عقائد ِاسلامیہ کی تفہیم عصری اسلوب میں

حذیفہ وستانوی  

(مدیر ماہنامہ شاہراہ علم و ناظم جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا)

            اللہ رب العزت نے ہمیں فتنوں کے اس تاریک دور میں اسلام اورایمان جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی، اس پرہم اپنے خالق و مالک کا جتنا شکرادا کریں کم ہے، مگر افسوس کہ فتنہٴ دنیا میں ہم ایسے مبتلا ہو چکے ہیں کہ نہ ہمیں اپنے ایمان کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اپنی نسلوں کی۔ ہم نے اپنے آپ اوراپنی اولاد کو بھی طاغوتی طاقتوں کے مرتب کردہ نظام ِتعلیم، نظامِ معاشرت، نظامِ معیشت وسیاست ، فلموں، سیریلوں، کھیل کود، کارٹون، گیم ، میڈیا اورسوشل میڈیا کے حوالے کرکے شیطان کے چال اور جہنم کے جال میں پھنسا دیا ہے، جو ہمیں مقصدِ حیات سے غافل کرکے محض فانی لذت پرستی اور شہوت رانی کے دلدل میں پھنساتا چلا جا رہا ہے، جس سے ہم اس مثل ”نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے“ کا مصداق ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

آئیے عہد کریں!

            توآئیے ! ہم امام مالک کے اس قول پرعمل کرنے کاعہد کرتے ہیں، آپ نے فرمایا ہے:”لن یصلح اخر ہذہ الامة إلا بما صلح به أوله“ اس امت کے اخری دور کے مسلمان کی صلاح و فلاح اسی طریقے سے ممکن ہو سکے گی، جس سے پہلے دور( یعنی دورِنبوی میں صحابہ) کی اصلاح ہوئی۔

 اصلاح ِصحابہ کا طریقہ کیا تھا ؟

            رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعوتی زندگی کا اگر ہم جائزہ لیتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مرحلے میں اپنے گھر والوں سے آغاز کیا اور ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ پرعمل کیا۔ اس لیے کہ آپ کو وہی لوگ خوب اچھی طرح جانتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی تھے اور ماشاء اللہ ام المومنین حضرت خدیجة الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سب سے پہلے دعوت کو قبول کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیرینہ دوست سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے، اس کے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، اس کے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اورآپ کے قوتِ بازوبن گئے۔

            دوسرے مرحلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کواعلانیہ دعوت دی، بعض نے قبول کیا اورسردار قسم کے افراد نے محض اپنی سرداری کھونے کے خدشے سے قبول نہیں کیا، مگر جن صحابہ نے آپ کی اس دعوت توحید کو قبول کیا، وہ اسلام کے بے مثال داعی بنے ؛گرچہ دوسرے قبول نہ کرنے والے دشمن بن گئے اور ایذا رسانی پراترآئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااسلوبِ دعوت کیاتھا

             حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نوجوان تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عرصہ گزارا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ایمان سیکھا ،پھرقرآنِ کریم سیکھا اوریوں قرآنِ کریم سیکھنے سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ۶۱)

            نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایمان پرخوب محنت کی، اس کے بعد قرآن پر، پھراخلاق پر، پھراحکام پر، پھرفضائل پر۔ ہماری ترتیب معکوسی ہے ہم پہلے فضائل اوربعد میں احکام، اس کے بعد اخلاق اورآخرمیں قرآنِ کریم کی جانب توجہ کرتے ہیں۔

اپنی ترتیب درست کریں!!

             ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب سے پہلے ایمانیات، ضروریاتِ دین اورعقائد پرخوب محنت کریں، ہر چھوٹے بڑے کو اسلامی صحیح عقائد سے واقف کرائیں اورگمراہ کن افکار سے بھی آگاہ کریں۔جیسے مکی دور میں جو دو تہائی سورتیں نازل ہوئیں اس میں عقائد پر مکمل روشنی ڈالی گئی ہے، خاص طورپرتوحید، رسالت، آخرت پر خاص توجہ ہے، اسی طرح اخلاقیات پر بھی کافی زور دیا گیا ہے،نیز مکی سورتوں میں بتایا گیا ہے کہ جن اقوام نے انبیا کو نہیں مانا ،ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ حق و باطل کہ اثرات تاریخی اعتبار سے انسانی معاشرے پرکیسے پڑے، ساتھ ساتھ اللہ کی نعمتوں کی بھی خوب یاد دہانی کروائی گئی ہے، تاکہ اس کی عظمت دل میں بیٹھے؛لہٰذا ہم بھی اس ترتیب سے اصلاحی پیش رفت کریں!

  •            ایمان و عقائد ۔
  •             تدبر ِقرآن ۔
  •              اخلاق۔
  •              تاریخ ۔
  •          آلاء اللہ ۔( اللہ کی نعمتیں)
  •           احکام

            اس بار خصوصی شمارہ کاارادہ کیا تو دل میں یہ داعیہ قوت سے پیدا ہوا کہ ہمارے جو طلبہ تراویح کے لیے جاتے ہیں ان کے ذریعے رمضان کی مناسبت اور” شاہراہِ علم“ کے پلیٹ فارم سے امت کے ہرفرد تک عقائد کوعصری اسلوب میں پہنچا دیا جائے۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح اسلوب میں ضروریاتِ دین، وعقائد ِاسلام کو جمع کرنے کی توفیق عطا فرمائے اورہماری نسلوں کو اسلام پرثابت قدم رکھنے کا سامان مہیا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

