اللہ کا وعدہ حفاظت دین اسلام
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں وعدہ کیا ہے کہ ہم ہی قرآن (اوراُس کے توسط سے اسلام) کے محافظ ہیں۔ پہلے یہ کام ،انبیاء کے بعد متبعین ِانبیاء سے لیا جاتا تھا، جیساکہ سورہ مائدہ میں اِس کی جانب اشارہ ہے:﴿ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتَابِ اللّہِ ﴾ .. (نبی اورربانی علماء اور فقہاء یہودیوں کواِسی کے مطابق حکم دیتے تھے؛کیونکہ اُنہیں (اللہ کی اُس) کتاب کا محافظ بنایا گیا تھااور وہ اُس کے خودگواہ تھے۔(۱)مگر اب خاتم الانبیاء و خاتم الشرائع کے بارے میں اعلان ہوا۔﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا له لَحفِظُوْنَ﴾(۲)”بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک !ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
دین برحق ازل سے ابد تک اسلام ہی ہے:
اورکیوں نہ ہو! ازل سے ابد تک کے لیے اسلام ہی دین برحق ہے،اِس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔اللہ نے انسانوں کے جد امجد سیدنا وابونا ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے تکوینی طور پرروئے زمین پرھبوط کے موقع پراشارہ کردیا تھاکہ زمین پر شیطانی اورانسانی متبعین کے درمیان معرکہٴ حق و باطل برپا ہوگا۔جو لوگ شیطان کے پیروکار ہوں گے وہ ناکام ونامراد اور حتمی نتیجہ کے اعتبار سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہوں گے اور جو انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ بھیجی جانے والی ہدایت کے پیروکار ہوں گے- جن کے پہلے فرد، صفی اللہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اورآخری فرد خاتم الانبیاء و المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہوں گے -وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جنتی ہوں گے۔ ارشاد خداوندی ہے:﴿قُلْنَا اھبِطُوْا مِنْہا جَمِیْعًافَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہدًی فَمَنْ تَبِعَ ہدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہمْ وَ لَا ہمْ یَحْزَنُوْنَ َوالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِایتِنَا اُولئِکَ اَصْحابُ النَّارِہمْ فِیْہا خالِدُوْنَ﴾(۳)
(۱)سورمائدہ آیت :۴۴۔(۲)سورة الحجرآیت:۹۔(۳)سورہ بقرہ آیت:۳۸/۳۹۔
ترجمہ (اللہ فرماتے ہیں)ہم نے فرمایا تم سب (یعنی شیطان، آدم اورحوا )جنت سے اترجاؤ پھراگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوگا اسے نہ کوئی اندیشہ، نہ کچھ غم ہوگا اور وہ جو کفر کریں گے اور میری آیتیں جھٹلائیں گے، وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اُس میں رہنا ہوگا۔
کتاب اللہ اور رجال اللہ برائے تحفظ دین متین:
