مصنوعی ذہانت، جدید سائنسی مسائل اور ماہرین کی آراء

تحریروتخریج: ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی

مصنوعی ذہانت، جدید سائنسی مسائل ، فنی تحقیقات اور ماہرین کی آراء کا اعتبار:

 سائنسی ایجادات وٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا میں جس رفتار سے ترقی ہورہی ہے، اس سے نت نئے مسائل پیش آرہے ہیں۔یہ جدید سائنسی مسائل زندگی کے ہر شعبے یعنی عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اوراخلاقیات پرمُحیط ہیں۔ان مسائل میں دماغی موت، کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، میٹاورس، نیٹ ورک مارکیٹنگ، ڈی این اے اورثبوتِ نسب، ڈراپ شپنگ، غذائی اشیاء کے حلال وحرام اجزا، لیبارٹری میں تیارکردہ گوشت، مشینی ذبیحہ، میڈیکل انشورنس، ہیومن ملک بینک، کریڈٹ کارڈ، مصنوعی آلہ تنفس، ٹیسٹ ٹیوب اولاد، جدید ذرائع مواصلات سے تجارت اوراعضاء کی پیوندکاری جیسے مسائل شامل ہیں۔

ان جدید سائنسی مسائل، بالخصوص معاملات، میڈیکل اورجدید سائنس وٹیکنالوجی سے جڑے مسائل، میں اتنا تنوع واختصاص درکارہوتا ہے کہ ماہرینِ فن ہی ان مسائل کی حقیقت وماہیت کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔ان جدید سائنسی مسائل سے متعلق جب کوئی سوال دارالافتاء سے پوچھا جاتا ہے تومستند دارالافتاء اورجید مفتیانِ کرام کا طرزِعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ ماہرینِ فن سے رُجوع کرتے ہیں، جدید سائنسی مسئلہ کی ماہیت وحقیقت ماہرینِ فن سے اچھی طرح سمجھ کر اورمستند ومعتبرماہرین کی آراء کا اعتبارکرکے اُن کی آراء کی بنیاد پربڑی احتیاط کے ساتھ فتویٰ جاری کرتے ہیں۔

راقم کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ بعض دارالافتاء میں تخصص کے طلباء کو جب فتویٰ جاری کرنے کی مشق کرنے کے لیے کوئی جدید سائنسی مسئلہ حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے تو کچھ طلباء مصنوعی ذہانت مثلاً چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی، ڈیپ سیک ودیگر سافٹ وئیر سے اس جدید سائنسی مسئلہ کی ماہیت و حقیقت اورعالمی سائنسدانوں کی آراء جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے کئی نقصانات ہورہے ہیں۔

•اول: ان تخصص کے طلباء کواصل سائنسی مآخذ اورمستند سائنسی ماہرین کی آراء تک رسائی نہیں ہوپاتی اورنتیجتاً وہ کسی جدید سائنسی مسئلہ پریک طرفہ رائے پرانحصارکررہے ہوتے ہیں۔

• دوم: تخصص کے طلباء جدید سائنسی مسائل یعنی شئ کی ماہیت وحقیقت تک رسائی نہیں کرپاتے۔

•سوم: مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر (یعنی باطل قوتیں) جس جدید سائنسی مسئلہ کے بارے میں جورائے ان تخصص کے طلباء کی قائم کروانا چاہتی ہیں ایسا کروانے میں اُن کو کافی حد تک کامیابی مل جاتی ہے۔

•چہارم: مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرسے اکثر من گھڑت مواد اورمعدوم سائنسی حوالہ جات جب دیے جاتے ہیں تو یہ طلباء اس من گھڑت مواد اورمعدوم سائنسی حوالہ جات (ایسے سائنسی مقالے و کُتب جوکہ سرے سے موجود ہی نہیں) کواپنے فتویٰ میں تحریرکرتے ہیں جس سے ان کے فتویٰ کا معیاراورقابلِ اعتبارہونے پرسوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے۔نیزبعض مرتبہ حوالہ جات تو درست ہوتے ہیں مگران درست حوالہ جات سے متعلق جوبات منسوب کی جاتی ہے وہ ان مقالوں میں نہیں لکھی ہوئی ہوتی۔