عصری اسلوب میں دین کی تفہیم کا کیا مطلب؟

            اسلام کامل و مکمل دین ِبرحق ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، خاص طورپرعقائد اوراصول میں تو تغیر وتبدل اور کمی و زیادتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حضرت آدم علیہ الصلاة والسلام جو اول البشر تھے،آپ سے لے کرخاتم الانبیاء تک سب اصولِ ایمان میں متفق ہیں یعنی سب کا اصول ایمان ایک ہی ہے، صرف حالات کے اعتبار سے شرائع، فروع اوراحکام میں قدرے تبدیلی ہوتی رہی ہے۔

            عصری اسلوب میں تبدیلی کا مطلب مادی اعتبار سے ترقی پذیر دنیا میں لوگوں کے سمجھنے سمجھانے کے انداز میں تبدیلی ہوتی رہی ہیں، لہٰذا مخاطب اور مدعو کی ذہنی سطح اور فکری پرواز کو سامنے رکھ کراسلامی عقائد کو سمجھانے کی کوشش معیوب نہیں، بل کہ مطلوب ہے۔ صحیح ابن حبان کی روایت ہے:

             ”وعلی العقائل ان یکون بصیرا بزمانه “(حدیث: ۳۶۱)

            ” عقلمند کو اپنے زمانے سے واقف ہونا چاہیے۔ “

             یعنی Applied way (عملی طریقہ)کا ماہرہواور the time Idiomatic(محاوراتی الفاظ) میں اپنے مدعیٰ کو پیش کرنا چاہیے، ہم بھی یہی کوشش کرنے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قدم قدم پرمدد فرمائے۔ آمین!

دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ:

            انسان خیال کرے کہ دنیا میں ہمیشہ کوئی نہیں رہا۔ آخرہرشخص ایک روز یہاں سے جائے گا اورآخرت میں اپنا کیا پائے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ یہاں سے کمال حاصل کرکے جائے؛ تاکہ وہاں کے عذابوں سے بچے اوردائمی عیش و آرام پائے۔ اوروہ کمال یہ ہے کہ اپنے خالق ومالک کے سب احکام کو جانے اور مانے۔ اوران احکام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ کہ جن میں ہاتھ پاؤں وغیرہ اعضا کے عمل کی حاجت ہو جیسے نماز، روزہ یعنی عبادات اور معاملات۔ دوسرے وہ کہ جن میں اعضا کے عمل کی حاجت نہ ہو، بل کہ ان کا صرف مان لینا ہی کافی ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو ایک جاننا اوراس کو سمیع و علیم و بصیر سمجھنا یا قیامت اورجنت و دوزخ کو حق سمجھنا۔

فقہ اورعقائد :

            علما نے لوگوں کی آسانی کی خاطر قرآن وحدیث سے پہلی قسم کے احکام نکال کران کو تفصیل سے جدا مرتب کیا اوراس علم کا نام” فقہ“ رکھا اوردوسری قسم کے احکام کو الگ تفصیل سے لکھا اوراس کا نام” عقائد“ رکھا۔(اسلامی عقائد ،ص:۱۱)

علمِ عقائد کا آغاز اور گمراہ فرقوں کا رد:

            شروع کے دور میں علمِ عقائد میں وہ دینی عقائد جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت تھے ذکر کیے جاتے تھے؛ جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب ”فقہِ اکبر“ میں ملتا ہے۔ فلسفیانہ بحثوں کو ان میں دخل نہ تھا، البتہ اس وقت کے گمراہ فرقوں مثلاً معتزلہ اور خوارج وغیرہ کے رد کا اہتمام کیا جاتا تھا، تاکہ عام لوگ ان کی گمراہی سے بچے رہیں۔ (اسلامی عقائد ،ص:۱۲)

            جاننا چاہیے کہ وہ عقائد جو کتبِ اسلامیہ میں درج کیے جاتے ہیں تین قسم کے ہیں:

            قسم اول: وہ ہیں کہ جو یقینی اورقطعی ہیں اور پھر ان کی تین نوع ہیں۔

            ۱- جو قرآن کی ظاہرعبارت سے ثابت ہیں، مثلاً جنت دوزخ اورقیامت کا وقوع۔

            ۲- جن کا مضمون نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نقل متواتر ثابت ہو، خواہ متواتر لفظی ہو یا متواترمعنوی ہو، جیسے عذابِ قبر۔

            ۳- جن پر امت کا اجماع ہوگیا ہو، جیسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت۔

            قسم دوم: وہ عقائد ہیں جو محض عقلی دلائل سے ثابت ہوں، اگرچہ ان کی تائید میں نقلی دلائل بھی موجود ہوں۔ شریعت کی باتیں نبوت پرموقوف ہیں اور وہ موقوف ہے ثبوت باری تعالیٰ اور مسئلہ ثبوت نبوت اورمسئلہ عصمت انبیا پر جو کہ عقلی دلائل سے ثابت ہیں۔

            قسم سوم: وہ مسائل ہیں جواخبارِ آحاد سے ثابت ہوں یا علما نے ان کو قرآن وحدیث سے استنباط کر کے ثابت کیا ہے، لیکن ان میں اسلامی فرقوں کا آپس میں اختلاف ہے، جیسے قرآن کے قدیم یعنی ہمیشہ ہمیش سے ہونے کا مسئلہ اورفرشتوں پرانبیا کی فضیلت کا مسئلہ اوریہ مسئلہ کہ کراماتِ اولیا حق ہیں وغیرہ۔ ان مسائل میں اہلِ سنت، سلفِ صالحین، صحابہ وتابعین کے پیروہیں اوران کے مخالف لوگ محض اپنے خیالات سے ان نصوص کا انکاریا تاویل کرتے ہیں۔ (اسلامی عقائد ،ص:۱۳-۱۴)

