ازقلم :محمد صادق یونس خان اشاعتی،(استاذجامعہ اکل کوا)
عقائد وایمانیات کی اہمیت:
عقائد و ایمانیات کی صحت و تندرستی اور پختگی پر قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، ایمان کا ذکر ہمیشہ عملِ صالح کے ذکر سے پہلے لازمی طور پر کیا گیا، اور ایمان وعقیدے کو ہی تمام اسلامی اعمال و اخلاق کی اساس وبنیاد قرار دیا گیا،اور اس کے بغیر خیر کے تمام کاموں کو بے بنیاد اور مثلِ سراب بتایا گیا۔
عقائد واعمال کے بارے میں قرآن مجید اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قدر آیتیں اور احادیث آئی ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو ان آیتوں اور حدیثوں سے ایک مستقل کتاب وجود میں آجائے گی ۔ یہاں بطورِ نمونہ قرآن مجید کی دو آیتوں اور ایک حدیث کو پیش کیا جاتا ہے۔چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
۱۔’’والذؤن کفروا أعمالھم کسراب بیقعة یحسبه الظماٰن ماء حتی اذا جاء ہ لم یجدہ شیئاً‘‘۔ (سورۃ النور : ۹۳)
’’ جن لوگوں نے انکار کیا ان کے اچھے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں سراب پیاسا شخص اس کو پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچے تو وہاں کچھ نہ پائے ‘‘۔
۲– یولاینفع مال ولابنون الامن أتی اللہ بقلب سلیم۔(سورۃ الشعراء:۹۸۔۸۸)
’’ جس دن نہ مال کام آئے گا اورنہ اولاد مگر وہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس قلبِ سلیم لے کر حاضر ہوگا‘‘وہی فلاح ونجات پائیگا اور یہی چیز کام آئے گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قیمت قلبِ سلیم اور تندرست دل کی ہے، تندرست دل سے مراد صحیح اور پاک دل ہے، جو شرک کفر نفاق اور تکبر وحسدوغیرہ جیسے ناپاک اورگندے جذبات و خیالات سے پاک ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی تندرستی کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا ہے :
’’ الا ان فی الجسد لمضغة اذاصلحت صلح الجسد کله واذا فسدت فسد الجسد کله ‘‘ ۔
’’خبر دار!اس حقیقت کو خوب غور سے سن لو کہ انسان کے بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے،جب وہ درست ہو تو تمام بدن درست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو تمام بدن بگڑجاتا ہے ،خبردار سن لو وہ ٹکڑادل ہے۔(بخاری شریف،کتاب الایمان )
اس حدیثِ پاک کا مطلب یہی ہے کہ اگر دل درست اور مکمل تندرست ہے اس کے اندر کفر شرک اور نفاق تکبر حسد وغیرہ جیسے ناپاک او ر گندے جذبات اور خیالات نہیں، بل کہ اس کے مقابلے میں پاک اور صالح جذبات ہیں، تو اس سے نکلنے والے اعمال بھی پاک اور سراسر نفع بخش ہوں گے، ورنہ اگر بدن کے اس ٹکڑے کو برے عقائد، کفر وشرک، نفاق اور برے اخلاق کے گندے جذبات و خیالات سے بگاڑدیا گیا، تو اس سے نکلنے والے اعمال بھی گندے ناپاک اور صرف نمائشی ہوں گے۔
لہٰذا ہر انسان اور صاحبِ ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان و عقائد اوراخلاق کو درست کرے اور اپنے آپ کو کفر وشرک، نفاق اور تکبر وحسد وغیرہ جیسی بیماریوں سے پاک کرکے دل کو پوری طرح صحت مند بنائے، اس کی پوری نگہداشت کرے کہ کہیں بگڑ نہ جائے۔
اسی کے پیشِ نظر عامۃ المسلمین اور افراد واشخاص میں اسلامی عقائد سے غفلت اور کوتاہی کی گنجائش نہیں۔عوام الناس میں اسلامی عقائد ونظریات کی حفاظت اور محنت ہماری اہم ذمہ داری اور امرِ واجب ہے۔ مگر یہ کام جتنا اہم اور ضروری ہے اسی قدر نازک بھی ہے اور بصیرت کا متقاضی بھی ۔
قارئین کرام!
