الحادِ جدید اور اس کی قسمیں

            عصر ِحاضر میں الحاد کا لفظ عموماً لادینیت اوروجود خدا کے عدم ِیقین کے معنوں میں بولا جاتا ہے- یعنی ایسا شخص جو مطلقاً مذہب کی ضرورت کا انکاریا وجودِ نبوت ورسالت اورآخرت میں سے کسی ایک کا یا تینوں کا انکار کرے وہ ملحد ہے- زمانہٴ قدیم سے ہی بعض لوگ الحاد کے کسی نہ کسی شکل میں قائل تھے- لیکن اس معنی میں خدا کے وجود کا انکار بہت ہی کم کیا گیا ہے- بڑے بڑے مذاہب میں صرف بدھ مت ہی ایسا مذہب ہے جس میں کسی خدا کا تصور نہیں ملتا- اسی طرح ہندومذہب کے بعض فرقے جیسے جین مت میں خدا کا تصور نہیں ملتا- اس کے علاوہ دنیا بھر میں صرف چند ہی فلسفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے خدا کا انکار کیا- عوام الناس کی اکثریت ایک یا کئی خداؤں کے وجود کی بہر حال قائل رہی ہے- نبوت و رسالت کا اصولی حیثیت سے انکار کرنے والے بھی کم ہی رہے- ہاں ضرورہوا کہ جب کوئی نبی یا رسول ان کے پاس خدا کا پیغام لے کرآیا تو اپنے مفادات یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے انہوں نے اس مخصوص نبی یا رسول کا انکار کیا ہو- حضورنبی کریم(ﷺ) کے دور کے مشرکین کے بارے میں بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ خدا کے منکر تو نہ تھے، لیکن ان میں آخرت پریقین نہ رکھنے والوں کی کمی نہ تھی۔(”الحاد ایک تعارف“ص:29- 28)

            عصر حاضر میں الحاد کا لفظ عموماً انکار ِمذہب یا وجود ِخدا کے عدم یقین پربولا جاتا ہے؛ لیکن وسیع مفہوم کے تناظر میں دیکھا جائے تو دور حاضر میں الحاد کی 3 بڑی قسمیں ہیں-جنہیں مروجہ اصلاحات میں الحادِ مطلق (Gnosticism) لا ادریت (Agnosticism) ڈیزم (Deism) کہا جاتا ہے۔

1-الحاد مطلق (Gnosticism)

            Gnosticism سے مراد معرفت یا علم رکھنا ہے- یہ ملحدین خدا کے انکار کے معاملے میں شدت کا رویہ رکھتے ہیں- یہ لوگ روح، دیوتا، فرشتے، جنت، دوزخ اورمذہب سے متعلقہ روحانی امواراور مابعدالطبیعاتی (metaphysical) امور کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کرتے-ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بات کا اچھی طرح علم رکھتے ہیں کہ انسان اورکائنات کی تخلیق میں کسی خالق کا کمال نہیں ہے – بلکہ یہ خود بخود وجود میں آئی ہے اور فطری قوانین (laws of nature) کے تحت چل رہی ہے- اس نقطہ نظر کے حاصل لوگوں کو ”Gnostic Atheist“ کہا جاتا ہے- عام طورپرجب ملحدین یعنی ایتھی ایسٹ کا ذکر ہوتا ہے تو ملحدین سے مراد یہی طبقہ ہے۔

لاادریت(Agnosticism):

            لاادریت کی اصطلاح انیسویں صدی کے اواخر میں ایک انگریز ماہر ِحیاتیات ٹی. ایچ. ہکسلے نے رقم کی تھی- یہ اصطلاح متعارف کرنے کا مقصد ان لوگوں سے مخاطب ہونا تھا، جن کی پسندیدگی اپنی ذات ہوتی ہے اور وہ مابعد الطبیعات اور دینیات کے تناظر میں الجھی بحثوں سے خود کو دور رکھتے ہیں- (1984ء) یعنی اختصار سے کہا جائے تو یہ نظریہ کہ خدا ہے یا خدا نہیں ہے، اس بحث میں الجھنے سے گریزکرنا- بالفاظِ دیگر theismاورatheismکے جھگڑے سے ماورا یہ ایک ایسی اصطلاح ہے، جس کے حامل لوگ خدا کے وجود کی بحث میں الجھنے سے گریز کرتے ہیں۔

ڈی ایزم (Deism):

            اس کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ اگرچہ خدا ہی نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، لیکن اس کے بعد وہ اس سے بے نیاز ہو گیا ہے- اب یہ کائنات خود بخود چل رہی ہے- دوسرے لفظوں میں اس تحریک کا ہدف رسالت اورآخرت کا انکار تھا- اس تحریک کو فروغ” ڈیوڈ ہیوم“ اور” مڈلٹن “کے علاوہ مشہورماہر ِمعاشیات ”ایڈم سمتھ“ کی تحریروں سے بھی ملا- بنیادی طورپریہی تین نظریے کے حامل ملحدین عصر حاضر میں موجود ہیں۔

 مغرب کے ملحدانہ نظریات:

            فکر ِمغرب کے اجزا وہ مشہور نظریات ہیں جو بیسویں صدی کے چوتھے عشرے تک سامنے آ کر مغربی معاشرے میں سرایت کر چکے تھے، بلکہ معاشرہ،زندگی کے ہرمیدان میں اپنے آپ کو ان کے حوالے کر چکا تھا؛ کہیں کوئی مخالفت بیسویں صدی کے آغاز میں موجود تھی بھی؛تو وہ بیسویں صدی کا نصف حصہ گزرتے گزرتے دم توڑ چکی تھی۔

  •             ڈارون کا نظریہ ٴارتقا۔
  •            …میڈو گل کا نظریہ ٴجبلت۔
  •           …سگمنڈ فرائڈ کا نظریہٴ جنس ۔
  •            …کارل مارکس کا نظریہ ٴدولت۔
  •            …ایڈلر کا نظریہٴ حب ِتفوق۔

            مغربی فکر وفلسفہ کے بڑے بڑے امام ڈارون، میڈو گل، فرائڈ، ایڈلر، کارل مارکس اور میکاولی ہیں۔ ڈارون کی طرف ارتقا کا نظریہ منسوب ہے؛ میکڈو گل نے جبلت کا نظریہ پیش کیا ہے؛ فرائڈ اور ایڈلر نے لاشعور کے نظریات پیش کیے ہیں؛ کارل مارکس کی طرف سوشلزم کا نظریہ منسوب ہے، اور میکاولی نیشنلزم کی موجودہ شکل کا مبلغ سمجھا جاتا ہے۔

            یہ پانچ تو وہ ہیں جو زیادہ زور پکڑ سکے ہیں اور جنہوں نے موجودہ الحاد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، ورنہ صرف یہ پا نچ نظریات نہیں ظاہرہوئے، بلکہ جناب سید محمد سلیم نے ”مغربی فلسفہ تعلیم ایک تنقیدی مطالعہ“میں تقریباً ایسے سو ملحدانہ افکار کا ذکر کیا ہے؛(مغربی فلسفہ کی وجہ سے دین کے بارے میں ایک سو پچاس سے زائد گم راہیوں کو پروفیسر حسن عسکری صاحب نے مرتب کیا ہے) اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغرب میں الحاد نے کیسا سراٹھایا ہوگا!!!

            لا دینی تحریک پر سید محمد سلیم تحریر فرماتے ہیں:

لا دینی تحریک

            غیرمحسوس اور غیرمادّی حقائق کا برملا انکار کرنے کے بعد مذہب بیزاری Theophobia جدید نظام فکرکا اہم عنصر پایا۔ مغرب میں اب صرف وہ علم معتبر ہے؛جس سے لا دینی فکر کو تقویت ملتی ہو؛ سائنس کا ہرہم سفر شعوری یا غیر شعوری طورپرمذہب بیزاری کے جذبے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ مغرب کے حکما اور فلاسفہ کی اس ذہنیت کو ”لادینیت“ Secularism کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ لاادریت Agnosticism سے بالکل مختلف نظریہ ہے۔ یونان کے ”لا ادریہ“ فلسفی لاعلمی کے مدعی تھے؛لیکن جدید دور کے حکماء اور فلاسفہ مذہب دشمنی کے عَلَم بردار ہیں۔ خدا کے تصور کو حذف کرنا اورمادیت کے ذریعہ کائنات کی ہرشی کی تشریح کرنا اب سائنس کا منتہائے مقصود بن گیا ہے؛ اس کا واضح ثبوت فرانس کے سائنس داں ”لاپلاس“ Laplace کے جواب سے ملتا ہے؛ اس نے اپنی طبیعاتی تصنیف نپولین (1804ء تا 1814ء) کو پیش کی۔ نپولین نے لاپلاس سے دریافت کیا؛ میں نے آٹھ سو صفحات کی کتاب میں خدا کا لفظ کہیں نہیں پڑھا؛ اس کی کیا وجہ ہے؟ لاپلاس نے جواب دیا: ”آقا! اب اس فارمولے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔“(مغربی فلسفہٴ تعلیم کا تنقیدی جا ئزہ، ص:32)

الحادکو عام کرنے کے لیے یہودی منصوبہ 

            یہودی عرصہٴ دراز سے تمام عالم کے انسانوں کے خلاف بلا امتیاز مسلم وغیر مسلم اس قدرگھناؤنی سازشیں کرتے چلے آرہے تھے اوران کے خفیہ منصوبوں نے ساری دنیا کو درہم برہم کررکھا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی ان سازشوں کا دنیا کو شعورکیوں نہیں اوروہ اس کے توڑکے لیے اس عیار قوم کے خلاف کیوں نہیں اٹھ کھڑی ہوتی، خصوصاًمسلمان جن کے پاس تعلیمات الٰہیہ اپنی اصل میں موجود ہیں اورجذبہ جہاد جن کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے وہ ان منصوبوں کا ادراک کرکے ان کے بانیوں کو کیفرکردارتک پہنچانے میں کیوں سست ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ یہودیوں نے ایسی حکمت ِعملی اپنا رکھی ہے اوراپنے منصوبوں کوروبعمل لانے کے لئے ایسے زیر ِزمین طریقے وضع کررکھے ہیں کہ ان کی زد میں آنے کے بعد دنیا کواپنا ہی ہوش نہیں رہا وہ ان کی چالوں کامقابلہ کیوں کر تے رہ گئے، مسلمان تو ان کی کامیابی کی تین بنیادی اورموٹی موٹی شرائط تھیں۔