اسلامی عقائد سے عمومی غفلت اوراس کاانجام

     دین اسلام میں عقائد کی بڑی اہمیت ہے؛ بل کہ انہیں بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ یہ دین کی بنیادیں ہیں اوران کی مثال جڑوں کی سی ہے۔ عقائد کی اہمیت اور ضرورت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان عقائد کی درستی کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے انہیں اولین حیثیت دے اوران کو سیکھنے میں ذراسی بھی غفلت کا مظاہرہ نہ کرے۔ لیکن آج کل افسوس ناک صورتحال یہ دکھائی دیتی ہے کہ بہت سے مسلمان اپنے دین کے بنیادی اوراہم عقائد سے بھی ناواقف ہیں، بل کہ غفلت کا عالم یہ ہے کہ یہ احساس ہی دلوں سے مٹتا چلا جا رہا ہے کہ عقائد درست کرنے اور سیکھنے کی بھی کوئی ضرورت ہے! یہی حال عصری تعلیمی اداروں کا بھی ہے کہ ان میں پروان چڑھنے والی ہماری نوجوان نسل اپنے دین کے ضروری عقائد سے بھی نابلد رہتی ہے۔

            اس ساری تشویش ناک صورتحال کا جو خطرناک انجام سامنے آنا لازمی تھا وہ یہ ہے کہ ہمارے مسلمانوں میں الحادی اور کفریہ عقائد غیر محسوس انداز سے پھیلتے چلے جارہے ہیں اور وہ ملحدین اور متجددین کے گمراہ کن نظریات کا شکار ہوتے جارہے ہیں، جس کے نتیجے میں فکری ارتداد غیر محسوس انداز سے پھیلنے لگا ہے۔ اسی طرح اہل السنة والجماعة کے حق عقائد کے خلاف بھی مسلسل مہم جاری ہے؛ تاکہ مسلمانوں کو حق جماعت اہل السنة والجماعة سے ہٹا کرگمراہی کی راہ پرلگایا جاسکے۔

            اس کے ضمن میں یہ بات بھی نہایت ہی تشویش ناک ہے کہ جب موجودہ مسلمانوں کا یہ عالم ہے تو بعد میں آنے والی نسلوں کے عقائد کا تحفظ کیسے ہو سکے گا!

            اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر ہرمسلمان اپنے دین کے بنیادی عقائد سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے تو ان فتنوں سے بخوب حفاظت ہو سکتی ہے۔(آئیے اسلامی عقائد سیکھیے،ص:۷)

عقیدہ کی تعریف:

            ”عقائد“ سے مراد دین و مذہب کی وہ باتیں ہیں، جو دل میں جمالی جائیں اور اعمال کی بنیاد ہوں اوران پرنجات اور کامیابی کا دار و مدار سمجھا جاتا ہو۔” عقیدہ“ کی جمع ”عقائد“ ہے۔ ”عقائد“ کو اصولِ دین بھی کہا جاتا ہے۔ عقیدے کی تعریف سے معلوم ہوا کہ عقیدے کا تعلق دل کے ساتھ ہے نہ کہ ظاہری اعضا کے ساتھ۔

عقائد کی اقسام:

            ضروری عقائد کی دو قسمیں ہیں:

            ۱- عقائد کی ایک قسم تو وہ ہے جو مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان پرایمان لائے بغیرکوئی مخلص مسلمان نہیں ہو سکتا، اوران میں سے کسی ایک کا بھی انکار کفر کہلاتا ہے، جیسے: عقیدہٴ توحید، عقید ہٴ رسالت عقید ہٴ آخرت اورعقیدہٴ ختم نبوت وغیرہ۔

            ۲- عقائد کی دوسری قسم وہ ہے جو حق جماعت یعنی اہل السنة والجماعة میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے خلاف عقیدہ رکھے گا تو وہ اہل السنة والجماعت سے خارج ہو کر گمراہ قرار پائے گا، جیسے: ایصالِ ثواب کو حق سمجھنا، قبروں میں انبیاء علیہم السلام کی حیات کا قائل ہونا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول ماننا اوران جیسے دیگرعقائد کو تسلیم کرنا(اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے اوراس کے خلاف عقائد باطل اورگمراہ جماعت کے نظریات ہیں)۔

            اس لیے دونوں قسم کے عقائد کو سمجھنا اوران کو تسلیم کرناضروری ہے۔

عقائدکی درستی کی ضرورت واہمیت

      عقائد کی درستی کی ضرورت واہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ:

            ۱- دین اسلام میں عقائدہ کی مثال بنیادوں اورجڑوں کی ہے، جب کہ اعمال کا درجہ شاخوں کا ہے۔

            ۲- عقائد مقدم ہیں اعمال پر، اس لیے عقائد کی درستی اعمال سے زیادہ اہم اورضروری ہے۔

            ۳- عقائد سے اعمال وجود پاتے ہیں، اس لیےاگرعقائد درست ہوں توان کی وجہ سے درست اعمال وجود پائیں گے، لیکن اگرعقائد غلط ہوں توان کے نتیجے میں غلط اعمال ہی وجود پائیں گے۔

            ۴- کفر اور اسلام کا فیصلہ عموماً عقائد ہی کی بنیاد پرہوتا ہے، اسی طرح حق اورگمراہی کا فیصلہ بھی عقائد ہی کی بنیاد پرہوتا ہے۔

            ۵- اہل السنة والجماعة میں شامل ہونے یا گمراہ ہونے کا تعلق بھی عموماً عقائد ہی کے ساتھ ہے۔

            ۶- عقائد کے بگاڑ کی وعید اورسزا اعمال کے بگاڑ سے زیادہ ہے، حتی کہ کفر اور شرک کی صورت میں تو دائمی جہنم نصیب ہوتی ہے، اللہ تعالی حفاظت فرمائے۔

            ۷- عقائد کی درستی وحدت اسلامی کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ عقائد کا بگاڑ وحدت کو پارہ پارہ کر دیتی ہے۔

            یہی وجہ ہے کہ امت کے تمام جلیل القدر اہلِ علم اوربزرگانِ دین سب سے زیادہ عقائد کی درستی پرزوردیتے ہیں۔

