آئیں اصول الفقہ کے ہمراہ آپ کو قرآن کریم کے دربار میں لے چلیں!

(دوسری قسط:)

بقلم: محمد محسن گلزار

معلم تدریب المعلمین فی اصول الفقہ وعلوم الحدیث عند الحنفیہ وغیرھم من المحدثین نظراوتطبیقا،

 لاہور پاکستان،سر پرست مجلس ارشاد المطالعة پاکستان۔بانی لیڈر ہاؤس پاکستان۔

            سوال:۷– استاد محترم! کیا کوئی اوراصولی بات بھی ہے، جس کواس ضمن میں جگہ دی جا سکتی ہے؟

            جواب:– جی ہاں! المسائل الفقہیة کو کتبِ فقہیہ میں مدوّن کرتے وقت تین مسالک کے پیش نظر یہ کام کیا گیا ہے۔

تین مسالک:

            ۱۔مسلک التأصیل: ان کتب میں باب وفصل کے آغاز میں پہلے اصول وضوابط فقہیہ بیان کیے جاتے ہیں اوراس کے بعد ان سے متفرع ہونے والی جزئیاتِ فقہیہ بیان ہوتی ہیں۔

            ۲۔ مسلک التأویل: ان کتب میں پہلے مسئلہ بیان ہوتا ہے اوراس کے بعد اس کی دلیل بیان ہوتی ہے۔

            ۳۔ الجمع بین المسلکین: اس میں شروع میں اصول اوربعد میں دلائلِ حدیثیہ وغیرہ بیان ہوتے ہیں۔

            سوال:۸– استاد محترم! اصول الفقہ کے ارکان واجزاء اوراس کے مصادر ومنابع سے تعارف ہو گیا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے یہ تو اصول الفقہ کا وہ رُخ ہے، جو اس کی راہنمائی کے لیے جلوہ افروز ہوا ہے، جو ایک مسئلہ کی تحقیق کرکے اس پرعمل پیرا ہونے کے درپے ہے، تاکہ وہ سعید فی الدنیا والآخرة بن سکے۔

            لیکن اگر کوئی نظام ِشریعت پراعتراض کرتا ہے اورکسی رکنِ اسلام کے ہونے یا یوں ہونے جیسا کہ وہ اسلام میں ہے، پراعتراض کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ یہ ایسے نہ ہوتا؟! جیسے مثلًا اسلام میں عورتوں کو حجاب کی پابندی کیوں ہے؟ اسلام میں جہاد کیوں ہے؟ نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ زکوٰة کیوں لاگو کی گئی ہے؟ حج پراتنا پیسہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ محرم رشتوں میں آپسی نکاح کیوں نہیں ہوسکتا؟ وغیرہ

            تو ایسے آدمی پرحجتِ افہام وتفہیم قائم کرنے کے لیے بھی کچھ ارکان واجزاء اصول الفقہ میں اپناوجود رکھتے ہیں یانہیں؟ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ سابقہ ذکر کردہ ارکانِ اصول الفقہ کی منزل کتاب وسنت سے پیش آمدہ سوال ومسئلہ کا حل اخذو استنباط کرنا ہے اور معترض یہ جاننا نہیں چاہتا بلکہ مسئلہ ایسے کیوں نہیں؟ ویسے کیوں نہیں؟ فلاں کیوں نہیں!؟ ڈھمکان کیوں نہیں؟ والا ہے۔

             وہ دربارِ شریعت میں قربان جانے والا دل نہیں لایا بلکہ چوں چراں کرنے والا دماغ لایا ہے، اس کی دماغی خرابی کی وجہ مستشرقین(یہود ونصاری کے وہ علماء جو اسلام کے ساتھ دشمنی میں نہایت مخلص ہیں) کی شاگردی بھی ہوسکتی ہے، یا وہ خود ہی رب سے زیادہ نفس کا غلام ہے، اوررب کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا چاہے برائے نام ہی کیوں نہ ہو! ایسے ہی معترض کوئی دہریہ وملحد، زندیق ومنافق، مستشرق وکافر بھی ہوسکتا ہے، تو ان کے لیے کون سے ارکان اصول الفقہ کار گر ہوں گے؟؟؟

            جواب: آپ نے اپنے سوا ل میں مفصّل طور پراپنا مافی الضمیر بیان کردیا ہے، ا س کے جواب کے لیے درج ذیل چیزیں اصول الفقہ کے ارکان واجزاء کے طور پر بر سرِ پیکار ہیں:

اصول الفقہ کے ارکان واجزاء:

            ۱۔ المقاصد الشرعیة المعالیة الآفاقیة العمومیة المتعلقة بنظام الکون والعالم کله

            ۲۔ مقاصد الشریعة الخاصة تحفیظ ضروریات الانسان الستة۔

            ۳۔ القواعد الکلیة فی مقاصد الشریعة۔

            ۴۔ اسرار الشریعة ۔

            ۵۔ علم الکلام والعقائد القدیم۔

            ۶۔ علم الکلام الجدید اصول الغزو الفکری فی ابطال الالحاد والزندقة والدہریة۔

            ۷۔ القواعد والضوابط فی عمومات الشریعة مع الموازنة بینہا وبین نظام الکفر الجدید مذہب ألوہیة الانسان وأقدارہ وأصوله۔

            ۸۔ مناہج القرآن وأسالیبه فی الجدل والمناظرة واحقاق الحق وابطال الباطل۔

            ۹۔ القواعد المنہجیة المأخوذة من العقل والعرف والاجتماع۔

            ۱۰۔ العلوم العصریة الأساسیة المعاونة فی فہم الاعتراضات والأسئلة الموجہة الی الاسلام مثل علم النفس وعلم الاقتصاد، علم العمرانیات، علم فلسفه وغیرہا۔

            سوال:۹– استاد محترم! میں تو سمجھتا تھا کہ اصو ل الفقہ صرف دلائل الاحکام یاادلة الشریعة الکتاب والسنة والاجماع والقیاس وادلة اخری المختلف فیہا بین الأئمة ہی اصول الفقہ کی کامل تصویر ہے، جس کو ہماری درسی کتابوں: اصو ل الشاشی، نور الأنوار، حسامی، التوضیح والتلویح، کشف الأسرار، اصول السرخسی وغیرہ میں بیان کیا گیا ہے! جن کودرس نظامی اور تخصصات کے دوران پڑھایاجاتا ہے، لیکن اصول الفقہ کی تصویر کا ایک تابناک اورعظیم رخ تو اب میرے سامنے آیا ہے، اس رخ میں بیان کردہ دس نکات(ارکان واجزاء کی مختصر تشریح کے ساتھ ان کے اندر چند کتب کے ناموں کی طرف بھی رہنمائی فرمائیں۔

            جواب: الشریعة کو الفقہ الاسلامی سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور الفقہ الکامل میں قدیم اصطلاح کے مطابق الفقہ کی تصویر درج ذیل ہے:

الفقه الکامل:

            ۱۔ الفقه الأکبر۔ (الایمان والعقائد)

            ۲۔ الفقه الأصغر۔

            ۳۔ الأخلاق والآداب الاسلامیة فی المعاشرة بین الفرد والمجتمع

            جبکہ الفقه الأصغر من الأحکام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، ا س کے درج ذیل ذیلی شعبہ جات ہیں:

الفقه الأصغر:

            ۱۔ عبادات۔

            ۲۔ فقه الأسرة۔ (عائلی احکام)

            ۳۔ معاملات۔

            ۴۔ فقه التعامل الاجتماعی۔

            ۵۔ الاحکام السلطانیة۔(سیاست شرعیہ یا فقہ دستوری)

            ۶۔ فقه الجنایات۔(اسلام کا فوجداری نظام)

            ۷۔ ادب القاضی۔ (قانون ضابطہ)

            ۸۔ الفقه الدولی۔(دیگر نام: السیر، القانون بین المالیک، بین الاقوامی قوانین، وزارت خارجہ)

            ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ کبھی بھی مکمل فن ایک کتاب میں یا ایک جیسی فہرست مضامین پر مشتمل متعدد کتب میں مکمل طور پر نہیں ہوتا۔

