درس و عبرت بھرا سفر !” انڈمان و نکوبار “

دوسری قسط:

” انڈمان و نکوبار “

حذیفہ غلام محمد وستانوی

۱۴۹۸ء سے ۱۹۴۷ء تک ہندوستان پر، انگریزوں اور یورپی اقوام کے تسلط کی تاریخی اور جغرافیائی تفصیلات

            چوں کہ ہندوستان پر تسلط کی کوشش میں صرف انگریز تنہا نہیں ہیں بلکہ متعدد یورپی اقوام بھی اس کوشش میں شریک رہی ہیں، اس لئے بہتر ہوگا کہ مندرجہ ذیل سطروں میں تاریخ کے اس پہلو پر بھی ایک سرسری نظر کرلی جائے۔

 برِّصغیر پاک و ہند میں یورپی اقوام کی آمد (۱۴۹۸ء سے ۱۸۵۷ء تک):

            مورخین کے مطابق یورپ یوں تو قدیم رومن سلطنت کے دور سے ہی، برصغیر ،پاک و ہند اور مشرقی ایشیا سے بعض اشیاء برآمد کرتا تھا، تاہم یہ تجارت بہت محدود پیمانے پر تھی۔ مگر ۱۵ ویں صدی میں یورپ کے اندلس و غرناطہ (موجودہ اسپین) جاکر مسلمانوں سے علم حاصل کرنے، اور ان کے سائنسی تجربات اورعلمی تحقیقات سے استفادہ کرکے نت نئی ایجادات اور مشینی انقلابات کے نتیجہ میں وہاں کے معاشی حالات بہتر ہونے لگے تو ان کے سامنے دو مسئلے پیش آئے ۔

پہلا مسئلہ:

             ایک مسئلہ تو ان کی ضرورت کی کھانے پینے اور پہننے کی اشیاء ،مثلا ًگرم مصالحہ جات، ریشمی اورشوخ کپڑوں، زینت کے لیے جواہرات، خوشبو جات، چاول اورشکر وغیرہ کا رہا، معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی طلب بھی بڑھ گئی تھی، چوں کہ ۱۵ ویں صدی کے اخیرتک ان اشیاء کی تجارت؛ جو کہ بالواسطہ عرب اور ترک کے علاقوں اوروہاں کے مسلمان تاجروں کے ذریعے ہوتی تھی وہ کافی مشکل اور مہنگی پڑنے لگی، لہذا اس مسئلہ کے حل کے لیے اہل ِیورپ، مشرق کی طرف بہ راہِ راست بحری راستے کی تلاش میں لگ گئے، اور یورپ کی نشاة ِثانیہ کے دور (۱۴ویں صدی) میں نئے تصورات و خیالات کے باعث مشرق کی طرف بحری راستہ تلاش کرنا ممکن سمجھا گیا، اسی سوچ کے تحت ہسپانیہ ”(اسپین) کے ملاح”کرسٹوفر کولمبس“ (Christopher Columbus)نے انڈیا کی طرف راستہ معلوم کرنے کی کوشش میں اتفاقا ًامریکہ دریافت کر لیا۔

            جبکہ اس کے مقابلے میں پرتگالی ملاح نے افریقی ساحل سے ہوتے ہوئے بحر ہند پہنچنے سے یہ اندازہ لگایا کہ یورپ سے بہ راستہٴ سمندر ” انڈیا “ جایا جا سکتا ہے۔

دوسرا مسئلہ :

            دوسرا مسئلہ یہ پیش آیا کہ اپنے یہاں (یورپ میں) بننے والی اشیاء کے لیے اچھی منڈیاں درکار تھیں، جہاں ان کا پروڈکٹ اچھے داموں فروخت ہو سکے اورچوں کہ دنیا پرمسلمانوں کی حکمرانی تھی، لہذا اس کے لئے سب سے بہتر منڈی عالم اسلام ہی ہوسکتی تھی، بس انہوں نے نئی دنیا کی دریافت کے عنوان سے ،سب سے پہلے عالم ِاسلام کو اوراس کے بعد آہستہ آہستہ دنیا کے دیگر خطوں کو اپنے زیر نگیں کرنا شروع کردیا۔

