایمان؛ یعنی قصۂ اصحابِ کہف، اس قصے میں اعجاز ودلیلِ قدرتِ خداوندی، اور دعوتی وتربیتی پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔
فتنہ دین وایمان؛ یعنی واقعہ اصحابِ کہف:
- ……قسمِ اول(آیت 9تا 31)
- ……طوفانی فتنوں کے دور میں؛ دین وایمان کی حفاظت کے لیے ایک راستہ
- ……دین کے راستے میں قربانی دینے والوں کی کس کس طرح مدد کی جاتی ہے؟
- ……عجائباتِ قدرتِ خداوندی …گوشہ نشینی اختیار کرنا
تاریخ نگاری ومضمون نویسی کا سلیقہ!
آیت: ۹، ۰۱، ۱۱، ۱۲:
(اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَہْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا (9) إِذْ اَوَی الْفِتْیَةُ إِلَی الْکَہْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَةً وَہَیِّءْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا (10) فَضَرَبْنَا عَلَیٰ آذَانِہِمْ فِی الْکَہْفِ سِنِینَ عَدَدًا (11) ثُمَّ بَعَثْنَاہمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصَی لِمَا لَبِثُوا اَمَدًا (12))
ترجمہ: ”کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ غار اور رَقیم والے لوگ ہماری نشانیوں میں سے کچھ (زیادہ) عجیب چیز تھے؟ یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی، اور(اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ: اے ہمارے پروردگار! ہم پرخاص اپنے پاس سے رحمت نازل فرمائیے، اورہماری اِس صورتِ حال میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ مہیا فرمادیجیے چنانچہ ہم نے اُن کے کانوں کوتھپکی دے کر کئی سالوں تک اُن کو غار میں سُلائے رکھا پھر ہم نے اُن کو جگایا، تاکہ یہ دیکھیں کہ ان کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ اپنے سوئے رہنے کی مدت کا زیادہ صحیح شمار کرتا ہے “
تفسیر:اِن آیات میں اصحابِ کہف کا قصہ بیان کیا جارہا ہے، جوآپ کی نبوت ورسالت اورقیامت کی دلیل بھی ہے، اورکفار کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب بھی۔
:مفتی سعید احمدپالن پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
اِن چار آیتوں میں پورے واقعۂ اصحابِ کہف کا خلاصہ کیا گیا ہے، اس سے تاریخ نگاری اورمضمون نویسی کا سلیقہ سیکھا جاسکتا ہے، یعنی اگرکوئی لمبا مضمون یا طویل داستان بیان کرنی ہو، توگفتگو کے آغاز ہی میں ساری بات کا نچوڑ پیش کردینا چاہیے، تاکہ مخاطب کو انتظار کی تکلیف سے نجات ملے، اوراِجمال کے بعد تفصیل جاننے کا شوق پیدا ہو۔ (ہدایت القرآن)
پیغام واحکام:
- ……جو شخص اپنے بارے میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ تنہا اورالگ تھلگ رہ کراپنے دین کو محفوظ رکھتے ہوئے زندگی گزارے گا، تواس کے لیے بہتر اورافضل یہ ہے کہ لوگوں سے اختلاط نہ رکھے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جماعت کی پابندی کرے، سلام کرے، سلام کا جواب دے، مسلمانوں کے حقوق ادا کرے، مثلاً: بیمار کی عیادت کرے، جنازہ میں شرکت کرے، وغیرہ۔ (علامہ ابن حجر از خطابی)
