تحریر و تخریج: ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی
مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence (AI) کے استعمال کے بے تحاشہ فوائد گنوائے جاتے ہیں مگر مصنوعی ذہانت بالخصوص جنریٹیو مصنوعی ذہانت Generative AI کے دینی علوم میں استعمال سے بہت سی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔چوں کہ دلائل شرعیہ میں سب سے اولین قرآنِ پاک ہے لہٰذا قارئین کی خدمت میں ہم تین مثالیں پیش کرتے ہیں کہ کس طریقے سے مصنوعی ذہانت کو قرآنی علوم میں استعمال کیا جارہا ہے اوراس کے کیا نقصانات ہورہے ہیں۔
مثال اول: قرآنِ پا ک کی نعوذ باللہ من گھڑت آیت بنانا:
مصنوعی ذہانت کے ذریعے قرآنِ پا ک کی نعوذ باللہ من گھڑت آیات بنائی گئی ہے۔ ابھی حال ہی میں مسلم کونسل آف برطانیہ (Muslim Council of Britain – MCB) نے ایک خطبہ جاری کیا جس میں قرآنِ پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیا گیا جو کہ قرآن ِ پاک میں موجود ہی نہیں ہے، وہ من گھڑت قرآنی آیت یہ تھی (نقل کفْر کُفْر نَباشَد):
قرآنی آیت: ’’وَظَنَّ الْمُوْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنٰتُ بِاللّٰہِ ظَنًّا حَسَنًا‘‘(سورۃ احزاب، آیت نمبر ۱۰)
ترجمہ: اور مومن مرد اورمومن عورتیں، دونوں خدا کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔
جب ٹوئیٹر پرایک صاحب نے اس من گھڑت قرآنی آیت کی غلطی کی نشاندہی کی توپھرمسلم کونسل آف برطانیہ نے تین اپریل۲۰۲۵ء کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے باقاعدہ اس پر معذرت کی، تحقیقات کرنے کا عندیہ دیا کہ یہ کیسے ہوگیا، آئندہ ایسی غلطی نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی اوراپنی ویب سائٹ سے وہ خطبہ بھی ہٹا دیا(۱)۔ اس سے چار باتیں بالکل واضح ہوگئیں۔
اول: یہ کہ مسلم کونسل آف برطانیہ نے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرکواستعمال کرکے خطبہ تیار کیا۔
دوم: یہ کہ اس خطبے کی تیاری کے بعد اس کو پڑھا تک نہیں گیا تاکہ اس سنگین غلطی کی نشاندہی ہوسکے۔
سوم: یہ کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرمن گھڑت قرآنِ پاک کی آیات تک بنا دیتے ہیں مع سورۃ نمبر اورآیت نمبر کے حوالے کے ساتھ۔
اور چہارم: یہ کہ یہ من گھڑت قرآنی آیت مسلمانوں کے ہی ایک پلیٹ فارم سے جاری کی گئی۔
ایک عام انسان جب مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلاً چیٹ جی پی ٹی سے سطحی طور پرمکالمہ کرے گا اور کہے گا کہ نعوذ باللہ قرآن جیسی کوئی آیت بنا کردکھاؤتوچیٹ جی پی ٹی کا جواب یہ ہوسکتا ہے: کہ
’’قرآن پاک اللہ کا کلام ہے، اوراس جیسا کلام بنانا نہ صرف انسانی طورپرناممکن ہے بل کہ اسلام میں اس کی کوشش کرنا بھی سخت منع ہے‘‘۔
اب اس جواب سے عام انسان متاثر ہوجائے گا اور یہی سمجھے گا کہ چیٹ جی پی ٹی قرآنی آیت نہیں گھڑتا اور کمپیوٹر سائنسدان اورمحققین شاید جھوٹ بول رہے ہیں۔درحقیقت سائنسدان ومحققین جھوٹ نہیں بول رہے، اس کی چند وجوہات ہیں۔
اول: اوپر ہم نے شواہد پیش کردیے کہ ایسی آیت بنائی جاچکی ہے۔
دوم: جو بھی ان مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کی ساخت اورکام کا طریقہ کارجانتا ہے اور تھوڑا گہرائی میں ان کو استعمال کیا ہے تو وہ اس حقیقت سے آشنا ہے کہ یہ مواد گھڑتا ہے اور یہ کسی وقت بھی نئی قرآنی آیت نعوذ باللہ گھڑ سکتا ہے۔
(1) Muslim Council of Britain apologize for mistake in Quranic Verse, 03rd April 2025. Link: https://x.com/MuslimCouncil/status/1907853817124892934
لہٰذا کسی موضوع پرجب کوئی مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے خلاصہ بنائے گا یا کوئی مکالمہ کررہا ہوگا تو وہ سافٹ وئیر کبھی بھی کسی قرانی آیت کا حوالہ دے سکتا ہے جو کہ حقیقتاً قرآنِ پاک کی آیت نہ ہو۔