            تاریخی معلومات اوراندازے کے مطابق، انڈیا کی طرف بحری سفر کرنے والا پہلا یورپی شخص پرتگال کا ”واسکوڈے گاما“ (Vasco Da Gama) تھا جو ۱۴۹۸/ میں چار بحری جہازوں کے ساتھ ” کیپٹاوٴن “ (Cape Town) اس کے بعد مڈغاسکر (Madagascar)ہوتا ہوا بڑی مشکل سے کالی کٹ (Calicut) (موجودہ کوزیکوڈ (kozhikode پہنچا۔ یوں مغرب اور مشرق کے مابین ہونے والی تجارت پرترکی وعربی مسلمانوں کے تسلط کے خاتمہ کا آغاز ہونے لگا اور یہی مسلمانوں کے سیاسی زوال پرمنتج ہوا۔

 بحری راستوں پر کنٹرول کا آغاز :

            اپنے کمپنی گورنرالفانسو ڈی البوقرقی (Alfonso De Albuquerque) کے زیر کمان پرتگالیوں نے ۱۵۱۰ءء میں گجرات میں ”گوا“ (Goa) اور ۱۵۱۱ءء میں ملائشیا کے جزیرہ ” ملاکا “ (Melaka) پر قبضہ کر لیا۔ اور اس طرح یہ لوگ شرق الہند (جنوب مشرقی ایشیا) کی جانب بحری راستوں پرکنٹرول حاصل کرنے کے پوزیشن میں ہو گئے۔

            ۱۵۱۵ء میں ایران کے ” ہرمز “ (Hormuz) اور گجرات کے ڈیو (Diu) اور پھر مشرقی افریقہ کی بندرگاہوں پر قبضہ کرنے سے بیشتر بحر ِہند پران کا تسلط ہو گیا۔

            بحر ہند کے اندرونی تجارت کے ساتھ یورپ کی طرف کی جانے والی تجارت پر بھی پرتگالیوں کو اجارہ داری حاصل ہو گئی، حتی کہ مسلمان حاجیوں کو مکہ لے جانے والے جہاز بھی ان کے ہوتے تھے۔

            ابتداء میں پرتگالی لوگ پرامن انداز میں تجارت کرتے رہے مگر بعد میں بہ تدریج جارحیت پر اتر آئے۔ تاہم ۱۵۴۰ءء کے بعد مذہبی تشدد پراتر آئے مسلمانوں اور ہندوٴوں کے ساتھ غیر کیتھولک عیسائیوں کو بھی ظلم کا نشانہ بنانے لگے۔ مشرقی تجارت پر اجارہ داری سے پرتگال کافی مال دار ہو گیا ،مگر ۱۵۸۰ ءء کے بعد اس کی طاقت بہ وجوہ زوال پذیر ہونے لگی۔ اسی اثنا برطانوی اورولندیزی کمپنیاں بھی انڈیا سے تجارت کرنے لگیں۔

            ولندیزیوں (Dutch) کی زیادہ تر توجہ جنوبی مشرقی ایشیا میں ”مصالحہ جات کے جزائر “ پر مرکوز رہی، جہاں سے انہوں نے پرتگالیوں اورانگریزوں کو بے دخل کر دیا، جس پر انگریزوں نے جنوبی ہندوستان کے ساحلوں پر ۱۶۱۱ءء میں سورت (گجرات)، ۱۶۴۰ءء میں مدراس، ۱۶۶۱ءء میں بمبئی کے علاوہ ۱۶۸۶ء ء میں دریائے گنگا کے ڈیلٹا (کلکتہ) اور کئی دوسری جگہوں میں نئی تجارتی فیکٹریاں (بستیاں اور گودام) قائم کر لیں۔ یہ کمپنیاں مقامی حکمرانوں سے زمین خرید کریا کرائے پر لے کر قلعہ بند کر دیتیں۔ پرتگالیوں کے برعکس برطانوی اور ولندیزی پروٹیسٹنٹ عیسائی تھے، اس لیے ان کو صرف تجارت اور دولت سے غرض تھی، ان کو مقامی باشندوں کے عقائد سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

 فرانسیسی کی آمد:

             ۱۶۶۰ء میں فرانس کی حکومت کی قائم کردہ ”فرانسیسی انڈیا کمپنی“ نے ” مدراس “ کے قریب ”پانڈی چری “، ”ماہے“ اور ”چندر نگر“ میں تجارتی فیکٹریاں تعمیر کر لی۔ اگرچہ برطانیہ اورفرانس نے انڈیا میں اپنی کمپنیوں کے درمیان پرامن تعلقات قائم رکھنے پر اتفاق کیا تھا، مگر ۱۷۴۱ءء میں ”جوزف ڈو پلے “کا ”پانڈی چری “ میں فرانسیسی فیکٹری کا گورنر بننے سے حالات تبدیل ہو گئے، اس نے ہندوستانی سپاہیوں کو یورپی طرز پر تربیت دے کر بھاری توپ خانے سے مسلح کیا اور ان کو فرانسیسی افسروں کے کمان میں رکھا۔

            اسی دور میں مغل اورمرہٹہ سلطنتیں زوال پذیر تھیں اور مختلف صوبوں میں مقامی حکمرانوں میں اقتدار کی کشمکش ہو رہی تھی۔ ”ڈو پلے“ نے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ پلان بنایا کہ ان میں سے کسی ایک کا ساتھ دے کر اس کے مخالف کو شکست دینے میں اس شرط پر مدد دے کہ وہ حکمران بننے کے بعد اس کے عوض کمپنی کو زمین، پیسہ اور تجارتی مراعات دے گا۔

            ہندوستان کے باہمی برسرپیکار علاقائی حکمران فرانسیسی کمپنی کے کرائے کی فوجیوں پر تکیہ کرنے لگے، اسی دوران برطانیہ نے بھی اپنے تجارتی مراکز کی حفاظت کے لیے سپاہیوں کی جدید تربیت اور مسلح ہونے پر توجہ دی۔

 فرانسیسی اور انگریز کمپنیوں میں کشمکش کا آغاز:

            ۱۷۴۸ء میں حیدرآباد دکن کے ناظم کی موت کے بعد اس کے بیٹے ”ناصر“ اور پوتے ”مظفر“ میں تخت نشینی کی جنگ شروع ہوئی اسی طرح ”کرناٹک“ میں نواب کے بیٹے ”محمد علی“ اور داماد ”چندا صاحب“ کے درمیان تخت کے لیے رسہ کشی ہو رہی تھی۔ ”ڈوپلے“ نے یہاں ”چندا صاحب“ کو نواب بنانے اوراس کے بعد اس کی مدد سے حیدر آباد دکن میں ”مظفر“ کو برسراقتدار لانے کا منصوبہ بنایا ،جس کے بعد اس کے خیال میں یہ تھا کہ جنوبی ہند میں فرانسیسی اثر بڑھ جانے سے انگریزوں کو وہاں سے بے دخل کرنا ممکن ہو جائے گا۔

            ۱۷۵۱ء میں فرانسیسی منصوبہ کامیاب ہوتا نظر آنے لگا تھا۔ محمد علی کو شکست دے کر ”چندا صاحب“ کو کرناٹک کا نواب بنا دیا گیا۔ محمد علی ”ترچناپلی“ فرار ہو گیا جہاں اس کا فوج سمیت محاصرہ کر لیا گیا۔

            ان حالات کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھ کر انگریز متحرک ہو گئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک فوجی افسر ”رابرٹ کلائیو “ کی قیادت میں کمپنی کے سپاہیوں نے کرناٹک کے دارالحکومت ”ارکا ٹ“ پر قبضہ کر لیا۔ جس پر ”چندا صاحب “ ”ترچنا پلی“ کا محاصرہ اٹھا کر ”ارکا ٹ“ کی بازیابی کے لیے دوڑ پڑا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ وہ جلدہی فوت ہو گیا، جس کی جگہ کلائیو نے ”محمد علی“ کو کرناٹک کا نواب بنا دیا مگر اصل اختیارات انگریزوں کے پاس رہے۔

            حیدر آباد دکن میں تخت نشینی کے لیے باہمی متحارب دونوں دعویدار (ناصر اور مظفر) قتل ہو گئے اور فرانسیسیوں نے وہاں اپنا پسندیدہ بندہ ”صلابت جنگ“ کو نواب بنا دیا تاہم یہاں برطانوی کمپنی نے کوئی مداخلت نہیں کی۔

