وجود باری تعالیٰ کا اثبات

 دس عقلی دلائل کی روشنی میں

ہستی صانع عالم کا دلائل عقلیہ سے ثبوت

حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ؒ

پہلی دلیل – دلیل صنعت:

            تمام عقلا اس بات پرمتفق ہیں کہ صنعت سے صانع کی خبر ملتی ہے۔ مصنوع اورصنعت کو دیکھ کرعقل مجبورہوتی ہے کہ صانع کا اقرارکر لے، اوردہری اورلا مذہب لوگ بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ فعل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری ہے۔ پس ایک بلند عمارت، ایک بڑے قلعہ، اونچے مینار، اورایک دریا کے پل کو دیکھ کرعقل یہ یقین کرلیتی ہے کہ اس عمارت کا بنانے والا کوئی ضرور ہے، اوراس میناراورپل کا بنانے والا کوئی بڑا ہی ماہرانجینئر ہے۔ تو کیا آسمان اورزمین کی اعلیٰ ترین عمارت اوراس کی عجیب وغریب صنعت، اوراُس کی باقاعدگی اورحسن ِترتیب کودیکھ کرایک اعلیٰ ترین صانع کا کیوں اقرارنہیں کیا جاتا۔

            ایک تخت کو دیکھتے ہی یہ یقین آجاتا ہے کہ کسی کا ریگر نے اس ہیئت اوروضع سے اس کو بنایا ہے، کیوں کہ تخت کا خود بخود تیارہوجانا اورخاص ترتیب کے ساتھ لوہے کی کیلوں کا اس میں جڑجانا محال ہے۔ کسی درخت کے تختوں اورلوہے کی کیلوں میں یہ قدرت نہیں کہ اس ترتیب سے خود بخود جڑ جائیں۔

            ایک دہری اور سائنس دان ایک معمولی گھڑی اور گھنٹہ کو دیکھ کر یہ اقرار کرتا ہے کہ یہ کسی بڑے ہی ماہر کی ایجاد ہے، جو قواعد ہندسہ اور کَلْ سازی کے اصول سے پورا واقف ہے، اور یہ یقین کر لیتا ہے کہ ضرور بالضرور اس گھڑی کا کوئی بنانے والا ہے جس نے عجیب اندازسے اس کے پرزوں کومرتب کیا ہے، اور جس کے ذریعہ اوقات کا بخوبی پتہ چلتا ہے، حالانکہ وہ یہ امر بخوبی جانتا ہے کہ دنیا کی گھڑیاں اورگھنٹے وقت بتانے میں بسا اوقات غلطی کرتے ہیں، مگرچاند اورسورج جو کبھی طلوع اورغروب میں غلطی نہیں کرتے، اورجن کے ذریعہ سارے عالم کا نظامِ حیات اور نظامِ اوقات چل رہا ہے، یہ بات اورنظام اوقات چل رہا ہے، یہ دہری چاند اورسورج کے صانع کا اقرارنہیں کرتا۔اگر اس موقعہ پرکوئی یہ کہنے لگے کہ اس گھڑی کو ایک ایسے شخص نے بنایا ہے جواندھا، بہرا، گونگا، نا سمجھ، بے خبر،علم ہندسہ سے بے بہرہ، اورکل سازی کے اصول سے نا واقف ہے، تو کیا یہی فلسفی اورسائنس دان اس کہنے والے کو پرلے درجہ کا احمق نہ بتلائے گا؟ غرض یہ کہ جہاں صنعت اورکاریگری پائی جائے گی، صانع کا تصوراوراقرار ضرورکرنا پڑے گا؛بل کہ صنعت کو دیکھ کر صرف صانع کا یقین ہی نہیں ہوتا بل کہ اجمالی طورپرصانع کا مرتبہ بھی معلوم ہوجاتا ہے۔ پس کیا آسمان وزمین کی اعلیٰ ترین صنعت کودیکھ کریہ یقین نہیں ہو گا کہ اس کا صانع بھی بڑا ہی اعلیٰ، ارفع، اعظم، اجلّ اورعقل سے بالا وبرتر ہے کہ جس کے صنائع اوربدائع کو سمجھنے سے عقلائے عالم کی عقلیں قاصروعاجزہیں۔