            ۱۔ احکاماتِ الٰہیہ اورسنت نبویہ پر پورا پورا عمل۔

            ۲۔ فریضہ ٴ جہاد فی سبیل اللہ کی ادائیگی۔

            ۳۔ خلافت اسلامیہ کا قیام۔

             یہودیوں نے ایسا طریق کاراپنا یا کہ وہ رفتہ رفتہ ان تینوں میں کمزورہوتے ہوتے محروم ہونے کے قریب پہنچ گئے،مسلمانو ں میں سے جن افراد،تحریکوں یا اداروں کو ان باتوں کا شعوراورملت اسلامیہ میں ان کے احیاء کی فکر ہے وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، اس شعورکو سلب کرنے کے لئے یوں تو یہودیوں نے بیسیوں نہیں سینکڑوں طریقے استعمال کئے لیکن بطورخاص ایک اصولی طریقہ اپنایاگیا یہ ایک پیچیدہ اورعام لوگوں کے لئے ناقابل فہم طریقہ ہے؛ لیکن چوں کہ یہ اتنا اہم ہے کہ سارے یہودی سازشی نظام کی بنیادیں اس پرکھڑی ہیں اس لئے اسے ذرا تفصیل سے اورخفیہ دستاویزات کے حوالوں کے ساتھ ذکرکیا جاتا ہے۔ اللہ کرے مسلمان اس کو پڑھ کر فکرمندہوں اوراس نہج پرلوٹ آئیں، جورسول اللہ ﷺ نے انہیں دیا تھا اورجسے صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عملاً بتاکران تک پہنچایا تھا اورجس کا خلاصہ اوپرلکھی گئی تین باتیں ہیں یہ اصولی طریق ِکار تعقلیت (Rationalisation)کہلاتا ہے،ریشنلائزیشن وہ عمل ہے جس سے ان کے نزدیک ریشنلزم (Rationalism)کا قیام مقصود ہے،ریشنلزم کامفہوم ہے عقل کو مذہب میں آخری فیصلہ کرنے والا قراردینا اوران تمام نظریات کا رد کرنا، جوعقل سے مطابقت نہیں رکھتے،ریشنلائزیشن کی تین شاخیں مشہورہیں یعنی تین ایسے طریقے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں ،لیکن اصول کے اعتبار سے ایک یعنی عقل پرمبنی ہیں یہ تین طریقے درج ذیل ہیں۔

            ۱۔ سیکولرائزیشن (Secularisation)

            ۲۔ ڈیموکریٹائزیشن (Democratisation)

            ۳۔ کمرشلائزیشن (Commercialisation)

            گزشتہ پانچ سوسال سے یورپ میں ان مقاصد کے حصول کے لئے، بلا مبالغہ ہزاروں تحریکیں تنظیمیں حلقے اورزاویے مختلف ناموں سے کام کررہے ہیں،ان تینوں اصطلاحوں کا مختصر تعارف یہ ہے۔

            ۱۔ سیکولرائزیشن (Secularisation)سے مراد انسان کے فکر ونظر معاملات، تہذیب، ثقافت اورتمدن کوعقیدہ اوردین سے منقطع کرنا یعنی اسے ریگولر(Regular)یعنی متشرع کے بجائے سیکولر(Secular) بنانا ہے، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ بنی نوع انسان کو آسمانی ہدایت اورپیغمبرانہ تعلیمات کی پیروی سے ہٹاکر اسے ہمہ قسم کی پابندیوں سے آزاد اورتمام حدود وقیودسے باغی بنادینے کا نام سیکولرائزیشن ہے، آج کل غیرمسلم دنیا اسی سیکرلرازم کا شکارہوکرجانوروں کی طرح زندگی گزاررہی ہے،پیٹ کی بھوک اورشرمگاہ کی خواہش پوری کرنے کے بعد اسے دنیا ومافیہا سے کوئی سروکارنہیں،عیسائی دنیا تو یہودیوں کی برپا کردہ اس یلغارکے سامنے روندی جاچکی ہے،لے دے کر مسلمان رہ جاتے ہیں جو ابھی تک آسمانی وحی کی بنیاد سے چمٹے ہوئے ہیں، سیکولرائزیشن دراصل ایک وسیع وہمہ جہت عمل کا نام ہے، اس کا نصب العین حقیقی سیکولرازم قائم کرنا ہے جو ریشنلزم (Rationalisation)کی لازمی شرط ہے، ذرا چشم بصیرت سے ان خفیہ دستاویزات کادرج ذیل اقتباس پڑھئے اوراس کی بین السطورپرغورکیجئے۔

            ”عرصہ ہوا پرانے زمانے میں ہم نے سب سے پہلے عوام الناس کے سامنے آزادی، مساوات اوراخوت کے نعرے پیش کئے تھے، بعد کے زمانوں میں اطراف وجوانب کے احمق طوطے ان کی رٹ لگاتے ہوئے اس جال میں پھنستے چلے گئے اوراس کے ساتھ ہی دنیا سے خوشحالی بھی رخصت ہوگئی،یہ خوشحالی تھی فرد کی اصل آزادی جوعوام کے دباؤ سے محفوظ تھی۔

            غیریہودی مفکرین ان مجر د الفاظ کے معنی کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے، انہوں نے ان الفاظ کے معانی کے تضاد اورباہمی تعلق پرغورنہیں کیا، وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ مساوات اورآزادی نظام فطرت کے خلاف ہیں، قدرت نے انسانوں کو یکساں صلاحیتیں نہیں دیں، یہ اصول اتنا ہی ناقابل تبدیل ہے؛ جتنا خود یہ اصول کہ قانون قدرت سے انحراف ناممکن ہے۔

            ہمارے بھولے اورنا سمجھ گماشتوں کی وجہ سے جو ہم نے غیر یہودی معاشرے میں پیدا کردیے تھے، آزادی، مساوات اوراخوت کے الفاظ دنیا کے گوشے گوشے میں زبا ں زد خلائق ہوگئے، جوق درجوق لوگ سرگرمی سے ان الفاظ کے جھنڈے تلے آنے لگے اوررفتہ رفتہ یہ الفاظ غیر یہودکی خوشحالی کوگھن کی طرح چاٹ گئے، امن واستحکام رخصت ہوا اورغیریہودی سلطنتوں کی بنیادیں ہل گئیں،جیسا کہ بعد کے صفحات سے معلوم ہوگا اس عمل نے ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کافی مددکی خوشحالی کوگھن کی طر ح چاٹ گئے، امن واستحکام رخصت ہوااورغیر یہودی سلطنتوں کی بنیاد یں ہل گئیں؛ جیسا کہ بعد کے صفحات سے معلوم ہوگا،اس عمل نے ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کافی مدد کی اورمنجملہ دوسرے فائدوں کے ہمیں ایک شاہ کلید حاصل ہوگئی۔

            جب ہم نے ریاست کے جسم میں آزاد خیالی کا زہرداخل کردیا تواس کا پوراسیاسی نظام درہم برہم ہوگیا، ملک ایک لاعلاج مرض میں مبتلا ہوگیا، زہراس کے خون میں سرایت کرگیا اب صرف یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اسے سسکنے کیلئے چھوڑدیا جائے اوراس کی موت کا انتظارکیاجائے۔

            یہ سوچ دنیا کو کس نے دی؟سیکولر ذہنیت کا منبع کیاہے؟ اورایک مخصوص مدت کے بعد یہ نعرے خود بخود کس طرح ختم کردیئے جائیں گے، آزاد خیا لوں(Libarals) اقوال یعنی ”آزادی ”اوراخو ت عملا ہمارے فری میسن (Freemasion) ہی کے دیئے ہوئے نعرے ہیں، جب ہم اپنی بادشاہت قائم کریں گے توان نعروں کی اتنی قلب ِماہیت کردیں گے کہ یہ ہمارے نعرے نہیں رہیں گے، اس کے بجائے یہ صرف خیالی تصور(Idealism)کا ذریعہ اظہاررہ جائیں گے یعنی ان کے معنی بدل کر ”آزادی کا حق“”مساوات کا فرض“اوراخوت کاتصور“رہ جائیں گے، یہ ہیں وہ معنیٰ جو ہم ان الفاظ کودیں گے اوراس طرح ہم ان نظریات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کریں گے۔

            یہ آزادخیالی کے ذریعہ کس طرح مذہب سے بیزاراورروحانیت سے برگشتہ کیاجاتا ہے، اس کا طریق کاربھی اسی خفیہ کتاب سے پتہ چلتا ہے، درج ذیل اقتباس پرنگاہ بصیرت ڈالئے ”اس خیال کے پیش نظر کہ غیر یہودی ادارے مقررہ وقت آنے سے پہلے ہی نیست ونابود نہ ہوجائیں ،ہم نے اس کا بندو بست بڑی عیاری اورنفاست سے کیا ہے، ہم نے ان کمانیوں پر قبضہ کیا ہوا ہے جو اس مشین کو چلاتی ہیں یہ کمانیاں انتظامیہ کی مشین میں انتہائی حساس مقامات پرواقع ہیں۔ ہم نے وہاں آزاد خیالی کے نام پرافراتفری پھیلانے والوں کوبٹھایا ہوا ہے، ہمارے ہاتھ قانون نافذکرنے والے اداروں میں موجود ہیں،انتخابات کرانے والے اداروں میں موجود ہیں، پریس میں ہیں، انسانی حقوق کے علمبرداراداروں میں ہیں، خصوصیت کے ساتھ تعلیمی اورتربیتی اداروں میں ہیں ،جو آزاد وجود کاسنگ ِبنیاد ہیں، ہم ان خو د ساختہ نظریات اورمسالک کی تعلیم وترویج کے ذریعہ جن کے متعلق ہم خود جانتے ہیں کہ یہ غلط ہیں غیر یہود کے نوجوان طبقے کو ورغلاکراخلاقی طورپر کنگال اورذہنی طورپرپراگندہ کرچکے ہیں۔

            آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگرغیریہود کو معینہ وقت سے پہلے اس کا علم ہوجائے تو یہ ہوشیارہوکرہمارے خلاف شمشیر بکف صف بستہ ہوجائیں گے، اس متوقع خطرے کی ہم پہلے ہی پیش بندی کرچکے ہیں اوریہ منصوبہ اتنا خوفناک ہے کہ اسے سن کربڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوجائے گا، زیرزمین خفیہ تنظیمیں ایسی بارودوی سرنگیں ہیں جومعینہ وقت آنے سے پہلے ہی تمام دارالحکومتوں کے نیچے بچھی ہوئی ہوں گی اورایسے دھماکے سے پھٹیں گی کہ ان کے سارے ادارے معہ ان کی یادداشتوں کے محافظ خانوں کے اپنے ساتھ اڑادیں گی۔

کمرشلائزیشن کیاہے؟

            کمرشلائزیشن کا مطلب ہے تمام انسانی زندگی اوراس زندگی کی تگ ودو کو مادیت میں محدود کردینا اورتمام مادی اشیاء خدمات بات ؛حتی کہ فطری خواہشات کو خالص مادی پیمانے کے اعتبار سے قابل تبادلہ بنانا یعنی بیع وشرا کے دائرے میں لانا، اس کے تحت ہرچیز خدمت جذبہ اورفطرت مادی اشیاء کی طرح مال ہوجاتی ہے اورقابل قیمت ٹھہرتی ہے؛ لہٰذا قابل بیع وشراہوکرقابل تبادلہ ہوجاتی ہے۔ کمر شلائزیشن کی انتہا یہ ہے کہ دنیا میں کوئی شئی خدمت ِجذبہ اورفطرت ایسی باقی نہ رہے، جو مال کی طرح قیمت نہ رکھتی ہو اورقابل ِتبادلہ بصورت بیع وشرا نہ ہو،کمرشلائزیشن کاہدف ہے دنیا میں پائے جانے والے تمام مادی غیر مادی انسانی وسائل بشمول حیاتیاتی وجماداتی وسائل پریہودیوں کی اجارہ داری قائم کرنا اورساری دنیا کواپنا دائمی غلام بنالینا ۔کمرشلائزیشن کے لئے ہزاروں طریقے روبہ عمل لائے گئے ہیں، اقوام متحدہ کی ساری کارروائیاں سلامتی کونسل کے فیصلے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیں عالمی مالی اورعالمی بینک کی کارروائیاں، دیگر بین الاقوامی ادارہ جات، اسلحوں کی خفیہ کا رروائیاں، خاندانی منصوبہ بندی کی کوششیں،ماحولیاتی تحریکیں،اسقاط ِحمل کوقانونی قراردینا، سب کی سب کمرشلائزیشن کی ذیلی شاخیں ہیں ؛حتی کہ یوتھنیریعنی اپنے پسند سے اپنی موت کا فیصلہ کرنا اورمیڈیکل سائنس کے وہ تمام تجربے اورایجادات کی کوششیں، جس میں انسانی جسم کی ہرچیزقابلِ استعمال اورقابل بیع وشرا ہواسی کا حصہ ہے، چنانچہ فیملی پلاننگ اسقاطِ حمل کوقانونی بناناکے تجربات (جس کے تحت انسانی اعضاء مصنوعی طورپرتیار کرنے کے تجربات ہورہے ہیں حتی کہ مصنوعی جانداربنانے کے تجربات ہورہے ہیں اوراب توکلوننگ کے ذریعہ ہم شکل انسان پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہیں دراصل اس کمرشلائزیشن کی انتہائی منزل پرپہنچنے کی کوشش ہے ؛جہاں یہودی ایک عالمگیرطاقت کے اعتبارسے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کتنے لوگوں کوزندہ رہنا چاہیے اورکتنوں کونہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہودیوں کے علاوہ دیگرانسانی آبادی کے سلسلے میں ان کا منشاء وہی ہے، جو سامان اورآلہ جات کے بارے میں ہے یعنی اگرکسی وقت ِخاص میں انسانی وسائل کی زیادہ ضرورت ہے، تواتنے انسان پیدا کرلئے جائیں اورجب ضرورت نہ ہو تو انہیں موت کے گھاٹ اتاردیا جائے۔ٹیسٹ ٹیوب بے بی،کلوننگ اورمرغبانی کے مراکزمیں جو تجربات ہورہے ہیں (یعنی مثلاً وہ کسی دن ایک لاکھ چوزے نکالتے ہیں، اگر پچاس ہزار بک سکے تو بقیہ پچاس ہزارکو برقی چولہوں میں جلا ڈالتے ہیں، اس لئے کہ پچاس ہزار کو ایک دن پالنا دوسرے دن نئے پچاس ہزارپیدا کرنے کے مقابلے میں مہنگاہوتا ہے)اسی کمرشلائزیشن کا حصہ ہے۔

سیکولرائزیشن سے تحفظ کے کام:

            لوگوں کا فرض ہے کہ جب اصل حقیقت معلوم ہوجائے تو لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت واضح کرے۔ ان کے پوشیدہ راز آشکار کرنے کی پوری کوشش کرے، انسانیت کے خلاف یہودیوں کے خفیہ منصوبوں کو ظاہر کردے؛ تاکہ ان کی رسوائی ہواوران کے کام ضائع ہوجائیں۔ مسلمان کوچاہئے کہ دینی اوردنیوی امور میں اپنے معاونین کی تلاش میں احتیاط سے کام لے ۔دوستوں کے انتخاب میں دوراندیش ہو؛ تاکہ دل کش پروپیگنڈے اوربظاہر شیریں الفاظ کے برے انجام سے محفوظ رہے اورمشرکوں کے جال میں نہ پھنس جائے ،ان کے اس پھندے میں نہ آجائے جوانہوں نے سادہ لوح‘ کم عقل اورخواہش پرستوں کے لئے لگا رکھا ہے۔

            اللہ اس دجالی فتنہ سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے اس لیے کہ اس قسم کے دجالی حربے اسلام کے دشمن، ازل سے استعمال کرکے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

            امت مسلمہ کے نام قرآن عظیم کا یہ پیغام ہے کہ” ولن ترضیٰ عنک الیہود و لن النصاریٰ حتی تتبع ملتہم“۔اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی؛ یہاں تک کہ تم ان کی ملت (تجویزکردہ نظام یعنی عالمی صیہونی حکومت کے قیام) کی پیروی اختیارنہ کرلو۔ (اے حبیب مکرم) فرما دیجئے کہ حقیقت میں اللہ کی (عطاکردہ) ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے اوراگرتم اپنے پاس علم (قران وحی الٰہی پرمبنی ہدایت) کے آجانے کے بعد بھی ان کی خواہشات (غیر مسلموں کی ہدایات) پرچلو گے تو تمہیں (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ کوئی دوست (میسر) ہوگا اورنہ کوئی تمہارا مددگار ہوگا (جو تمہیں تباہی سے نکال سکے)۔(تحریر مصنف ڈاکٹر ابوبکر جواد)

سیکولرزم(Secularism)

             سیکولرزم کے مفاہیم انسان کی فکری تاریخ خصوصاً یونانی مفکرین کی تعلیمات کا حصہ رہے ہیں، تا ہم کہا جاسکتا ہے کہ اس نام کے بغیراس کی ابتدا سولہویں صدی کے انگلستان میں اس وقت ہوئی، جب وہاں سیاسی اقتدارمذہبی حلقوں سے سیاسی حلقوں کو منتقل ہوا اور فیصلے مذہبی عدالتوں کی بجائے سول عدالتوں میں ہونے لگے۔ تاہم اس تحریک کی ابتداء اس نام سے انیسویں صدی کے وسط میں انگلستان میں ہوئی۔ اس کا بانی جارج جیکب ہولیوک (Holyoake) تھا جو ۱۸۱۷ء میں برمنگھم میں پیدا ہوا۔۸۴۱ ۱ء میں جب اس کا یقین خدا پرسے اٹھ چکا تھا، اسے مذہبی تعلیمات کی تو ہین کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔ وہ چوں کہ اسے نا انصافی گردانتا تھا اس لیے اس وقت کے مذہبی، سیاسی اوراخلاقی نظام کے خلاف اس کے دل میں کدورت پیدا ہوگئی۔ اس کے ساتھیوں میں سے چارلس ساؤتھ ویل، براڈلے،چارلس واٹ وغیرہ معروف ملحد تھے، لیکن ہولیوک سیکولرزم اورالحاد کومترادف نہ گرداننے پراصرارکرتا تھا(۱) تا کہ مذہب کے ماننے والوں میں سے آزاد خیال لوگ اس کی تحریک میں شامل ہوسکیں۔

            سیکولرزم کا فلسفہ یہ ہے کہ موجودہ دنیوی زندگی اوراس کی بہتری اورخوش حالی ہی ہمارا مطمحِ نظرہونا چاہیے۔ آخرت کی زندگی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کیوں کہ وہ ہمارے تجربے میں نہیں آئی۔ خدا اورمذہب اگر موجودہ زندگی کی خوشی اور خوش حالی پر منفی طورپراثراندازنہیں ہوتے تو ہمیں ان سے بھی کوئی سروکار نہیں۔

             G.J.Holyoake, Sixty Years of an Agitatator’s Life. vol.2,P-111 (۱)

             ہمارا مقصد یہ ہے کہ انسان کوہرطرح کی مکمل آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اس دنیا کی زندگی کے مسائل حل کر سکے اوراپنی مرضی اورخوشی سے جیسے چاہے جی سکے(۲)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مذہب کو موجودہ دنیوی زندگی اوراس کے مختلف شعبوں (سیاست، معیشت، معاشرت، قانون، تعلیم وغیرہ) میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اورنہ اجتماعی زندگی کے ان شعبوں میں مذہبی تعلیمات کا کوئی کردار ہونا چاہیے۔ اپنی انفرادی زندگی میں اگرکوئی فرد اللہ یا آخرت کومانتا ہے تو اس پرہمیں اعتراض نہیں(۳)۔

            ظاہر ہے کہ یہ نقطہٴ نظر مذہب کی نفی کرتا ہے کیوں کہ ہرمذہب اللہ اورآخرت کے تصورپرموجودہ زندگی کی تنظیم کرتا ہے۔ اس طرح سیکولرزم نے بالواسطہ طورپرنہ صرف روایتی مذہب کی نفی کی ہے بل کہ خود عملاً اس کی جگہ لے لی ہے(۴)۔ اس نے مذہب کے دائرہ کارکو محدودکرنے اور اسے غیر مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