            آپ علم الصرف کو ہی دیکھ لیں: گردانوں پر الگ کتب ہیں، خاصیاتِ ابواب پر الگ کتب ہیں، قوانین برائے تعلیلاتِ ہفت اقسام پرالگ کتاب دستیاب ہو جائے گی، تو فقہ واصول فقہ تو بہت ہی وسیع وعریض حدود اربعہ پر محیط ہیں، اس لیے متعدد جہات وارکانِ فن پر مشتمل کتابوں کی جامع فہرست ہی فن کی بڑی تصویر پیش کرسکتی ہے، البتہ اہمیت کے پیش نظر الفقہ الأکبر پرالگ تصانیف کا رواج ہو گیا، الفقہ الأصغر پرالگ تصانیف ہونے لگیں اورالفقہ الأصغر کے بعض ارکان وابواب کے لیے الگ الگ تصانیف ہونے لگیں، جیسے امام محمد رحمہ اللہ کی السیر الصغیر او رالسیر الکبیر کو دیکھ لیں، ادب القاضی پرالگ کتابیں ہیں، اسی طرح حسنِ معاشرت، اخلاقِ حسنہ اورآداب ِاسلامیہ پر بھی الگ الگ کتابوں کی تصنیف ہونے لگیں، جیسے الفقہ الکامل کے متعدد شعبہ جات پر الگ الگ تصانیف آپس میں مل کر ہی اس کی ترجمانی کی مستحق ہیں،ایسے ہی اصول الفقہ کے مذکورہ بالا دس ارکان واجزاء مل کراصول الفقہ کی اجتماعی تصویر پیش کر سکتے ہیں، رہی بات آپ کے درس ِنظامی و تخصص میں داخل نصاب کتب کے فہرستِ مواد کی تو وہ یکساں مواد پر مشتمل ہیں، اس لیے وہ اصول الفقہ میں سو میں سے دس، بیس فیصد مواد پر مشتمل ہیں۔

            آپ خود ہی بتلائیں جب ۱۰۰/ نمبرز کے پرچہ میں ۲۰/ فی صد نصاب پڑھا جائے تو زیادہ سے زیادہ محنت کرکے بھی۲۰/۲۰ /نمبر ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں اور۰ ۸ فی صد نمبر تو جب پڑھنے پڑھانے میں ہی نہیں آئیں گے، تو پرچہ میں ان سے متعلق جوابات کیسے دیے جاسکتے ہیں۔

            آپ علوم الحدیث کو ہی دیکھ لیں، اصول الفقہ کے ارکان میں سے ایک رکن ادلة الأحکام یا مصادر الشریعة کے گیارہ اجزاء میں سے ایک جزء ہے، اور یہ ایک جزء متعدد شعبہ جات پرمبنی ہے،جس کے تمام اجزاء میں علماء کرام نے تصانیف کی ہیں:

علوم الحدیث:

            ۱۔ المصطلحات الحدیثیه۔

            ۲۔ اصول التخریج ودراسة الأسانید وشروط المصنفین ومناہجہم فی الکتب الحدیثیة۔

            ۳۔ علم الجرح والتعدیل۔

            ۴۔فقه الحدیث۔

            ۵۔ تاریخ تدوین الحدیث والدفاع عن السنة والرد علی المستشرقین ومنکری حجیة الحدیث۔

            ۶۔ القواعد والضوابط فی التصحیح والتعلیل۔

            جب اصول الفقہ کے ایک رکن کے گیارہ اجزاء میں سے ایک جزء علوم الحدیث کے کم از کم چھ شعبہ جات ہیں ،جن کے ذیلی عناوین کی فہرست مزید طویل ہو جائے گی تو آپ درس نظامی میں زیر درس اصو ل الفقہ کی کتب سے بالخصوص جب ان کے مواد کی فہرست بھی ایک ہی ہے، تو کیسے اصول کی جامع تصویر اور مکمل فن کی ترجمانی پیش کرسکتے ہیں!!!؟؟؟

الفقه الکامل کی جامع تصویر:

            الفقه الأکبر۔

            الفقه الأصغر۔

            الأخلاق الاسلامیه والآداب الشرعیة۔

الفقه الأکبر:

             التوحید۔

            الرسالة۔

             القیامة۔

الفقه الأصغر:

            اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

الأخلاق الاسلامیه والآداب الشرعیة:

            الأخلاق والآداب الاسلامیہ سے مزین مسلم شخصیت میں درج ذیل دس خصلتیں اور صفات پائی جاتی ہیں:

            ۱۔ الرحمة۔

            ۲۔ الاستقامة۔

            ۳۔التقوی۔

            ۴۔ الشکر۔

            ۵۔ الصبر۔

            ۶۔ الصدق۔

            ۷۔ العدل۔

            ۸۔ العفة۔

            ۹۔ الوفاء۔

            ۱۰۔ السماحة۔

            یعنی ایک انسان جب مسلمان ہو جاتا ہے تواس کی کامل تصویر درج ذیل ہے:

            ۱۔ المؤمن الرحیم علی الناس وخلق اللہ۔

            ۲۔ المستقیم علی الحق۔

            ۳۔ المتقی یخاف اللہ ولا یخاف غیرہ۔

            ۴۔ الشاکر لأنعم الخالق۔

            ۵۔ الصابر فیما یصیبه من الأذی فی طریق الحق و اختبار الحیاة۔

            ۶۔ صادق القول والعمل فی السر و العلانیة۔

            ۷۔ العادل فی کل ما حکم وأمر وقال وعمل۔

            ۸۔ العفیف الذی یجتنب الفواحش و ما استکرہ من العمل والقول۔

            ۹۔الوفیّ لما عاھد علیه للخالق والمخلوق۔

            ۱۰۔ السخی والعاف عن الناس، المیسر لہم فیما یقدر ویأمر ویعمل۔

            امید ہے اس بات کے سننے کے بعد آپ کو یہ شرح صدر ہو گیا ہے کہ اصول الفقہ کے متعدد اجزاء وارکان ہیں، جو اس کی بڑی جامع اورعمومی تصویر پیش کرسکتے ہیں۔

            اب آتے ہیں آپ کے اصل سوال کے جواب کی طرف تو درج ذیل میں اصول الفقہ کے دس اجزاء جو معترضین و کافرین، ملحدین وزندیقین کے پیش نظر دعوت اسلام کی ذمہ داری نبھانے کے لیے مصروفِ عمل ہیں:

۱۔ المقاصد الشریعة العالیة الآفاقیة العمومیة المتعلقة بنظام الکون والعالم کله:

            (اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: اصو ل النظر فی مقاصد التشریع الاسلامی از نمر احمد السید مصطفی المطبوع: دار النوادر۔

            ۱۔ العبودیة للہ تعالی فی العالم کله۔

            ۲۔ اقامة العدل والحقوق والحریة الاسلامیة فی العالم کله لکافة الناس۔

            ۳۔ عمارة الأرض۔

            ۴۔ الائتلاف والاعتصام والمحبة بین کافة الناس۔

۲۔ مقاصد الشریعة الخاصة بتحفیظ ضروریات الانسان الستة:

            (ان کی تفصیل میں مقاصد الشریعة پرالموافقات للشاطبی کو ضرور دیکھیں، البتہ تمام مقاصد الشریعة کی کتب میں اس کی تفصیلات مل جائیں گی، جیسے: مقاصد الشریعة للشیخ طاہربن عاشور)

            ۱۔ حفظ الایمان۔

            ۲۔ حفظ النفس۔

            ۳۔ حفظ العرض۔

            ۴۔ حفظ النسب۔

            ۵۔ حفظ المال۔

            ۶۔ حفظ العقل۔

۳۔ القواعد الکلیة فی مقاصد الشریعة:

            (ان کی تفصیل کے لیے آپ معلمة زاید للقواعد الفقہیة والأصولیة کی تیسری، چوتھی، پانچویں جلد ملاحظہ فرمائیں) یہ ملحدین ومعترضین کو دم بخود کر دیں گے، ان کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ یہ کلی قسم کے اعتراضات کے دفعیہ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی تقریردل پذیر ضرورملاحظہ فرمائیں۔

۴۔ اسرار الشریعة:

            یہ اسلام کے جزوی مسائل پرجزوی اعتراضات کے دفعیہ کیلیے وضع کیے گئے ہیں، جن پرآ پ درج ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں:

            ۱۔القفال الشاشی کی محاسن الشریعة۔

            ۲۔عز ابن عبد السلام کی قواعد الأحکام فی مصالح الأنام۔

            ۳۔امام غزالی کی احیاء علوم الدین۔

            ۴۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجة اللہ البالغة۔

            ۵۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اشرف الجواب اور احکام اسلام عقل کی نظر میں۔

            ۶۔ محاسن الاسلام ۲۱ جلدیں اس میں مستشرقین کے تمام اعتراضات کا احاطہ کرکے ان کے جوابات پرباقاعدہ مقالات لکھے گئے ہیں، جن کے لکھنے والے متعدد معاصر اہل علم ہیں جنہوں نے مستشرقین اوران سے متاثر معترضین کے دانت کھٹے کررکھے ہیں۔