            ان دنوں میں انگریزوں کے مقابلے میں فرانسیسی بہتر پوزیشن میں تھے، مگر اسی دوران ”ڈوپلے“ کو واپس فرانس بلایا گیا (جہاں وہ ایک بھکاری کی حیثیت میں مرا)۔ اس کے بعد ہندوستان میں قائدانہ رول انگریزوں کے ہاتھوں میں آنے لگا۔

۱۷۵۷ء کی جنگ پلاسی :

             بنگال میں فرانسیسی زیادہ مستحکم پوزیشن میں تھے۔ اس دور میں بنگال مغل سلطنت سے عملاً آزاد تھا۔ اس کے نوجوان حکمران ” نواب سراج الدولہ “ نے برطانوی کمپنی کو اپنے ہیڈ کوارٹر ”کلکتہ “میں تعمیر کردہ غیر قانونی قلعہ بندیاں گرانے کا حکم دیا۔ انکار پر۱۷۵۶ءء میں کلکتہ پر قبضہ کر لیا۔ مگر ” کلائیو “ نے مدراس سے فوج لے کر قبضہ ختم کرایا۔

            کلائیو نے اسی دوران ”چندر نگر“ میں فرانسیسیوں کے بڑے مرکز پر بھی قبضہ کر لیا اور اس کے بعد سراج الدولہ کو تخت سے اتارنے کے لیے اس کے سپہ سالار ” میر جعفر “ سے یہ ساز باز کر لی کہ جنگ کے دوران وہ نواب کا ساتھ چھوڑنے پراس کی شکست کے بعد نواب بنا دیا جائے گا۔

            ” کلائیو “ نے ” سراج الدولہ “ پر انگریز کمپنی کے خلاف فرانسیسیوں سے مل کر منصوبہ بندی کرنے کا غلط الزام لگا کر ۱۷۵۷ءء کو پلاسی میں نواب کی فوج پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ ” کلائیو “ کے ۳/ ہزار فوجیوں کے مقابلے میں نواب کی فوج ۷۰/ ہزار جاں بازوں پر مشتمل تھی، مگر میر جعفر کی غداری کے باعث شکست کھانا پڑی، اس جنگ میں ” کلائیو “ کے صرف ۲۰/ سپاہی مرے جبکہ ” نواب سراج الدولہ “ کو پکڑ کر قتل کردیا گیا۔

 بنگال کی لوٹ مار:

            ” میر جعفر “ کو نواب بنانے سے کمپنی نے بھاری رقوم اور اپنے تاجروں کے لیے ناجائز مراعات کے حصول سے بنگال کی لوٹ مار شروع کردی، جس سے بنگالی تاجر اورعام لوگوں کی حالت بد تر اوربرطانوی امیر تر ہو گئے۔ ۱۷۶۰ء میں کلائیو ایک امیر ترین شخص کی حیثیت سے برطانیہ واپس چلا گیا۔

            اس کی جگہ آنے والے نئے گورنر نے ” میر جعفر “ کی جگہ اس کے داماد میر قاسم کو نواب بنایا، مگر جب اس نے کمپنی کی مراعات واپس لینے شروع کیا تو اس کو ہٹا کر ” میر جعفر “ کو پھر سے لایا گیا۔ اس پرمیر قاسم نے نواب اودھ اور مغل بادشاہ ”شاہ عالم ثانی “ سے مدد مانگی۔ ان تینوں کی افواج نے ۱۷۶۳ءء میں ”باکسر“ (پٹنہ سے ۱۳۰/ کلومیٹر مغرب میں بنگال کا ایک قصبہ) میں انگریزی فوج پر حملہ کیا مگر سخت شکست کھائی۔ ” نواب اودھ “ کو کچل دیا جبکہ مغل بادشاہ سے سلطنت کی حفاظت کے عوض بنگال، بہار اور اوڑیسہ کی دیوانی (محصول لینے کا اختیار) حاصل کر لی گئی۔

            ” باکسر “ کی لڑائی ہندوستان میں انگریزی اقتدار کا نقطہ آغاز تھا۔ (اس کے بعد سے کمپنی نے بہ تدریج ہندوستان کے بڑے حصوں پر اقتدار حاصل کرنا شروع کیا، جن کے انتظام کے لیے پریزیڈینسیز تشکیل دی گئیں)۔