            سیکولرزم کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ کا اقتدار مطلق اورلامحدود نہیں ہے۔ مغرب کا انسان دنیا کی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں بل کہ اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہے گویا دنیا کی زندگی میں وہ خود اپنا اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رویہ نہ صرف اللہ اوروحی کی برتری کی نفی اورمذہب سے انکار کے مترادف ہے بلکہ یہ انسان کی اپنی خدائی والو ہیت کا اعلان بھی ہے۔ (۵)

            یورپ میں جب ہیومنزم کا نظریہ ابھرا تواس سے یورپی معاشرے میں ارتعاش پیدا ہوا کیوں کہ عیسائیت جیسی کیسی بھی تھی، بہر حال صدیوں سے اُن کے معاشرے میں مروج تھی اوراُس کی جڑیں انسانی نفسیات میں گہری تھیں، لہٰذا مذہب سے متاثر حلقوں نے ہیومنزم کی مخالفت شروع کردی۔

             ہیومنزم کے حامی مفکرین نے اس مشکل سے عہدہ برآ ہونے کا یہ حل نکالا کہ سیکولرزم کا نظریہ پیش کردیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم کسی شخص کوعیسائی ہونے اور رہنے سے اورانفرادی زندگی میں اسے مذہبی مراسم ادا کرنے سے نہیں روکتے لیکن معاشرے اورریاست کی اجتماعی زندگی میں مذہب کا کوئی عمل دخل بہرحال نہیں ہونا چاہیے۔

(۲)محمد عطاء اللہ صدیقی، سیکولرزم کا سرطان در ماہنامہ محدث، لاہور شمارہ جولائی اگست ستمبر۰۰۰ ۲، ص: ۴۴،۵۳،۶۶،ومابعد۔

            (۳)211ff R.Flint. Anti – Theistic Theories, P-

 John Summerville. The Secularization of Early Modern England, P-8 (۴)

 Encyclopaedia of Religion and Ethics,s.v. Secularisim, vol.11,P-347(۵)

            سیکولرزم کا لفظ دینی، مذہبی، روحانی (انگریزی میں Religious, Spiritual Sacred Transcendental) سے متضاد ہے۔ مطلب یہ کہ فرد کی ذاتی زندگی اورمذہبی امورمیں، یعنی وہ امور جو انسان اور خدا کے درمیان تعلق سے بحث کرتے ہیں، ان میں تو خدا اور مذہب کی پیروی کی جاسکتی ہے؛ جیسے اللہ کی عبادت کرنا یا اس سے دعا مانگنا لیکن جو دنیوی امورہیں، یعنی جن کا تعلق انسانوں کے مابین تعلقات سے ہے؛ جیسے انسانوں کی اجتماعی زندگی یا معاشرے وریاست کے مسائل، تو ان میں خدا یا مذہب کی پیروی نہیں کی جائے گی۔

سیکولرزم کا خلافِ اسلام ہونا تین دلائل سے واضح ہے:

            ایک یہ کہ سیکولر کے معنی دنیاوی امورکے ہیں، برعکس مذہبی، دینی اورروحانی امور کے؛ جب کہ اسلام میں دین و دنیا کی کوئی تفریق سرے سے موجود ہی نہیں؛ کیوں کہ اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کا جو ہمیں دنیوی زندگی ،اس کی رضا اورتعلیمات کے مطابق گزار نے کا علم دیتی ہے؛ لہٰذا دنیا کی زندگی کے سارے اعمال عین دینی کام ہیں؛ بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق کیے جائیں؛ لہٰذا اسلام میں کوئی عمل ان معنوں میں سیکولرہوتا ہی نہیں کہ وہ حقیر، برا اور قابل ِمذمت ہو؛ بل کہ اسلام کی رو سے دنیا کا ہرکام دینی کام ہے؛ بشرطیکہ اللہ کی ہدایت کے مطابق کیا جائے۔

            دوسرے سیکولرزم کے مغربی تصور کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ یہ اختیارانسان کا ہے کہ وہ جہاں چاہے خدا کی بات مانے اورجہاں چاہے نہ مانے۔ گویا زمین میں اصل بادشاہی، اختیاراورحاکمیت انسان کی ہے نہ کہ خدا کی؛ جب کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ وہ انسان کوعبد قراردیتا ہے، یعنی خدا کے مقابلے میں اس کی ہستی پیچ اورکمترین ہے۔ اور”اسلام“ کا لغوی اوراصطلاحی مطلب ہی اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط اورغیرمحدود عبادت اوراطاعت ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ”ادْخُلُوا فِی السّلْمِ کَآفَةً“۔(البقرة۲۰۸) اوراس چیز کی مذمت کرتا ہے کہ اللہ کے بعض احکام کو مانا اور بعض کو نہ مانا جائے۔ یہ رویہ اللہ کے نزدیک مردود اورناقابل ِقبول ہے اوراسے اپنانے والا مستحق عذاب ہے۔( الصف:۲،۳ اور النساء: ۱۴۵)یہی وجہ ہے کہ اسلام میں دینی ودنیاوی امورکی کوئی تفریق نہیں۔

            سیکولرزم کے مغربی تصور کے غیر اسلامی ہونے کی تیسری دلیل یہ ہے کہ اسلام میں اللہ کے کسی ایک حکم کا انکار ہدایت کے سارے پیکج کا انکار ہے؛ جیسے ایک نبی کا انکارسارے انبیاء کے انکار کے مترادف ہے؛ یہی وجہ ہے کہ مسلمان سارے انبیائے سابقہ پرایمان لاتے اورانہیں پیغمبر مانتے ہیں؛ اسی وجہ سے مسلمان قادیانیوں کومسلمان نہیں مانتے؛ حالاں کہ وہ خدا، رسول، قرآن اوردین کے دیگر سارے احکام کو مانتے ہیں، سوائے ختم ِنبوت کے اوراسی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کیا تھا؛ حالاں کہ وہ خدا، رسول، آخرت اور قرآن سب کو مانتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے، لیکن حضرت ابوبکر نے فرمایا جو ایک حکم الٰہی کا انکارکرتا ہے، وہ گویا سارے احکام کا انکارکرتا ہے۔ اس لیے وہ مسلمان نہیں ہے۔

لبرل ازم(Liberalism)

            لبرل ازم کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو لامحدود آزادی حاصل ہے۔ ہیومنزم اور سیکولرزم کالازمی نتیجہ لبرل ازم ہے یعنی جب انسان یہ کہے کہ وہ کسی خدا کا عبد نہیں ہے؛ بلکہ وہ خود مختار ہے اورجب وہ یہ کہے کہ اس کی مرضی ہے کہ جہاں جس بات میں چاہے وہاں اللہ کی مانے اور جہاں چاہے نہ مانے تو اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلے گا کہ وہ آزاد ہے، جو چاہے سوچے اورجو چاہے کرے۔ اس رویے کا خلافِ اسلام ہونا بالکل واضح ہے؛ کیوں کہ اسلام کا تولغوی اوراصطلاحی معنی ہی یہ ہے کہ اپنی آزاد مرضی سے اپنی مرضی کواللہ کی مرضی کے بلا شروط وبلا حدود کلی طورپراس کے تابع کردینا اوراللہ کی کبریائی کوتسلیم کرتے ہوئے ،خود کو اس کا عبد قرار دینا۔ اسلامی روایت اوراردو محاورے میں لبرلزم کا مطلب ہے مادر پدر آزادی یعنی انسان ،جو چاہے کرے اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں اوروہ کسی کو جواب دہ نہیں؛ چناں چہ ایسی غیر محدود آزادی کی وجہ سے مغرب میں ہرمرد اور عورت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ باہمی رضا مندی سے جب اور جس سے چاہیں جنسی لطف حاصل کریں۔ وہ بغیر نکاح کیے اکھٹے رہ سکتے ہیں، زندگی گزار سکتے ہیں اور بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے۔ عورت چاہے تو عورت کے ساتھ اورمرد چاہے تومرد کے ساتھ اکٹھے رہ سکتا ہے اورنکاح کر سکتا ہے۔

            فرد کی لامحدود آزادی کے اثرات مغرب میں زندگی کے ہرشعبے میں دیکھے جاسکتے ہیں مثلاً فرد آزاد ہے کہ وہ چاہے تو کسی مذہب یا دین کومانے یا نہ مانے۔ اس کی مرضی ہے چاہے تو چرچ جائے نہ چاہے تو نہ جائے۔ چاہے تو لباس پہنے نہ چاہے تو نہ پہنے۔ مغرب میں ننگوں کے کلب عام بنے ہوئے ہیں ،جن کا ہررکن، خواہ مرد ہویا عورت، جب تک کلب میں رہے لباس نہیں پہنتا۔ بعض عورتیں اورمرد بغیر لباس کے سڑک پرآجاتے ہیں۔ وہ بازاروں میں چلتے پھرتے ایک دوسرے کے گلے لگتے اوربوس و کنارکرتے ہیں اورکوئی کسی کو نہیں ٹوک سکتا۔ ہرمرد وعورت کوشراب پینے، جوا کھیلنے اورباہمی رضا مندی سے زنا کرنے کی آزادی ہے۔ یہ آزادی فرد سے اجتماعیت کو منتقل ہوتی ہے اورجس طرح فرد اپنے ہرمعاملے میں آزاد ہے اورکسی خدا، رسول، وحی کا پابند نہیں اسی طرح آزاد افراد کے منتخب نمائندوں پرمشتمل ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ بھی آزاد اورمکمل پاورفل ہوتی ہے اور وہ جو قانون چاہے بنا سکتی ہے۔ حلال کوحرام اورحرام کو حلال قرار دے سکتی ہے؛ چناں چہ عملاً مغربی ممالک نے شراب، جوا، زنا، لواطت اورہم جنس پرستی کو حلال قرار دے رکھا ہے۔