            ۷۔اسلام اور مستشرقین ازمولانا صباح الدین عبد الرحمن ندوی۔ یہ بھی اس موضوع پرجلدوں میں مجموعہ مقالات ہے۔

۵۔ علم الکلام والعقائد القدیم:

            حضرات متکلمین اسلام متقدمین بالخصوص امام غزالی، امام رازی، امام ابن تیمیہ کی اس موضوع پر کتابیں دیکھیں۔

۶۔ علم الکلام الجدید:اصول الغزوی الفکری فی ابطال الالحاد والزندقة والدہریة:

            اس پرالرسالة الحمیدیة، الانتباہات المفیدة حضرت تھانوی، شرح الانتباہات (مذہب اور سائنس) مولانا قاسم نانوتوی کی جملہ کتب،مولانا عبد الباری الندوی کی جملہ کتب،مولانا عبد الماجد دریابادی کی اس موضوع پر کتب، حسن عسکری کی جدیدیت، مولانا مناظر احسن گیلانی کی الدین القیم، ایسے ہی عرب علماء کی الغزو الفکری پر متعدد کتب۔

۷۔ القواعد والضوابط فی عمومات الشریعة مع الموازنة بینہا وبین نظام الکفر الجدید وأقدارہ واصوله:

            قواعد فی عمومات الشریعة کے لیے معلمة زاید کی القواعد الاصولیة کے اندر جلدوں کو ملاحظہ فرمائیں، اور ہیومنزم(کفر جدید) کے لیے رد الحاد پر لکھی گئی کتابوں کو ملاحظہ فرمائیں۔

۸۔ مناہج القرآن وأسالیبه فی الجدل والمناظرة وابطال الباطل واحقاق الحق:

            اس کے لیے دکتور زاہر غواص الألمعی کی کتاب مناہج الجدل فی القرآن ملاحظہ فرمائیں۔

۹۔ القواعد المنہجیة المأخوذة من المنطق والعرف والعقل:

            اس کے لیے معلمة زاید للقواعد الفقہیة والأصولیة میں ان پر مشتمل ایک جلد دیکھیں۔

۱۰۔العلوم العصریة المعاونة فی فہم الاعتراض والسؤال حول الاسلام:

            اس کے لیے آپ نفسیات، سیاسیات، معاشیات، عمرانیات، ایجوکیشن، فلسفہ پر بی اے، ایم اے کا نصاب ملاحظہ فرما سکتے ہیں، کم از کم بی اے کے نصاب میں موجود دو کتابیں لازمی طورپرمطالعہ کریں، ڈائریکٹ ان کو سمجھنے میں دقّت پیش آئے تو ان سے پہلے” ایف ،اے“ کے نصاب میں موجود دو کتابیں مطالعہ کرلی جائیں، تو عصر حاضر کا لب ولہجہ، اور اسلوب وانداز سمجھنا آسان ہوجائے گا؛کیونکہ معترض آخر کسی ایک میدان سے تعلق رکھتا ہوگا اور اسلام کے کسی ایک شعبے پر اعتراض کررہا ہوگا، یہ جب ہوگا، جب وہ اعتراض خود کر رہا ہو، اوراپنے اعتراض میں مخلص ہو اوراس کو رفع کرنا چاہتا ہو، لیکن اگر وہ ایک وقت میں متعدد جہات میں اعتراضات کی بوچھاڑ کر رہا ہے، تو وہ اپنی ذات میں ان تمام جہات سے جاہل ہے، اور وہ مستشرقین سے اعتراضات مستعار لے کر نقل کر رہا ہے۔ تو جس جہت پرآپ اس سے بات کریں، اس جہت پر مقاصد الشریعة اور قواعد فی المقاصد، قواعد فی عمومات الشریعة کی روشنی میں اس سے گفتگو کریں، جب وہ کسی قاعدے کو تسلیم نہ کرے، تو آپ اس قاعدے کی جگہ ،اس سے بہتر قاعدے کا مطالبہ اس موضوع پر کریں، نیز اسے تسلیم نہ کرنے کی وجوہات اور دلائل کا اس سے مطالبہ کریں ،تو اس کے لیے نہ جائے رفتن او ر نہ جائے ماندن والا معاملہ بن جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالی۔

(جاری……)