کتاب شناسی۔ ایک فن

محمد یاسر عبداللہ  

جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن

            ”حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ ”فراغتے وکتابے وگوشہ چمنے“ہر اس شخص کے حافظے کا جز ہے، جسے کتابوں سے تعلق ہے، مشہورعربی شاعر متنبی کے شعر کا مصرعہ ہے:”وخیر جلیس فی الزمان کتاب“ یعنی زمانے میں سب سے بہتر ہم نشیں کتاب ہے۔ قلم اورکتاب کی اہمیت یہ ہے کہ قرآن مجید میں قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے:﴿ن، والقلم ومایسطرون﴾۔

            آخری پیغمبر پر سب سے پہلی وحی جو آسمان سے نازل ہوئی، اس میں پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا، گویا یہ امت،امتِ اقراء ہے اور کتاب اورقلم سے اس کا رشتہ ناقابل انفکاک ہے۔ اسے ہرزمانے میں علم کی خردافروزی، فکر کی تازہ کاری اورعالم ایجاد کی تحیرسامانیوں میں دوسروں کا امام اورپیشوا اور سب سے ممتاز اور فائق ترہونا چاہیے تھا، اسے ”قلم گوید کہ من شاہ جہانم“ سے لاگ اور لگاؤ ہونا چاہیے تھا، صریر خامہ کو اس کے لیے نوائے سروش ہونا چاہیے تھا اورکتاب خانہ کواس کے لیے دولت خانہ بننا چاہیے تھا، اس کی نظر میں ”چیک بُک“ سے زیادہ ”بُک“ کی اہمیت ہونی چاہیے تھی، ایک صاحب قلم کی عزت اس کے نزدیک بڑے بڑے صاحب جبروت بادشاہوں سے بڑھ کرہونی چاہیے تھی، بساط ورق اوربساط قلم کے مقابلے میں مسند عیش وتجمل کو ہیچ ہونا چاہیے تھا، ایک شہنشاہ قلم کی عزت اورنگ نشیں صاحبِ کَروفر سلطان سے زیادہ ہونی چاہیے تھی، لیکن وائے حسرت ونامرادی کہ مسلمان اب علم سے دور اور تعلیم سے نفور ہیں۔ اب وہ اس زمانے میں علم میں دوسروں سے کوسوں پیچھے ہیں اورگرد کارواں بھی نہیں ہیں، اوردوسروں کے علم کا کارواں منزل بہ کنار ہے، یاران تیزگام نے محمل کو جالیا ہے اورہم ابھی تک محو نالہِ جرس ہیں“۔

            امتِ مسلمہ میں علم کے تنزل کا یہ مرثیہ ہندوستان کے نام ورصاحب قلم پروفیسر محسن عثمانی کے گہربار قلم سے ہے۔آسمان علم پرچھائی گھنگور گھٹاؤں کے ایسے لمحات میں امید کی کوئی ایک کرن بھی دلوں کومسرت انگیزی کا احساس دلادیتی ہے، ان دنوں شہر کراچی میں ایک کتابی نمائش کاچرچا ہے،جو ہرسال دسمبر کے مہینے میں منعقد ہوا کرتی ہے، کتابوں کی یہ نمائشیں گرچہ فیشن کا ہی ایک حصہ بنتی جارہی ہیں،اس لیے خالص علمی ماحول بھی کتب بینی یا کتابوں کی خریداری کے بجائے لذت کام ودہن اورلباس وپوشاک کی نمائش سے شاد کامی کے متنوع مظاہر کی بھینٹ چڑھتا نظر آتا ہے، لیکن پھر بھی کتابی ذوق کے حامل عاشقان علم کی بھی ایک بڑی تعداد اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان نمائشوں کا رخ کرتی ہے، اور یوں یہ تقریب کسی درجے میں کتاب دوستی میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہے۔

            یہ تحریر ایسے کتاب دوستوں سے ہی مخاطب ہے، جنہیں کتاب شناسی کے آزمودہ اصولوں سے آشنا کرنا مقصود ہے، جو تجربے کی بھٹی میں پستے ہوئے یا کتابوں کی سیر کے دوران ہاتھ آئے ہیں۔

            (۱) پروفیسر محسن عثمانی لکھتے ہیں:”مطالعے کے لیے صحیح کتابوں کا انتخاب ضروری ہے، کتابیں سمندر کی مانند ہیں، ضرورت اور ذوق کے مطابق کتابوں کا انتخاب کرنا چاہیے، اس میں کسی صاحب علم اور صاحب ذوق کی رہنمائی بھی اشد ضروری ہے، دل کے بارے میں جگر مرادآبادی کا شعر ہے

کامل رہبر قاتل رہزن

دل سا دوست نہ دل سا دشمن

            جگر مراد آبادی نے دل کے بارے میں جو بات کہی ہے، وہ کتاب پراس سے زیادہ صادق آتی ہے۔کتابیں انسان کو ساحل ہدایت تک پہنچاتی ہیں، کتابیں انسان کو گمراہی کے بھنورمیں ڈبوتی بھی ہیں، کتابیں انسان کو گم کردہ راہ بھی بناتی ہیں، وہ کامل رہبر بھی ہیں اورقاتل رہزن بھی ہیں“۔