            مغرب میں اس لا محدود آزادی (Unlimited Freedom) کو قانونی تحفظ حاصل ہے؛ چناں چہ مغربی ممالک نے اقوام ِمتحدہ میں بنیادی انسانی حقوق کا ایک چارٹر منظورکررکھا ہے، جس پرساری دنیا کے ممالک نے دستخط کررکھے ہیں (بشمول تمام مسلم ممالک کے) ،جس کی رو سے ہرفرد آزاد ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے اورجب چاہے بدل لے، جس مذہب کے فرد سے چاہے شادی کرلے وغیرہ وغیرہ۔ اورچوں کہ مغربی فکر و تہذیب اس وقت دنیا پرغالب ہے اوراس تہذیب کوماننے والے مغربی ممالک ہی دنیا میں سب سے زیادہ طاقتورہیں؛ لہٰذا کسی ملک کی آزادی کواقوامِ متحدہ اوریہ مغربی ممالک اس وقت تک تسلیم ہی نہیں کرتے اوراسے آزاد ملک قرار ہی نہیں دیتے ،جب تک اس کے دستوروآئین میں یہ بنیادی حقوق موجود نہ ہوں؛ چناں چہ اقوام ِمتحدہ اورمغربی ممالک (اوران کے دباؤ میں آکر دنیا کے تمام دوسرے ممالک نے بھی) افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا (سوائے پاکستان، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے) اس کے باوجود کہ سارے افغانستان پران کا قبضہ تھا اوروہ اچھے طریقے سے سارے ملک پرحکومت کررہے تھے۔ ظاہر ہے لا محدود آزادی کا یہ تصورصریحاً غیر اسلامی ہے؛ کیوں کہ اسلام میں توانسان اللہ کا عبدہوتاہے، وہ آزاد ہوتا ہی نہیں اورقرآن ِحکیم میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا ہی عبودیت (ایک اللہ کی پرستش واطاعت) کے لیے کیا ہے۔(الذاریات:۵۶)

            اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرانسان مکلف ہوتا ہے یعنی ذمہ داراورجواب دہ (الا یہ کہ وہ نا بالغ بچہ ہویا فاترالعقل مریض ہو یا سویا ہوا ہو)۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: ۲۰۴۱)

            اسلام کا لفظی مطلب تسلیم ورضا اوراطاعت وفرمانبرداری ہے اور مسلم کہتے ہی اس فرد کو ہیں جواپنی آزاد مرضی سے اپنی مرضی کواللہ کی مرضی کے تابع کردے، بلا حدود وبلا شروط، لہٰذا کوئی مسلمان مکمل آزاد ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مومن کی مثال ایک گھوڑے سے دی ہے، جو کھونٹے کے ساتھ رسی سے بندھا ہو، لہٰذا وہ اتنا ہی آزاد ہوتا ہے جتنی رسی لمبی ہوتی ہے، اس کے بعد اس کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے مغرب کی آزادی کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ 

 آزادیٴ افکار ہے ابلیس کی ایجاد

            کیوں کہ مومن تو مادرپدرآزاد نہیں ہوتا،اورہوبھی نہیں سکتا وہ تو بخوشی ان پابندیوں کو قبول کرتا ہے، جو اللہ ورسول نے اس پرلگائی ہیں؛ کیوں کہ اسلام میں آخرت کا تصور ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک اورعالم آنے والا ہے، جس میں انسان کو دنیا میں اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہے کہ اس نے دنیا کی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزاری یا نہیں؟ اسی وجہ سے اقبال نے کہا کہ

 محمد کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی

 خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی

             خلاصہ یہ کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کوئی مسلمان مغربی لبرل ازم کے معنوں میں لبرل ہو ہی نہیں سکتا اورنہ مسلم معاشرہ اورمسلم ریاست مغربی لبرل ازم کے معنوں میں لبرل ہو سکتی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مغربی لبرل ازم خلاف اسلام ہے، یہ کفر کو مستلزم ہے بلکہ صریح کفر ہے اورکوئی مسلمان جب تک وہ مسلمان ہونے کا مدعی ہے، لبرل نہیں ہو سکتا۔

            یہ بھی واضح رہے کہ ہم لبرل ازم کے اپنے پاس سے کوئی معنی وضع نہیں کرسکتے؛ کیوں کہ لبرل ازم مغرب کی اصطلاح ہے اوراس کے معنی ومفہوم وہی بتائیں گے، جن کی یہ اصطلاح ہے، نہ کہ ہم اپنی مرضی سے اس کے معنی ومفہوم کا تعین کرلیں۔

میٹریلزم(Materialism)

            مادہ پرستی کی اصطلاح اُردو میں بھی عام مستعمل ہے اوراس کا مفہوم مذہبی واخلاقی تعلیمات (جو آخرت اوراعلیٰ انسانی اقدارپرزوردیتی ہیں) کے مقابلے میں یا ان کے علی الرغم دنیوی زندگی ہی کوسب کچھ سمجھنا اوراسے ترجیح دینا ہوتا ہے؛ چناں چہ علمی اردو لغت میں مادہ پرست کے معنی لکھے ہیں ”مادے کو سب کچھ سمجھنے والا، دہریہ خدا کا منکر(وارث سرہندی علمی اردولغت، بذیل ”مادہ پرست“، ص:۱۳۲۲)

             مادہ پرستی کا نظریہ شروع ہی سے مذہبی نقطہٴ نظر کے برعکس اوربالمقابل سمجھا جاتا رہا ہے؛ چناں چہ یونانیوں کے ہاں مادہ پرستی کے مفاہیم میں یہ عناصر شامل تھے:

            (ا) مادہ ازلی اورغیرفانی ہے۔

            (۲) عالم میں کوئی ذہن یا شعورکارفرما نہیں ہے یعنی اس پرکوئی یزدانی قوت متصرف نہیں ہے۔

            (۳)عالم میں کوئی مقصد اورغایت نہیں ہے۔

            مغرب میں تحریک نشاةِ ثانیہ کی ابتداء میں چوں کہ پاپائیت نے فکری آزادی کی مخالفت کی؛ لہٰذا سائنسدانوں کومذہب کوردّ کرنا پڑا اورمادہ پرستی کی طرف آنا پڑا۔ تھامس ہو بز (۱۶۷۹ء) نے مکمل مادیت کا ابلاغ کیا۔ اس کی رائے میں انسان سمیت کا ئنات کی ہرشے مادی ہے۔ وہ حسیات کے سوا کسی چیزکوعلم کا ماخذ تسلیم نہیں کرتا، اس نے روح کے وجود سے انکارکیا اورمذہب کوغیرمرئی فرضی قوتوں کی دہشت قراردیا۔ وہ قدرواختیارکا بھی منکر تھا۔(L. Zusne, Names in the History of Psychology, P-23)

            تا ہم جدید مادیت پسندی کا بانی ڈیکارٹ (۱۶۵۰ء) کو سمجھا جاتا ہے، جو ذہن اورمادے کو مستقل بالذات مانتا ہے۔ اس کے نزد یک حیوانات کا جسم ایک خود کارمشین کی مانند ہے اورجسمانی لحاظ سے انسان بھی حیوان ہی کی طرح کی ایک مشین ہے۔

             اٹھارویں صدی میں سائنس کی ہمہ گیرترقی نے عقلیت پسندی کو جنم دیا۔ فرانسیسی مادہ پرست قاموسیوں (Encyclopaedians) نے وحی کے بغیر ہیومنزم کی بنیاد پرایک مذہب مرتب کرنے کی کوشش کی۔ لامتری نے انسانی قلب وذہن کے تمام اعمال کو میکانکی قرار دیتے ہوئے اسے دیگر حیوانوں کی طرح ایک حیوان قراردیا۔ ہولباخ نے اس مادی نظریے کو ایک باقاعدہ مابعد الطبیعیات کی شکل دی۔ اس نے روح کے وجود سے انکارکیا اور مادے کوغیر فانی قرار دیا۔ اس نے کہا کہ فطرت چند اٹل قوانین کے تحت کام کررہی ہے، جن میں کوئی مقصدیت پنہاں نہیں۔ برٹرینڈ رسل نے اٹھارویں صدی کے مادی نقطہٴ نظر کا خلاصہ تین نکات کی صورت میں پیش کیا ہے:

            (۱)حقائق مشاہدے پرمبنی ہونے چاہئیں ،نہ کہ ایسی سند پرجو عقیدے کے تحکم پربنی ہو۔

            (۲) مادی دنیا ایک ایسا نظام ہے جو خود کار ہے اورجس میں تمام تغیرات طبیعی قوانین کے تحت ہوتے ہیں۔

            (۳) کرہٴ ارض کا ئنات کا مرکز نہیں ہے اورنہ اس کا کوئی مقصد ومعنی ہے۔

(B. Russell, History of Western Philosophy, P-387)

            انیسویں صدی میں ہیگل اورڈارون نے مادی نقطہ نگاہ کومزید آگے بڑھایا۔ ہیگل نے کہا نیچر وہ ہے جس کا ادراک ہم حواسِ خمسہ سے کرتے ہیں، نیزاس نے شعوروذہن کی تشریح عضویاتی پہلو سے کی۔ ڈارون نے حیاتیات کے مطالعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انسان حیوان ہی سے ارتقاء پذیرہوا ہے۔ سپنسر نے کہا کہ انسان سمیت سب ذی حیات پرطبیعی قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے۔

            بیسویں صدی میں اگرچہ مادہ بحیثیت ایک شے کے غائب ہو گیا جب شرا ڈنگر، پلانک اورہائزن برگ نے نظریہٴ مقادیر عنصری پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ مادہ اورتوانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ آئن سٹائن کی تحقیقات اورنظریہٴ اضافت نے ثابت کردیا کہ مادہ ٹھوس نہیں ہے۔ اس طرح زمان ومکان کے قدیم تصورات تحلیل ہو گئے، لیکن بایں ہمہ مادہ پرستی کی روح (جس کا خلاصہ خدا کی خدائی کی نفی اور اس کی جگہ فطرت کو فعال ماننا، وحی کی برتری کا بطلان اور حسی علم کواس کی جگہ دینا، حیوانات کے قوانین کا اطلاق انسان پرکرنا اورآخرت کے مقابلے میں دنیا اورمظاہردنیا کوترجیح دینا وغیرہ) مغرب کے فکر وعمل میں ہرسو جاری ہے۔

            ظاہرہے مغربی فکر وتہذیب کی یہ مادہ پرستی خلافِ اسلام ہے۔ اسلام انسان کے مادی وجود اوراس کی احتیاجات اورمقتضیات کی نفی نہیں کرتا، لیکن ساتھ ہی اسے ایک اخلاقی وجود قرار دیتا ہے، جس کے اپنے تقاضے ہیں مثلاً :قرآن حکیم نے صرف سال میں ایک ماہ کے روزے فرض کیے (البقرة:۱۸۳)اورمریض ومسافرکواستثنٰی د یا۔(البقرة:۱۸۴) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مسلسل روزے رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا(صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۵۰۶۳)اورفرمایا کہ تمہارے جسم کا بھی تم پرحق ہے (صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۱۹۶۸)۔ چناں چہ اسلام نفس کشی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ تہذیبِ نفس کا قاتل ہے، اس لیے بعض صحابہ نے خصی ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی۔(صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۵۰۷۱)