عقائد سیکھنے کے فوائد:

عقائد سیکھنے کے متعدد فوائد سامنے آتے ہیں جیسے:

  •             = عقائد میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، رسالت، آسمانی کتب اورآخرت جیسے اہم امور سے متعلق علم حاصل کیا جاتا ہے، اورچوں کہ یہ اموراہمیت کے حامل ہیں اس لیے ان سے متعلق علم حاصل کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔
  •              عقائد سیکھنے سے کفر و اسلام اورحق و باطل کی پہچان نصیب ہو جاتی ہے اوران سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔
  •              عقائد سیکھنے سے ایمانیات کا علم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ایمان کی حفاظت آسان ہو جاتی ہے۔
  •              عقائد سیکھنے سے اہل حق اوراہل السنة والجماعة کی پہچان اوران میں شمولیت نصیب ہو جاتی ہے۔
  •         عقائد سیکھنے سے اپنے عقائد کے درست ہونے پراطمینان نصیب ہو جاتا ہے۔
  •            عقائد سیکھنے سے ملحدین، متجددین اوردیگر گمراہ افراد کے فتنے سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔
  •             عقائد سیکھنے سے دین کی بنیاد اورجڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔
  •              عقائد سیکھنے سے دنیا اورآخرت کی کامیابی عطا ہوتی ہے۔

عقائد میں بنیادی طور پر چھ چیزوں کی درستی کی اہمیت:

            ویسے تو عقائد کا باب نہایت ہی وسیع ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کی جائے، کیوں کہ دین میں عقائد کوبنیادی حیثیت اوراہمیت حاصل ہے اوران کی درستی اعمال سے مقدم ہے، البتہ ان میں سے بنیادی طورپرچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں کم از کم ہر مسلمان کے عقیدے کا صحیح ہونا نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے:

            ۱- اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں عقائد۔

            ۲- تقدیر کے بارے میں عقائد۔

            ۳- حضرات انبیائے کرام اور حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جیسی مقدس شخصیات کے بارے میں عقائد۔

            ۴- آسمانی کتابوں کے بارے میں عقائد۔

            ۵- فرشتوں اورجنات کے بارے میں عقائد۔

            ۶- موت، قبر، برزخ، آخرت اورجنت و جہنم کے بارے میں عقائد۔(آئیے اسلامی عقائد سیکھئے:۸-۱۰)

اہلُ السنة والجماعة کے ساتھ وابستگی کی اہمیت:

            ما قبل میں ضروری عقائد کی دوسری قسم کا بھی ذکرہوا، جو کہ اہل السنہ والجماعة سے متعلق ہے، اس سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایمان کے بعد اہل السنہ والجماعت کے ساتھ وابستگی نہایت ہی ضروری ہے، اس میں اس کے ایمان اورعقائد کا تحفظ ہے، جبکہ اہل السنہ والجماعة سے انحراف گمراہی ہے۔ یہ ایک تشویش ناک صورتحال ہے کہ عرصے سے جس طرح امتِ مسلمہ کو الحاد، کفراور شرک کی خطرناک وادیوں میں ڈھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں ،اسی طرح اہل السنة والجماعت کو صراط مستقیم سے ہٹا کرگمراہی کی پریشان کن وادیوں میں بھٹکانے کی مہم بھی جاری ہے، گویا کہ یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ایمان کے بعد اہل السنة سے وابستگی کی کوئی ضرورت نہیں، جس کا انجام بدیہی ہونا تھا کہ بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں اہل السنة والجماعة کی حقیقت اور ضرورت سمجھنے اوران سے وابستہ رہنے کی اہمیت ہی باقی نہ رہی، جس کے نتیجے میں متجددین اور گمراہ طبقات کو یہ موقع سہولت سے میسر آگیا ہے کہ وہ ان سادہ لوح مسلمانوں کو اہل السنہ سے دور کر کے اپنے سے وابستہ کر کے صراط مستقیم سے ہٹا دیں اوران بہتر گمراہ فرقوں میں شامل کردیں، جن کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے؛الغرض بہت سے مسلمان کسی مذہبی سکالریا متجدد کا بیان سنتے وقت یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کا تعلق اہل ُالسنة والجماعة سے ہے یا نہیں۔

            اس لیے ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ اہل السنة والجماعة کی حقیقت اوراہمیت کو سمجھے اوران کے ساتھ وابستگی رکھتے ہوئے اپنے عقائد کا تحفظ کرے اورہر قسم کی کھلی اورپوشیدہ گمراہی سے اپنے آپ کو بچانے کی بھر پور کوشش کرے اور صرف انہی مستند اہلِ علم کے بیانات سنا کرے، جن کا تعلق اہل السنة والجماعة کے ساتھ ہو۔

            ذیل میں اہل السنة والجماعة کی حقیقت، علامت اوراوصاف اوردیگراہم امورذکر کیے جارہے ہیں جن سے بہت سے شبہات اورمغالطوں کا ازالہ ہو سکے گا ان شاء اللہ۔

اہل السنة والجماعة ہی حق جماعت ہے:

            حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضوراقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”بنی اسرائیل ۷۲/ فرقوں میں بٹے تھے، جبکہ میری امت میں ۷۳/ فرقے بنیں گے، ان میں ایک کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ ایک کامیاب اوربرحق جماعت کون سی ہو گی؟ تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ” مَا أَنَا عَلَیْهِ وَأَصْحَابی“ ،”یعنی جو میرے اورمیرے صحابہ کے طریقے پرہو گی۔“