خدائے تعالی کا یہ دستور چلا آرہا ہے کہ کتاب اللہ کی حفاظت کے لیے ہرزمانہ میں رجال اللہ کو منتخب فرمایا،جنہوں نے تجدیدی خدمات کے ذریعہ ہراعتبار سے اسلام کی حفاظت میں اہم رول ادا کیا، جس کی جانب متعدد احادیث میں اشارات موجود ہیں۔ ”لَاتَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ اُمَّتِیْ…“اور امام ابن ماجہ نے تو اس معنی کی روایات کے ذریعہ کتاب السنة سے اپنی کتاب کا آغاز کیا ہے اورایسی روایات کو یک جا کیا ہے جو قابلِ مطالعہ ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اسلام اپنی تمام ترتعلیمات کے ساتھ محفوظ تھا،ہے اور جب تک اللہ کی مرضی ہوگی محفوظ رہے گا،ان شاء اللہ۔ خوش قسمت ہیں وہ افراد جن کو اللہ اِس عظیم خدمت کے لیے قبول کرلے،ایسے افراد میں سے آخری دورکی دوعظیم المرتبت شخصیات علامہ نانوتویؒ اورحضرت تھانویؒ ہیں۔
مجمع الفکر القاسمی الدولی کے قیام کا مقصد:
اول الذکر کی جانب منسوب کرتے ہوئے ”مجمع الفکر القاسمی الدولی“ کی چند سالوں قبل بنیاد ڈالی گئی،اِس مجمع کا مقصد ہرطرح کے افراط و تفریط سے پاک اہلِ حق کی فکراوراُن کے اصولوں کے مطابق دین حق کی حفاظت ہو۔دورِ جدیدکا یہ عرصہ جو ۱۹ویں صدی کے نصف آخراوربیسویں صدی عیسوی کے نصف اول کی کم وبیش یک صدی پر محیط ہے ۔اِس پورے عرصہ میں مذکورہ ہر دو حضرات نے حسبِ تقاضائے زمانہ جس نئے علم کلام کو متعارف کرایا ہے،وہ ایسے جامع و پائیدار اصولوں کو حاوی ہے کہ ایک زمانہ اُس کا معترف ہے اور کام کرنے والوں کو اُن اصول واستدلال کوکام میں لانے کے وقت عین الیقین کے درجہ میں اُس کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی تجربہ و اِیقان ہے جس نے ترجمانِ علومِ قاسم و اشرف متکلمِ عصرِحاضرمولانا حکیم فخر الاسلام صاحب دامت برکاتہم کواِس امرپرآمادہ کیا کہ الامام محمد قاسم نانوتوی اورحکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے اصول و حقائق،براہین و دلائل کی تشریح کر کے دینِ حق کو قدیم وجدید باطل افکار سے بچانے کی خدمت سرانجام دیں ۔یہ محض توفیقِ الٰہی ہے:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
دسویں دورہ فکریہ میں راقم کی حاضری:
رمضان سے قبل طے ہوا تھا کہ بعد رمضان کسی موضوع پردورہٴ فکریہ کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ چند دنوں قبل جب بندہ نے دیوبند حاضری کی اطلاع دی ،تو حکیم صاحب نے اس دورہ کو طے کردیا جس کا عنوان” یونانی سوفسطائیت: سرچشمہٴجدیدیت “رکھا۔ درس نظامی کے منتہی طلبہ اورنوفارغین کے لیے کلامی موضوعات و مسائل اور دفاعی اصولوں کے باب میں تیقظ پیدا کرنے کی غرض سے دورہٴ فکریہ کا (یہ) ایک سلسلہ ہے۔کُل گیارہ مضامین تھے ، جن میں سے ایک مضمون مولانا شجاعت علی ہاشمی دامت برکاتہم کا،حکیم صاحب کی تعلیقات کے ساتھ تھا،ما بقی مضامین حکیم صاحب کے ہی ترتیب دیے ہوئے تھے(ان میں سے اکثر مضامین گزشتہ سالوں میں ملک کے موقر مجلات میں چھپ بھی چکے ہیں) ،جو چند روز پہلے طلبہ کو مشق،اجرا و اِستحضار کے لیے دے دیے گئے تھے۔
سالِ رواں کا پہلا دورہٴ فکریہ:
حکیم صاحب کے بیان کے بموجب سالِ گزشہ سے کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ہرسال دو یا تین دورہٴ فکریہ ہوجا یا کریں۔ یہ اِس سال کا پہلا دورہٴ فکریہ تھا۔مضامین کے معنونات وتفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بڑے گہرے حقائق وتحقیقی مواد پرمشتمل ہیں؛لیکن مشق واجرا کے بعد پیش کر نے اورحاضرین و سامعین کے رو برو ذکر وتذکرہ سے اب اِن مضامین کے باب میں بیداری آرہی ہے،اجنبیت دورہورہی ہے۔یہ نہ صرف اقرارواقعی، بل کہ دن بہ دن اہمیت حاصل کرتے جا رہے ہیں؛بلکہ اگرکچھ عرصہ یوں ہی چلا تو وہ دن دور نہیں جب طلباء خود ایسے مضامین اپنے مطالعہ سے تیارکرنے کا ولولہ پیدا کرلیں،جدید فکری اِلتباسات سے پیدا ہونے والی گمراہیوں کے سر چشمے کا اپنا حاصل مطالعہ وہ خود پیش کریں۔ویسے بعض محاضرین کے لیے مضامین محض ایک سہاراکے طورپرتھے،ورنہ اُن کی گفتگوبرجستہ مذاکرہ و محاضرہ اور تقریر کے طرزپر تھی۔
تمہید دورہٴ فکریہ:
جمعہ کی رات مغرب کے بعد اس دورہ کا آغاز ہوگیا، بندہ قدرے تاخیر سے پہنچا؛مگر چونکہ جمعہ کی صبح ہی بندہ کو محاضرات بشکل پی. ڈی. ایف. موصول ہوچکے تھے اور بندہ نے اُس کا بالاستیعاب مطالعہ بھی کرلیاتھا، لہذا تاخیر سے زیادہ فرق محسوس نہیں ہوا۔
جدید افکار کے لیے قدیم علم کلام کافی وافی ہے:
جب بندہ پہنچا،تو حکیم صاحب کا محاضرہ جاری تھا،ماشاء اللہ بہت جامع اوردلچسپ تھا، اب تک جو کہا جاتا تھا کہ” جدید افکار کے لیے قدیم علم ِکلام کافی وافی ہے“ تاریخی اوراصولی اعتبار سے اِس دعوے پرگویا قوی دلائل پیش کیے گئے کہ جدیدیت درحقیقت جدیدیت نہیں؛بلکہ۴ ۲صدی قبل یونان میں پنپنے والی سوفسطائیت کی بازگشت ہے ۔یونانیوں نے اوربعد کے متکلمینِ اسلام نے اِس کے غیرمعتبراوراصول سے کوسوں دور ہونے کی وجہ سے اسے ناقابلِ التفات گردانا تھا ؛یعنی یونان کے انبیا کے صحبت یافتہ یا ان کی تعلیمات سے استفادہ کیے ہوئے، ان فلاسفہ نے جو کچھ نہ کچھ درجہ صحیح عقلی اصول کے قائل تھے، انہوں نے سو فسطائیت کے عقلی اصول کی کلی مخالفت کی وجہ سے بالکل ہی ناقابل اعتنا تصورکیا، اس کے بعد مسلمان متکلمین نے بھی کہا جہاں شک ہی شک ہو وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس سے بحث کی جائے۔ مگرافسوس! کہ جدید دور کے سرپھرے چند اورسائنس دانوں اور فلاسفہ نے اِسی کو نئے انداز میں پیش کیا۔قیاس اورعقل صحیح کا تقاضہ توآج بھی یہ ہے کہ ان سائنس دانوں کے نظریات کو مسترد کیا جائے، اس سے بالکل تعرض ہی نہ کیا جائے، مگر مغرب نے ان ناقابل التفات وہمی ، ظنی ، خیالی وتشکیکی تصورات کو اپنے سیاسی غلبہ اور مفاد کے لیے استعمال کیااورتمام تروسائل اس پرنچھاورکردیا ہے، ان بے تکے نظریات کو نظام تعلیم اور سائنسی بحث ومباحثہ کا جزء لاینفک بنادیا ۔اورباطل نے اس فریبی اصول کواختیار کیا، جس میں جھوٹ کواتنا تکرار کے ساتھ بولاجائے کہ لوگ اسے سچ ماننے پرمجبورہوجائیں یا کردیے جائیں ، لہٰذا اس کا ردضروری ہوگیا۔ دورے میں پیش کیے گئے مقالات بہت دلچسپ،عمیق ووسیع معلومات پرمشتمل تھے۔ مقالات کے عناوین یہ ہیں
مقالات و محاضرات فکریہ معروضہ در دورہٴ فکریہ:
- یونانی سوفسطائیت :سر چشمہٴ جدیدیت۔
- جدیدیت: سوفسطائیت کی پناہ گاہ۔
- عصری نصابِ تعلیم میں جمالیات۔
- انسانیت ۔
- ماڈرنزم۔
- فکری تدارک کی تجویز: مطالعہ تصانیفِ قاسم۔
- سوفسطائیتِ قدیمہ و جدیدہ ۔
- سوفسطائیت: نشاةِ ثانیہ کا پس منظر۔
- سوفسطائیت اور نشاة ثانیہ کا تصورِ انسان۔