- ……عُزلت وگوشہ نشینی کا حکم دے کراصل مقصود ومطلوب مصاحبت واختلاط کی فضولیات کوچھوڑنا ہے، اس لیے کہ اس میں اہم اُمور سے دل کوغافل اوروقت کو ضائع کرنا ہے۔
- ……اگر تم کو کسی ایسے ساتھی کی رفاقت نصیب ہو، جس کی سیرت وکردار سے اللہ کی یاد آتی ہو، تو تم اس کی رفاقت کو ضروری سمجھو، اور کبھی بھی اس سے جدائی نہ اختیارکرو، اس کو حقیر ومعمولی نہ سمجھو، بلکہ اس کو غنیمت جانو۔
- …… اچھی رفاقت مومن کے لیے مالِ غنیمت اوراس کا گم شدہ مال ہے۔
- ……نیک وصالح ساتھی تنہائی سے بہتر ہے، اورگوشہ نشینی وتنہائی برے ساتھی سے بہتر ہے۔(مستفاداز: فتح الباری، احیاء علوم الدین)
- ……فقہائے کرام فرماتے ہیں: خوفِ فتنہ کے وقت انسان پرلازم ہے کہ اپنا دین سلامت لے کراس مقام سے چلا جائے، اورکلمۂ کفر کے تلفظ سے تقیۃً بھی احتراز رکھے۔ (احکام القرآن للجصاص،احکام القرآن تھانوی، تفسیر ماجدی)
٭……(رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَةً وَہَیِّءْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا)
”ہمیں مقصد میں بھی کامیاب کر، اورہمارے لیے ذرائع اورسامان بھی اپنی مرضیات کے مطابق مہیا کردے“۔
فقہائے کرام نے یہاں سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ جب انسان اپنے دین کے لیے خوفِ فتنہ سے ترکِ وطن کرے، تو اسی طرح کی دعا حق تعالیٰ سے کرے کہ حق تعالیٰ نے اس دعا کو موقعِ مدح واستحسان میں پیش کیا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، تفسیر ماجدی)
علمیات
غار اور کہف کے مابین فرق:
غار چھوٹا ہوتا ہے، اور کہف وسیع۔اُردو میں چھوٹا غار، بڑا غار کہہ کر فرق کرتے ہیں۔
(فَضَرَبْنَا عَلَیٰ آذَانِہِمْ): یعنی کانوں کو بند کردینا۔ غفلت کی نیند کو اِن الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اَیُّ: مبتدا ہے، اسمائے استفہام میں سے ہے، جب یہ صدرِ کلام میں ہو تو ما قبل ان میں عمل نہیں کرتا، سوائے حروفِ جر کے، لیکن ان کا مابعد اس میں عمل کرتا ہے، جیسے:(وَلَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقی)
(لمسات بیانیۃ فی نصوص من التنزیل)(منتخب لغات القرآن، ہدایت القرآن، معارف القرآن شفیعی، التسہیل لتاویل التنزیل، تفسیر مظہری، معارف القرآن کاندھلوی)
بلاغت:
- ……(فَضَرَبْنَا) (ثُمَّ بَعَثْنَاہُمْ) میں طباقِ معنوی ہے،اس لیے کہ پہلے کا معنی: ”اَنَمْنَاہُمْ“ اور دوسرے کا معنی: ”اَیْقَظْنَاہُمْ“ ہے۔
طباقِ معنوی وخفی: وہ طباق ہے جس میں ایک معنی کواس کے مقابل کے ساتھ تو اکٹھا نہ کیا جائے، بل کہ ایک معنی کو اس کے مقابل کے متعلق کے ساتھ جمع کیا جائے۔(اجرائے بلاغتِ قرآنیہ:ص/۶۹۲)
- ……فضربنا علی اٰذانہم میں استعارہ تبعیہ ہے۔نومِ ثقیل کو کانوں پر پردہ ڈال دینے سے تشبیہ دی گئی، جیسا کہ رہائشی لوگوں پرخیمہ ڈال دیا جاتا ہے۔ لفظِ مستعار فعل ”ضربنا“ ہے۔ (التفسیر المنیر)
استعارہ تبعیہ: وہ استعارہ ہے جس میں لفظِ مستعار فعل ہو، یا اسمِ مشتق، یا حرف ہو۔
(اجرائے بلاغتِ قرآنیہ:ص/۴۶۲)
(ام حسبت ان اصحٰب الکھف والرقیم کانوا من ایتنا عجبا)کی مراد