•پنجم: اگرتخصص کے طلباء کی اس سائنسی تحقیق پراعتبارکرتے ہوئے دارالافتاء سے فتویٰ جاری ہوجاتا ہے اوراس فتویٰ کی سائنسی بنیاد درست نہیں ہوتی تو سائنسی دنیا میں مفتیانِ کرام کی بدنامی کا سبب بنے گا کہ دارالافتاء کو جدید سائنسی مسائل کی اصل حقیقت کا ادراک ہی نہیں ہے۔

• ششم: جب جدید سائنسی مسائل میں شئ کی ماہیت وحقیقت تک رسائی نہیں ہوئی، اوران تخصص کے طلباء کی یک طرفہ رائے قائم ہوگئی اوراس پرفتویٰ بھی جاری ہوگیا تواس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس جدید سائنسی مسئلے کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف مزید پروان چڑھتا ہے اورپھرعلمائے کرام کے مقالات میں جابجا غیرمعیاری سائنسی تحقیق کے حوالے آنے شروع ہوجاتے ہیں اورحق بات پسِ پُشت چلی جاتی ہے اوراس طریقے سے باطل قوتیں اپنے نظریات کی جڑیں مسلمانوں میں گاڑدیتی ہیں۔

•ہفتم: ان تخصص کے طلباء کی علمی و فقہی استعداد نہیں بن پاتی اورپھر آگے چل کرجب وہ اہم عہدوں اورشرعی مناصب پرخدمات انجام دیتے ہیں توپھر سستی، کاہلی، کام چوری، اور حد سے زیادہ اعتماد ان میں آجاتا ہے اوروہ ماہرینِ فن اورمستند سائنسدانوں کی سائنسی تحقیقات کوخاطرمیں نہیں لاتے، کیوں کہ ان کا مرجع تو بس مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر ہوتے ہیں۔

•ہشتم: یہ تخصص کے طلباء دیگردارالافتاؤں اورمدارسِ دینیہ میں تدریس وفتویٰ نویسی کی خدمات سے بھی وابسطہ ہوں گے۔ اب چونکہ مصنوعی ذہانت سے ہی طلباء مستفید ہوئے تھے، ان کا تخصص کا مقالہ وتحقیق مصنوعی ذہانت ہی کے مرہونِ منت تھا تولامحالہ یہ مصنوعی ذہانت کوہی اپنی کل کائنات سمجھتے ہیں اوراپنی تدریس اوراپنے زیرِنگرانی تخصص کے طلباء کوبھی مصنوعی ذہانت کے فوائد گنواتے نہیں تھکتے۔

الغرض ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس سے خدانخواستہ امُتِ مسلمہ میں اخلاقی، فقہی وعلمی قحط مزید پروان چڑھیگا۔

• نہم: جب تخصص کے طلباء کی سنجیدگی اورعلمی رُسوخ کا سائنسدانوں کا پتہ چلتا ہے اورباوجود ان سائنسدانوں کے صحیح بات بتانے کے یہ تخصص کے طلباء صحیح سائنسی تحقیق (یعنی حق بات) کوتسلیم نہیں کرتے کیوں کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کے استعمال سے اُن کی علمی وفقہی صلاحیتوں کو زنگ لگ چکا ہوتا ہے اور وہ حد سے زیادہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے متاثرہوتے ہیں توپھرسائنسدان ان سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں اوراس طرزِ عمل سے اصل نقصان امُتِ مسلمہ کا ہی ہوتا ہے۔

•دہم: ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے تخصص کے طلباء اپنے طرزِعمل پرشرمندگی کا اظہار کرکے مصنوعی ذہانت کے فتویٰ نویسی میں استعمال سے مکمل اجتناب کریں مگراکثریہ مشاہدہ ہوا کہ وہ تاویل کرنے لگ جاتے ہیں۔

• یازدہم: یہ تخصص کے طلباء مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرکوہی فنی ماہراورسائنسدان گرداننا شروع کردیتے ہیں۔حتی کہ فتویٰ نویسی وشریعہ ایڈوائزی کا کام مکمل طورپرمصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرپرچھوڑدیتے ہیں اوراس پرمکمل بھروسہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے ایسے فتویٰ جاری ہونا شروع ہوجاتے ہیں جن کو کبھی مفتیانِ کرام نے سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی فتویٰ میں ان امورکوبھی جائزقرار دے سکتا ہے اورپھریہ منکرات عوام میں رائج ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

