حکیم فخر الاسلام صاحب الہ آبادی
”سوفسطائیت“کے معنی ہوتے ہیں ملمع کاری،یعنی باطل کوایسی تلبیس کے ساتھ پیش کرنا کہ اُس کے حق ہونے کا گمان ہو۔ اور” انسان پرستی “، ”ہیومنزم“کا ترجمہ ہے،”ہیومنزم“لاطینی لفظ ہیومینیٹاس سے ماخوذ ہے ۔ابتدا میں اِس لفظ کا فکری اِظہاریونان کے سوفسطائی فرقہ کے بانی پروٹوغورس کے اِس فقرہ میں ہوا کہ:انسان ہرچیزکا پیمانہ ہے ”Human is measure of all things.“ ” جیسا ہمارا اپنا سچائی کا تجربہ مختلف ہو،ایک کمیونیٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کواوراپنے فیصلوں کو کھلی جمہوری بحث پرمبنی کرے۔“ اُس کے اِس بیان نے قدیم یونان میں بڑا تنازع پیداکیا اورسقراط نے اِس ملمع کاری کی روش پرقدغن لگانے کے لیے عقلی بنیادوں پراخلاق کے اصول مدون کیے جن کا مقصد یہ تھا کہ عقل کے درست استدلال کے ذریعہ اخلاق حسنہ کی تائید کی جا سکے،جس کی پیروی افلاطون نے اور ما بعد حکمتِ حقہ کے حامل حکمائے الٰہیین نے کی۔
پروٹو غورس کے بعد جس شخص کے افکار سے ہیومنٹی کو فروغ ملا،وہ تیسری صدی قبل مسیح کا مفکرایبی قورس (Epiqurus۳۴۱تا ۲۷۰ ق.م.)تھاجس نے پائیرو(Pyrrho)، ارسٹیپس(Aristippus)، دیمو قراطیس(Democritus)جیسے ہیومنسٹوں ،مادہ پرستوں سے متاثر ہونے کے بعد اپنے زمانہ کے افلاطونیت کے خلاف ہوکر،ایتھنز میں ’باغ‘کے نام سے ایک اسکول قائم کیا،جوابیقوریہ مکتبہٴ فکر Epiqurianismکے نام سے مشہورہوا۔ اِبیقورس نے مذہبی شکوک و شبہات کو ہوا دی، انسانی ارادہ میں الٰہی مداخلت پرعام حملہ کیا،پھراُس کے شاگردوجا نشیں ہرمارچس (Hermachus۳۲۵تا ۲۵۰ ق.م.)نے حکمائے الٰہیین؛افلاطون،ارسطو اورایبی قلیدس کے خلاف سوفسطائی فلسفہ کوابھارا، دوسرے شاگردکولوٹس (Colotes۳۲۰ق.م.) اورآئیڈومینیس (Idomeneus of Lampsacus۳۲۵ ق.م.)وغیرہ نے عقل کے درست اصولوں پرشدید حملہ کیا اورظاہرکیا کہ سقراط کے عقلی اصولِ اخلاق-جوتوحید شناسی اورخدا رسی کی اساس تھے- پرعمل نا ممکن ہے ۔
ایبی قورین مکتبہ فکر کے حامی فلاسفہ میں بڑے بڑے عالی دماغ اورمتعدد فنون کے ماہرین ہوئے ہیں،مثلاً خود ابی قورس اجزائے لا یتجزی اور خلا کے تصور کا قائل تھا،اُس کا دوست پولیئنس (Polyainos۲۰ق.م.)علم ریاضی کا ماہر تھا اور میٹروڈورس (Metrodorus ۳۳۱تا۲۷۸ق.م.)کا شماروقت کے چار بڑے فلسفیوں میں ہوتا تھا؛مگر یہ لوگ فلسفہ ہیڈونزم کے علم بردار اورطالبِ لذت و مسرت تھے۔ تیسری صدی قبل مسیح سے چلی آرہی یہ ہیومنٹی تیسری صدی بعد مسیح تک جاری رہی ، پھریہ ایبی قورین فلسفہ ختم ہوگیا۔ایک ہزارسال بعد جب مغربی نشاة ثانیہ اورجدیدعقلیت کے ساتھ روشن خیالی کو فروغ ہوا،تو اپیکورینزم میں دلچسپی دوبارہ پیدا ہوئی اوریہ دلچسپی جدید دورمیں بھی قائم اور رو بہ ترقی ہے۔