             حضرت عثمان بن مظعون اوران کے ساتھیوں کا واقعہ بھی مشہور ہے، جس میں انہوں نے حضرت عائشہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عبادت کے معمولات پوچھے، تو انہوں نے انہیں کم سمجھا کہ آپ تومعصوم عن الخطا تھے اورپھران میں سے ایک نے کہا کہ وہ ساری رات عبادت کیا کرے گا۔ دوسرے نے کہا کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھا کرے گا اورتیسرے نے کہا کہ وہ شادی نہیں کرے گا۔ حضرت عائشہ نے یہ باتیں سنیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرلوٹنے پرانہیں بتائیں، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہ آئیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم منبرپرتشریف لے گئے اوران تینوں اصحاب کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں اورروزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں۔ رات کو سوتا بھی ہوں اورعبادت بھی کرتا ہوں اور میں نے شادیاں بھی کررکھی ہیں۔( صحیح بخاری، رقم الحدیث:۵۰۶۳)

            خلاصہ یہ کہ اسلام ایک توازن کے ساتھ انسان کے مادی اوراخلاقی وجود دونوں کے مطالبات پورے کرتا ہے۔

کیپیٹل ازم (Capitalism)

            کیپٹل ازم یعنی مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تین سطحیں یا حیثیتیں ہیں:

            ایک تو یہ کہ وہ ایک معاشی نظام ہے۔ معاشی نظام ہونے کی حیثیت میں بھی وہ غیر اسلامی ہے اورغیرعقلی وغیر فطری ہے یعنی خلافِ فطرتِ انسانی ہے۔ کیپٹل ازم کوغیر اسلامی اورغیرفطری وغیرعقلی ثابت کرنا خود ایک بڑا علمی موضوع اور تحقیقی پراجیکٹ ہے۔ اس پر کافی کام ہو چکا لیکن ابھی اس پرمزید علمی کام کی ضرورت ہے؛ بل کہ یہی کام ساری مغربی آئیڈیا لوجی، افکار ونظریات، ورلڈ ویواوراداروں (جیسے نیشن سٹیٹ، ڈیموکریسی وغیرہ) کے بارے میں کیا جانا چاہیے؛ تاہم ظاہرہے یہاں محض اس کام کی نشان دہی ہی کی جاسکتی۔

کیپٹل ازم کی بطور ایک معاشی نظام تین اہم خصوصیات ہیں:

            ایک یہ کہ وہ انسان اورمحنت کے مقابلے میں سرمائے کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اسی بناء پروہ سود (ربا) کو جائز ٹھہراتا اوراستعمال کرتا ہے اورتیسرے یہ کہ وہ مادرپدرآزادی چاہتا ہے؛ یہاں تک کہ وہ ریاست کی ریگولیٹری / مانیٹرنگ اتھارٹی کو بھی تسلیم نہیں کرتا اورفری مارکیٹ اکانومی کا تصور دیتا ہے۔ معیشت کے یہ تینوں بنیادی اصول اسلام کی اقتصادی تعلیمات اورمعاشی نظام کے خلاف بلکہ ان سے متضاد ہیں؛ کیوں کہ اسلام مغرب کی سرمایہ پرمبنی اوراشتراکیت کی محنت پرمبنی انتہا پسندی کے خلاف انسان اوراس کی متوازن اور مبنی برعدل اجتماعی فلاح کا علمبردار ہے اوراس پرترکیز کرتے ہوئے سرمائے اورمحنت کے متوازن کردار کو اپناتا ہے؛ اسی طرح اسلام سود کی شدید مخالفت کرتا ہے، بل کہ اسے اللہ ورسول کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیتا ہے۔( البقرة:۲۸۹) اور یہ وہ واحد حکم ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ربا کا لازمی نتیجہ ارتکاز ِدولت ہے اوراس کے نتیجے میں امیرامیرتراورغریب غریب ترہوتا چلا جاتا ہے، جس کا مشاہدہ ہم آج اپنی آنکھوں سے کررہے ہیں کہ اس سرمایہ دارانہ سودی نظام کی وجہ سے امریکہ و یورپ میں دولت کا ارتکاز ہو گیا ہے اور ایشیا و افریقہ کے اکثر ممالک، خصوصاً عالم اسلام، بھوک اورننگ کا شکار ہے، جب کہ اسلام تقسیم دولت کی تعلیم دیتا ہے۔( الحشر:۷) تا کہ معاشرے میں اقتصادی توازن برقرار رہے۔

            اسی طرح اسلام سرمایہ کے کردارپرریاست و حکومت کی نگرانی کا اصول تسلیم کرتا ہے؛ کیوں کہ اگر اسلامی ریاست سرمائے کے کردار کو کنٹرول نہ کرے تو سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع کے لالچ میں حرص و ہوس اوراستحصال کی ہر حد کو پار کر لیتا ہے۔

             نظامِ سرمایہ داری کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ محض معاشی نظام نہیں؛ بلکہ دین ومذہب واخلاق کے مقابلے میں مادہ پرستی (میٹریل ازم) پرمبنی مکمل دین اورنظام حیات ہے۔ یہ دنیا، دولت اورمعاشی ترقی (یعنی دنیا میں زیادہ سے زیادہ آسائشوں اورراحتوں کو یقینی بنانا) کو بنیاد بناتا ہے اوراخروی زندگی اوراس کی کامیابی اوردنیا پراس کی ترجیح کے اسلامی اصول کورد کرتا ہے۔ یہ انسان کو”عبد الدرہم والدینار“ بنا دیتا ہے اوراسے حرص وہوس وحسد کے جال میں جکڑلیتا ہے، جس کی مذمت ہادی برحق ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے علی الاعلان فرمائی ہے۔( جامع ترمذی، رقم الحدیث:۲۳۷۵)اورآخرت کی ترجیح والی زندگی عملاً گزارکردکھائی ہے کہ وہ کتنی سادہ، توکل، قناعت اورزہد پرمبنی ہوتی ہے، جس کا ہدف آخرت کی کامیابی اوراللہ کی خوشنودی کا حصول ہوتا ہے نہ کہ محض دنیا کی ترقی اوراس میں آسائشوں اورراحتوں کا حصول، راتوں رات امیر بننے کی خواہش، حلال و حرام کی عدم تمیز، معیار زندگی بلند کرنے کی دوڑ (یعنی ہرقیمت پرکار، کوٹھی اوربینک بیلنس کا حصول)، کرپشن، رشوت، چوری، ڈاکے، فراڈ اوربددیانتی مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کے غلبے کے مظاہر ہیں۔

            کیپٹل ازم کے جس کردار کی طرف ہم نے سطوربالا میں اشارہ کیا ہے، اس کے بعد ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ مغرب کا نظام ِسرمایہ داری نہ صرف خلافِ اسلام ہے اوراس کی تعلیمات اوراصولوں سے متضاد ہے بل کہ وہ دین اللہ کے مقابلے میں طاغوت اوراسلامی طرززندگی کے مقابلے میں کفروجاہلیت پرمبنی نظام حیات ہے کہ مسلمان مادہ پرست (Materialist) ہوہی نہیں سکتا، پھر مغرب کا نظام سرمایہ داری کفرہی نہیں کفرگر بھی ہے۔ (جیسے بادشاہ کے مقابلے میں بادشاہ گر) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کفراس کے بعد وجود میں آنے والے مغربی افکارونظریات اوراداروں میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ جمہوریت بظاہرایک سیاسی نظام ہے، لیکن یہ صرف جمہوریت نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے یعنی جمہوریت کے سیاسی نظام میں سرمایہ دارانہ روح غالب اورفعال ہے۔ جمہوری انتخابات میں وہی فرد اورجماعت جیت سکتی ہے، جو زیادہ سے زیادہ سرمایہ خرچ کرسکتی ہو ؛چناں چہ پارلیمنٹ ہویا اس کے ذریعے بننے والی حکومت، اس میں سرمایہ دارہی غالب ہوتے ہیں، اسی طرح مغرب کا ایک معاشرتی نظام ہے، لیکن یہ بھی سرمایہ دارانہ معاشرتی نظام ہے، کیوں کہ اس معاشرے کے خدو خال سرمایہ ہی طے کرتا ہے (مردوں کے علاوہ عورتیں بھی کام کریں، بچے ڈے کیئر سنٹرزمیں پلیں، مائیں بچوں کو دودھ نہ پلائیں، والدین اوربچوں میں رابطہ اورمحبت کی کمی، بچہ بالغ ہونے پروالدین کی ذمہ داری نہیں۔ بوڑھے اولڈ ایج ہومزمیں جائیں، اولاد کا والدین کی خدمت کرنے کا عدم تصورحرامی بچوں اورطلاقوں کی کثرت…. وغیرہ) غرض پوری معاشرتی زندگی پرنظام سرمایہ داری کی گہری چھاپ ہے؛ غرض یہ سمجھنے میں دقت پیش نہیں آنی چاہیے کہ کیپٹل ازم محض ایک معاشی نظام نہیں؛ بل کہ کفرپرمبنی نظام حیات ہے۔

تجربیت(Empiricism)

            مغرب کا تصورِ علم یا فلسفہٴ علم (Epistemology) یہ ہے کہ علم کا منبع عقل اورتجربہ ومشاہدہ ہے۔ ظاہر ہے جب ہیومنزم کی رو سے خدا کا انکارلازمی ٹھہرا اوراُس کے مقابلے میں انسان کی خدائی کا ڈنکا بجایا گیا تو اب علم کا منبع بھی انسان اوراُس کی عقل ہی ٹھہری اورعقل بھی وہ جسے تجربہ اورمشاہدہ کا تڑکا لگایا گیا ہو۔ اب چوں کہ نہ خدا نظرآتا ہے، نہ فرشتے اورنہ آخرت ،لہٰذا نہ صرف اُن کا وجود مشکوک ٹھہرا؛ بل کہ خدا کی طرف سے ملنے والی ہدایت بھی نا قابل توجہ ٹھہری۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مغرب مذہبی علم اورعقائد کو ڈاگما (Dogma) یعنی الٰہی تحکم پرمبنی آراء اورتوہمات سمجھ کررد کر دیتے ہیں اور حقیقی و حتمی علم کا منبع انسانی عقل اور تجربہ و مشاہدہ کو قرار دیتے ہیں، جن سے حاصل ہونے والا علم قابل تصدیق (Verifiable)ہوتا ہے۔