مشرقی صوبوں کے انتظام کے لیے ۱۷۶۵ء سے بنگال (کلکتہ) پریزیڈینسی قائم کی گئی۔

            کمپنی اہلکاروں کے ہاتھوں بے پناہ لوٹ مار سے ۱۷۶۵ء میں بنگال کی حالت بے حد دِگر گوں ہو گئی، حالات کی بہتری کے لئے کلائیو کو دوبارہ بلایا گیا، جس نے کمپنی کے اہلکاروں کی نجی تجارت پر پابندی لگا دی۔ رشوت ستانی کو ختم اورہندوستانیوں کے زیر استعمال اشیاء پر ٹیکس کم کر دیا۔ دو سال تک اس کی موجودگی میں حالات بہتر ہونے لگے مگر ۱۷۶۷ء میں اس کے واپس جاتے ہی کمپنی کے تاجر اور فوجی افسران سابقہ غیر قانونی ہتھکنڈوں پر اتر آئے، جس کی وجہ سے ۱۷۷۰ء میں بنگال اور کمپنی تقریباً دیوالیہ ہو چکے تھے۔

            ۱۷۷۲ء میں حالات کا جائزہ لینے کے لیے ”وارن ہیسٹنگز“ کو نیا گورنر بنا کر بھیجا گیا، اس کی رپورٹ یہ تھی کہ برطانیہ سے تین گنا بڑی آبادی رکھنے والی ریاست کا انتظام لالچی تاجروں کے ہاتھوں میں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مشورے پر برطانوی پارلیمنٹ نے ۱۷۷۳ء میں یہ ایکٹ پاس کیا کہ بنگال میں مقامی نظامت کی جگہ کلکتہ کا کمپنی گورنر ہندوستان میں تمام برطانوی مقبوضات کا ”گورنر جنرل“ ہو گا، جس کی معاونت چار افراد اور برطانوی سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کونسل کرے گی۔

            ”وارن ہیسٹنگز“ جو پہلا گورنر جنرل بنا، برطانوی ہندوستان کا اصلی بانی تھا، اس نے نجی تجارت، رشوت اورحصول تحائف پر پابندی لگائی، بدعنوان اہلکاروں کو سزا دینے کے اس کے پاس آزاد عدالتی اختیارات تھے، اس نے مقامی کے بجائے برطانوی افسران کی تقرریاں کی اور کمپنی کے انتظام کو مستحکم کیا۔

            ۱۷۷۳ء تک زیریں گنگا میدانوں (آسام، بہار، اوڈیشہ، تریپورہ، اتر پردیش، مغربی بنگال) کے بڑے حصے پراصل اقتدار کمپنی کو حاصل ہو گیا تھا۔ یہ علاقے بنگال پریزیڈینسی کے تحت رکھے گئے، اس کے ساتھ بمبئی اور مدراس کے اردگرد بھی توسیع کی جانے لگی۔

            ۱۷۸۴ء برطانوی وزیر اعظم ”ولئیم پٹ“ کی حکومت نے ” پٹ ایکٹ “پاس کیا ،جس کے تحت آئندہ ۶۵/ سال تک ہندوستان پر حکومت کرنی تھی۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے لیے ہندوستان جیسے وسیع ملک پر حکومت کرنا مشکل کام تھا اس لیے اس ایکٹ کے تحت یہاں ایک دوہرا، نظام قائم کیا گیا۔ اس کے مطابق کمپنی کو صرف تجارت تک محدود کر دیا گیا ؛جبکہ انتظامیہ اور مالیہ کے شعبے برطانوی کابینہ کے سینیئر وزیر کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی کے کنٹرول میں دیے گئے، اگرچہ گورنر جنرل کمپنی کا ملازم ہوتا تھا مگر عملی طور پراس کی تقرری لندن کا کنٹرول بورڈ کرتا تھا اور وہ اس کو جواب دہ تھا، کمپنی اپنے افسران کی تقرری کر سکتی تھی، مگراس کی توثیق حکومت سے لینی ضروری ہوتا تھا۔