اب جبکہ بعض تخصص کے طلباء اوربعض نوجوان مفتیانِ کرام مصنوعی ذہانت پراپنی فقہی تحقیق وفتویٰ نویسی کے لیے مکمل انحصارکرنے لگ گئے تو لامحالہ فنی تحقیقات، ماہرین کی آراء اورمستند عالمی سائنسدانوں سے ان کا تعامل نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں کی جانب سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ مفتیانِ کرام کو جدید سائنسی مسائل میں خود ماہرہونا چاہیے اورایسے حضرات اپنی اس بات کی پُرزور تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں کہ جدید سائنسی مسائل میں ماہرینِ فن سے رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سوچ درست نہیں کیوں کہ

”علمائے کرام اورسائنسدانوں کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے کام کریں اوراپنے فرائضِ منصبی نبھائیں، یعنی جوذمہ داریاں حضرات علمائے کرام اورمفتیانِ کرام کی ہیں وہ اُن پرکاربند رہیں اورجو سائنسدانوں، محققین، پروفیسر اورانجینئرحضرات کی ذمہ داریاں ہیں، وہ اُن ذمہ داریوں کو پوری تندہی کے ساتھ انجام دیں۔ اسی سے معاشرہ اِفراط وتفریط سے بچے گا اورترقی کرے گا۔ اگرعلمائے کرام اورسائنسدان اپنے اپنے دائرہ کارسے تجاوزکریں گے تو اسی سے معاشرے میں اَبتری پھیلے گی اور خَلْطِ مَبْحَث پیدا ہوگا۔“

(حوالہ: مبشر حسین رحمانی، علمائے کرام اورسائنسدانوں کی ذمہ داریاں، ماہنامہ دارالعلوم، جلد ۱۰۷، شمارہ ۹، ستمبر۲۰۲۳ ء)۔

جمہورمفتیانِ کرام کے مطابق جدید سائنسی مسائل میں فنی تحقیقات اورماہرین کی آراء کا اعتبارکیا جائے گا۔ اس بات کی وضاحت بڑی تفصیل کے ساتھ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی زیرِنگرانی مکتبہ دارالعلوم کراچی سے حالیہ شائع ہونے والی کتاب ”عِلم فقہ اورسائنس ازمولانا فداء اللہ صاحب“ میں کی گئی ہے۔ذیل میں ہم اس کے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں۔

 ”معلوم ہوا کہ حکم شرعی کی تعیین میں صورت مسئلہ کی تحقیق کی حد تک ماہرین کی رائے ازروئے قرآن کریم معتبر ہے۔“

(حوالہ: مولانا فداء اللہ صاحب، علمِ فقہ اور سائنس، صفحہ۰ ۸، مکتبہ دارالعلوم کراچی)

 ”اسی طرح بہت سے حضرات نے صورت مسئلہ کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کے اعتبار کے لیے آیت کریمہ ﴿فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل:۳ ۴) سے بھی استدلال کیا ہے۔ بل کہ بعض حضرات نے یہ تصریح بھی کردی ہے کہ یہاں ”اھل الذکر“ سے مراد اہلِ علم ہیں، چاہے کسی بھی ملت سے ہوں، یعنی ان کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔“(حوالہ: مولانا فداء اللہ صاحب، علمِ فقہ اورسائنس، صفحہ ۸۰، مکتبہ دارالعُلوم کراچی)

”اسی طرح حضرات فقہائے کرام نے متعدد مواقع پرحکم شرعی کی تحقیق میں متعلقہ ماہرین کی رائے کا اعتبارکرتے ہوئے اسی آیت کریمہ سے استدلال فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ”اہل الذکر“ سے مراد اہل فن اورماہرین ہیں۔“(حوالہ: مولانا فداء اللہ صاحب، علمِ فقہ اورسائنس، صفحہ ۸۰، مکتبہ دارالعُلوم کراچی)