            یہ منکرینِ خداجب بازار میں بوٹ خریدنے جاتے ہیں تودکان دارسے پوچھتے ہیں کہ یہ بوٹ کس کارخانہ کا بنا ہوا ہے۔ تو وہ اگرجواب میں یہ کہے کہ یہ بوٹ کسی کارخانہ میں نہیں بنا ہے بل کہ یہ بوٹ خود بخود مادہ اورایتھر کی حرکت سے آپ کے پیر کی مطابق تیارہو گیا ہے، اورخود بخود حرکت کر کے میری اس دکان پرآ گیا ہے، تو منکرِ خدا صاحبِ دکان کے اس جواب کے متعلق کیا کہیں گے؟ غورکرلیں اوربتلائیں کہ کیا سمجھ میں آیا اوراپنے اوپرمنطبق کریں۔

اثباتِ صانع کی دوسری دلیل – وجود بعد القدم:

            ہرذی عقل کو یہ بات معلوم ہے کہ میں ایک وقت میں معدوم تھا اورایک طویل وعریض عدم کے بعد موجود ہوا ہوں، اورجو چیزعدم کے بعد وجود میں آئے اس کے واسطے کوئی پیدا کرنے والا اوراس کوعدم سے وجود میں لانے والاچاہیے۔ اوریہ بھی معلوم ہے کہ میرا خالق نہ میرا نفس ہے اورنہ میرے ماں باپ اورنہ میرے ہم جنس، اس لیے کہ وہ سب میری طرح عاجز ہیں، کسی میں ایک ناخن اوربال پیدا کرنے کی بھی قدرت نہیں، اورنہ آسمان اورزمین، اور نہ یہ عناصر، اورنہ یہ کو اکب، اورنہ یہ فصول میرے خالق ہیں، اس لیے کہ یہ چیزیں بے شعور اور بے ادراک ہیں، اورہروقت متغیراورمتبدل ہوتی رہتی ہیں، ان میں یہ صلاحیت کہاں کہ ایک ذی علم اورذی فہم انسان کو پیدا کر سکیں۔ پس معلوم ہوا کہ میراخالق کوئی ایسی چیز ہے جولا چار گی، حدوث اورتغیروتبدیل اورعیب ونقصان سے پاک ہے۔ وہی ہمارا خدا اورمعبود ہے۔

اثباتِ صانع کی تیسری دلیل – تغیراتِ عالم:

            موجوداتِ عالم پرایک نظرڈالیں: ہرایک چھوٹی اوربڑی چیز، حیوانات یا نباتات، یا جمادات، مفردات یا مرکبات، جس پرنظر ڈالیں، ہرلمحہ اس میں تغیروتبدل ہے، اورکون وفساد اورموت وحیات کا ایک عظیم انقلاب برپا ہے، جو بآواز بلند پکاررہا ہے کہ یہ تمام متغیر ہونے والی چیزیں حادث ہیں، اپنی ذات سے کوئی بھی قدیم نہیں۔ کسی عظیم ترین ہستی کے زیرفرمان ہیں کہ وہ جس طرح چاہتا ہے، ان کو پلٹیں دیتا رہتا ہے، اور طرح طرح سے ان کونچاتا رہتا ہے اورزیرو زبرکرتا ہے۔ پس جس ذات با برکات کے ہاتھ میں ان تغیرات اورانقلابات کی باگ ہے، وہی ان سب کا خالق اور موجد ہے۔

            منکرینِ خدایہ کہتے ہیں کہ عالم کے یہ تغیرات اورتبدلات محض قانونِ طبعی اورقانونِ فطری کے ماتحت چل رہے ہیں۔ اہلِ اسلام یہ کہتے ہیں کہ قانونِ طبعی اورقانونِ فطری صرف ایک آلہ ہے، جو کسی با اختیار کاریگر کا محتاج ہے۔ اس کا ریگر کو ہم ’’خدا‘‘ کہتے ہیں، جو اس آلہ کا محرک ہے اور وہی اس آلہ کا خالق بھی ہے۔ وہی اپنے اختیار سے اس عجیب وغریب نظام کوچلا رہا ہے۔ محض آلہ کو کا ریگر سمجھ لینا اوریہ گمان کرلینا کہ اس آلہ اوربسولہ ہی نے تخت اورالماریاں تیار کردی ہیں، ایک خیالِ خام ہے۔ اورجو شخص یہ گمان کرے کہ بغیرکا ریگر کے محض آلہ کی فطری اورطبعی حرکت سے یہ الماری تیارہو گئی ہے، تو وہ بلا شبہ دیوانہ ہے۔