            سنن الترندی میں ہے:۲۶۴۱ – عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ: ”لَیَأْتِیَنَّ عَلَی أُمَّتِی مَا أَتَی عَلَی بنی إسرائیل حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتَّی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَنْ أَتَی أُمَّه عَلَانِیَةً لَکَانَ فِی أُمَّتِی مَنْ یَصْنَعُ ذَلِکَ، وَإِنَّ بنی إسرائیل تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلَی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّةً، کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً“، قَالُوا: وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ”مَا أَنَا عَلَیْه وَأَصْحَابِی۔“

            یہ حدیث احادیث کی متعدد کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔

مذکورہ بالا حدیث سے حاصل ہونے والی راہنما اور مفید باتیں:

            اس حدیث کی روشنی میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں، جن سے حقیقت پوری طرح واضح ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے شبہات کا ازالہ بھی ہو سکے گا، ان شاء اللہ۔

حق جماعت کا نام اہل السنة والجماعة:

            اس حدیث میں حق جماعت کی جوعلامت بیان فرمائی گئی ہے وہ ہے: ” مَا أَنَا عَلَیْه وَأَصْحَابِی“، یعنی وہ جماعت حق پرہو گی جو حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حضرات صحابہ کی پیروکارہو۔

            ۱- اس سے اس حق جماعت کا نام بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا نام ”اہل السنة والجماعة“ہے، اس نام میں سنت سے مراد حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جب کہ جماعت سے مراد حضرات صحابہ کی جماعت ہے، گویا کہ یہ نام اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔

            ۲- یہ نام حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے، چنانچہ سورہٴ آل عمران آیت نمبر ۱۰۶/ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ: قیامت کے دن اہل السنة والجماعت کے چہرے روشن ہوں گے جبکہ بدعتی اورگمراہ لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، ملاحظہ فرمائیں:

 تفسیر ابن أبی حاتم:

            ۳۹۵۰: عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فی قوله: ﴿یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ﴾ قال: تبیض وجوہ أہل السنة والجماعة…..

            ۳۹۵۱: وبه عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما: ﴿وتسود وجوہ﴾ قال: تسود أہل البدع والضلالة.

 تفسیر ابن کثیر:

            وقوله تعالی: ﴿یَوْمَ تَبْیَضُ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہُ﴾ یعنی: یوم القیامة، حین تبیض وجوہ أہل السنة والجماعة، وتسود وجوہ أہل البدعة والفرقة، قاله ابن عباس رضی اللہ عنہما.

            ۳- یہ نام خیرالقرون یعنی اسلام کے ابتدائی تین زمانوں میں بھی معروف تھا ؛جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مذکورہ قول سے بھی معلوم ہو جاتا ہے، اسی طرح امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے لوگ حدیث کی سند کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے، لیکن جب فتنہ عام ہو گیا تو اس تحقیق کی ضرورت پیش آگئی کہ اہل السنة کی احادیث قبول کی جائیں گی؛ جب کہ اہل بدعت کی احادیث قبول نہیں کی جائیں گی۔

            صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے:

            ۲۷ – حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ زَکَرِیَّاءَ عَنْ عَاصِمِ الْأَحْوَلِ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ: لَمْ یَکُونُوا یَسْأَلُونَ عَنِ الإِسْنَادِ فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا: سَمُّوا لَنَا رِجَالَکُمْ فَیُنْظُرُ إِلَی أَہْلِ السُّنَّةِ فَیُؤْخَذُ حَدِیثُہُمْ، وَیُنْظَرُ إِلَی أَہْلِ الْبِدَعِ فَلَا یُؤْخَذُ حَدِیثُہُمْ.

            اس اہم فرمان سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:           

تابعین کے دور میں بھی اہل السنة ایک معروف نام تھا۔

            احادیث صرف اہل السنہ کی قبول کی جائیں گی، ان کے علاوہ دیگر گمراہ شخصیات اورطبقات سے حدیث نہیں لی جائے گی۔

             اس سے معلوم ہوا کہ احادیث سمیت دین کے ہرمعاملے میں صرف اہل السنة ہی کی بات معتبر سمجھی جائے گی۔

            اسی طرح امام ترمذی رحمہ اللہ ایک روایت کے تحت اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعلق مذاہب بیان فرماتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ یہ اہل السنة والجماعة کا مذہب ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام خیر القرون میں معروف تھا۔

 سنن الترندی میں ہے:

            ۶۶۴ – حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ العَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا القَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَةَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ا: ”إِنَّ اللَّہَ یَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَیَأْخُذُہَا بِیَمِیْنِه فَیُرَبِّیہَا لِأَحَدِکُمْ کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ مُہْرَةُ، حَتَّی إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِیرُ مِثْلَ أُحُدٍ، وَتَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ﴾ (التوبة: ۱۰۴)، و﴿یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ﴾ (البقرة: ۲۷۶). ہَذَا حَدِیثُ حَسَنٌ صَحِیحٌ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِیّ ا نَحْوَ ہَذَا، وَقَدْ قَالَ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ العِلْمِ فِی ہَذَا الحَدِیثِ وَمَا یُشْبِهُ ہَذَا مِنَ الرِّوَایَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَیْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا، قَالُوا: قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَایَاتُ فِی ہَذَا وَیُؤْمَنُ بِہَا وَلَا یُتَوَہَّمُ وَلَا یُقَالُ: کَیْفَ ہَکَذَا رُوِیَ عَنْ مَالِکٍ وَسُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَةَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَنَّہُمْ قَالُوا فِی ہَذِہِ الأَحَادِیثِ أَمِرُّوہَا بِلَا کَیْفٍ، وَہَکَذَا قَوْلُ أَہْلِ العِلْمِ مِنْ أَہْلِ السُّنَّةِ وَالجَمَاعَةِ…

اہل السنة والجماعة کی علامت:

            ما قبل کی حدیث میں حق جماعت کی جوعلامت بیان فرمائی گئی ہے وہ ہے: ”مَا أَنَا عَلَیْه وَأَصْحَابی“ یعنی وہ جماعت حق پرہوگی جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حضرات صحابہ کرام کی پیروکار ہو۔ یہ ایک واضح معیار اورپیمانہ ہے اپنے عقائد و نظریات، اعمال، اخلاق، کردار اورزندگی کے تمام امور کو جانچنے اور پرکھنے کا کہ اگر یہ تمام باتیں سنت اورصحابہ کرام کے مطابق ہیں توکامیابی ہے ورنہ تو ناکامی ہی ناکامی ہے۔ یقینا اس معیارکو اپنانے سے بہت سی بدعات سمیت فرقہ واریت کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔

صرف اہل السنة والجماعة نام رکھ لینا کافی نہیں:

            اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ صرف اہل السنة والجماعة نام رکھ لینے سے کوئی اہل السنة نہیں بن جاتا، بل کہ اس کے لیے سنت اور صحابہ کرام کی مکمل پیروی ضروری ہے۔

کیا تمام فرقے صحیح ہیں؟

            اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس امت میں تہتر فرقے بنیں گے، جن میں سے صرف ایک جماعت حق پرہو گی، اس سے واضح طورپرمعلوم ہوتا ہے کہ امت میں موجود تمام فرقے حق پر نہیں ہو سکتے، اس سے ان حضرات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جو کہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے فرقے اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اس لیے کسی بھی فرقے کوغلط نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح وَحدت ِادیان فتنہ بل کہ کفر ہے کہ یہ کہا جائے کہ دنیا میں موجود تمام ادیان اپنی اپنی جگہ برحق ہیں تواسی طرح وَحْدَتِ فرَق بھی فتنہ اور گمراہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ سارے فرقے اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اس لیے کسی بھی فرقے کوغلط نہیں سمجھنا چاہیے۔

کیا سارے فرقے غلط ہیں؟

            اس حدیث سے ان حضرات کی غلطی بھی معلوم ہو گئی جو یہ سمجھتے ہیں کہ تمام فرقے غلط ہیں، اس لیے کسی بھی فرقے کو نہیں ماننا چاہیے؛ بل کہ ہم صرف مسلمان ہیں اور ہمارا کسی بھی طریقے اور جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان حضرات کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارک میں یہ واضح فرمادیا کہ ان تہتر فرقوں میں سے ایک جماعت ضرور حق پرہو گی، اس لیے ہر مسلمان کو اسی حق جماعت کے ساتھ وابستگی نہایت ہی ضروری ہے۔

حق جماعت اہل السنة والجماعة کے ساتھ وابستگی کی ضرورت:

            اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر مسلمان کے لیے ایمان کے بعد گمراہی سے بچتے ہوئے حق جماعت اہل السنة والجماعة کے ساتھ وابستگی نہایت ہی ضروری ہے، یہی اس کی کامیابی اور نجات ہے، جب کہ اس سے غفلت کے نتیجے میں یہ قوی اندیشہ ہے کہ وہ گمراہ فرقوں میں شامل ہو کراس حدیث کی وعید کا مصداق بن جائے۔

اہل السنة والجماعة سے انحراف جرم ہے؟

            اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس حق جماعت اہل السنة والجماعت کے عقائد سے ہٹ کر باطل اور گمراہ کن عقیدے ایجاد کرنا نہایت ہی سنگین جرم ہے، بل کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حق عقائد اورحق جماعت ہی کے ساتھ وابستہ رہے۔

فرقہ واریت کی شدید مذمت:

            اس حدیث سے فرقہ واریت کی نہایت ہی مذمت ثابت ہوتی ہے کہ مسلمان حق جماعت اہل السنہ والجماعت کا دامن تھامے رکھیں اور نئے فرقے ایجاد کرنے سے بچیں۔

اہل السنة والجماعة کی طرف دعوت فرقہ واریت نہیں:

            اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اہل السنة والجماعة جب حق جماعت ہے، تو اس کی طرف دعوت فرقہ واریت ہرگز نہیں، بل کہ یہ تو اس حدیث کا منشا ہے کہ اس کی طرف دعوت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتی ہے اور یہ تو ہدایت کا تقاضا ہے کہ حق جماعت اہل السنة والجماعة کی وابستگی کی ترغیب اور تاکید کی جائے، جس طرح حق دین اسلام کی طرف دعوت دینا ایک اہم عمل ہے اسی طرح حق جماعت اہل السنة والجماعة کی طرف دعوت دینا بھی ایک اہم عمل ہے۔

            البتہ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اہل السنة والجماعہ کی طرف دعوت دینے میں حکمت اور مناسب اسلوب کی رعایت رکھنی چاہیے؛ جیسا کہ قرآن و سنت کی تعلیمات ہیں۔ اسی طرح باہمی افتراق، انتشار اور فرقہ وارانہ تنازعات سے بھی بالکلیہ اجتناب کرنا چاہیے۔

اہل السنة والجماعة کے عقائد و نظریات واضح کرنے کی ضرورت:

            اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جب اہل السنة والجماعة حق جماعت ہے اور اس کے ساتھ وابستگی ضروری ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اہل السنة والجماعة کے عقائد و نظریات، اعمال وغیرہ واضح طورپربیان کیے جائیں؛ تاکہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہوئے اہل السنة والجماعة کے ساتھ وابستہ ہو جائیں اور گمراہی سے محفوظ ہو جائیں۔

مسلمانوں کے اتحادکی ایک صحیح صورت

     امت مسلمہ کے باہمی اتحاد اوراتفاق کی سب سے صحیح اوربہترین صورت وہی ہے، جو اس حدیث میں بیان ہوئی کہ مسلمان ” مَا أَنَا عَلَیْه وَأَصْحَابِی“ کے پیروکار بن جائیں، یہی ایک صورت ہے باہمی اتحاد کی اور فرقہ واریت کے خاتمے کی اور یہی صورت اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے، اس کے علاوہ غلط عقائد و نظریات یا بدعات کی بنیاد پراتحاد کی کوشش عند اللہ مذموم ہو گی، جیسا کہ اس حدیث سمیت متعدد دلائل سے واضح ہے۔