  ”حکم شرعی کی تحقیق میں صورتِ مسئلہ اورامرواقع کی تحقیق کوبنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے حکمِ شرعی کی تحقیق میں ماہرین کی طرف مراجعت کو”اصلِ شرعی“ قرار دیا ہے۔“(حوالہ: مولانا فداء اللہ صاحب، علمِ فقہ اور سائنس، صفحہ۱ ۹، مکتبہ دارالعُلوم کراچی)

 حضرات فقہائے کرام نے صورت مسئلہ کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار کیا ہے اورشئ کی حقیقت وماہیت کی تحقیق پرغورکرنے کے بعد حکم لگایا ہے۔اپنی اس بات کی تائید میں مولانا فداء اللہ صاحب نے اپنی کتاب ”علمِ فقہ اور سائنس“ میں کتب فقہ سے پندرہ مثالیں پیش کی ہیں جہاں پرفقہائے کرام نے ماہرین کی رائے کا اعتبار کیا ہے۔ یہ مثالیں درجِ ذیل ہیں۔

 ۱۔       منافذ کی تحقیق میں اطباء کی رائے کا اعتبار۔

۲۔       اجزائے مردارکی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار (مردار کی ہڈی کی طہارت کا مسئلہ، مردار کے دانتوں کا حکم، مردار کے پٹھوں کا حکم)۔

 ۳۔       جواہراورسنگِ مرمروغیرہ پرتیمم میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۴۔        تدوای بالمحرم میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

 ۵۔       جوارح معلمہ کے متعلق ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

 ۶۔      امورِمیاہ میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

 ۷۔      عیوب کی وجہ سے خیارنکاح میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۸۔      معاملات میں مقومین کی رائے کا اعتبار۔

۹۔        مبیع میں عیوب کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۱۰۔      امراض کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

 ۱۱۔     صبی ممیز کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۱۲۔   حدود و قصاص میں جراحات کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۱۳۔   اجارات کے مسائل میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۱۴۔    نر اور مادہ اولاد کے الحاق کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۱۵۔    وصیت کے بات میں مرض الموت کے تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار

   اسی طرح اکابر علمائے دیوبند کے فتاویٰ میں بھی حکم شرعی کی تعیین میں سائنسی تجربات اور فنی تحقیقات کا اعتبارکیا گیا ہے اورماہرین فن سے رجوع کیا گیا ہے۔ اپنی اس بات کی تائید میں مولانا فداء اللہ صاحب نے اپنی کتاب ”علمِ فقہ اور سائنس“ میں اکابر علمائے دیوبند کے فتاویٰ سے چھ مثالیں پیش کی ہیں جہاں پر فقہائے کرام نے ماہرین کی رائے کا اعتبار کیا ہے۔ یہ مثالیں درجِ ذیل ہیں۔

۱۔    رطوبتِ فرج کی طہارت میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۲۔   دودھ اترنے کی مدت میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

 ۳۔   مکبر الصوت کی ذریعے صحتِ نمازمیں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۴۔     مردار کے دودھ کی حلت میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

 ۵۔     موضعِ احتقان کی تعیین میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

۶۔     ماءِ رمد اورماءِ زکام وغیرہ کی تحقیق میں ماہرین کی رائے کا اعتبار۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضراتِ فقہائے کرام بہت سے مسائل میں فنی مہارتوں کی طرف مراجعت کرتے ہیں اوران مسائل کے احکام کی بناء ماہرین کی آراء پر رکھتے ہیں البتہ کچھ مستثنیات بھی ہیں جن کا ذکرمذکورہ کتاب میں کردیا گیا ہے۔لہٰذا جوحضرات جدید سائنسی مسائل میں ماہرینِ فن سے ہٹ کرخود ہی فنون کو سیکھ کریا پھرمصنوعی ذہانت سے مراجعت کرکے، سطحی معلومات کی بنیاد پراپنے فتویٰ کی بنیاد رکھ رہے ہیں، وہ ماہرینِ فن کے متبادل نہیں ہوسکتے اورمفتیانِ کرام کے مطابق ان کے جاری کیے گئے فتاویٰ بھی درست نہیں کیوں کہ اکثر صورتوں میں انہوں نے صورتِ مسئلہ میں شئ کی حقیقت و ماہیت کو غلط سمجھا ہوتا ہے۔