اثباتِ صانع کی چوتھی دلیل – امکانِ اشیاء:

            واجب الوجود کی ہستی کی ایک دلیل یہ ہے کہ عالم میں، جس قدرا شیا موجود ہیں، وہ سب ممکنات ہیں۔ یعنی ان کا ہونا اورنہ ہونا، وجود اورعدم، ہستی اورنیستی، دونوں برابر کے درجہ میں ہیں۔ نہ ان کا وجود ضروری ہے اور نہ ان کا عدم ضروری ہے۔ اورجوچیز بذاتہ ممکن الوجود ہو، یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے اس کی ہستی اورنیستی برابر ہو سکے، وجود وہستی کے لیے عقلاً کسی مرجح اورمُوْجد کا وجود ضروری ہے؛ کیوں کہ کوئی چیزخود بخود یا محض اتفاق ِوقت سے بلا سبب عدم سے نکل کروجود میں نہیں آ سکتی، جب تک کہ اس کے وجود کے لیے کوئی نہ کوئی سبب اورموجد ہو کہ جو اس کے وجود کو ترجیح دے کر اس کو عدم سے نکال کروجود میں لائے۔ ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی، جو بالبداہت محال ہے، اورہر ذی ہوش کے نزدیک ظاہر البطلان ہے، کیوں کہ ممکن اپنی ذات اورماہیت کے لحاظ سے نہ موجود ہے اورنہ معدوم۔ وجود اورعدم دونوں اس کے حق میں یکساں ہیں۔ پس ضرورت اس کی ہے کہ کوئی ذات ایسی ہوجواس کوعدم ازلی کے نیچر سے نکال کروجود کے دلفریب میدان میں لے آئے۔ پس جس ذات نے اس عالم ِامکانی کوعدم سے نکال کروجود کا خلعت پہنایا اوراس کے وجود کواس کےعدم پرترجیح دی، وہی ذات واجب الوجود ہے، جس کواہل ِاسلام خدا کی ہستی سے تعبیر کرتے ہیں۔

یہ با رونق جو ہے، ہستی کا گلزار

 عدم سے کر دیا اس نے نمودار

             اورواجب الوجود وہ ہے کہ جس کا وجود ضروری ہواورممکنات کے قبیل سے نہ ہو، ورنہ’’ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار‘‘ کی مثل صادق ہو گی؛کیوں کہ اگر وہ خود ممکن ہو گا تواس کا وجود اورعدم اس کے حق میں یکساں ہوگا، تو دوسری چیز کے لیے وہ کیوں کرعلت اورمرجح بن سکے گا۔ پس جوواجب الوجود اورخود بخود موجود ہواوردوسرے کے لیے واہب الوجود ہو، اسی کو ہم’’ خدا‘‘ کہتے ہیں۔ خدا کوخدا اس لیے کہتے ہیں کہ وہ خود بخود ہے۔

اثباتِ صانع کی پانچویں دلیل – فنا و زوال:

            عالم کی جس چیز کو بھی دیکھو، اس کا وجود پائیدار نہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ وہ پردۂ عدم میں مستور تھی، اورپھراسی طرح ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ اس کا نام ہی صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔

رہیں گے پھول نہ پھولوں میں رنگ و بو باقی

 رہے گا اے میرے معبود، ایک تو ہی باقی

            یہ موت اورحیات کی کشمکش اوروجود وعدم کی آمد ورفت بآوازبلند یہ پکار رہی ہے کہ ہمارا یہ وجود ہمارا خود ساختہ نہیں ؛بل کہ مستعار اورکسی دوسرے کی عطا ہے، جیسے زمین پردھوپ اورروشنی کی آمد ورفت اس امر کی دلیل کہ یہ روشنی زمین کی ذاتی نہیں بل کہ عطیۂ آفتاب ہے؛ حرکت طلوعی میں آفتاب اس کو عطا کرتا ہے اورحرکت غروبی میں اس کو واپس لے لیتا ہے۔ اسی طرح ممکنات اورکائنات کا وجود اورعدم، جس ذات کے ہاتھ میں ہے؛ وہی واجب الوجود ہے جس کا وجود ذاتی ہے، اسی کو ہم اسلام میں ’’اللہ‘‘ اور’’ خدا‘‘ کہتے ہیں۔

چھٹی دلیل – اختلافِ صفات وکیفیات:

             زمین سے لیکر آسمان تک، عالم کے تمام اجسام جسمیت کے لحاظ سے برابر ہیں اورچیزیں حقیقت اورماہیت کے اعتبار سے برابر ہوں تو جو کچھ ایک چیز کے لیے روا ہے، وہی دوسرے کے لیے بھی روا ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو اس سے معلوم ہوا کہ آسمان جو بلند ہے، اُس کا نشیب اور پستی میں ہونا بھی روا ہے، اور زمین جو پستی میں ہے، اس کا بلندی میں ہونا بھی روا ہے، اور آگ جو گرم اور خشک ہے، اس کا سرد اورترہونا بھی روا ہے، اور پانی جو سرد و تر ہے، اس کا گرم اور خشک ہونا بھی روا ہے۔

            پس جب اجسام میں تمام صفات اورکیفیات جائز اورروا ہیں، توپھرہرجسم کے لیے ایک خاص معیّن صفت، معیّن کیفیت، معیّن شکل، معیّن احاطہ اورمعیّن مقدار کے لیے کوئی مؤثرمدبّراورمقدِّرمقتدر چاہیے، کہ جس نے ان تمام جائز اور ممکن صفات وکیفیات میں سے ہر جسم کو ایک خاص صفت، خاص کمیت، خاص کیفیت اورخاص ہیئت کے ساتھ معین اورمخصوص کیا، کیوں کہ ہرجائز اورممکن کے لیے کسی مرجح کا ہونا ضروری ہے، جو کسی ایک جانب کو ترجیح دے، ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی۔ پس وہی مؤثر، مدبراورمقدِّرمقتدراس عالم کا رب ہے۔

اثباتِ صانع کی ساتویں دلیل – دلیل حرکت:

            علامہ احمد بن مسکویہ الفوز الاصغر میں فرماتے ہیں کہ عالم کی جس چیز پربھی نظرڈالیں، وہ حرکت سے خالی نہیں، اورحرکت کی چھ قسمیں ہیں:

            (۱)  حرکت کون۔  (۲)  حرکت فساد۔  (۳)  حرکت نمو۔ (۴) حرکتِ ذبول (۵)حرکت استحالہ ۔  (۶) حرکت نقل۔

            اس لیے کہ حرکت ایک قسم کی تبدل یانقل کوکہتے ہیں۔ اگرایک شئی عدم سے وجود کی طرف حرکت کرے تو یہ حرکت کون ہے، اوراگرخرابی کی طرف حرکت ہو تو یہ حرکت فساد ہے، اوراگرایک کیفیت اورایک حالت کی دوسری حالت کی طرف حرکت ہو تو یہ حرکت استحالہ ہے۔ اوراگر کمی سے زیادتی کی طرف حرکت ہو، جیسے بچے کا بڑا ہو جانا اورپودے کا درخت ہو جانا، تو یہ حرکت نمو ہے، اوراگر زیادتی سے کمی کی طرف حرکت ہو، جیسے کسی موٹے آدمی کا دبلا ہو جانا، تو یہ حرکت ذبول ہے۔ اوراگرایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف حرکت ہوتو یہ حرکت نقل ہے، اس کی دو قسمیں ہیں: مستقیمہ اورمستدیرہ۔