ظاہراً خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، اور باطناً یہود کو، یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! (اِن یہود وکفار کو بتائیں جو اس قصے کو عجیب وغریب سمجھ رہے ہیں کہ)یہ قصۂ اصحابِ کہف ورقیم ہی صرف عجیب وغریب نہیں، بل کہ قدرت کی جتنی بھی آیات ونشانیاں ہیں، سب ہی عجیب وغریب ہیں، مثلاً: خلقِ سماوات وارض، اختلافِ لیل ونہار، تسخیرِ شمس وقمر، تسخیرِ نجوم وکواکب وغیرہ۔
اورغارِثورمیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے یارِ غار ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حفاظت کرنا، اوردشمنوں کو اندھا بنادینا کہ غارِ ثور کے منہ پرکھڑے ہوکر بھی اِن دونوں کو نہ دیکھ سکیں، یہ اصحابِ کہف کے قصے سے کم عجیب نہیں، اوراگر نزولِ سکینت ومعیتِ خداوندی کی نعمت اورملائکہ کی حراست وحفاظت پرنظر کیجیے، تو غارِ ثور کا واقعہ اصحابِ کہف کے واقعہ سے بہت زیادہ عجیب ہے۔ اور یہ قرآنِ کریم تو سب سے عجیب وغریب اور اعظم نشانی ہے؛کہ قیامت کے روز اس کے تابعین یعنی امتِ محمدیہ کے افراد زیادہ ہوں گے۔ (معارف القرآن کاندھلوی، التسہیل لتاویل التنزیل، احکام القرآن تھانوی)
رقیم سے مراداور علاقہ:
رقیم کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں:
اطرافِ شام میں بلقا کے قریب اس بستی کا نام ہے، جہاں سے اصحابِ کہف نکلے تھے،اس قول کی اسناد ضعیف ہے۔کما قال ابن حجر فی فتح الباری۔(اطلس الحدیث النبوی)
اُس پہاڑی کا نام ہے جس میں وہ غار واقع ہے۔
اصحابِ کہف کے کتے کا نام ہے۔
بقول قتادہ: رقیم سے مراد اُن کے پاس موجود ”دراہم“۔ (تفسیرِ سمرقندی)
وادی (میدان) کا نام ہے، جو اس کوہ کے دامن میں واقع ہے، جس میں وہ غار ہے۔(بقولِ قتادہ، عطیہ، عوفی، مجاہد)
مفسرِ قرآن علامہ ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ کے نزدیک اصحابِ کہف کا اُندلس ]اسپین/ ہسپانیہ[ میں ہونا زیادہ راجح ہے۔
ایک قول کے مطابق ملک اردن کے عمان میں بحر مُردار(بحر میت) کی سمت میں بَترا (پٹرا) کے قریب واقع ہے۔ (اطلس الحدیث النبوی:ص/۰۲۳، ط: دار الفکر المعاصر بیروت، ودار الفکر دمشق – سوریۃ)
رقیم ”اَیله“ یعنی عقبہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے، جو بلادِ رُوم میں واقع ہے۔ اطلس الحدیث النبوی میں ہے: وَالصَّحِیْحُ اَنَّہُمْ بِبِلَادِ الرُّوْمِ، بَیْنَ عُمُوْرِیة ونیقیة، بَیْنَہَا وَبَیْنَ طَرسُوْس عَشَرَۃ ایَّامٍ، عِنْدَ افْسُوْس فِیْ جِبَالِ طوروس جُنوبی الاناضُول (صحیح یہ ہے کہ بلادِ روم میں عموریہ اور نیقیہ کے درمیان واقع ہے، وہاں سے طرسُوس تک دس دن کا فاصلہ ہے،افسُوس جنوبی اناضول/اناطولیہ کے پہاڑ طوروس کے پاس واقع ہے، افسوس؛ طرسوس کا شمال مغربی علاقہ ہے)۔ (الروض المعطار، معجم البلدان، اطلس الحدیث النبوی:ص/۰۲۳)
وہ تختی جس میں اصحابِ کہف کے نام اور حالات لکھے گئے تھے، اورجو کہف کے دہانے پر نصب کی گئی تھی۔