’’امتِ مسلمہ کے بھولے بھالے عوام الناس مسلمین میں اسلامی عقائد کی محنت ‘‘ ایک اہم ذمے داری ہے اور اس کے لئے مختلف ذرائع اور طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔
ذیل میں چند علمی و عملی اقدامات اور بنیادی ذرائع پیش خدمت ہیں:
(۱)۔منصوبہ بندی !
کسی بھی کام میں کامیابی کے لئے منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ہم اپنے سماجی اور معاشرتی لحاظ سے نئے نئے منصوبے بناتے ہیں، تب کسی حد تک کامیابی ملتی ہے، مگر دعوتِ دین واسلام کی بات آتی ہے تو ہمارے ذہن میں کوئی منصوبہ نہیں آتا، لہٰذا دین کا کام کرنے والے حضرات اگر منصوبہ بندی کریں اور لائحہ عمل تیار کریں، تو یقیناً ان شاء اللہ کامیابی قدم چومے گی ۔
(۲)تعلیم وتدریس اور تقریر وخطابت کا فریضہ اور ذریعہ
اس فریضے کے تحت ۴؍ ذرائع واُمور حسبِ ذیل ہیں:
الف: عوام الناس میں دروس عقائد کا اہتمام :
علماء وائمۂ مساجد کو چاہئے کہ اپنے اپنے مقامات اور مساجد میں عامۃ المسلمین اور مصلیان کے لیے درسِ عقائد کا سلسلہ قائم فرمائیں،جس کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں۔
من جملہ ایک شکل یہ کہ عقائد کی کسی کتاب سے ایک عقیدہ یومیہ بعد نمازِ مغر ب یا حسبِ گنجائش کسی نماز کے بعد نمازیوں کو پڑھ کر سنائے ۔
مختصر اور تھوڑے وقت میں یہ طریقہ اسلامی عقائد سیکھنے اور جاننے میں عوام الناس کے لئے معاون ومدد گار ثابت ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ، اس کام کے لئے بہت ساری کتابیں دستیاب ہوسکتی ہیں، چند مشہور کتابوں کے نام یہ ہیں:
اسلام کیا ہے ؟ ازمولانا منظور صاحب نعمانی ۔
۲تعلیم الاسلام از حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالی۔
۳بہشتی زیور حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالی۔
۴اسلامی عقائد از مولانا الیاس گھمن۔
۵اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ اصول و عقائد یہ اخیر الذکر کتابچہ۔
رئیس ِجامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کواحضرت مولانا حذیفہ غلام محمد صاحب وستانوی کی تالیف ہے، جو ۲۴؍ تقریبا صفحات پر مشتمل اپنے موضوع پر مفید کتابچہ ہے ۔
(ب)تعلیمی وتربیتی کیمپ اورکشاپ:
عقائد کے موضوع پر مختصر کورسیز یا ورکشاپ منعقد کریں، جس کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔دو چند اس طرح کہ چوں کہ اب ہر علاقہ یا شہر میں پچاس پچاس سوسو مساجد کی تعداد میں تعمیرہوچکی ہیں لہذا ایسے کثیر المساجد علاقہ یا شہر میں اوّلاً ذی استعداد اور ماہرینِ علمِ کلام وعقائد علماء کے ذریعے علاقہ کے علماء وائمۂ مساجد ومعلمین مکاتب کے لئے تعلیمی وتربیتی ورکشاپ اور مجالس کا انعقادکیا جائے۔
پھر اس ورکشاپ میں تربیت یافتہ علماء وائمہ کو پورے علاقہ اور شہر واطراف میں عقائد کی محنت کے لئے مامور ومقرر کیا جائے۔ورکشاپ کا دوسرا طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علاقہ یا شہر کے بڑے جامعات ومدارس میں سے کسی ایک ادارہ میں تحفظِ عقائدِ اسلامیہ کے عنوان پر تعلیمی وتربیتی مجلس عمل میں لائی جاسکتی ہے۔