            اگرچہ اس ایکٹ میں ہندوستان میں مزید علاقائی توسیع نہ کرنے کی ہدایت بھی تھی، مگر اس صدی کے اخیر سے مزید ہندوستانی علاقوں پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے کھلی تگ ودو شروع کی گئی، اس دورمیں ہندوستان نسل، مذہب، ذات پات اور روایتی جھگڑوں کے باعث اتنا منقسم تھا کہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف متحد نہیں ہوسکا۔ حتی کہ ہندو، مراٹھا ریاستیں ایک قوم ہونے کے باوجود باہم دست و گریباں تھیں۔

            ایکٹ کے بعد ۵۰/ سال کے عرصے میں انگریزوں کی مقامی حکمرانوں سے اور مقامی حکمرانوں کی باہمی لڑائیاں ہوتی رہیں، جن میں سب سے اہم ۱۷۶۹ء سے ۱۷۹۹ء تک میسور اور ۱۸۰۳ء سے ۱۸۱۸ء تک مرہٹوں سے لڑی جانے والی جنگیں تھیں۔

            میسور کے حکمران ٹیپو سلطان نے اگرچہ انگریزوں کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا، مگرانگریز اپنے جدید ہتھیاروں اور تنظیم کے علاوہ اندرونی غداروں کی مدد سے بالآخر کامیاب ہوئے اورانہوں نے ریاست میسور کے بعض حصے مدراس پریزیڈینسی میں شامل کر لیے، اسی طرح مرہٹوں کو شکست دینے پر ان کے کئی علاقے بھی ملحق کر لیے۔ان فتوحات کے بعد دریا ستلج کے جنوب کے بڑے علاقوں پران کا کنٹرول ہو گیا۔

یہ تسلط تین طریقوں سے حاصل کیا جاتا تھا:

            ۱-         جنگ میں براہ راست فتح اور قبضہ۔

            ۲-         معاہدات کے تحت مقامی ریاستوں کو زیر تسلط بنانا۔ فوجی خطرے میں گھرے کسی ریاستی حکمران کو تحفظ دے کر ریاست کا انتظام چلانے کے لیے وہاں برطانوی ریزیڈینٹ (سینئیر افسر) کو متعین کر دینا، ریاستی حکمران کو ایک حد تک اندرونی اختیار ات د ے دینا اوردفاع اورخارجی معاملات کمپنی کے ہاتھ میں رکھنا۔

            ۳-         لیپس ڈاکٹرائن۔ ۱۸۳۴ء سے کمپنی نے یہ اصول اختیار کیا کہ کسی اتحادی (زیر حفاظت) ریاست کے حکمران کا اولاد ِنرینہ کے بغیر مر جانے یا نا اہل ہونے پر اس کی ریاست کو اپنے مقبوضات میں شامل کر لیا جائے، اس کو ”لیپس ڈاکٹرائن“ کہا جاتا تھا،گورنر جنرل ” لارڈ ڈلہوزی “ (۱۸۴۸/ تا۱۸۵۶) نے اس اصول پر شدت سے عمل کیا اور اپنے دور میں سات ریاستوں کو کمپنی مقبوضات میں شامل کرلیا۔

            اس سے پہلے (۱۸۰۱/سے ۱۸۴۸ /تک) شمال مغربی صوبہ جات (روھیل کھنڈ، گورکھ پور اور دواب) دہلی، آسام اور سندھ بھی مختلف حیلوں سے مقبوضات میں شامل کر دیے گئے تھے۔

            کمپنی کی براہ راست زیر کنٹرول مقبوضات آوائل میں تین پریزیڈینسی (انتظامی علاقائی گروپ) مدراس، بمبئی اور بنگال (کلکتہ) کے تحت تقسیم تھے، بعد میں ایک چوتھی پریزیڈینسی ”آگرہ“ بھی قائم کی گئی جس کا نام تبدیل کر کے شمال مغربی صوبہ جات رکھا گیا، پریزیڈینسی کی انتظامیہ ایک گورنر اوراس کے کونسل پرمشتمل تھی۔ ۱۸۳۴ءء میں ”جنرل قانون ساز کونسل“ کے قیام سے پہلے ہر پریزیڈینسی کو اپنے اپنے علاقوں کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار تھا۔