اہل السنة والجماعة کے سواد یگر ۷۲/ فرقوں کا حکم:

            اہل السنة کے سوا دیگر تمام بہتر فرقے اسلام میں داخل ہوں گے، البتہ اپنے گمراہ کن عقائد کی وجہ سے گمراہ اوربدعتی شمارہوں گے، جس کی سزا انہیں ملے گی اور پھر بالآخر ایمان کی وجہ سے جنت میں جائیں گے، یعنی اگر ان کے اعمال سو فیصد درست بھی ہوں تب بھی ان کے عقیدے کا بگاڑ ا نہیں جہنم لے جانے کے لیے کافی ہو گا؛ البتہ ان گمراہ فرقوں میں سے جو شخص انفرادی طورپرکفر یا شرک میں مبتلا ہو جائے تب تو کفر اور شرک کا حکم لاگو ہوگا۔

اہل السنة والجماعة سے خارج کون؟

            ما قبل کی تفصیل سے واضح ہوا کہ اہل السنة والجماعة سے وابستگی ہدایت ہے؛ جب کہ ان سے انحراف واضح گمراہی ہے، یہ بات تو بالکل ظاہر ہے کہ اہل السنة والجماعة سے وابستگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام اہم نظریات و عقائد کو تسلیم کر لیا جائے، اگر کسی کا ایک عقیدہ بھی اہل السنة والجماعة کے خلاف ہو تو اس کو اہل السنة سے خارج ہی قرار دیا جائے گا؛ جیسے کہ کسی ایک کفریہ عقیدے کی وجہ سے مسلمان اسلام سے نکل جاتا ہے۔

            استاد محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دام ظلہم نے اہل السنة والجماعة سے خارج ہونے کے لیے یہ اصول ذکر فرمایا ہے کہ: ”جو شخص عقائد یا اجماعی مسائل میں جمہور کی مخالفت کرے یا سلف صالحین کو برا کہے تو ایسا شخص اہل السنة والجماعة سے خارج اور اہل بدعت میں داخل ہے۔“ (اصول الافتاء و آدابہ)

            یہ بنیادی اصول ہے جس سے بہت سے امورحل ہو سکتے ہیں۔

            اس تفصیل سے ہر مسلمان کے لیے اہل السنة والجماعة کے ساتھ مضبوط وابستگی کی اہمیت بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔

اہل السنة والجماعة دیوبند کی حقیقت:

            دیوبند کسی فرقے کا نام نہیں، بل کہ یہ بر صغیر میں اہل السنة والجماعة کے مکمل پیروکار اور صحیح ترجمان ہیں، گویا کہ اہل السنة والجماعة کا جو قافلہٴ حق حضرات صحابہ کرام سے چلا تھا تو دیو بنداسی قافلہٴ حق کا تسلسل ہے۔

حق جماعت اہل السنة والجماعة کے اوصاف:

            قرآن وسنت، حضرات ِصحابہٴ کرام اورشرعی دلائل کی روشنی میں اہل السنة والجماعة کے جواوصاف سامنے آتے ہیں، ان کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:

            اہل السنة والجماعة وہ جماعت ہے، جو قرآن کریم، سنت اور صحابہ کے طریقے پربڑی مضبوطی کے ساتھ قائم ہو، انہی کی پیروی اپنے لیے باعث ِہدایت سمجھتی ہو۔

             عقائد، فقہ اور اخلاقیات سمیت زندگی کے ہر قول و فعل اور کردار میں ان کی اتباع کواصل اوراہم قراردیتی ہو، ان سے انحراف کرتے ہوئے دین میں بدعات ایجاد کرنے سے مکمل اجتناب کرتی ہو۔

             جو سنت سے محبت اور بدعات سے شدید نفرت کرتی ہو۔

             جو قرآن و سنت اوراجماع و قیاس کو شرعی دلائل قراردیتی ہواوربالترتیب ہر ایک دلیل کو اس کے مقام و مرتبہ پررکھتی ہو۔

             جو اجتہادی امور میں مجتہد کے لیے اجتہاد، جب کہ غیر مجتہد کے لیے ان کی تقلید کو ضروری قرار دیتی ہو۔

             جو تمام اسلامی عقائد کو ان کی صحیح اور اصلی شکل میں قبول کرتی ہے اور کسی بھی عقیدے کے بارے میں غلویا افراط و تفریط کا شکار نہیں ہوتی۔

             جو توحیدِ الہی کا اہم عقیدہ رکھتے ہوئے، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتی۔

             جو غیر اللہ سے حاجتیں اور مرادیں نہیں مانگتی، غیر اللہ کو دعا اور مدد کے لیے نہیں پکارتی، غیر اللہ کی نذر و نیاز نہیں مانتی اور غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح نہیں کرتی۔

             جو پیغمبروں کو معصوم سمجھتی ہے، ان کے علاوہ امت میں کسی کو معصوم نہیں سمجھتی۔

             جو تمام صحابہ کرام اوراہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی تعظیم واحترام کرتی ہے، ان کا تذکرہ خیر کے سوا کچھ نہیں کرتی اوران پر تنقید کو روا نہیں رکھتی، انہیں اللہ کے محبوب بندے قرار دیتی ہے جن کے لیے اللہ نے مغفرت اور جنت کی بشارت دی ہے۔

             جو انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام کو سب سے افضل قرار دیتی ہے، پھر حضرات صحابہ میں سے بھی سب سے افضل صحابی حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان، پھر حضرت علی کو قرار دیتی ہے۔