(ج)کتب ورسائل وغیرہ کی طباعت وتقسیم :
اردو، ہند ی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں صحيح اسلامی عقائد کے موضوع پر مختصر وآسان اورعام فہم انداز واسلوب میں کتابچے اور رسائل، جن میں سوعقائد یا حسب ضرورت عددو نمبر شمار کے ساتھ ہو، چھپواکر گھر گھر تقسیم کروائیں،نیز گھروں میں ان کی تعلیم ومذاکرہ کی ترغیب وتشویق بھی فرمائیں۔
اسلامی عقائد پر علماء ومصنفین کی چھوٹی بڑی بہت ساری کتابیں بہت آسانی سے دستیاب ہوسکتی ہیں۔
(د)بیانا ت وتقاریر کے ذریعہ عقائد کی اصلاح:
عوام الناس کے عقائد کی اصلاح کے لئے سب سے مؤثر اور مفیدشیٔ تقریر وخطابت ہوسکتی ہے، لہذا جمعہ کے بیانات میں ایمان وعقائد کی اصلاح نیزباطل فرقوں اور گمراہ افراد کو واضح کرنے کے لئے اسلامی عقائد پر مشتمل بیانا ت کریں۔اس کے لئے مزید ایک مفید عمل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مہینے دو مہینے میں کسی بڑے اور ماہر عقائد اسلامیہ عالم ِدین کو اپنی مساجد میں بیان کے لیے مدعو کرے، تو اور زیاد ہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔
(۳)ٹیکنالوجی میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال:
عوام الناس وعامۃ المسلمین میں عقائد کی محنت وفکر کے بنیادی ذرائع میں سے ایک جدیدذرائعِ ابلاغ کا استعمال بھی ہے۔
قارئین کرام!
اسلام وہ مذہب ہے جو اپنے محاسن اور خوبیوں کی بنیاد پر پَھلتا اور پھولتا ہی رہا ہے، یہی وہ دین ہے کہ جس کو دبانے اور بدنام کرنے میں ساری دنیا متحد نظر آتی ہے اور اس کے لیے انہوں نے جدید ذرائعِ ابلاغ کے استعمال کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی، ہراعتبار سے اس کے استعمال کی کوششیں جاری ہیں، مگر افسوس کہ مسلمانوں نے ان ذرائعِ ابلاغ کے استعمال کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی، اگر اس کا صحیح اور مثبت استعمال کیا ہوتا تو آج صورتِ حال کچھ اور ہی ہوتی، چوں کہ میڈیا اتنی ترقی کر چکا ہے کہ لمحوں میں کسی خبر کو پوری دنیا میں عام کر دیتا ہے، انٹرنیٹ، ٹی وی، ریڈیو،اخبار اور رسائل وغیرہ یہ سب ایسے ذرائع ہیں کہ ان کے استعمال سے کسی بھی پیغام کو پوری دنیا لمحوں میں جان لیتی ہے، اس سلسلے میں مسلمان اگر کچھ مزید دلچسپی لیے ہوتے تو پوری دنیا کے سامنے آج دورِ حاضر میں اسلام کی صحیح اور حقیقی تصویر ہوتی، میڈیا وہ ذرائعِ ابلاغ ہیں کہ جن کا استعمال خود سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، اس وقت کا میڈیا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر آواز لگانے کا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت پہاڑ کی چوٹی پرچڑھ کرآوازلگائی تھی: ’’یا صباحاہ یا صباحاہ‘‘جب ساری قوم جمع ہوئی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی۔
