الله کی خاطر خود سے ناراض رهنا

سَیرالی الله کے عجیب ترین مقامات میں سے ایک ”مقت النفس فی ذات الله“ هے۔ یعنی انسان خود کوالله تعالیٰ کے حق میں کوتاهی کرنے پرملامت کرتا رهے، اس پرغصه هو، اوراسے کٹهرے میں کھڑا رکھے۔ یهاں تک که سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنه سے مروی هے: ”جو الله کی خاطر خود سے ناراض رها، الله اسے اپنی ناراضی سے بچا لے گا۔“()

اس کی وجه یه معلوم هوتی هے -والله اعلم- که یه وهی شخص کرسکتا هے جسے اپنی تقصیرکا احساس هوجائے۔ اورجس قدربنده معرفتِ الهی کی منازل طے کرتاهے، اسی قدروه تقصیر کے احساس تلے دبتا چلا جاتا هے۔ امام شافعی رحمه الله نے فرمایا تھا که جوعلم کی پهلی وادی میں هوتا هے وه خود کو اکیلا تیس مارخان سمجھتا هے، جو دوسری وادی میں داخل هوتا هے وه سمجھ جاتا هے که اوروں کے پاس بھی علم هے، اورجوتیسری وادی میں داخل هوتا هے اس پریه حقیقت کھل جاتی هے که اُس کے پَلّے کچھ بھی نهیں۔ یهی حال عمل کا بھی هے۔ عمل میں خود کوتهی دامن وهی خیال کر سکتا هے جو عبودیت کے تقاضوں کی حقیقت بھانپ گیا هو!

گویا یه شخص هم جیسوں کی مانند بےعمل نهیں هوتا۔ بلکه اعمال میں خوب سبقت لے جانے کے بعد بھی سمجھتا هے که ‘حق تویُوں هے که حق ادا نه هوا!’ یؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة!! پھروه اپنے آپ پرچِیں به جبیں هوتا هے، غصے هوتا هے، اس کا بس نهیں چلتا که اپنے قرینِ سوء کا گلا گھونٹ دے۔ قربِ الٰهی کی جومسافت وه عمل سے نهیں طےکرپاتا،اس خودعتابی سے طےکرلیتا هے۔ حافظ ابن قیم رحمه الله فرماتے هیں: ”الله کی خاطرخود پرغصے هونا صدیقین کی صفت هے۔ اس راستے سے انسان ایک لمحے میں الله کے اتنا قریب هوجاتا هے، که اس سے دوگنا چوگنا عمل کرکے بھی اتنا قریب نهیں هوتا۔“()۔ بعض اخبارمیں آتا هے که ایک الله والے نے سترسال الله کی عبادت کی۔ ایک روز وه نکلا توکم مائیگی کے احساس نے اُسے آلیا، پس وه الله کے رُوبرو شکوه کناں هوا، اورجرمِ تقصیر کا اعتراف کرنے لگا۔ الله نے اس کی طرف قاصد روانه فرمایا که تیری یه خود عتابی کی مجلس مجھے تیری عمربھرکی عبادت سے زیاده پسند هے! ()

سیدنا ابودرداء رضی الله عنه فرماتے هیں: ”آپ تب تک حقیقی معنوں میں فقیه نهیں بن سکتے جب تک لوگوں سے الله کی خاطرناراض نه هوں، پھراپنے نفس کو دیکھیں تواس پرآپ کی ناراضی کهیں زیاده هو!“(4)۔

فاللهم فقهنا فی الدین!!…..

(1) محاسبة النفس لابن أبی الدنیا:۲۲)(2 )إغاثة اللهفان:۱۴۹/۱ )

                (3) الزهد لأبی داؤد:۱۵)(4 )مصنف ابن أبی شیبة: ۳۴۵۸۴)(عبدالعزیز ناصر)