سوم: پرامپٹ انجینئرنگ Prompt Engineering کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ان مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے تعامل کیا جائے گا تو ان سافٹ وئیرز کی خوبی اور خامی دیکھی جاسکتی ہے۔
مثلاً: اگر ہم ان سافٹ وئیر سے کچھ سوال کریں اور سیاق وسباق پیش نہ کریں تو ہوسکتا ہے کہ ان کا جواب مکمل درست نہ ہو۔ مگر اگر ہم ایک خاص طرز پرپرامپٹس بنائیں جو کہ درست ہوں، مکمل ہوں اورایسے ہوں جن پر مصنوعی ذہانت کا ماڈل کام کرسکے تویقیناایسی قرآنی آیت بنائی جاسکتی ہیں معاذ اللہ۔
مثال دوم: قرآنِ پاک کی مصنوعی ذہانت سے تفسیر و ترجمہ کرنا:
برطانیہ کے ایک صاحبِ علم مصنوعی ذہانت سے قرآنِ پاک کے ممکنہ ترجمہ و تفسیر کے استعمال پر بات کرتے نظر آتے ہیں اوراس سلسلے میں ان کے لیکچرز بعنوان ’’آرٹیفیشل مفسر‘‘ یعنی ’’مصنوعی مفسر‘‘ اوردیگرتفسیر کے عنوان پر مقالہ جات بھی موجود ہیں(4,3,2)۔اپنے ایک لیکچر میں وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلاً چیٹ جی پی ٹی سے سوال کرتے ہیں کہ’’ قرآن پاک کی کی فلاں آیت کا ترجمہ کیا ہوگا؟‘‘ پھر جب چیٹ جی پی ٹی جواب دیتا ہے تو پھر وہ اس سے مزید سوال کرتے ہیں کہ اس آیت کے فلاں معنی بھی تو ہوسکتے ہیں؟ بعض سوالات کے جوابات پرچیٹ جی پی ٹی معذرت کرتا ہے، اوربعض مرتبہ’’ہیلوسینیشن‘‘ Hallucination کرتا ہے۔ہیلوسینیشن کے معنی فریبِ نظر، واہمہ، ہذیان،جھوٹا گمان یا تصور ہونے کے ہیں۔ آسان الفاظ میں ’’اگر آپ کو کسی شئ یا انسان کی غیرموجودگی میں وہ شئ یا انسان نظر آنے لگے یا تنہائی میں جب آس
(2) Dr. Sohaib Saeed, The Artificial Mufassir? Thoughts of a Tafsir and Tech Optimist, 5th Aug 2024. Link: https://www.youtube.com/watch?v=QFOax29S2rw
(3) "The Digital Mufassir: Re-imagining the Tafsir of al-Alusi for a New Era”. Osmanl?’da ?lm- i Tefsir, ed. M. Taha Boyal?k & Harun Abac?. Istanbul: ?SAR Publications, 2019, pp. 657- 680. Link: https://works.hcommons.org/records/76xtm-86q35
(4) Dr. Sohaib Saeed, "The Untranslated Qur’an: Retelling the Surah of Joseph”. Retranslating the Bible and the Qur’an, ed. Pieter Boulogne, Marijke de Lang and Joseph Verheyden (forthcoming, Leuven University Press, 2024). Link: https://www.ibnashur.com/s/Saeed_UntranslatedQuranJoseph.pdf
پاس کوئی نہ ہوآوازیں سنائی دینے لگیں تواس عمل کوہیلوسینیشن کہتے ہیں‘‘(5)۔مصنوعی ذہانت میں ہیلوسینیشن سے مراد یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرباکل جھوٹی بات بیان کررہے ہوں مگر اس طریقے اوراتنے یقین سے پیش کریں کہ سچ لگے۔(6)
الغرض ان صاحبِ علم کی ’’سائنسی تحقیق‘‘ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر شاید مافوق الفطرت صلاحیتوں کے مالک ہیں، ان سافٹ وئیر میں عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے، ان سافٹ وئیر کے سامنے آج تک لکھی گئی مختلف تفاسیر موجود ہیں اوراُن تفاسیر میں سے وہ خلاصہ کر کے صحیح تجزئیہ و نتائج نکال سکتے ہیں لہٰذا ایسے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے مکالمہ کرکے قرآنِ کریم کے ممکنہ ترجمہ پرغوروخوض کیا جاسکتا ہے۔
الغرض مصنوعی ذہانت کے الگوریتھمز استعمال کرکے وہ قرآنِ پاک کے ممکنہ ترجمہ وتفسیر پرکام کررہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سورۃ یوسف کا ترجمہ کیا ہے جس سے ایک مثال ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ (7)
قرآنی آیت: {فَلَمَّا أَن جَائَ الْبَشِیرُ أَلْقَاہُ عَلَیٰ وَجْہِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا ، قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّی أَعْلَمُ مِنَ اللَّہِ مَا لَا تَعْلَمُونَ} (سورۃ یوسف، آیت 96)
Translation
So when the bearer of good news finally arrived, he cast it over his face and was restored to sight. He said,‘‘Didn’t I tell you that I know from God things that you don’t know?’’
