ضروری اوراہم بیان

از: استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہ

 (صدر وفاق المدارس العربیة الاسلامیة پاکستان)

آج روشنی کا دورہے، آج کی اس روشنی میں ہمارے یہ علما، ہمارے یہ فضلااورہمارے یہ طلبا جو تیار ہورہے ہیں، انہوں نے مذکورہ بالا بزرگوں کے طریقوں کوچھوڑدیا۔ چھوڑدیا۔! مولویوں کے گھروں میں آج ٹی وی موجود ہے، مولویوں کے یہاں آج مختلف تقریبات میں موویاں بنتی ہیں، آج مولویوں کی ایسی تصویریں آپ کوبآسانی دستیاب ہوسکتی ہیں جن میں ان کے ساتھ غیرعورتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ آج میں نے اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے مفتیوں کوچھری اورکانٹے سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لیے میں اتنی بڑی تعداد میں ان مولویوں کی جماعت کو دیکھ کر، اتنی بڑی تعداد میں ان مدارس کی آبادی کودیکھ کر، اتنی بڑی تعداد میں ان فضلا کودیکھ کرخوف زدہ ہوتا ہوں۔ کئی لوگوں کومیری بات بہت ناگوار گزرتی ہے، لیکن بقول شاعر:

 مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ اللہ۔!

میں اپنی بات کہنے پرمجبورہوں۔ کسی کوبرا لگتا ہے، لگے، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔

 کوئی میری بات سے ناخوش ہوتا ہے، ہوتا رہے، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔

  میں نے جن بزرگوں کے نام لیے ہیں، میں یہ نئی تبدیلیاں ان کی اولاد میں دیکھ رہا ہوں۔

میں یہ نئی باتیں ان کی اولاد کے اندرمشاہدہ کررہا ہوں۔

اس واسطے میں آج کل فارغ ہونے والے ان نوجوان فضلا اورعلما کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگرتم اپنی خیرچاہتے ہو، اگر تم اپنی کامیابی چاہتے ہو، اگرتم فلاح کے طالب اورخواہش مند ہو، تو خدارا اس نئی روشنی کے چکرمیں نہ پڑو۔! اس نئی روشنی کے چکرمیں پڑو گے، خود بھی برباد ہوجاؤ گے، دوسروں کو بھی تباہ کرو گے۔ اس لیے اس سے کنارہ کش رہو، اوراس کا طریقہ فقط ایک ہے، اور وہ کیا ہے؟ وہ ہے:

﴿اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُونُوا مَعَ الصّٰدِقِینَ﴾

(اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور (عمل میں) سچوں کے ساتھ رہو)

   تقویٰ اختیارکرو، اورتقویٰ اختیارہوتا ہے صادقین کی صحبت میں۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ صادقین کے معاملات میں بھی بڑی چھان بین کی ضرورت ہے۔ کئی لوگوں نے صادقین کا اندازاختیارکیا ہوا ہے، اورمیں بقسم کہتا ہوں کہ وہ صادقین نہیں۔! اس لیے اس میں بھی بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ

مجلسِ ترجمانِ اہلِ حق (ہند)