- یونانی دور:اس طرزفکر کی تعیین جو آغاز جدیدیت کا باعث بنا ۔
- چند ہیومنسٹ: مختصر تعارف(تمام محاضرات پڑھنے کے لیے صفحہ نمبر۱۰۳ پر بار کورڈ اسکین کریں)
محاضرات کے انکشافات
پیش کیے گئے محاضرات میں چند چیزیں چونکانے والی ہیں، جسے ایک طرح انکشاف ہی کہہ سکتے ہیں۔
مغرب میں گزشتہ۶۰۰/ سال سے خیالات وافکارمیں بگاڑ، زیغ و ضلال، سوفسطائیتِ یونان کی دَین ہے؛ گویا جدیدیت کی نشأةِ ثانیہ کا سرچشمہ، یونانیوں کے سوفسطائی افکار ہیں۔ اسی طرح جدید دورکے مفکروں کی تمام جدیدیت کا منبع بھی یونانیوں کے لاادری، عندی اورعنادی افکار ہیں۔دوسری طرف مابعد جدیدیت کا حال یہ ہے کہ وہ سوفسطائیت کے بہ تمام و کمال اِحیاپرمصر ہے۔
قدیم سوفسطائیت کی شہوت پسندی، لذت پرستی اوراباحیت پسندی کی تمام شیطانی غلاظت عہدِ جدید میں معاشرت و تمدن، رواج اور ثقافت سے جوڑ کراظہارکی آزادی (Freedom of Expression ) کے حق کے سائے تلے عام کردی گئی ہے، جس پرافسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
جمالیات کے نام پرمیوزک، آرٹ ،لذت کونصاب کا حصہ بنا کر فواحشات کوعام کردیا گیا۔
۱۵/ ویں اور ۱۶/ویں صدی عیسوی میں ظاہر ہونے والی تحریک”مذہب مرکزیت“سے ”انسان مرکزیت“کی طرف انحراف اوربغاوت پرمبنی ہے۔اِس کاروحِ رواں پیٹرارک (۱۳۰۴-۱۳۷۴)ہے ،جسے فادرآف ہیومنزم کہا جاتا ہے، اِسی سے فلسفہ براعظم یورپ (Continental Philosophy) نے جنم لیا، جسے” جان اسٹورٹ مل “(۱۸۴۰ء)نے کھڑا کیا اور پھر اِس سے تین تحریکیں نکلیں
- رومانی تحریک(Romanticism)
- نظریہ مظاہر Phenomenology])
- فرانسیسی نسائیت(French Feminism)
۱۹/ویں صدی کے اواخر اور۰ ۲/ویں صدی کی ابتداء میں موڈرنزم کی لہر پیدا ہوئی۔
انسان کی اپنی معرفت خدا کی معرفت اوراپنی محبت خدا کی محبت پرموقوف ہے۔
سو فسطائیہ یونانی مشہورفلسفی مذہب ہے ۔ اس کے چندفرقے تھے
- عنادیہ:یہ دنیا میں کسی بھی چیز کے موجود ہونے کے قائل ہی نہیں ہیں، اس کا سرخیل گورجیاس (Gorgias)ہے ۔
- عندیہ:یہ فرقہ اس بات کا قائل ہے کہ جس کے وجود کاا نسان قائل ہو‘ وہ موجود اور جس کا منکرہو ‘وہ غیر موجودہے۔
- لا ادریہ: اس کا کہنا ہے کہ دنیا میں کوئی چیزحقیقت میں نہیں ہے ؛بلکہ مشکوک ہے آفاقی سچائی کا کوئی وجود نہیں۔
یہ مذہب عقل و دانش سے ماوراء ہے، اِسی لیے متقدمین فلاسفہ نے اسے ناقابل التفات گردانا۔ عربی میں اسے” الفلسفة المثالیة“ا ور انگریزی میں( Subjective Idealism )کہا جاتا ہے۔ ڈیکارٹ اور برکلے بھی تقریباً اسی کے قائل تھے، ڈیوڈ ہیوم (David Hume)نے العیاذ باللہ خدا کا بھی انکار کردیا، اِس کے بعد امانویل کانٹ( Immanuel Kant)نے کہا کہ ریاضیات اور طبیعیات میں حقیقی حکم لگے گا، الہیات میں نہیں لگے گا العیاذ باللہ۔اسی لیے بعض سلجھے ہوئے مغربی موٴرخین کہتے ہیں کہ ڈکارٹ نے جنم لے کر مغرب کو نقصان پہنچایا ، (جس کو بندہ اس طرح کہتا ہے کہ اس نے” کانڈ ہی کانڈ“ کیے)۔