اس وقت کا میڈیا وہی تھا جس کو آپ نے اختیار کیا، اورآج میڈیا نے جب ترقی کرلی ہے۔ توشرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے کیوں نہ اس کا استعمال کیا جائے۔ عیسائیوں نے اس کا خوب استعمال کیا ہے، مسلمان تبلیغ حق اور ایمان وعقائد کے لیے میڈیا کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ زیادہ سے زیادہ اس کا استعمال کیا جائے تا کہ دعوتِ دین کا کام زیادہ موثر بنایا جا سکے۔
ایک مسلم داعی بذاتِ خود ہر شخص کے پاس تو نہیں پہنچ سکتا مگر میڈیا کے ذریعہ صرف ایک ملک نہیں، بل کہ پوری دنیا میں بیک وقت پیغام پہنچ سکتا ہے اور پوری دنیا کو حق و راستی، امن و شانتی اور اصلاحِ عقائد واعمال کے پیغام سے واقف کروایا جا سکتا ہے۔لہٰذا اسلامی عقائد کی محنت کے لیے جدید ذرائعِ ابلاغ کا درج ذیل طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(الف): سوشل میڈیا پر عقائدِ اسلام پر مشتمل لیکچرزاور محاضرات، پیش کیے جاسکتے ہیں۔
(ب ): عقائد پر مشتمل شارٹ کلپس ویڈیوزاورآڈیوز بناکر، یا نیٹ پر موجود علمائِ اہلِ سنت و علمائِ حق کے خطابات اور دروس ومحاضرات عوام الناس مسلمانوں کے وہاٹس ایپ اور ٹیلی گرام وغیرہ پر ارسال کریں۔
(ج): اسلامی عقائد پر تیارشدہ ایپس اورویب سائٹس کی مدد سےعوام الناس خصوصاً نوجوانوں کواستفادہ کرنے کی رہنمائی فرمائیں۔
بہرحال اسلامی عقائد واعمال کی نشرواشاعت اور محنت کے لیے جدید ذرائعِ ابلاغ کا استعمال بھی بہتراور مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
جدید ذرائعِ ابلاغ اورسوشل میڈیا کے ذریعے اسلامی عقائد کی محنت اورنشرواشاعت کےاوربھی طریقے اورصورتیں ہوسکتی ہیں۔
ہم حسبِ گنجائش وسہولت ذرائعِ ابلاغ کا استعمال کر کے عقائد واعمال سے عوام الناس مسلمانوں کو روشناس اورآگاہ کریں اور سکھائیں۔ تاکہ وہ گمراہ افراد اورفاسدعقائدونظریات سے بچ سکیں۔
(۴)عمومی ذرائع کا استعمال:
عمومی ذرائع کے تحت بھی تین باتیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
(الف )اخبار،ٹی وی وغیرہ پرعقائد واعمال کےحوالے سے مضامین وپروگرام نشر کرنا۔
(ب )پوسٹرز،بینرز،اشتہارات وغیرہ کا استعمال: یعنی بنیادی اورمشہورعقائدپرمشتمل پوسٹرز، بینرزاوراشتہارات عوامی جگہوں پرآویزاں اورچسپاکریں کہ جن میں بنیادی عقائد، جیسے ایمان باللہ، ایمان بالرسل، عقیدۂ ختم نبوت، بعث بعد الموت، قبروحشروغیرہ عقائدکوپیش کیاجا سکے ۔
(ج )سماجی و فلاحی خدمات: عقائد کی محنت کے عمومی ذرائع میں یہ بھی ایک ذریعہ ہو سکتا ؟ہے کہ سماجی اور فلاحی کاموں کے ذریعے لوگوں کو عقائد کی اہمیت و افادیت کی طرف راغب کریں۔
(۵)ذاتی تعلقات اور ملاقاتیں:
عوام میں عقائد کی محنت کے بنیادی ذرائع میں سے یہ بھی ایک ذریعہ ہے۔ جس کے تحت ۳ کام ہو سکتے ہیں۔
(الف)افراد اورعوام الناس سے ذاتی اورشخصی ملاقاتیں کرکےان کےسوالات اورشکوک وشبہات دورکریں۔ نیزعوام میں موجودغلط فہمیوں کو حکمت اوردلیل کےساتھ دورکریں۔
(ب )بین المذاہب مکالمہ دیگرمذاہب کےافراد کے ساتھ مکالمہ ا وربات چیت کے ذریعے ایمان وعقائد کی وضاحت کریں ان سے مناظرے ومباحثے سے احترازکریں تاکہ مخاطب دل برداشتہ نہ ہو، اس میں ضد اورچڑکی کیفیت نہ پیدا ہو۔