            گویا تجربیت سے مراد ہے وحی اورعقل سے حاصل ہونے والے علم کے مقابلے میں حسیات سے حاصل ہونے والے علم کو یقینی اورقابل عمل ماننا۔ یہ تقابل شروع ہی سے فکرانسانی میں موجود رہا ہے۔ وحی کی برتری کو ماننے والے اہل مذاہب ہیں، عقل کومنبع ِعلم سمجھنے والے اکثر فلسفی ہیں؛ جب کہ سائنس دان (اورسائنسی منہج پرمبنی دیگرعلوم کے ماہرین) حسی علم کو حتمی اوریقینی سمجھتے ہیں۔ یونان قدیم کے سوفسطائی حسیات کوعلم انسانی کا ماخذ سمجھتے تھے ؛جب کہ افلاطون اوراس کے ہم خیال یہ سمجھتے تھے کہ عقل بذات خود، حسی تجربے اور مشاہدے کی تصدیق کے بغیر، صداقت کے انکشاف پرقادر ہے۔ رومیوں اورقرون مظلمہ سے گزرکر جب یہ علمی روایت احیائے علوم اورنشاةِ ثانیہ کے دورمیں داخل ہوئی تو کائنات کی حقیقت سے متعلق دو نظریے وجود میں آئے: ایک وہ جوافلاطون اورارسطو کی روایت کی یاد گار تھا اورجس کی رو سے امثال حقیقی ہیں اوردوسرا وہ جس کی رو سے کائنات کی حقیقی اشیاء خاص وہ اشیاء ہیں، جو ہمارے تجربے اورمشاہدے میں آتی ہیں۔ پہلی روایت سے (عیسائی) مذہب نے اپنی تصدیق کا کام لیا اوردوسری روایت نے جدید سائنس کی بنیادیں استوار کیں۔ سائنس میں گلیلیو اور فلسفے میں فرانسس بیکن ان رجحانات کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔

            بیکن کے نزدیک علم کا ماخذ حسیات ہیں اورعلم صرف انسانی تجربے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے فلسفے کو مذہب سے جدا کر کے علم کلام کو بے مصرف اور بے ثمر رجحان قراردیا۔ تھامس ہو بزنے بھی حسیات ہی کو علم کا ماخذ قراردیا اورسائنس اورفلسفے کومذہب (علمِ کلام) سے نجات دلانے کی دعوت دی۔ نیوٹن کی طرح جان لاک بھی تجربے اور مشاہدے سے علمی نتائج اخذ کرنا چاہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ازلی وابدی صداقتوں کا کوئی وجود نہیں ہے اورحس ہی ہمارے علم کا ماخذ ہے۔ اس نے ضمیر کے وجود کا بھی انکار کیا اورکہا کہ اخلاقی قوانین جبلی نہیں ہوتے ؛بلکہ حسیات کے واسطے سے حاصل کیے ہوئے علم کی روشنی میں ہم جو رائے (صحیح یا غلط) قائم کرتے ہیں وہی ضمیر ہے۔ سیاست میں وہ عوام کی حاکمیت کے نظریے کا علمبردارتھا۔(۱) ہیوم نے جواٹھارہویں صدی کی تشکیک کا امام تھا، لاک کے فلسفہ تجربیت کومنطقی انجام تک پہنچادیا۔ اس نے کہا کہ انسانی تجربہ ہی انسانی علم کا ماخذ ہے اورصرف انہی اشیاء کا وجود ہے جن کا ادر اک کیا جا سکے۔ اس بناء پراس نے نفس انسانی، روح اورخدا کا انکارکردیا کیونکہ یہ تصورات قابل ادراک نہیں ہیں(۲)۔ انیسویں صدی میں کو متے، بنتھم اور ولیم جیمز نے ہیوم کے اثرات قبول کیے۔

            کو متے کو ایجابیت (Positivism) کا بانی کہا جاتا ہے جو تجربیت ہی کی ایک صورت ہے، اس کے نزدیک کائنات اورکائنات میں انسان کے مقام کا تعین انسانی مشاہدے اورتجربے ہی کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔

            فلاح و بہبود کی کوشش ہی نیکی ہے؛ اسی طرح کو متے کے نزدیک انسانی ذہن تین مراحل سے گزرا ہے، مذہب، مابعد الطبیعیات اورمرحلہ موجودہ یعنی ایجابیت یا سائنس۔ اس کے نزدیک مذہب اورمابعد الطبیعیات

 John Locke, An Essay Concerning Human Understanding, P-275ff(۱)

 David, Hume, An Enquiry Concering th Principico of Morals, P-289(۲)

قصہٴ پارینہ بن چکے ہیں اوراب سائنس کی خدائی کا دور ہے۔ (۱) امریکہ کے نتائجیت پسند فلاسفہ ولیم جیمزاورڈیوی اور دوسرے دور کے تجربیت پسندوں میں سے جان اسٹوارٹ مل اوربنتھم کو متے کے افکار سے متاثر ہیں۔ اسی طرح در خائیم، لیوی بروہل، تین اوررینان نے کومتے کے عمرانی نظریات کو بیسویں صدی میں نیا آہنگ دیا ہے۔

            جان سٹوارٹ مل بھی جرمی بنتھم کی طرح افادیت (Utilitarianism) کا قائل ہے اور اس کی طرح زیادہ سے زیادہ انسانوں کوزیادہ سے زیادہ مسرت بہم پہنچانے کو اخلاقیات کا نصب العین قراردیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ چوں کہ صرف لذت کی خواہش کی جاتی ہے، اس لیے لذت ہی مستحسن ہے؛ جب کہ بنتھم تو یہاں تک کہتا ہے کہ لذت ہی خیر ہے اوراذیت ہی شر ہے اورافادیت ہی ہرشے کا معیار ہے۔

            امریکی نتائجیت پسندی (Pragmatism) کا شارح ولیم جیمز ہے جو لاک، ہیوم، کانٹ، پیرز اورکو متے کے افکار کا جامع تھا۔ ولیم جیمز کسی صداقت مطلقہ کا قائل نہیں تھا اوروجودِ مطلق (اللہ تعالیٰ) کو ”ما بعد الطبیعی عفریت“ کا نام دیتا تھا۔ اس کے خیال میں صرف وہی اشیاء موضوعِ بحث بن سکتی ہیں جوانسانی تجربے سے لی گئی ہوں۔ انسانی تجربہ ہی حقیقت ہے اورصرف انسانی مشاہدہ اورتجربہ ہی علم کا اصل ماخذ ہے۔ اس کے نزدیک نتائجیت پسندی ایک طرزِ فکر ہے، جس کا مقصد کسی نوع کی ازلی صداقتوں کا کھوج لگانا نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس بات سے انسانی تجربے یا طرزعمل میں کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آیا وجودِ مطلق ہے یا نہیں؟ جیمز کی افادیت اور نتائجیت پسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ مذہب کو بھی نتائج کی کسوٹی پرپرکھتا ہے۔ اس کے نزدیک ایمان کا جو ہرنہ جذبہ ہے نہ عقل بلکہ ایمان لانے کا ارادہ ہے، جسے سائنسی طریقوں سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب میں کسی صداقت ِمطلقہ کا کھوج نہیں لگایا جاسکتا؛ البتہ یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ اللہ، حیات بعد الموت اورقدرو اختیار پرعقیدہ رکھنے سے ہمیں کوئی عملی (دنیاوی) فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہوتوان عقائد کے اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں(۲)۔

            نتائجیت پسندی کا ایک اورمشہورشارح جان ڈیوی ہے، جو جیمز ہی کی طرح فکر انسانی کو محض ایک آلہ سمجھتا ہے اس کے نزدیک کسی نظریے کی عملی کامیابی کی طرف رہنمائی ہی اس کی صداقت کا واحد معیار ہے۔

 History of Psychology P-212 E.A. Esper, A (۱)

L. Zusne, Names in the History of Psychology, P-98(۲)

             انگلستان کے پروفیسر شار نے نتائجیت پسندی کوانسان پسندی سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نزدیک جو کچھ بھی انسان کے لیے صحیح ہے اسے کسی مافوق الفطرت ہستی کی بجائے انسانی مفاد ہی کی پرورش کرنی چاہیے۔ گو یا خدا کو بھی صرف اس لیے مانو کہ اس سے دنیوی فائدہ ہوتا ہے، ظاہر ہے اس سے بڑھ کر سیکولرزم اور لادینیت کا تصور کیا ہو سکتا ہے کہ عملی کامیابی، نتیجہ خیزی اورافادیت کو افکار کی صداقت کا معیار قراردیا جائے؛ بل کہ یہ تو محض کاروباری ذہنیت کی عکاسی ہے۔

            تجربیت اوراس کی بعض ذیلی شاخوں کے اس مختصر بیان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تجربیت نے نہ صرف مذہب اوروحی کی برتری کو رد کیا؛ بلکہ ادراکِ حقائق کا انحصار محض انسانی مشاہدے اور حسی تجربے کو قرار دے کر اسے ایک متبادل مذہب اورنظریہٴ حیات بنا کر پیش کیا۔ اس نقطہٴ نظر کو دوسرے علوم و فنون پربھی غالب کر دیا اورانہیں لا دینی بلکہ دین دشمنی کے رنگ میں رنگ دیا۔

             مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہے کہ مغربی فکر وتہذیب میں حسی علم اور تجربے سے حاصل ہونے والا علم ہی یقینی اورحتمی ہوتا ہے اور خدا، وحی، فرشتے اور آخرت کا تصور چوں کہ اس معیار پر پورے نہیں اُترتے، لہٰذا وہ قابل رد ہیں اور مغربی فلسفہ علم کی رو سے وہ علم کے معیار پر پورے نہیں اترتے؛ لہٰذا وہ تو ہّمات (Superstitions) ہیں یا آسمانی تحکم پر مبنی Dogma ہیں، وہ علم بہر حال نہیں ہو سکتے؛ کیوں کہ حسی اور تجربی علم کی رو سے وہ قابل تصدیق (Verifiable) نہیں ہیں۔ مغرب کا یہ نظر یہ ممکن ہے، سائنس میں ترقی کا ذریعہ اور سبب بنا ہو لیکن اس نے مذہب کو بہر حال دیس نکالا دے دیا ہے اورمغربی فکر و تہذیب کے ماننے والے اہل دانش، فلسفیوں اور سائنس دانوں کے ہاں مذہب کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔

مغربی تہذیب کا ورلڈویو (World View)

            مغربی فکر و تہذیب کے بنیادی نظریات کے مطالعہ کے بعد اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ جان سکیں کہ ان نظریات پرمبنی فکر سے کیسا ورلڈ ویو وجود میں آتا ہے۔ ورلڈ ویو مغرب کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس فکر و تہذیب کی رو سے اہل مغرب کا تصورِ الٰہ، تصورِ انسان، تصورِ کا ئنات، اور تصورِعلم کیا ہے؟

تصورِ الٰہ:

            جیسا کہ ہم نے ہیومنزم کے بارے میں دیکھا کہ نشاةِ ثانیہ کی تحریک نے اوربعد میں تحریک تنویر نے اُس وقت کے مذہب (عیسائیت) کوردّ کردیا؛ کیونکہ وہ مذہب بادشاہت اورجاگیرداروں کے ساتھ مل کرعوام کا استحصال کررہا تھا۔ نیز حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیمات میں انحرافات اوریونان کے وقتی سائنسی نظریات کے اُس میں ادخال کے سبب جدید سائنسی اکتشافات کے خلاف ثابت ہورہا تھا؛ لہٰذا ان دو وجوہ کی بنا پرابھرتی ہوئی مغربی تہذیب کے قائدین نے، اصلاً عیسائی ہونے کے باوجود، مذہب کو ردّ کر دیا اورعیسائیت کونوں کھدروں میں پناہ لینے پرمجبورہوگئی۔ جب مذہب رد ہو گیا تو تصورِالٰہ یا تصورِ خدا جو مذہب کی جان ہے منطقی طورپروہ بھی رد ہو گیا۔ اور اگر ہم یہ پیشِ نظر رکھیں کہ عیسائیت کا تصورِالٰہ یعنی تثلیث ویسے بھی غیر فطری، غیر سائنسی، غیرعقلی اورمذہب کی حقیقی تعلیمات کے خلاف تھا، لہٰذا جدید مغربی تہذیب کا اُس کورد کرنا قابل فہم محسوس ہوتا ہے۔

             مغرب کے اس تصورِ خدا کا ملحدانہ اورکافرانہ ہونا اتنا واضح ہے کہ اس کے لیے دلائل دینے کی بھی ضرورت نہیں اورایک عام مسلمان بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ہیومنزم کفرصریح ہے اورایک مسلمان ہرگز اس کو نہیں مان سکتا، خواہ اس کوانسانیت کا خوبصورت لبادہ پہنانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے!

 تصورِ انسان:

             جیسا کہ ہم نے سطور ِبالا میں دیکھا ہے کہ مغربی تہذیب کا تصورِ انسان، جس کی ابتدا تحریکِ نشاةِ ثانیہ میں انسان کی تکریم اور اُسے کائنات میں مرکزی حیثیت دینے سے ہوئی تھی، اُس نے بالآخر مغربی تہذیب میں آسمانی خدا کے انکار اورخود انسان کے اپنا خدا خود ہونے کے تصور کو مستحکم کردیا؛ جیسا کہ ہم نے سارتر، ولیم جیمز اورنطشے وغیرہ کے اقوال میں دیکھا ہے۔ یوں مغربی تہذیب خدا مرکز (Centric God-) ہونے کی بجائے انسان مرکز (Human-Centric) بن گئی۔

            ظاہر ہے یہ تصورِ انسان اسلام کے تصورِ انسان کے بالکل برعکس ہے کیوں کہ اسلام میں انسان اللہ کا عبد ہے(۱) اوراس کا کام ہرحالت میں اورانفرادی اوراجتماعی زندگی دونوں میں بلا شروط وحدود اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرنا ہے۔(۱)وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ )الذاریات:۵۶)

تصورِ کائنات:

            جب خدا کا تصورنہ رہا اورنہ رسولوں کا تو پھر آخرت کا تصور کہاں سے آتا؟ چوں کہ میٹریل ازم یا مادہ پرستی میں یقین رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی صرف اس دنیا کی مادی زندگی ہے اورآخرت کوئی چیز نہیں۔ اسی طرح کیپٹل ازم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے اوریہی ہمارا ہدف اورمقصود ہے اوراس میں دولت اورآسائشوں اورراحتوں کا حصول ہی انسان کا مقصدِزندگی ہے، خواہ وہ جس قیمت پربھی ہو۔

             مغربی تہذیب آخرت کا انکاراس لحاظ سے بھی کرتی ہے کہ عقل اور حسی علوم کی بنیاد پرآخرت کا اثبات نہیں کیا جا سکتا؛ کیوں کہ ظاہر ہے کہ آخرت نہ نظر آتی ہے اورنہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام آخرت پرمبنی دین ہے اوراس میں آخرت کو دنیا کی زندگی پرہرحالت میں ترجیح حاصل ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے آخرت پردنیا توقربان کی جاسکتی ہے، لیکن آخرت کو دنیا کے لیے برباد نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے کہ ”دنیا آخرت کی کھیتی ہے“(۱) اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگردنیا کی اہمیت اللہ کی نظر میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ کافروں کو نہ دیتا(۲)۔

 تصورِ علم:

            جیسا کہ ہم نے ایمپریسزم میں دیکھا کہ علم کا منبع یا توعقل ہے یا حسی علم یعنی تجربہ اورمشاہدہ۔اس کو مغربی دانشور یوں بھی کہتے ہیں کہ حتمی اوریقینی علم وہ ہے جو قابل تصدیق (Verifiable) ہو۔ اس کا صاف مطلب ہے وحی اورمنزل من اللہ ہدایت کی نفی اوررسولوں کی تعلیمات کا انکار۔ ظاہر ہے کہ مغربی تہذیب کا یہ تصورِعلم اسلام کے تصورِعلم کے سو فیصد خلاف ہے؛ کیوں کہ اسلام میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا وہ حق ہے اور حرفِ آخر ہے؛ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ﴿الْعِلْمُ عِنْدَ اللہِ﴾(الملک:۲۶) اور ﴿قُلْ إِنَّ ہُدَی اللَّہِ ہُوَ الْہُدَی وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَہْوَائَہُمْ بَعْدَ الَّذِی جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللَّہِ مِنْ ولِیٍ وَلَا نَصِیرٍ﴾(البقرة:۱۲۰)کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگرتم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آجانے پربھی ان کی خواہشوں پرچلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔

(۱)(اسے مستدرک حاکم اور مسند الفردوس میں حدیث کہا گیا ہے اگر چہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے۔)

(۲)جامع ترمذی، رقم الحدیث: ۲۳۲

            اسی طرح اللہ کا رسول اور نمائندہ ہونے کی حیثیت سے پیغمبرجو بات کہے وہ بھی حق ہے اور حتمی طور پر سچی ہوتی ہے؛ کیوں کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ ﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوَیِ إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی﴾(النجم:۳،۴)”اورنہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو(ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے۔“

            اور یہ کہ﴿وَمَا اٰتٰکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْهُ فَانْتَہُوا﴾(الحشر:۷)” سو جو چیز تم کو پیغمبردیں وہ لے لو۔ اورجس سے منع کریں (اس سے) بازرہو۔“ بلا شبہ اسلام میں عقل کا کردار بھی ہے؛ جسے اجتہاد کی صورت میں دین نے ہمیشہ کے لیے شریعت میں اہم جگہ دی ہے، لیکن یہ کردار ضمنی، جزوی اورنصوص کے ماتحت (Subordinate) ہے نہ کہ ان پر حاوی یا ان کے مساوی۔

            اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی تہذیب کے اساسی افکار اوراس کا ورلڈ ویوکفروالحاد پرمبنی ہے۔ اورجب یہ نظریات کفروالحاد پرمبنی ہیں تو منطقی طورپراس کے ماننے والے ملحد اورکافرہیں اورشرعی لحاظ سے مغربی تہذیب کو کفر اوراس میں یقین رکھنے والوں کو کافر سمجھنا اورکہنا اوران سے کفار جیسا سلوک کرنا ایک شرعی تقاضا ہے۔(اسلام اور رد مغرب:ص/۱۵ تا ۳۹)

کیا نظریہٴ حیات ایک نیا تصور ہے؟

            لفظ ”ورلڈ ویو“ یا”پیراڈائم“ اپنے استعمال میں شاید نیا نظر آتا ہومگراس کا مفہوم اورتصورانسانی تاریخ جتنا پرانا ہے۔ اسلامی نقطہٴ نظر سے تو یہ ہر مخلوق کے لیے ہمیشہ سے موجود رہا ہے، کیوں کہ ہرمخلوق اپنی تخلیق کے ساتھ خالق کی اطاعت اورزندگی کے مقصد کا ادراک رکھتی ہے۔ اسلامی روایت میں اس مضمون کو ”علم العقائد“،”علم التوحید“ یا”علم الکلام“ کے نام سے جانا جاتا ہے، جوان اہم بحثوں کا احاطہ کرتا ہے۔

            اس موضوع پرہردورمیں ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں، جن میں امام ابو حنیفہ سے منسوب”فقہ الاکبر“، امام طحاوی کی”عقیدہ الطحاویہ“، امام غزالی کی ”الاقتصاد فی الاعتقاد“، امام نورالدین صابونی کی ”اصول الدین“، امام النسفی کی”شرح عقائد النسفی“ اورشاہ ولی اللہ دہلوی( رحمة اللہ علیہِم)کی”حجة اللہ البالغہ“ شامل ہیں۔ یہ تمام کتابیں اس بات کی غماز ہیں کہ نظریہٴ حیات کا تصوراوراس کے مختلف پہلو ہردورمیں علمی و فکری تحقیق کا حصہ رہے ہیں اوران کی تفصیلات نے اسلامی علم وفکرکوایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