            ماتحت ریاستوں کو اتحادی کہا جاتا تھا، یوں تو ایسی ریاستوں کی تعداد ۵۸۶/ تھی مگر ان میں صرف ۲۱/ حکومتی ڈھانچہ رکھتی تھیں، ان میں اہم ریاستیں ”کوچین“ (کیرالا، جنوبی ہند کے آخری سرے پر واقعہ ریاست)، جے پور، حیدر آباد، میسور، وسطی ہند ایجنسی (مالوہ) کچھ (گجرات) راجپوتانہ، بہاول پور اور تراونکور تھیں۔

            ۱۸۱۸ء تک برطانوی کنٹرول سے باہر رہ جانے والے چار صوبوں (لاہور۔ ملتان۔ شمالی مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا) اور کشمیر) پر مشتمل پنجاب کی ”سکھ ریاست“ تھی۔ جو اس کے حکمران رنجیت سنگھ کے تحت ایک مضبوط فوجی طاقت تھی۔ انگریزوں کے ساتھ اس کے تعلقات نسبتاً پرامن اور دوستانہ رہے۔ اور اس کی وفات (۱۸۳۹ء) تک پنجاب پوری طرح آزاد تھا۔ تاہم اس کے بعد انگریزوں اور سکھوں میں اس کی جانشینی کے مسئلہ پر اختلافات بالآخر جنگ کے باعث بنے۔ پہلی جنگ (۱۸۴۵ء) میں ہوئی، جس میں سکھوں کا پلہ بھاری رہا مگر دوسری جنگ (۱۸۴۸ء) میں سکھ ہار گئے۔ اور یوں تمام پنجاب بشمول شمال مغربی سرحدی صوبہ اور کشمیر پر بھی انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ کشمیر کو معاہدہ امرتسر (۱۹۵۰ء) کے تحت ہندو ” ڈوگرہ راجہ “ کو فروخت کر کے ماتحت ریاست کا درجہ دیا۔

            ۱۸۵۴ء میں ”ناگاپور“ اور ۱۸۵۶ء میں اودھ کا بھی الحاق کر دیا گیا، یوں ۱۶۰۰ء میں بنیادی طورپرتجارت کی غرض سے آئی ہوئی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۸۵۶ء تک پورے ہندوستان (فرانس اورپرتگال کے چند ایک ساحلی مقبوضات کے سوا) پربلاواسطہ یا بالواسطہ تسلط جما لیا۔

            ۱۸۵۷ء میں کمپنی حکومت کے خلاف ہندوستان کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں اورہندووٴں نے آزادی کی جنگ شروع کی، مگرکامیاب نہ ہو سکے۔

            اہل ہند کی جنگ آزادی کے ناکام ہونے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے ”۱۸۵۸ء انڈیا ایکٹ“ سے کمپنی اوراس کی حکومت کو تحلیل کر کے ہندوستان کو براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت کردیا۔ اگست ۱۹۴۷ء میں اپنی آزادی تک ہندوستان سلطنت برطانیہ کا حصہ رہا۔

https://www.humsub.com.pk/496594/anwar-jalal-44

            یہ ہوئی انگریزوں اور یورپی اقوام کی ہندوستان پرتسلط کی مختصر تاریخ جسے ” انور جلال صاحب “ نے مختصر اورعمدہ پیرائے میں لکھا ہے ،جو قارئین کی خدمت میں ان کے شکریہ کے ساتھ پیش کی گئی۔

            (جولائی ۲۰۲۴ء میں انڈمان ونکوبار سفرنامہ کی تیسری قسط لکھی تھی اس کے بعد کچھ مشغولیت اور کچھ کوتاہی کی وجہ سے یہ سفر نامہ مکمل نہیں ہوپایا تھی ، لیکن آج مندرجہ ذیل اقتباس نظر سے گزرا تو یاد آیا کہ چلو اسے مکمل کرلیتے ہیں)

 مسلمانوں کے دور کا تعلیم یافتہ ہندوستان :

            ۱۸۵۷ء میں جو ہندستان انگریز کو ملا تھا وہ ۹۰/ فیصد خواندہ اورپڑھا لکھا تھا، مگر جب انگریز ۱۹۴۷ء میں اسے چھوڑکر گیا تو یہ ۸۸/ فیصد اَن پڑھ اورناخواندہ ہوچکا تھا اور صرف ۱۲/ فیصد پڑھا لکھا رہ گیا تھا۔ ۲۰/ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو مہاتما گاندھی نے لندن کے انٹرنیشنل افیئرز کے انسٹی ٹیوٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم لوگوں نے مغلوں سے ایک پڑھا لکھا ہندستان لیا تھا اوراب اسے مکمل طور پران پڑھ بنا چکے ہو۔

