محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ
ایمان وکفر، نفاق والحاد، ارتداد وفسق :
جس طرح نماز، زکوٰۃ، روزہ اورحج اسلام کے بنیادی احکام وعبادات ہیں اوردینِ اسلام میں ان کے مخصوص معنی اورمصداق متعین ہیں، قرآن وحدیث کی نصوص اورحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تعامل سے ان کی حقیقتیں اورعملی صورتیں واضح ومسلم ہوچکی ہیں اورچودہ سوسال میں امت ِمحمدیہ اوراس کے علماء ومحققین ان کو جس طرح سمجھتے اورعمل کرتے چلے آئے ہیں، اس تواتروتوارثِ عملی نےاس پرمہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ ان عبادات واحکام اوران نصوص کی تعبیرات کوان کے متواتر شرعی معانی سے نکال کرکوئی نئی تعبیراورنیامصداق قراردینا یقینا دین سے کھلا ہوا انحراف ہے۔ ٹھیک اسی طرح کفر، نفاق، الحاد، ارتداد اور فسق بھی اسلام کے بنیادی احکام ہیں، دین اسلام میں ان کے بھی مخصوص ومتعین معنی اورمصداق ہیں۔ قرآن کریم اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طورپران کی تعیین وتحدید فرمادی ہے، ان الفاظ کو بھی ان شرعی معانی ومصادیق سے نکالنا کھلا ہوا دین سے انحراف ہوگا اوران کوازسر ِنو محل ِبحث ونظربنانا اورامت نے چودہ سوسال میں ان کے جو معنی اورمفہوم سمجھے اور جانے ہیں،نوع بنوع تاویلیں کرکے ان سے ہٹانا کھلا ہوا الحاد وزندقہ ہوگا۔ ایمان کا تعلق قلب کے یقین سے ہے اورخاص خاص چیزیں ہیں، جن کو باور کرنا اورماننا ایمان کے لیے ضروری ہے، جو کوئی ان کونہ مانے قرآن ِکریم کی اصطلاح اوراسلام کی زبان میں اس کا نام کفر ہے اوروہ شخص کافر ہے۔ جس طرح ترکِ نماز، ترکِ زکوٰۃ، ترکِ روزہ اورترکِ حج کا نام فسق ہے، بشرطیکہ ان کے فرض ہونے کو مانتا ہو، صرف ان پرعمل نہ کرتا ہو۔ اوراگرانہی تعبیرات، صلاۃ، زکوٰۃ، صوم، حج کواختیارکرنے کے بعد کوئی شخص ان کو معروف ومتواتر شرعی معنی سے نکال کرغیرشرعی معنی میں استعمال کرے یا ان میں ایسی تاویلیں کرے جو چودہ سو سال کے عرصہ میں کسی بھی عالمِ دین نے نہ کی ہوں تواس کا نام قرآن کی اصطلاح اوراسلام کی زبان میں الحاد ہے۔ قرآن کریم نے ان الفاظ: کفر، نفاق، الحاد، ارتداد کو استعمال فرمایاہے اورجب تک روئے زمین پرقرآن کریم موجود رہے گا، یہ الفاظ بھی انہی معانی میں باقی رہیں گے۔
اب یہ علمائے امت کا فریضہ ہے کہ وہ امت کو بتلائیں کہ ان کا استعمال کہاں کہاں صحیح ہے اورکہاں کہاں غلط ہے؟! یعنی یہ بتلائیں کہ جس طرح ایک شخص یا فرقہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد مؤمن ہوتا اور مسلمان کہلاتاہے، اسی طرح ان ایمان کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے والا شخص یا فرقہ کافراوراسلام سے خارج ہے، نیزعلمائے امت کا یہ فرض ہے کہ ان حدود وتفصیلات کو یعنی ایمان کے تقاضوں کواوران کفریہ عقائد واعمال وافعال کو متعین کریں، جن کے اختیار کرنے سے ایک مسلمان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، تاکہ نہ کسی مؤمن کو کافر اوراسلام سے خارج کہا جاسکے اور نہ کسی کافر کو مؤمن ومسلمان کہا جاسکے۔ ورنہ اگرکفروایمان کی حدود اس طرح مشخص ومتعین نہ ہوئیں تو دین ِاسلام بازیچۂ اطفال بن کررہ جائے گا اورجنت وجہنم افسانے۔
یاد رکھیے! اگرایمان ایک متعین حقیقت ہےتوکفربھی ایک متعین حقیقت ہے۔ اگرکفر کے لفظ کو ختم کرنا ہے اورکسی کافرکوبھی کافرنہیں کہنا ہےتوپھرایمان واسلام کا بھی نام نہ لو اورکسی بھی فرد یا قوم کو نہ مؤمن کہو نہ مسلمان۔ رات کے بغیر دن کو دن نہیں کہہ سکتے، تاریکی کے بغیرروشنی کوروشنی نہیں کہہ سکتے، پھر کفرکے بغیراسلام کواسلام کیوں کرکہہ سکتے ہو؟ اورپھر یہ کہنا اورفرق کرنا بھی سرے سے غلط ہوگا کہ یہ مسلمانوں کی حکومت ہے اور یہ کافروں کی اوریہ تو اسلامی حکومت ہے اوروہ کفریہ حکومت ہے، پھرتوحکومت سیکولراسٹیٹ یعنی لادینی حکومت ہوگی، غرض کفر اورکافر کا لفظ ختم کرنے کے بعد تواسلامی حکومت کا دعویٰ ہی بے معنی ہوگا یا پھر یہ لفظ الیکشن جیتنے کے لیے ایک دل کش نعرہ اورحسین فریب ہوگا۔