            غرض یہ کہ عالم کے تمام عناصر اورجمادات، نباتات اورحیوانات سب کے سب حرکت میں ہیں، اوران میں کسی شئی کی حرکت اپنی ذاتی نہیں، اور کوئی چیز اپنی ذات سے متحرک نہیں۔ اورعقلاً ہر متحرک کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے علاوہ اس کے لیے کوئی محرِّک ہو۔ پس ضروری ہے کہ تمام اشیائے عالم کا بھی کوئی محرک ہو، جس کی وجہ سے تمام اشیائے عالم حرکت میں آرہی ہیں۔ پس وہ ذات جس پر کائناتِ عالم کی حرکات کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، وہی ’’خدا‘‘ ہے، جواس سارےعالم کوچلا رہا ہے اورطرح طرح حرکت دے رہا ہے، جن کے انواع واقسام کے ادراک سے عقلائے عالم کی عقلیں قاصروعاجز اوردرماندہ ہیں۔

اثباتِ صانع کی اٹھویں دلیل – حسن ترتیب:

            امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ ہستی صانع کی ایک دلیل یہ ہے کہ آسمان اورستارے، نباتات اورجمادات، اورحیوانات کی ترتیب ہم اس طرح پاتے ہیں کہ حکمت کی نشانیاں اس میں ظاہرہیں۔ اورجس قدرزیادہ غوروفکرکرتے ہیں، اسی قدر یہ نشانیاں زیادہ معلوم ہوتی ہیں، جیسا کہ ہم آئندہ فصلوں میں اس کی شرح اورتفصیل کریں گے۔ اوربداہت عقل سے یہ جانتے ہیں کہ ایسی عجیب وغریب نشانیوں کا ظہورمحض اتفاقی طورپرمحال ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ ایسے کامل اور قادر حکیم کی وجود کا اقرار کیا جائے، جس نے اپنی قدرتِ کاملہ اورحکمتِ بالغہ سے ان عجیب وغریب چیزوں کوعالم علوی اورسفلی میں ظاہر کیا ہے ۔

قدرت کا نظام ہے بتاتا

تو صانع ومنتظم ہے سب کا

نویں دلیل – عاجزی اور درماندگی:

            ہرذی ہوش اس امر کو بداہتِ عقل سے جانتا ہے کہ انسان جب کسی بلا اورمصیبت میں گرفتارہوجاتا ہے، اوراسباب ووسائل اس کوجواب دے دیتے ہیں، تواس وقت اس کا دل بے اختیارعاجزی اورزاری کرنے لگتا ہے اورکسی زبردست قدرت والی ہستی سے مدد مانگتا ہے۔ یہ اس امرکی دلیل ہے کہ ہر شخص فطری طورپر یہ جانتا ہے کہ کوئی دافع البلیات، مجیب الدعوات، حافظ وناصراوردستگیرضرورہے، جس کوانسان بیچارگی کی حالت میں بے اختیاراپنی دستگیری کے لیے پکارتا ہے اوراس کے روبرو گریہ وزاری کرتا ہے، اوریہ امید رکھتا ہے کہ وہ دستگیر میری مصیبت کو ٹال دے گا۔ پس وہی دستگیر ہمارے نزدیک خدا ہے، جو سارے عالم کی سنتا ہے اوردستگیری کرتا ہے۔    ؎

جب لیتے ہیں گھیر، تیری قدرت کے ظہور

منکر بھی پکار اُٹھتے ہیں، تجھ کو ہی ضرور

اثباتِ صانع کی دسویں دلیل – ذلت و خواریِ اشیا:

            اس کارخانۂ عالم کی جس چیزپربھی نظر ڈالیں، توذلت وخواری اوراحتیاج ہی ٹپکتی ہوئی نظر آئے گی، جس سے بالبدا ہت یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ محض بخت واتفاق سے پیدا نہیں ہوا، بل کہ کسی بڑے عزت وحکمت والے کے سامنے ذلیل وخواراوراس کے حکم کافرمانبردار ہے۔

             آسمان،چاند، سورج، ستارے کو دیکھیے کہ ایک حال پربرقرارنہیں، کبھی عروج، کبھی نزول، کبھی طلوع، اورکبھی غروب، کبھی نوراورکبھی گہن ہے۔ آگ کو دیکھیے کہ تھامے نہیں تھمتی، ہوا کا حال یہ ہے کہ کبھی حرکت اور کبھی سکون، اورحرکت بھی ہوتو کبھی شمال اورکبھی جنوب کی جانب، اورکبھی مشرق اورکبھی مغرب کی جانب ہے۔