نطشے( Friedrich Nietzsche)اور برٹرینڈرسل نے اخلاقی نسبیت(Moral Relativism) یعنی اخلاقی آزادی اِس کے بعد معرفتی نسبیت (Epistemic Relativism)یعنی انسان جو تصور کرے وہ اُس کے حق میں سچ ہے ،چاہے حقیقت میں وہ باطل ہی کیوں نہ ہو۔ اِس کے بعد معاشرتی نسبیت(Cultural Relativism) ٹھامس مکسلے(۱۸۰۰تا۱۸۵۹ء) اِس کا قائل ہوا ،اِس کے بعد رسل اور آئن سٹائن ا بھی اِسی کے قائل تھے ۔آئن سٹان کو اضافیت کا موجد کہا جاتا ہے، اس کی حقیقت یہ ہی نسبیت ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ عقل اسی نے استعمال کی ، یہ محض ایک ہوّاہے ، جوشخص اللہ کی معرفت نہ حاصل کرسکے اور حق کو نہ سمجھ سکے وہ بہت بڑا عقل مندتو کیا قرآن کے مطابق کم عقل ، سفیہ ، مردہ ، اندھاگونگا اور بہرا ہے۔ عقل مند تو ہمارے فقہا ، متکلمین اور محدثین ہیں۔
جدیدیت :از پروفیسر حسن عسکری کی چند تاریخی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی۔
چند ہیومنسٹ فلاسفہ کا تعارف پیش کیا گیا ،جو بڑا دلچسپ ہے، اسے مولوی جنید نے پیش کیا۔
نوجوان اور ذہین طلبہ کی بیداری خوش آئند ہے:
اکثر مقالات دارالعلوم دیوبند کے تخصصات کے ممتاز طلبہ نے پیش کیے۔ بے پناہ مسرت ہوئی کہ الحمدللہ الحادِ جدید کے طوفان کو روکنے اور دین اسلام کے دفاع کے لیے رجال کارتیارہورہے ہیں،جو علم کلام میں مہارت کے ساتھ جدید یت کے نام پرجو طوفانِ بدتمیزی برپا ہے اُس پر نکیل لگانے میں ضرور کامیاب ہوں گے ان شاء اللہ؛ اِس لیے کہ جب کسی قوم کے نوجوان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تو مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔شدید گرمی کے باوجود مغرب کے بعد یعنی سات بج کرتیس منٹ سے لے کر رات گیارہ بجے تک پسینے میں شرابور ہوتے ہوئے حاضر رہنا بڑی بلندحوصلگی کی بات ہے، علامہ اقبال نے درست کہا:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ یہ﴿ اِنَّہُمْ فِتْیَةآمَنُوْا بِرَبِّہِمْ وَزِدْنَاہُمْ ہُدًی﴾(۱) یعنی اصحاب ِکہف والا رول ادا کریں گے، فکری ارتداد کی آندھی سے امت کو بچائیں گے ان شاء اللہ۔
اخیرمیں بندہ کو مکلف کیا گیا تو بندہ نے کچھ گزارشات پیش کیں، بندہ نے کہا:
بندہ کی گفتگو کی کچھ جھلکیاں
دین کے کام کرنے والے کو کیا نیت کرنی چاہیے:
ہماری نیت﴿لِتَکُوْنَ کَلِمَةُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا﴾ ہونی چاہیے۔اسلام کی کسی بھی طرح کی خدمت کرنے والے کو یہ ہی نیت کرنی چاہیے کہ میری اس خدمت سے اسلام کو سربلندی حاصل ہو۔اللہ نے حق کے بارے میں اعلان کردیا ہے۔ ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا﴾(۲) حق توغالب ہی رہے گا ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ حق کی سربلندی کے لیے استعمال فرمالے۔
اللہ کے نزدیک فکر وعقیدہ کی شفافیت مطلوب ہے:
اللہ کے یہاں فکروعقیدہ کو صاف و شفاف لے کر جانا ضروری ہے ؛ورنہ حوضِ کوثر سے پرے کردیے جائیں گے۔
بخاری کی روایت ہے کہ سحقاً سحقاً انہیں دور کردو ، جنہو ں نے دین میں بدعت کو داخل کیا، عقیدہ اور فکر میں کوتاہ واقع ہونے کی وجہ سے، حوض کوثر یعنی جنت میں دخول کی پہلی منزل تک پہنچنے کے بعد وہاں سے لوٹا دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین !
اپنے علم پر غرور ہرگز نہ کریں:
ایک بات کا خیال رکھناضروری ہے کہ اپنےعلم پرغرہ نہ ہونے پائے ؛ورنہ تمام فرق ِباطلہ کے بانی علماء ہی تھے مثلاً اعتزال وغیرہ کے بانی اہل علم ہی تھے۔ نیم ملائیت یا غرورِ علم انسان کو گمراہی کی راہ پرڈھکیل دیتا ہے۔
نیم حکیم خطر ِجان، نیم ملا خطر ایمان۔
(۱)ترجمہ:وہ لوگ(یعنی اصحاب کہف)چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر (موافق تعلیم دین عیسوی)ایمان لائے تھے اور ہم نے(ایمان لانے کے بعد )ان کی ہدایت میں ترقی کردی تھی۔(بیان القرآن :ج:۲ص۴۰۵ ایڈیشن :مکتبہ رحمانیہ لاہور) (۲)ترجمہ:اور(آگے بشارت دنیویہ ہے کہ ان دعاوٴں کے قبول ہونے کی خبر دینے کے طورپریہ بھی)کہہ دیجیے کہ(بس اب دین)حق (غالب ہونے کو )آیا اورباطل(دین ) گیاگزرا ہوا(اور)واقعی باطل چیزتو یوں ہی آتی جاتی رہتی ہے۔(بیان القرآن ج۲:ص۳۹۲، ایڈیشن :مکتبہ رحمانیہ لاہور)
قرون اولیٰ اور فرقہٴ باطلہ کا وجود اللہ تعالیٰ کی حکمت:
مولانا مناظراحسن گیلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قرونِ اولیٰ میں فرقوں کا وجود بھی حکمت ِالہی کا کرشمہ ہے ؛ ورنہ خیر القرون کا تقاضہ تھا کہ ایسا نہ ہو؛ مگراللہ نے قیامت تک داخلی فتنوں کے مقابلہ کا سامان صحابہ تابعین و تبع تابعین کے ہاتھ مہیا کردیا۔
بعثت خاتم الانبیا سے قبل شر اور باطل کی تمام صورتوں کا وجود:
کسی دانشور نے خوب کہا! کہ جب دنیا میں برائی باطل اور شر کی تمام شکلیں وجود میں آگئیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عمل میں آئی ؛ورنہ اِکمال ِدین و اِتمامِ نعمت کا دعویٰ درست نہ ہوتا؛ لہذا کوئی جدید، جدید نہیں سب کا رد کتاب و سنت میں موجود ہے ۔ البتہ اس کے لیے اس درجے کا علم بصیرت درکار ہے۔
جدیدیت یا نیچریت اور حضرت تھانویؒ:
حکیم الامت مجدد ملت حضرت تھانوی نوراللہ مرقدہ نے” الانتباہات المفیدہ“ کتاب جدت پسندی کے رد اور تجدید ِعلم کلام کے طور پر لکھی اور حضرت نے امداد الفتاوی کی جلد نمبر سات میں جدول بناکر پچاس سے زائد صفحات میں سرسید کے تمام افکار کا بہ خوبی جائزہ لیا ہے؛ جب کہ حضرت اختصار کے عادی تھے، اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
کمال اخلاص ،کمال علم اور کمال عمل یہ عالم کے لیے ضروری ہے:
اخیر میں حضرت گنگوہی کی بات پر گفتگو کو سمیٹ دیا گیا کہ عالم میں تین وصف ہونے چاہییں:
اِس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ سید الطائفہ” حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی قدس سرہ“ نے جب بیعت کے ایک عرصہ بعد حضرت فقیہ النفس” مولانا رشید احمد گنگوہی“ سے دریافت فرمایا ،کہ میاں رشید احمد! یہ بتاؤ کہ بیعت ہونے سے پہلے اور بیعت ہونے کے بعد تمہیں اپنے اندرکیا تبدیلی محسوس ہوئی؟ اصولی سوال تھا، جب یہ سوال پوچھا تو حضرت گنگوہی تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر فرمایا کہ حضرت! مجھے اپنےاندر تین تبدیلیاں نظرآئیں:
کمال علم: ۱-پہلی تبدیلی تو یہ ہے کہ بیعت ہونے سے پہلے مجھے کئی دفعہ مطالعے کے دوران اشکال پیش آتے تھے ، اُن کے لیے حاشیہ دیکھنا پڑتا تھا، شروحات دیکھنی پڑتی تھیں، اور کافی ساری محنت کرنی پڑتی تھی ،تب وہ اشکال دور ہوتے تھے، اب جب سے بیعت ہوا ہوں، اشکال پیش ہی نہیں آتے، خود بخود رفع ہو جاتے ہیں، ذہن میں اللہ تعالیٰ ان کے جوابات ڈال دیتے ہیں۔
کمال عمل : ۲-دوسری تبدیلی یہ آئی کہ امورِ شرعیہ امور ِطبعیہ بن گئے،یعنی اب جو بھی شریعت کے احکام ہیں ان پرعمل کرنے کے لیے مجھے نفس کو تیار کرنا نہیں پڑتا، بے ساختگی کے ساتھ میں احکام شریعت پرعمل کرتا رہتا ہوں۔
کمال اخلاص : ۳-تیسری تبدیل یہ پیش آئی کہ دین کے معاملے میں حق بات کہہ دیتاہوں، اب میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتا۔
سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کا نہایت عمدہ تبصرہ:
جب حاجی صاحب نے سنا تو فرمایا الحمدللہ میاں رشید احمد! دین کے تین درجے ہیں:
دین کا پہلا درجہ۱ :-دین کا پہلا درجہ علم ہے اوراِس علم کا کمال یہ ہے کہ آدمی کونصوصِ شرعیہ میں کہیں تعارض نظر نہ آئے، اگر یہ کیفیت ہے تو پھر علم کامل ہے۔
دین کادوسرا درجہ۲:-دوسرا درجہ عمل ہے اوراس کا کمال یہ ہے کہ مکروہاتِ شرعیہ‘ مکروہات طبعیہ بن جائیں، جن چیزوں سے شریعت نے کراہت کی ،طبیعت بھی ان سے کراہت کرے، یہ عمل کا کمال ہے۔
دین کاتیسرا درجہ۳:-تیسرا درجہ اخلاص ہے کہ انسان خالصتاً لوجہ اللہ عمل کرے، حتیٰ کہ ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ رہے،لوگوں کی مدح وذم انسان کی نظر میں برابر ہو جائے، یہ اخلاص کا کمال ہے۔مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم میں بھی کمال عطا فرما دیا، عمل میں بھی عطا کردیا اور اخلاص میں بھی عطا کردیا۔
صحبت شیخ کا فائدہ:
یہ ہے صحبتِ شیخ کا فائدہ کہ جس نے اتنے زبردست عالم و فقیہ، محدث و زاہد کے قلب میں جِلا پیدا کردی اوراخلاص و محبت کا،خوف و خشیت اورآہ و زاری کا خوگر بنا دیا۔
بندہ نے اپنے خطاب میں اختصار کے ساتھ ان تین باتوں پرروشنی ڈالی تھی، مضمون جستجو پردستیاب ہوگیا؛ لہذا ہوبہو اسی کو یہاں نقل کردیا۔
اعدائے اسلام کے سلسلے میں شیخ میدانی کی لکھی گئ کتابوں کا تعارف:
عربی میں” شیخ عبد الرحمن حبنّکہ المیدانی“ کی کتابیں زیر مطالعہ رہنی چاہییں،جو” سلسلة اعداء الاسلام“ کے ضمن میں بہت مفید ہیں ،سات کتابیں اس کے تحت شیخ نے لکھی ہیں۔