            (۲) ہر علم وفن میں کچھ کتابیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں حوالہ جاتی کتب (Reference books) کہا جاتا ہے، یہی کتابیں فن کے طالب علم کی اولین ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے پہلے مرحلے میں ایسی کتب کے حصول کی تگ ودو کرنی چاہیے۔

            (۳) کتاب کی خریداری سے قبل اہل علم اورماہرین فن سے مشورہ کیجیے اورکتاب کے عمدہ ایڈیشن کے متعلق آگاہی حاصل کیجیے، ایک اچھا محقق کتاب کے حسن کوچارچاند لگادیتا ہے؛ جبکہ خود غرض ناشر اسے ماند کردیتا ہے، تاجرانہ ذہن نے بہتیری کتابوں کے بخیے ادھیڑکرانہیں مصنف کی مراد سے کوسوں دور پہنچانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی، ایسے ایڈیشن کے مطالعے سے مصنف کے فکر تک پہنچنا دشوار ہے، اس لیے کتاب کے کئی ایڈیشن ہوں تو تقابلی جائزہ لیجیے اورایسے ایڈیشن خریدیے جواہل علم کے ہاں معتبرہوں اور جن کا حوالہ دیا جاتا ہو۔

            (۴) ایسے مصنفین کی کتابیں قابل ترجیح ہواکرتی ہیں ،جو تحقیقی مزاج کے حامل ہوں، فن پردسترس رکھتے ہوں، صاحب مطالعہ ہوں اورقلم پر مضبوط گرفت بھی رکھتے ہوں،قلم کو ”احد اللسانین“(اظہار کا دوسرا ذریعہ) کہا گیا ہے، کتاب مصنف کی فکر کی عکاس ہوا کرتی ہے، اس لیے معتمد وممتاز مصنفین کو پڑھیے۔

            (۵) خریدنے سے پہلے کتاب کی ورق گردانی کرلیجیے، تاکہ کتاب کے عیوب سامنے آجائیں، ممکن ہے کہیں بیاض رہ گئی ہو یا کوئی حصہ چھُوٹا ہوا ہو، جلد سالم نہ ہو، دیگر اشیا ئے ضرورت کی طرح کتاب کی خریداری بھی عمدہ ذوق اورمہارت چاہتی ہے۔

            (۶) کتاب پر کسی صاحب فن کاتبصرہ (Book review)ہو تو اسے پڑھ ڈالیے، مقدمہ، پیش لفظ، عرض مولف وغیرہ دیکھیے، فہرست پرنگاہ ڈالیے، خاتمے سے نتائج فکر کا جائزہ لیجیے اوراہل فن سے اس کے مقام ومرتبہ کو جانیے، بہت سی کتابیں فن کی دسیوں کتب سے مستغنی کردیتی ہیں، آج کل کی نئی کتابوں میں عموما نئی معلومات کم ہوتی ہیں، اکثر وبیشتر معلومات کا تکرارہوتا ہے، تاہم بعض کتابیں اس تکرار کے باوجود اسلوب کی تسہیل،ترتیب کی عمدگی یا دیگر اضافی خصوصیات کی بنا پرخریداری کے لائق ہوتی ہیں۔

            (۷) ایسے اشاعتی اداروں کی کتابیں خریدنے سے احتیاط برتیے، جو بدمعاملگی یا علمی سرقے میں معروف ہوں، البتہ بعض اوقات ایسے اداروں کے ہاں بھی عمدہ ایڈیشن دستیاب ہوجاتے ہیں۔

            (۸) کتابی نمائشوں سے فائدہ اٹھائیے، ان میں دسیوں ممتاز ادارے یکجا ہوجاتے ہیں، جن کتابوں کے لیے سفر کی ضرورت بھی پیش آسکتی تھی، وہ ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوتی ہیں، ایسے میں اچھی کتابیں سستے داموں میں بھی مل جاتی ہیں، البتہ یہ پہلو ذہن میں رکھیے کہ بعض نمائشوں میں اداروں کو جگہ کے کرائے اوردیگر اخراجات کی بنا پر مجبوراً قیمتیں زیادہ کرنا پڑتی ہیں، ایسے ادارے اگر شہر میں ہی ہوں اورکوئی فوری ضرورت بھی درپیش نہ ہو تو نمائش کی بجائے ادارے سے کتاب کے حصول کوترجیح دیجیے، جبکہ وہاں مناسب قیمت میں کتاب ملنے کا امکان ہو۔

            (۹) نمائشوں میں بھی اپنی ضرورت کو دیکھیے، رواروی اوردیکھا دیکھی میں کتاب نہ خریدیے، بلکہ چھان پھٹک سے کام لے کر ہی انتخاب کیجیے۔

            (۱۰) کتابوں پر صرف کی گئی رقم کو بیکار خیال نہ کیجیے،مفید علمی کتابوں پرلگایا گیا مال ”ہم خرما وہم ثواب“ کا مصداق ہوتا ہے، قیمتوں میں کمی ضرور کرائیے لیکن

جمادے چند دادم جاں خریدم

بحمد اللہ عجب ارزاں خریدم

            (چند روپوں کے عوض عزیز از جاں شی حاصل کرلی ہے، شکر ہے کہ یہ سود ا ارزاں ہے، گھاٹے کا نہیں)

پیش نگاہ رکھیے۔ تلک عشرة کاملة۔