             جو کہ اولیاء اللہ بزرگانِ دین، علمائے امت اورائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کا احترام کرتی ہے، توحید کی آڑ میں نہ تو بزرگوں کے کمالات وکرامات کا انکار کرتی ہے، اور نہ ہی بزرگوں کے کمالات و کرامات کی بنا پر ان کو خدائی کا درجہ دیتی ہے؛ بل کہ ان کو خدا کے محبوب بندے گمان کرتے ہوئے ان کو انہی کے مقام و مرتبہ پررکھتی ہے۔

             جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہے اور اس میں غیر شرعی طریقوں سے اجتناب کرتی ہے۔

            خلاصہ یہ کہ جو عقائد، فقہ اوراخلاق میں قرآن وسنت، صحابہ اورائمہ کی پیروکار ہے۔

            (اہل السنة والجماعة کے مذکورہ اوصاف بنیادی طور پر حضرت مفتی طاہر مسعود صاحب دام ظلہم کی کتاب ” عقائد اہل السنة والجماعة“ سے ماخوذ ہیں البتہ ان میں کافی ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔)(آئیے اسلامی عقائد سیکھئے:۱۴-۲۳)

            مذکورہ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کے لیے ان عقائد کا جاننا ضروری ہے ،جس سے ایمان و اسلام اور کفر و شرک و الحاد کے درمیان تمیز ہوسکے اور ساتھ ہی ان عقائد سے واقفیت بھی ضروری ہے ، جو ضلالت و گمراہی سے بچاتے ہیں اور اہلِ سنت والجماعت کا مصداق بناتے ہیں۔

             تو آئیے!!! پہلے ضروریاتِ دین اور بنیادی عقائد اوراس کے ساتھ ایمان واسلام سے محروم کرنے والے باطل نظریات و اعتقادات کو جانتے ہیں، اس لیے کہ ایمان و اسلام کا معاملہ بڑانازک ہے، ضروری نہیں کہ آدمی صراحت کے ساتھ کفریہ یا شرکیہ کام کرے توہی اسلام سے خارج ہو گا۔ فقہا نے لکھا ہے کہ مرتد ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی مسلمان یہودی یا عیسائی ہو جائے، یا مندر جائے، بھجن گائے، پوجا پاٹ کرے، گھنٹی بجائے اور بتوں کو سجدہ کرے، ایسا نہیں ہے ۔ آدمی روزہ، نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ بھی مرتد ہو سکتا ہے اور اسلام سے نکل سکتا ہے، وہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہو، حدیث بھی پڑھتا ہو، تب بھی مرتد ہوسکتا ہے۔ وہ کیسے؟ مثلاً :

            بظاہر تو یہ سب کر رہا ہو، مگر دل سے اللہ کو نہ مانتا ہو!!

             اللہ کے کسی صریح حکم کا انکار کر رہا ہو!!

             قرآنِ کریم کا مذاق اڑا رہا ہو!!

             سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو حقارت سے دیکھتا ہو!!

            کسی متواتر حکم کا انکار کر رہا ہو!! مثلاً زکوة کا انکار کر رہا ہو!

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ مان رہا ہو!!

             حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کا انکار کرتا ہو!!

            اسلام کے قطعی احکام پر ملحدین کے اعتراض سے شک وشبہہ میں پڑ گیا ہو۔

            آج قادیانی، شکیل بن حنیف کو ماننے والے اس میں شامل ہیں۔ ایسے گمراہ لوگوں کو ماننے والے نماز، روزہ اور زکوة ،سب کچھ کرنے کے بعد بھی اسلام میں داخل نہیں۔

             اسی طرح اسلام کی بنیادی عقائد و احکام سے عدم ِواقفیت کی وجہ سے بہت سارے جدید تعلیم یافتہ اور مغربی مادی تہذیب سے مرعوب و متأثر افراد بھی فکری ارتداد کا شکار ہیں۔ مثلاً :

            ۱- بعض لوگ روزہ کو بے فائدہ سمجھتے ہیں !!

            ۲- بعض لوگ نماز کو بیکار، تھکنے سے تعبیر کرتے ہیں، العیاذ باللہ !

            ۳- بعض انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی توہین کرتے ہیں !

            ۴- بعض نام نہاد مسلمان حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں !

            ۵- بعض عورتوں کو طلاق کا حق دینے کے قائل ہیں!

            ۶- بعضے جدید فکر سے متاثر مسلمان عورتوں کے تعلق سے اسلام میں زیادتی کے قائل ہیں !!

            ۷- بعض نام نہاد مسلمان حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سے زائد شادی پراعتراض کرتے ہیں!!

            ۸- بعض شراب، ناچ، گانے وغیرہ کی عدمِ حرمت کے قائل ہیں !!

            ۹- بعض اسلام کے نظامِ میراث کو صحیح تصور نہیں کرتے ہیں !!

            ۱۰- بعض لوگ اسلام کے جرائم پرسزاؤں کو ظلم گردانتے ہیں !!

            علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے درست کہا ہے 

یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

            احسن اعظمی کہتے ہیں 

سخت مشکل ہوا اب صاحبِ ایمان ہونا

نہیں اس دور میں آسان مسلمان ہونا

             ہوا پرستی، دنیا طلبی اور جاہ طلبی کے اس دور میں بے دینی کے طوفان کے سامنے مضبوط ستون بن کرایمان پرثابت قدم رہنے کے لیے سب سے پہلے اپنے عقیدے کو تفصیل کے ساتھ جاننا اوردل کی گہرائی میں راسخ کرنا اس دور کی اولین ضرورت ہے۔

             تو آئیے!! عصری اسلوب میں عقیدہٴ حق اوراس کے مقابلے میں کفریہ شرکیہ اورالحادی افکارونظریات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