(” اوریامقبول جان “ کے طویل مضمون ”یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟“سے اقتباس)

 انگریزاس ملک کا کیسے برا حال کرکے گئے، ایک اہم جائزہ:

            جب انگریز آئے تھے ،اس وقت ماہرین کے مطابق ہندوستان کا جی ڈی پی ۲۷/(GDP: 27) تھا اور جب گئے توجی ڈی پی ۲/ : 2) GDP (کرکے گئے ،تعلیم اور لٹریسی ۹۰/ فیصد تھی اسے ۱۲/ فیصد کرکے گئے، ملک میں مکمل امن وامان تھا اسے ختم کرکے گئے، ہندو مسلم اختلافات کوہوادی، الحاد، بے دینی اوردہریت کو تعلیم کے ذریعہ بڑھاوا دیا، سادہ زندگی سے بے حیائی اور فیشنیبل زندگی کی جانب لوگوں کو ڈھکیلا، بد اخلاقی کو فلم انڈسٹری کے ذریعہ عام کیا، لباس اور رہن سہن میں سادگی تھی، ٹائی پینٹ وغیرہ لباس کا عادی بنایا، مادیت اور حرام خوری کی دلدل میں لوگوں کو پھینک دیا، ہندوستان کی تاریخ کو مسخ کیا، مسلمانوں کے تئیں یہاں کے لوگوں کو متنفر کیا۔

            اگرتاریخ اٹھا کراس کا مطالعہ کرو تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں نے ۸۰۰/ سال حکومت کی ،اگر وہ چاہتے توزبردستی یہاں کے باشندوں کو مسلمان بنا سکتے تھے، اتنی طاقت تھی کہ اگر وہ چاہتے تو دوسرے لوگوں کو یہاں سے بھگا سکتے تھے، اگر وہ چاہتے تو ظلم کے پہاڑ توڑ سکتے تھے، اگر وہ چاہتے تو پیسے دے کر یا تعلیم کے ذریعہ یہاں کے باشندوں کو اسلام میں داخل کرسکتے تھے ،اگر وہ چاہتے تو یہاں سے دولت لوٹ کر انگریزوں کی طرح دوسرے ملکوں کی جانب لے جاسکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا بلکہ اسی ملک کو سونے کی چڑیا بنا دیا، آج آزادی کے ۷۷ سال بعد بھی حکومتیں ہندوستان کو معیشت اورتعلیم کے اعتبار سے اس مقام کے دس فیصد پربھی نہیں پہنچا سکی، جہاں مسلمانوں نے اسے چھوڑا تھا ۔ بلکہ آج کے ہندوستان میں نفرت عام، ظلم، جہالت، غربت، رشوت، بد اخلاقی، بے حیائی، بے دینی، سب عام ہے، الغرض یہ کہ جس انگریز کو آپ اپنا دشمن کہتے ہو خود اسی کے ترکہ کو ترقی دے رہے ہو۔

            تو یہ تھا اس سفرنامہ کا ایک اہم مقصد، جسے بہت ہی مختصرانداز میں سپرد قرطاس کیا گیا، یقینا اہلیان ِملک وملت کے لئے اس میں بڑا اہم درس ِعبرت ہے، اللہ رب العزت ہمارے ملک ہندوستان کواس کی کھوئی ہوئی شان وشوکت اوررنگ و رونق پھرعطا کرے اوراسے امن و سلام کا گہوارہ بنائے ۔

 آمین یا رب العلمین

تاریخ کے عظیم سنگ ِمیل کو عبور کرنے کے بعد ، انڈمان و نکوربار جیل کی تفصیلات کی طرف:

            انڈمان ونکوبار کی جیل کی تفصیلات سے قبل ہم تاریخ ہند کے اس کرب ناک باب کو ذکر کرلینے کے بعد اب چلتے ہیں پانچویں قسط ” جیل کی مزید تفصیلات کی طرف “ ۔

جاری ․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․۔