سیسہ کی تختی جس پر اصحابِ کہف کے نام وغیرہ لکھ شاہی خزانہ میں رکھی گئی تھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس قول کو اپنی صحیح میں تعلیقًا ذکر کیا ہے۔مفتی سعید صاحب پالن پوری دامت برکاتہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔(ہدایت القرآن)
صاحبِ تسہیل شیخ ابوعبد اللہ فرماتے ہیں:
رَقِیْمٌ بمعنیٰ مَرْقُوْمٌ ہے، جیسے فَعِیْلٌ بمعنیٰ مَفْعُوْلٌ، قَتِیْلٌ بمعنیٰ مَقْتُوْلٌ، جَرِیْحٌ بمعنیٰ مَجْرُوْحٌ۔ اوررَقِیْمٌ سے مراد وہ صحیفہ ہے جس میں اُن کی شریعت مرقوم تھی۔ یا سونے کی تختی جس میں ان کے اسماء، انساب، قصہ، سببِ خروج مکتوب تھے۔یا وہ چٹان جس پر اُن کے نام منقوش تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
باعتبار تخریجِ طبری (عن سماک عن عکرمہ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پورے قرآن کی تفسیر میں جانتا ہوں، مگر ”حَنَانًا“، ”اَوَّاہٌ“ اور ”رَقِیْمٌ“ کی تفسیر کا مجھے علم نہیں۔ علمائے مفسرین نے اس قول کے بارے میں فرمایا: ”لٰکِنَّ ہٰذَا سَنَدٌ ضَعِیْفٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ“۔(التسہیل لتاویل التنزیل، معارف القرآن مفتی شفیع، معجم البلدان،لغات القرآن، ومنتخب لغات القرآن)
(۳۱)…… مذکورہ بالا جتنی بھی تفسیری روایتیں نقل کی گئیں، اگر یہ روایتیں ذکر نہ کی جاتیں، تو زیادہ مناسب تھا، ان روایات کی نہ تصدیق کی جاسکتی ہے، نہ تکذیب۔ قرآنِ کریم نے بہت واضح لفظوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا کہ: خدا ہی ان کی صحیح تعداد (اور صحیح واقعہ)جانتا ہے، اس لیے بلاوجہ اس معاملے میں بحث اورکٹ حجتی نہیں ہونی چاہیے۔ (مستفاد از؛ تفسیروں میں اسرائیلی روایات:ص/۶۹۱)
اصحاب الرقیم کسے کہتے ہیں اور کیوں؟
رقیم ایک لکھی ہوئی تختی تھی، جس پر بادشاہِ وقت نے اصحابِ کہف کے نام کندہ کراکے غارکے دروازے پر لگادیا تھا،اسی لیے ان اصحابِ کہف کو اصحاب الرقیم بھی کہا جاتا ہے۔ (بروایتِ ابنِ عباس منقول از ضحاک، سدی وابن جبیر)
اصحاب الکہف اور اصحاب الرقیم:
بقولِ جمہور: اصحابِ کہف اور اصحابِ رقیم یہ ایک ہی جماعت کے دو لقب ہیں۔
عُزلت کی تعریف:
عُزلت: ”اَلْخُرُوْجُ عَنْ مُخَالَطَةِ الْخَلْقِ بِالْاِنْزِوَاءِ وَالْاِنْقِطَاعِ“ یعنی گوشہ نشینی اختیار کرنا،الگ ہوکر مخلوق کے اختلاط سے دُور رہنا۔ (التعریفات للجرجانی:ص/۱۵۱)
عُزلت وخلوت میں فرق:
علامہ سہروردی رحمہ اللہ”عوارف المعارف“ میں فرماتے ہیں کہ خلوت، عزلت سے الگ ہے، خلوت کا معنیٰ ہے انسان کا تنہا ہونا، جوغیروں سے ہوتی ہے، اورنفس ودواعی نفس اوراللہ سے غافل کرنے والے اُمور سے الگ ودُور رہنے کوعُزلت کہتے ہیں۔ خلوت کثیرالوجود، جب کہ عُزلت قلیل الوجود ہے۔(عوارف المعارف، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ)
عُزلت کا حکم:
لوگوں میں فتنہ وفساد واقع ہونے کی صورت میں گوشہ نشینی اختیار کرنا افضل ہے، اِلاَّ یہ کہ وہ اس فتنہ وفساد کو ختم کرنے پرقادرہو، تو اس پراس کے خاتمہ کی سعی کرنا حسبِ حال وحسبِ استطاعت واجب ہوگا۔
فتنہ وفساد کے زمانہ کے علاوہ میں عزلت بہتر ہے یا اختلاطِ ناس؟