انسان کی نوعیت اوراہمیت پرمرکوزیونانی کلاسکیکل دورسے اُبھرنے والے ”انسان پرستی “کے اِس عالمی نظریہ کوتعلیمی سطح پرسب سے پہلے قدیم روم میں سیسرو(Cecero۴۳ق․م․تا۱۰۶ق․م․رومن فلسفی ماہرِ قانون)اوردوسرے مفکرین نے آزاد ولبرل تعلیم کے لیے استعمال کیا ،جو۱۶ویں صدی عیسوی میں انگریزی زبان میں داخل ہوکر یونانی کلاسیکی ادب کے طلباء اوراُس کے حامیین کے ایک گروپ کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جا نے لگا۔
نشاة ثانیہ (۱۶ویں صدی عیسوی) کے انسانیت پسندوں نے یونانی سوفسطائیوں کی طرح ہی زبان وادب کی ملمع کاری کا حربہ اختیارکیا، فصاحت اوربلاغت کے ساتھ بولنے اورلکھنے کے قابل شہری پیدا کرنے پرزور صرف کیا،جس کے لیے یہ مراکز:۱-بولوگنا،۲-فیرارا، ۳- فلورنس، ۴-جینوا، ۵-لیورنو، ۶-مانتوا، ۷-یادوا، ۸-پیسا، ۹-نیپلز،۱۰-سیانا ، ۱۱-وینس ، ۱۲-ویسنزا، ۱۳-بینو-قائم کیے۔
اس طرح اُنہیں کتابوں کی تصنیف تک رسائی ہوئی ، تعلیم کے شعبہ میں قدم جمانے کا موقع ملا،جس کے بعد اساتذہ وطلباء کی ذہن سازی کو پیش نظر رکھ کر اسٹوڈیا ہیمینیٹائیٹس نام کی تنظیم قائم کی گئی جس کا مقصد ہیومنیٹیز کا مطالعہ تھا۔
ابتدا میں عیسائی الٰہیات اوراناجیل کی اصلاح کے لیے اُٹھنے والی ہیومنسٹوں کی تحریک نے تیرہویں صدی عیسوی سے سولہویں صدی عیسوی کے درمیان یونانی تصورِ ہیومنٹی کوزیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی پالیسی اختیارکی،تا کہ یہ ایک ثقافتی تحریک کے طورپرتمام معاشرے پراثراندازہوسکے۔یہ یونانی رومی (گریکورومن)تہذیب کے ثقافتی ورثے ،ادبی میراث اورآزاد اخلاقیات کے فلسفہ کوزندہ کرنے کا پروگرام تھا ۔اِس منصوبہ نے قدیم یونان اور روم کی ثقافت کو اُس کے ادب اور فلسفہ کے ذریعہ بحال کرنے اورحکمراں طبقے کوقدیم یونانیوں کے اخلاقی رویوں سے متاثرکرنے کی کوشش کی ۔نشاة ثانیہ کے بعد کی ہیومنیٹیز نے اپنے مدارجِ ہدف کس طرح طے کیے،اُس پرروشنی ڈالتے ہوئے ۱۹ویں صدی کے آرٹ اورثقافت کے ایک عظیم سوئس مورخ کارلجیک کرسٹوف برکھاسٹ(۱۸۱۸تا۱۸۹۷ء)نے لکھا ہے:
”چودہویں صدی سے سترہویں صدی تک کا عرصہ فرد کی عمومی آزادی کے حق میں کام کرتا تھا،شمالی اِٹلی کی شہری ریاستیں مشرق کی متنوع رسم و رواج کے ساتھ رابطہ میں آ چکی تھیں اورآہستہ آہستہ ذائقہ اورلباس کے معاملات میں اظہار کی اجازت مل گئی۔(اب فروغِ ادب اورفرد کی آزادی کا دور شروع ہوا)دانتے( Dante Alighieri ۱۲۶۵تا ۱۳۲۱ء)کی تحریریں اورخاص طورپرفرانسسکو پیٹرارک (Francesco Petrarch ۱۳۰۴-۱۳۷۴ء)اورمیکیاویلی جیسے انسان پرستوں کے عقائدفکری آزادی اورانفرادی اِظہارکی خوبیوں پرزوردیتے ہیں۔مونٹین (Montaigne۱۵۳۳تا۱۵۹۲ء،فرانسیسی نشاة ثانیہ کے اہم ترین فلسفی ادیب،معرفتِ نفس میں ڈیکارٹ کا پیش رو،تشکیک میں سوفسطائی،انفرادیت اور ہیڈونزم کے حامل )کے مضامین میں زندگی کے انفرادی نقطہٴ نظر کو ادب اور فلسفہ کی تاریخ میں شاید سب سے زیادہ قائل اور فصیح بیان ملا۔ “
دانتے کی ”ڈیوائن کامیڈی “میں روح کا ملائے اعلی کی طرف صعود،گناہ ثواب،جہنم،جنت ،جزا،سزا کا مذاق اڑاتے ہوئے خدائی دین کو مضحکہ بنا یاگیا ہے۔ جدید ادب اور” انسان پرستی“ کے بانی فرانسسکو پیٹرارک کے کلاسکی ادب کے ذریعہ سارے یورپ میں ”انسانی ہمدردی“ کے جذبات پروان چڑھے۔عیسائی ․کیتھولک؛ماہرالہیات،ماہرتعلیم، طنزنگار فلسفی ایراسمس (Erasmus ۱۴۶۹ء- تا -۱۵۳۶ء)کے ذریعہ ”انسان پرستی‘ کو فروغ حاصل ہوا۔ اِس نے ہیومنزم پھیلانے کے لیے یورپ بھرمیں بڑے پیمانے پرسفر کیااوراپنے خطوط ، مضامین،تراجم و تصانیف کی ایک بڑی تعداد کے ذریعے متعارف ہوا۔ انسانی جسم کے سائنٹفک مطالعہ کے نقطہٴ نظر سے مائیکل انجیلو(Angelo Michael ۱۴۷۵ء- تا -۱۵۶۴ء)کی تصویریں اور پینٹنگ بہت مشہور ہوئیں۔ حضرات انبیاء کرام کے مجسمے اِسی نے بنائے جو فن کا شاہکار سمجھے گئے۔رافیل(Raphael ۱۴۸۳ء – تا- ۱۵۲۰ء) کی شاہکار تصویریں اپنی خوبصورتی ، کشش ، رنگوں کے اِمتزاج کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہورہوئیں۔ عظیم مصور لیونارڈو ڈاونچی (Leonardo-da-Vinchi۱۴۵۲ء- تا- ۱۵۱۹ء) نے انسانی جسم کا سائنٹفک مطا لعہ کرکے انسانی جذبات کواپنی تصویروں میں پیش کیا،جس کے بعدمحبت، ”فطرت“ سے دلچسپی، ”انسانی ہمدردی“ جیسے جذبات، فن مصوری کے ذریعہ عام ہو نے لگے۔ نشأةِ ثانیہ کی”انسانیت پرستی “ میں ولیم شیکسپئرWilliam Shakespeare(۱۵۷۴تا ۱۶۱۶ء)نے دنیا کو ڈرامے کا ایک نیا انداز دیا۔