(5) Emsley, R. ChatGPT: these are not hallucinations – they’re fabrications and falsifications. Schizophr 9, 52 (2023). https://doi.org/10.1038/s41537-023-00379-4
(6) What is Hallucination (in Modles like ChatGPT), Universit of Arizona, United States of America. Link: https://ask.library.arizona.edu/faq/407990
(7) Dr. Sohaib Saee, "The Bayyinah Translation of S?rat Y?suf” (with Nouman Ali Khan). Link: https://www.ibnashur.com/s/BayyinahTranslation_Yusuf.pdf
Footnote
The description al-bash?r is generally assumed to refer to one of the sons who is carrying the shirt, which is mentioned here only by pronoun. However, for several reasons, we prefer the possibility that this term is a description of the shirt itself, which was ”bearing the good news” that Joseph (pbuh) was alive, and had already conveyed this to his father through the air. Some exegetes allowed that the pronouns ”he cast it over his face” all apply to Jacob (pbuh), i.e. he took the shirt and cast it over his own face, which is also how we read this.
Lecture Description
‘‘So, I just allowed myself to consider the possibility that Al-Bash?r is not a person, what would happen? And I saw the Ayah suddenly becoming clearer to me and this is really the point that I wanted to highlight, although I didn’t say this in my presentation. Can AI perhaps throw up some possibilities for us to think about and consider? So could AI have got there before me and said one could consider that Al-Bash?r is a shirt and not a person’’.(8)
اس انگریزی ترجمہ و حاشیہ کو پڑھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ صاحبِ علم کئی وجوہات کی بنا پر اس امکان کو ترجیح دیتے ہیں کہ ’’البشیر‘‘ کوئی شخص نہیں بل کہ قمیص ہے۔نیز اپنے ایک لیکچر میں Chat GPT and my "Bashirt” Theory وہ ’’چیٹ جی پی ٹی اور میری خوشخبری دینے والی قمیص کی تھیوری‘‘ پیش کرتے ہیں جس میں وہ تجویز کرتے ہیں کہ ’’البشیر – خوشخبری دینے والا‘‘ کوئی شخص نہیں ہے –حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیٹا – بل کہ اصل میں حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص ہے جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو رکھتی ہے اورثبوت ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام زندہ ہیں۔اپنے اس لیکچر میں سورۃ یوسف کی آیت نمبر 96 میں ’’البشیر‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ کیا ہوگا اگر ہم یہ سوچیں کہ ’’البشیر‘‘ کوئی شخص نہ ہو؟
کیا مصنوعی ذہانت ’’البشیر‘‘ سے متعلق ہمیں کچھ ممکنات بتا سکتی ہے جن کے متعلق ہم سوچ سکیں اور اسے اختیار کرسکیں؟
(8) Dr. Sohaib Saeed, The Artificial Mufassir? Thoughts of a Tafsir and Tech Optimist, 5th Aug 2024. Link: https://www.youtube.com/watch?v=QFOax29S2rw
کیا مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرہماری سوچ و فکر کی اڑان سے پہلے سوچ سکتا تھا اور ہمیں یہ تجویز دے سکتا تھا کہ ’’البشیر‘‘کوئی شخص نہیں بل کہ قمیص ہے؟