سوال: آیاتِ کریمہ: (وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا)۔(آل عمران: ۳۰۱)(وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا)۔ (آل عمران:۵۰۱)
اور حدیثِ پاک: ”اَلْمُوْمِنُ الَّذِیْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلَی اَذَاہُمْ، خَیْرٌ مِّنَ الْمُوْمِنِ الَّذِیْ لَا یُخَالِطُہُمْ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی اَذَاہُمْ“۔ (مسند الإمام احمد) سے تو پتہ چلتا ہے کہ ”عُزلت“ سے بہتر ”اختلاط“ ہے؟
جواب: بقولِ امام نووی رحمہ اللہ: بُرے لوگوں کے شر سے محفوظ رہتے ہوئے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، اور اُن سے اختلاط رکھنا وہ پسندیدہ طریقہ ہے، جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، تمام انبیائے کرام علیہم السلام، خلفائے راشدین، ان کے بعد صحابہ وتابعین اوراُن کے بعد علمائے مسلمین اور صلحا ء نے اختیار کیا ہے۔ (دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین:۳/۶۴، عمدۃ القاری:۱/۳۶۱) (یہ تطبیقی جواب ہے)۔
فضربنا علی اٰذانہم کی تعبیر کی حکمت:
کیوں کہ بوقتِ نیند سب سے پہلے آنکھ بند ہوتی ہے، مگر کان اپنا کام کرتے رہتے ہیں، آواز سنائی دیتی ہے۔جب نیند مکمل وغالب ہوتی ہے، توپھرکان بھی اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر بیداری میں سب سے پہلے کان اپنا کام شروع کرتے ہیں، کہ آواز سے سونے والا چونکتا ہے، پھر بیدار ہوتا ہے۔ (معارف القرآن، مفتی شفیع)
فضربنا علی اٰذانہم کی مزید وضاحت:
بقول امام قرطبی رحمہ اللہ: إلقائے نوم مراد ہے۔ یہ وہ فصاحتِ قرآنی ہے جس نے اہلِ زبان عرب کو بھی چیلنج کیا، وہ اس طرح کی تعبیر بناکر لانے سے بھی قاصر وعاجز تھے۔
بقول زجّاج رحمہ اللہ: قوتِ سماعت کو بند کردیا گیا، تاکہ نیند سے بیدار نہ ہوسکیں۔
بقول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ: کانوں پرنیند طاری کردی یعنی شوروشغب اور آواز کے نفوذ سے کانوں کو محفوظ رکھا گیا۔
ایک قول یہ بھی کہا گیاکہ: ضربنا بمعنی استجبنا ہے، یعنی؛ اِسْتَجَبْنَا دُعَاءَ ہُمْ، وَصَرَّفْنَا عَنْہُمْ شَرَّ قَوْمِہِمْ وَاَنَمْنَاہُمْ، یہ سب متقارب المعنی ہیں۔
بقول قُطرُب: اہلِ عرب کے ہاں کہاوت مستعمل ہے: ”ضَرَبَ الْاَمِیْرُ عَلٰی یَدِ الرَّعِیَّةِ“- یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب امیراپنی رعایا کو فساد سے روک دے۔
اسی طرح کہا جاتا ہے:”ضَرَبَ السَّیِّدُ عَلٰی یَدِ عَبْدِہِ الْمَاْذُوْنِ لَه فِیْ التِّجَارَۃِ“ – یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی آقا اپنے غلامِ ماذون فی التجارۃ کو تصرفات سے روک دے۔
بقول علامہ شنقیطی رحمہ اللہ: لفظِ ضَرَبْنَا بطورِ کنایہ نَوْم (نیند)کے معنی میں ہے۔اور ضَرَبْنَا کا مفعول محذوف ہے، ای؛ ضَرَبْنَا عَلٰی آذَانِہِمْ حِجَابًا مَانِعًا مِّنَ السّمَاعِ، فَلَا یَسْمَعُوْنَ شَیْءًا یُوْقِظُہُمْ، والمعنی: اَنَمْنَاہُمْ إِنَامَةً ثَقِیْلَةً، لَا تُنَبِّہُہُمْ فِیْہَا الْاَصْوَاتُ۔(اضواء البیان، المفاتیح الدعویۃ)
لفظِ ”آذان“ کو خاص کرنے کی وجہ:
یہ ہے کہ آذان یعنی کان انسان کے اُن اعضاء میں سے ہیں جو نیند کے طویل وقلیل ہونے میں موثرہوتے ہیں، اکثر وبیش ترانسان شوروشغب کی وجہ سے نیند سے بیدار ہوجاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں بھی یہ اشارہ موجود ہے کہ کان کی سماعت بند ہو، تو نیند طویل ہوتی ہے: ”ذَاکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّیْطَانُ فِیْ اُذُنَیْهِ“-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس شخص کے بارے میں فرمایا،جو قیامِ لیل نہیں کرتا، اورنماز چھوڑ کر سویا رہتا ہے، شیطان اُس کے کانوں میں پیشاب کردیتا ہے۔
(صحیح بخاری: رقم:۰۷۲۳، باب صفۃ إبلیس وجنودہ((المفاتیح الدعویۃ)(صحیح مسلم: رقم:۳۵۸۱، باب ما روی فیمن نام اللیل)
جب لفظ ”سنین“ جو جمع ہے، سے پتہ چل گیا کہ کئی سال ہیں، تو لفظ”عددًا“ بڑھانے کی کیا ضرورت؟
صاحبِ تفسیرِ مظہری علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سنین کے بعد لفظ عددًا بڑھانے سے کثرتِ سنین کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح صاحبِ تفسیرِ ماجدی علامہ دریابادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عددًاکا اضافہ یا تو تاکید کے لیے ہے، یا کثرتِ عدد کے اظہار کے لیے ہے۔(ذَکَرَ اللّٰہُ عَلٰی سَبِیْلِ التَّاْکِیْدِ وَقِیْلَ ذِکْرُہٗ یَدُلُّ عَلَی الْکَثْرَۃِ)۔(تفسیرِ مظہری، گلدستہ تفاسیر، تفسیرِ ماجدی)
سوال: (ثُمَّ بَعَثْنَاہُمْ لِنَعْلَمَ)سے کوئی کور مغز، عقل سے پیدل؛ ملحد وزندیق نعوذ باللہ اگر یہ سوال کرے کہ؛کیا اللہ کو پہلے سے علم نہیں تھا، جو لِنَعْلَمَ کہا گیا؟
جواب: (۱)اللہ تبارک وتعالیٰ کو ”مَا کَانَ، مَا ہُوَ کَاءِنٌ، اور مَا سَیَکُوْنُ“ کا علم ہے، لِنَعْلَمَ بمعنیٰ ”لِنَظْہَرَ“ہے، ای؛ لِنَظْہَرَ الْحَقِیْقَةَ لِلنَّاسِ“ہے، کہ اللہ کو تو پہلے سے علم ہے، لیکن لوگوں پر اُن کی حقیقت ظاہر ہوجائے، جیسا کہ آیتِ کریمہ (وَلِیَبْتَلِیَ اللّہ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاللّہ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ)۔ (سورۃ آل عمران:۴۵۱) -(وَلِیَبْتَلِیَ)کے بعد (وَاللّہ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ) لانااس کی واضح دلیل ہے۔
اَیُّ الْحِزْبَیْنِ سے مراد:
بقولِ علامہ قرطبی رحمہ اللہ: اصحابِ کہف مراد ہیں۔ ظاہرِ آیت یہی ہے۔
اُس زمانے کے کافرین کی دو جماعتیں مراد ہیں، جنہوں نے اصحابِ کہف کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔
اُس زمانے کے مومنین کی دو جماعتیں مراد ہیں، جن کے مابین اصحابِ کہف کے سلسلے میں اختلاف ہوا تھا۔
بقولِ علامہ شنقیطی رحمہ اللہ: اکثر مفسرین کے نزدیک حزبین سے مراد اصحابِ کہف، اور اہلِ شہر ہیں، جن کے زمانے میں اصحابِ کہف کو بیدار کیا گیا تھا۔
الغرض! تفسیر القرآن بالقرآن کے اعتبار سے حزبین سے اصحابِ کہف ہی کی دو جماعتیں مراد ہیں، جس پر قرینہ (وَکَذٰلِکَ بَعَثْنَاہُمْ لِیَتَسَآءَ لُوْا بَیْنَہُمْ) موجود ہے۔(تفسیر قرطبی، اضواء البیان، المفاتیح الدعویۃ)