- صِرَاعٌ مَعَ المُلَاحِدَةِ حَتّٰی العَظْمِ۔
- غَزْوٌ فِیْ الصَّمِیْمِ۔
تعلیمی راستہ سے کس طرح سیکولرزم کے نام سے الحاد کوعام کیا گیا؛ جب کہ کوئی بھی تعلیمی نظام سیکولرنہیں ہوسکتا ،خود امریکی مفکرین کا کہنا ہے،ہرتعلیمی نظام کے پیچھے کوئی نہ کوئی نظریہ ہوتا ہے ۔
- أجنحة المکر الثلاثة وخوافیہا التبشیر ۔ الاستشراق۔ الاستعمار۔
اسلام کے خلاف مغرب کے عروج کے دور کی یہ تین سازشی تحریکات استشراق تبشیر یعنی عیسائیت کے فروغ کی تحریک استعمار،ان تین تحریکوں پراس کتاب میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔تقریباً ایک ہزار صفحہ کی کتاب ہے۔
- مکاید یہودیة عبر التاریخ۔
یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے اب تک اسلام کے خلاف کیسے خفیہ طریقے سے کام کیا ہے؟ہرزمانہ میں منافقین نے کیسے سازشیں رچی نام بہ نام اس کا ذکر ہوا ہے۔
- الکید الأحمر۔
کمیونزم کے نقصانات اس میں بتائے گئے ہیں ۔
- کواشف زیوف فی المذاہب الفکریة المعاصرة۔
مغربی نظریات اوراس کے حاملین کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے ۔
- التحریف المعاصر فی الدین۔
دین کے مفہوم میں کس طرح تحریف کی گئی اسے ذکر کیا گیا ہے۔
دین اسلام مکمل محفوظ کیوں ہے؟
موصوف نے لکھا ہے کہ اگراللہ نے اسلام کی حفاظت کا ذمہ اپنے اوپرنہ لیا ہوتا؛ تو آج ہم تک دین کادس ہزارواں صحیح حصہ بھی نہ پہنچا ہوتا؛ غرضیکہ موصوف کی تمام کتابیں مطالعہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
مدرسہ ڈسکورس کا فتنہ:
اب تک دشمنان دین حق عامة المسلمین کو دین سے دور کرنے کی کوششیں کرتے آئے تھے؛ مگر اب جب دیکھا کہ مدارس اسلامیہ اسلام کی حفاظت میں اہم رول ادا کررہے ہیں؛ لہذا علماء اورطلبہ کو گمراہی کی جانب لے جانے کے لیے مدرسہ ڈسکورس کا آغاز کیا ہے، جو بہت پرخطرفتنہ اور آزمائش ہے، اس سے بچنے کے لیے دل سے دنیا کی محبت نکالنی ہوگی، ارشاد نبوی ہے” حُبُّ الدُّنْیَا رَاْٴسُ کُلِّ خَطِیْئَةٍ “دنیا کی محبت ہربرائی کی جڑ ہے؛ لہذا دنیا کی محبت سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، تو ان شاء اللہ اِس طرح کے فتنوں سے اللہ حفاظت فرمائیں گے، اللہ کی رضامندی اوراِعلاء کلمة اللہ ہمیشہ اپنے پیش نظررکھیے، اللہ ہم سب سے راضی ہوجائے ایسے اعمال کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
خیراپنے اکابرین کی یہ چند قیمتی باتیں دورہ میں شریک طلبہ کے سامنے پیش کیں، مولانا حکیم فخر الاسلام صاحب الہ آبادی مظاہری نے بندہ کا تعارف پیش کیا اوردعاء پرمجلس بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچی۔ و للہ الحمد علی ذالک۔
حذیفہ وستانوی
۱۷/ذی قعدہ ۱۴۴۵ھ
مطابق:۲۶/مئی ۲۰۲۴ء
یک شنبہ