الغرض ان صاحبِ علم کے مطابق ’’البشیر‘‘ کوئی شخص نہیں بل کہ قمیص ہے اوراسی ترجمہ کو انہوں نے اپنے سورۃ یوسف کے ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔
یہ صاحبِ علم ’’أَلْقَاہُ عَلَیٰ وَجْہِه‘‘ کے تحت مفسرین جیسے امام رازی ؒ اور امام آلوسی ؒ کی تفاسیرکاحوالہ دے کر کہتے ہیں کہ اس آیت کو ان مفسرین کے مطابق متبادل بھی پڑھا جاسکتا ہے جیسے کہ ’’خوشخبری دینے والے نے قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پرڈال دی یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے قمیص اپنے چہرے پر خود ڈال دی‘‘۔ان صاحبِ علم کے بقول اس آیت کومتبادل پڑھنے کے بیج (بنیاد) ان مفسرین نے ڈالی اوراُن کے لیے تو صرف ایک قدم اورتھا کہ وہ سوچیں کہ ’’البشیر‘‘ ہرگز کوئی شخص نہیں ہے بل کہ اصل میں قمیص ہی کی تفصیل ہے(9)۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ ان صاحبِ علم کو یہ فکر بھی لاحق تھی کہ کہیں اُن پر اہلِ علم اور مفسرین حضرات کی جانب سے علمی گرفت نہ کی جائے لہٰذا اپنی تجویز پیش کرنے کے بعد حاشیہ میں ایک جگہ یہ بھی تحریر کردیا ہے کہ ’’جو نکتہ انہوں نے بالکل واضح نہیں کیا وہ یہی ہے کہ کیا ’’البشیر‘‘ شخص ہے یا قمیص‘‘۔
’’البشیر‘‘ کو بطور قمیص سمجھنے کے بالمقابل جب ہم مفسرین کے تراجم و تفاسیر دیکھتے ہیں تو وہ ’’البشیر‘‘ کو بطور شخص لیتے ہیں۔ مثلاً سورۃ یوسف کی آیت نمبر 96 کا ترجمہ آسان ترجمہ قرآن از حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اس طرح کرتے ہیں۔
’’پھر جب خوشخبری دینے والا پہنچ گیا تو اُس نے (یوسف کی) قمیص ان کے منہ پر ڈال دی، چناں چہ فوراً ان کی بینائی واپس آگئی‘‘(سورۃ یوسف، آیت 96، آسان ترجمہ قرآن)۔
اس آیت کی تشریح میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں کہ
(9) Dr. Sohaib Saeed, "The Untranslated Qur’an: Retelling the Surah of Joseph”, Page 289. Retranslating the Bible and the Qur’an, ed. Pieter Boulogne, Marijke de Lang and Joseph Verheyden (forthcoming, Leuven University Press, 2024).
Link: https://www.ibnashur.com/s/Saeed_UntranslatedQuranJoseph.pdf
’’خوشخبری دینے والے‘‘ حضرت یوسف علیہ السلام کے سب سے بڑے بھائی تھے جن کا نام بعض روایات میں’’یہوداہ‘‘ اور بعض میں ’’روبن‘‘ آیا ہے۔ اورخوشخبری دینے سے مراد یہ خوشخبری ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، اورانہوں نے سب گھروالوں کواپنے پاس بلایا ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص چہرے پرڈالنے سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آگئی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سے کئی اہم واقعات ظاہر ہوئے۔ انہی کی قمیص کو ان کے بھائی خون لگا کرلائے تھے، اوراس کو صحیح سالم دیکھ کر حضرت یعقوب علیہ السلام یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیے نے نہیں کھایا، اورانہی کی قمیص تھی جو زلیخا نے پیچھے سے پھاڑی، اوراس سے ان کی بے گناہی ثابت ہوئی، اوراب یہی قمیص تھی جس کی خوشبو حضرت یعقوب علیہ السلام کو دُور سے محسوس ہوئی، اوربالآخراس سے ان کی بیناء واپس آئی۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن، صفحہ ۴۸۹)۔
‘‘So, when came the man with good news, he put it (the shirt) on his face, and he turned into a sighed man. He (Yaqub)said,‘‘Did I not tell you that I know from Allah what you do not know?’’’’