(ج) دعوتی مجالس لوگوں سے ملاقات اورتعلقات کے بعد گھروں میں یامخصوص جگہوں پردعوتی مجالس کا اہتمام کريں اوران مجالس میں اسلام کے بنیادی عقائد کی روشنی میں ایمان وعقائد کی اہمیت اور ضرورت و حفاظت پر وعظ وارشاد کريں۔
(د)سوال وجوابات کی نشستیں :عوام الناس میں ایسے پروگرامزبھی منعقد کريں، جہاں لوگ اپنےعقائدونظریات سے متعلق سوالات پوچھ سکیں اور ہم ان کے تشفی بخش جوابات دیں، یاد رہے کہ ان کے سوالات کے جوابات دینے میں توازُن برقراررکھیں، نرمی و خوش روئی و خوش اسلوبی سے سہل ا ورآسان انداز میں جوابات دے جارحانہ انداز نہ ہو۔
(۶)عقائد کی عملی تصویر پیش کرنا:
عوام الناس میں عقائد کی محنت کے بنیادی ذرائع میں یہ بھی ایک ذریعہ ہے، جس کے تحت دو شکلیں اورصورتیں ہوسکتی ہیں ۔
(الف) پہلی صورت عملی نمونہ: یعنی ہم اپنےکرداراورعمل سے بھی لوگوں کوعقائدکی حقانیت اوراہمیت کا قائل کریں، مثلاً گمراہ فرقوں اورافراد سے اجتناب ان کی مذمت باطل عقائد وخیالات کی قولی وعملی تردید وغیرہ عقائد کی عملی تصویرمیں شامل ہوسکتے ہیں۔
(ب)اپنی اخلاقی تربیت کا نمونہ پیش کرنا دوسری شکل وصورت یہ ہے کہ ہم اپنی اخلاقی تربیت کا ثبوت دیں، اچھےاخلاق اور رویے کے ذریعے اچھےعادات واطوارکے ذریعے لوگوں کواسلام کی تعلیمات اوراعمالِ حسنہ اور عقائدِ صحیحہ سے متاثرکریں، اس لیے کہ دعوتِ اسلام اورداعیٔ اسلام کےاخلاق وکردارمیں گہری مناسبت ہونی چاہیے، ایک کودوسرے سےالگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔
ایک بڑاانقلاب لانے کے لیے حسنِ اخلاق ضروری ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پوری انسانیت کے لیے نمونہ اور مشعلِ راہ ہیں کہ نبوت سے پہلے ہی صادق وامین کے لقب سے پکارے جاتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسا عظیم انقلاب آیا کہ عرب کے کونے کونے اور اطراف واکناف سے اسلام کی صدا بلند ہونے لگی، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے صحابہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ انہوں نے اپنے اخلاقِ حسنہ اور قوتِ ایمانی کے سبب دنیا کے تہائی حصے پراسلام اوراس کےعقائدکاجھنڈانصب کردیا، غرض کہ حسنِ اخلاق اور حسنِ کردار سے بڑے بڑے متکبرومتعالی اوران کےعلاوہ دیگر باطل نظریات وباطل عقائد لوگوں کے قلوب فتح کیے جا سکتے ہیں۔
(۷)عقائد اسلام کو آسان اور دلچسپ بنا کر پیش کرنا:عقائد کی محنت کے بنیادی ذرائع میں عقائد کو آسان اور دلچسپ بنا کرپیش کرنا بھی شامل ہے، خصوصاً بچوں اورنوجوانوں کے لیے،عقائدِ اسلام کو موثر، مفید، سہل اور دلچسپ انداز میں واضح کر کے پیش کریں، جیسے اسلامی واقعات سناکریاپھربچوں کے درمیان مکالمہ وغیرہ کے ذریعے، یا اور بھی جو دلچسپ اور بہتر طریقہ ہو سکتا ہو۔ اسے اپنانے کی کو شش کریں۔
(۸)رجوع الی اللہ، دعا، اور اللہ سے مدد:
عوام الناس کی ہدایت اورعامۃ المسلمین کی اصلاحِ عقائد واعمال کے لیے رجوع الی اللہ دعاؤں کا بھی اہتمام فرمائیں۔اللہ پاک ہم سب کو ایمان اورعقیدۂ پررکھے اور خاتمہ بالخیر فرمائیں۔