             غرض یہ کہ ہوا ماری ماری پھرتی ہے اور پانی کا کرہ ہوا کے جھونکوں سے کہیں کا کہیں نکلا چلا جاتا ہے۔  زمین کو دیکھیے کہ اس کی پستی اورلاچاری اس درجے میں ہے کہ مخلوق اس کو جس طرح چاہتی ہے پامال کرتی ہے، کوئی بول و براز سے اُسے آلودہ کر رہا ہے، اور کوئی لید وگوبر سے اُس کوگندہ کررہا ہے، کوئی اس پردوڑرہا ہے اورکوئی اُسے کھود رہا ہے، مگرزمین سرنہیں ہلا سکتی۔ حیوانات کو دیکھیے کہ وہ کسی طرح لاچار ہیں، کوئی ان پر سوارہورہا ہے اورکوئی ان پربوجھ لا د رہا ہے، اورکوئی ان کوذبح کررہا ہے۔ اور تمام مخلوقات میں سب سے افضل یہ نوعِ انسانی ہے، جو ذلت اوراحتیاج میں تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے۔

            بھوک و پیاس، بول وبراز، صحت و مرض، گرمی وسردی اورقسم قسم کی ضرورتوں و خواہشوں نے اُس کو نچا رکھا ہے۔ حیوانات تو فقط کھانے اور پینے ہی کے محتاج ہیں، اور حضرت انسان کے پیچھے تو حاجتوں کا ایک لشکر لگا ہوا ہے۔ انسان کو کپڑا بھی چاہیے، مکان بھی چاہیے، گھوڑا و گاڑی بھی چاہیے، عزت و منصب اورجاگیربھی چاہیے، بیاہ وشادی بھی چاہیے، بیماری کی حالت میں طبیب وڈاکٹر بھی چاہیے، بغیران کے زندگی دو بھر ہے اورحیوانات کو ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ حیوان کو نہ لباس کی ضرورت ہے اور نہ بیماری میں کسی ڈاکٹر کی۔ حیوان بغیر کسی میڈیکل کالج میں تعلیم پائے خود بخود اپنی بیماری کے مناسب جڑی بوٹیوں کو کھا کر شفا یاب ہو جاتا ہے۔

            پس جب انسان، جو باتفاقِ اہلِ عقل اشرف المخلوقات ہے، اس قدرذلیل اور حاجت مند اورمحکوم ٹھہرا کہ ہرطرف سے حاجتیں اور ضرورتیں اُس کی گردن پکڑے ہوئے ہیں، اور باقی عالم کی ذلت و خواری کا حال آسمان سے لیکر زمین تک مجمل طور پرمعلوم ہی ہو چکا، تو پھر کیوں کرعقل باورکر سکتی ہے کہ یہ سارا کارخانہ خود بخود چل رہا ہے؟ کا ئناتِ عالم کی اس ذلت و خواری و مجبوری و لاچاری کو دیکھ کر بے اختیار دل میں یہ آتا ہے کہ ان کے سر پر کوئی ایسا زبردست حاکم ہے، جو ان سے ہر دم مثل قیدیوں کے بیگاریں لیتا ہے، تاکہ یہ مغرور نہ ہو جائیں اور کسی کو ان کی بے نیازی کا گمان نہ ہو۔ بیشک یہی قید میں رکھنے والی زبردست اورغالب ہستی، ذات واجب الوجود اور الٰہ العالمین کی ہے۔

ایں جہاں آئینہ دار روئے تو

ذرہ ذرہ رہ نماید سوئے تو

            مادہ پرست بتلائیں کہ ہماری یہ بے شمار اورقسم قسم کی ضرورتیں اورحاجتیں کون پوری کررہا ہے؟ آیا یہ خود اس کی حرکت سے پوری ہو رہی ہیں یا کسی خداوند کریم سے پوری ہو رہی ہیں؟؟؟؟

(ماخوذ از:اثبات صانع عالم اورابطال مادیت وماہیت :صفحہ:۱۵تا۲۴)