اسی قطارمیں پروٹسٹینٹ ہیومنسٹ آتے ہیں :پروٹسٹنٹ فرقہ کا اہم پیش روبائبل کا مترجم ، آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر ”علمیت “کے لیے ”شام کا ستارہ“ مذہبی اِصلاح کے لیے” صبح کا ستارہ“ کہا جانے والا جان وائے کلف (John Wycliff ۱۳۲۰ء- تا -۱۳۸۴ء، نے ہیومنزم کے فاحش افکار پر مبنی تحریک”لولارڈز“برپا ہوئی،جس نے چارلس یونیورسٹی کے ڈین و ریکٹرجرمنی یونیورسٹی کے پروفیسرجان ہُس(John Huss -۱۳۶۹ء- تا -۱۴۱۵ء،)کو متاثر کیا۔جان کیلون( Jean Calvin۱۵۰۹ء- تا -۱۵۶۴ء) کی کتاب ”کرسچن رلیجن“ نے پروٹسٹنٹ طبقے کوفلسفیانہ بنیادیں فراہم کیں۔ اِس کے خیالات نے جرمنی، ہنگری، پولیڈ اوراِسکاٹ لینڈ پرگہرے اثرات مرتب کیے۔
تیرہویں صدی سے شروع ہونے والی انسان پرست، اِن مذہبی اِصلاحات نے ہمہ گیراورہمہ جہت تحریک کی شکل وٹن برگ یو نیورسٹی جرمنی کے مذہبی علوم اور فلسفہ کے پروفیسر مارٹن لوتھر (Martin Luther۱۴۸۳ء تا۱۵۴۶)کے زمانہ میں حاصل کی۔لوتھر کا کہنا تھا کہ خدا اور بندے کا رشتہ بالکل اِنفرادی ہے۔ ایک عام اِنسان کو بھی خدا کی کتاب کو پڑھ کرخود سمجھنا اورمذہبی امور میں اِجتہاد کرنا چاہیے۔ مارٹن لوتھر نے سارے یورپ کا دورہ کیا اوراپنے نظریات لوگوں تک پہنچائے۔ مارٹن لوتھر اوراُس کے حا میوں کو چرچ کی مزاحمت کی وجہ سے پروٹسٹنٹ ( مزاحم،مخالف Protestant=) کہا جانے لگا۔ اِسی کی ایک شاخ پیورِٹن کے نام سے مشہور ہوئی۔ الرچ زونگلی (Ulrich Zwingli۱۴۸۴ء- تا -۱۵۳۱ء ) نے بھی صرف انجیل کے متن کو تسلیم کیااور علماء کے ہرقسم کے تشریحی اصول سے اِنکارکردیا۔
نشاة ثانیہ ،ہرچیزسے بڑھ کرسیسرو (Cicero )کا اِحیا تھا۔پٹرارک کے سیسرو (۱۰۶ق.م.تا ۷ مسیح)کے خطوط کی دریافت کو-عوامی امورانسانیت پسندی اور کلاسیکی رومن ثقافت میں -۱۴ویں صدی کی نشاة ثانیہ کے آغازکا سہرا دیا جا تا ہے۔۱۸ویں صدی کے روشن خیالی دورمیں جان لاک،ڈیوڈ ہیوم،مانٹس کیواور ایڈمنڈ برک جیسے مفکرین پراُس کا کافی اثرتھا۔اپنے کاموں کے دوررس اثرات کے لحاظ سے اِس کا شمارعالمی ثقافت میں سب سے زیادہ با اثرافراد میں ہوتا ہے ۔دانتے کی نظم ڈیوائن کامیڈی اورولیم شیکسپیئر کے ڈرامے میں سیسروکا کردار نظرآتا ہے۔
نشاة ثانیہ میں نظریہٴ انسانیت کوفروغ دینے والے جدید ادب کے اصول مقررہوئے، کہ دینی احکام اورعقلی اصولوں سے آزاد رہ کر انسان اپنے خیال وجذبہ کی تسکین کرسکے۔تھامس جوناتھن (Thomas Jonatha ۱۸۲۴تا۱۸۶۳ء)اس کا ایک نمونہ ہے جس نے اپنی تحریروں میں ایک ایسے مثالی سماج کا خاکہ پیش کیا، جس سے انسان کی اپنی فطرت کی تسکین ہوسکے۔