(The Meanings of The Noble Quran with explanatory notes by Mufti Muhammad Taqi Usmani, Surah Yusuf 12, 96, Juz 13, Page 453)
’’البشیر‘‘ کو بطور شخص سمجھنے کا ترجمہ و تفسیر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اورشیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اختیار فرمایا ہے جس کو آسان بیان القُرآن مع تفسیر عُثمانی، جلد دوم، تسہیل و ترتیب حضرت مولانا عُمرانور بدخشانی، صفحہ۰۰ ۲؍ میں قارئین ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
ہماری ان تمام تفصیلات فراہم کرنے پر کسی کے ذہن میں یہ خیال آسکتا ہے کہ ’’البشیر‘‘ کا ترجمہ بطور شخص کیا جائے یا بطور قمیص، اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا اوراس طرح کے تراجم کے اختلافات سے تفاسیر بھری پڑی ہیں اورمفسرین حضرات قرآنی آیات کے ترجمہ و تفسیر میں اختلاف کرتے رہے ہیں۔
قارئین یاد رکھیں کہ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔بعض اوقات فرق معمولی ہوتا ہے یادیکھنے میں چھوٹا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کےعواقب و نتائج بہت دورتک پہنچتے ہیں۔لہٰذا مصنوعی ذہانت کو قرانِ پاک کے ترجمہ و تفسیر کے لیے اختیار کرنے کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے اوراس کی کئی وجوہات ہیں۔
اول: یہ کہ اگر بعض مفسرین نے ’’یعقوب علیہ السلام نے قمیص اپنے چہرے پرخود ڈال دی‘‘ اپنی تفسیر میں تحریر بھی فرمایا تو اس سے ’’البشیر‘‘ کا قمیص ہونا کیسے ثابت ہوتا ہے؟
دوم: یہ کہ یہ مفسرین حضرات تھے جنہوں نے قرآنِ پاک کی آیات کی تفسیر پیش کی ہے جب کہ یہاں پرمصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرقرآنِ پاک کا ترجمہ و تفسیر کررہے ہیں جو کہ اپنی اصل میں مشین ہے جوکہ انسان کا متبادل ہرگز نہیں ہوسکتی۔
سوم: یہ کہ ان مصنوعی ذہانت کی مشینوں میں ذہانت قطعاً نہیں، بل کہ یہ توجھوٹا مواد گھڑتی ہیں اوران گنت سائنسی تحقیقات میں ان کے نقائص کو کمپیوٹر سائنسدانوں نے واضح بیان کیا ہے۔
چہارم: یہ کہ مصنوعی ذہانت سے مستقبل میں قرآنِ پاک کا مفہوم بالکل ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے (جس کی ایک مثال ہم ’’مثال اول‘‘ میں پیش کرچکے ہیں کہ کس طرح قرآنی آیت گھڑی گئی)۔
مثال سوم: مصنوعی ذہانت سے قرآن کے چھپے پہلوں کو سمجھنا:
غلام احمد پرویز کے ادارہ’’ طلوعِ اسلام لاہور‘‘ کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے نشر ہونے والی ایک تقریر بعنوان ’’قرآنِ کریم اورآرٹیفیشل انٹیلیجنس‘‘ میں کچھ یوں کہا گیا ہے۔
’’آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) ہمیں قرآن کے ایسے پہلوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے جوعام طورپردیکھنا مشکل ہوتے ہیں جیسے بار بار آنے والے موضوعات اورسورتوں میں موجود مشترکہ کہانیاں۔آے آئی سے ہر زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے جس سے دنیا کے مسلمان اورغیر مسلمان قرآن کواپنی زبان میں سمجھ سکتے ہیں‘‘(10)۔
ان تین مثالوں سے قارئین کو یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہوگی کہ مصنوعی ذہانت کوعلومِ قرآنی بالخصوص قرآنِ پاک کے ترجمہ و تفسیر اوراس کے چھپے ہوئے پہلوں کو سمجھنے کے لیے بڑے پیمانے پرعالمی سطح پرکوششیں جاری ہیں۔ الغرض، راقم نے یہ تفصیلات بطور خاص حضرات مفتیانِ کرام، مفسرین اوراہلِ علم حضرات کی خدمت میں پیش کی ہیں تاکہ وہ ایسی تمام کوششوں کاعلمی جائزہ لے سکیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے قرآنِ پاک کے ترجمہ و تفسیر کرنے سے امُتِ مسلمہ کو کیا ممکنہ خطرات پیش آسکتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر من گھڑت قرآنِ پاک کی آیات تک بنا دیتے ہیں اور وہ بھی سورۃ نمبر اورآیت نمبر کے حوالے کے ساتھ اور وہ آیت قرآنِ پاک میں موجود ہی نہیں ہوتی۔یہی کچھ حال احادیث مبارکہ اوردیگرعلمی مواد کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔لہٰذا مدارسِ دینیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلباء کرام مصنوعی ذہانت کودینی علوم میں سرے سے استعمال ہی نہ کریں۔
(10) Amina Latif, Quran and Artificial Intelligence (AI), Idara Tolu-e-Islam, Lahore, Pakistan, 12th Nov 2024. Link: https://www.youtube.com/watch?v=zAWo3OW32_E