غرض یہ ہے کہ علماء پر-کچھ بھی ہو- رہتی دنیا تک یہ فریضہ عائد ہے اوررہے گاکہ وہ کافر پرکفر کا حکم اورفتویٰ لگائیں اوراس میں پوری پوری دیانت داری اورعلم وتحقیق سے کام لیں اورملحد وزندیق پرالحاد وزندقہ کا حکم اورفتویٰ لگائیں اورجو بھی فرد یا فرقہ قرآن وحدیث کی نصوص وتصریحات کی روسے اسلام سے خارج ہو، اس پراسلام سے خارج اوردین سے بے تعلق ہونے کا حکم اورفتویٰ لگائیں، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو، قیامت نہ آجائے۔ چوں کہ کفر واسلام کے حکم لگانے کا معاملہ بے حد اہم اورانتہائی نازک ہے اورایک شخص جذبات کی رومیں بھی بہہ سکتا ہے اورفکر ورائے میں غلطی بھی کرسکتا ہے، اس لیے علمائے امت کی ایک معتمد علیہ جماعت جب اس کا فیصلہ کرے گی تووہ فیصلہ یقینا حقیقت پرمبنی اورشک وشبہ سے بالاتر ہوجائے گا۔
بہرحال کافر، فاسق، ملحد، مرتد وغیرہ شرعی احکام واوصاف ہیں اورفرد یا جماعت کےعقائد یا اقوال وافعال پرمبنی ہوتے ہیں، نہ کہ ان کی شخصیتوں اورذاتوں پر، اس کے برعکس گالیاں جن کودی جاتی ہیں ان کی ذاتوں اور شخصیتوں کو دی جاتی ہیں، لہٰذا اگر یہ الفاظ صحیح محل میں استعمال ہوتے ہیں تو یہ شرعی احکام ہیں، ان کو سب وشتم اوران احکام کے لگانے کو دشنام طرازی کہنا یا جہالت ہے یابے دینی، ہاں! کوئی شخص غیظ وغضب کی حالت میں یا ازراہِ تعصب وعناد کسی مسلمان کو کافر کہہ دے تو یہ بے شک گالی ہے اوریہ گالی دینے والا خود فاسق ہوگا اورتعزیر کا مستحق اوراگرکوئی شخص جان بوجھ کرکسی واقعی مسلمان کو کافر کہہ دے تو یہ کہنے والا خود کافر ہوجائے گا۔
علمائے حق جب کسی فرد یا جماعت کی تکفیر کرتے ہیں تودرحقیقت ایک کافر کو کافر بتلانے والے اورمسلمانوں کو اس کے کفر سے آگاہ کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ اس کو کافر بنانے والے، کافرتو وہ خود بنتا ہے۔ جب کفریہ عقائد یا اقوال وافعال کا اس نے ارتکاب کیا اورایمان کے ضروری تقاضوں کو پورا نہیں کیا، وہ باختیارِخود کافربن گیا؛ لہٰذا یہ کہنا کہ مولویوں کوکافربنانے کے سوا اور کیا آتا ہے؟ سراسر جہالت ہے یا بے دینی۔
اگر علماء ایمانی حقائق اوراسلام کی حدود کی حفاظت نہ کرتے تو اسلام کا نام ہی صفحہ ہستی سے کبھی کا مٹ چکا ہوتا، جس طرح کسی حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی مملکت کی حدود کی حفاظت کرے اور ان کے تحفظ کے لیے فوجی طاقت اوردفاعی سامانِ جنگ وغیرہ کی تیاری میں ایک لمحہ کے لیے غافل نہ ہو، اسی طرح ایمان، اسلام، اسلامی معاشرہ، مسلمانوں کے دین وایمان کو ملحدوں، افترا پردازوں اورجاہلوں کے حملوں سے محفوظ رکھنا علمائے حق اور فقہائے امت کے ذمہ فرض ہے۔
نبوت کا مدعی اورختم نبوت کا منکرمرزاغلام احمد قادیانی کی امت (مرزائی فرقہ)بھی مسلمان ہے اورپورے اسلام کے چودہ سوسالہ اسلامی عبادات ومعاملات کے نقشہ کو مٹا ڈالنے والا اور جنت ودوزخ سے صریح انکار کرنے والا غلام احمد پرویز اوراس کی جماعت بھی مسلمان ہے اوراگرقرآن کے منصوص احکام کوعصری تقاضوں کے سانچوں میں ڈھالنے والا، سنت رسول کوایک تعاملی اصطلاح اوررواجی قانون بتلانے والا، سود کی حرمت سے قرآن کو خاموش بتاکر حلال کرنے والا بھی نہ صرف مسلمان ہے، بلکہ اسلامی تحقیقاتی ادارہ کا سربراہ ہے تو پھر یادرہے کہ محض قرآن کریم کو ’’زردوزی‘‘ کے سنہری حروف میں لکھوانے سے قرآن کی حفاظت قیامت تک نہیں ہوسکتی اور یہ دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے یا پھرعوام کو بے وقوف بنانے کا ہتھکنڈہ ہے۔
آخر مسلمانوں کوکیا ہوگیا کہ اتنے واضح حقائق کی فہم کی توفیق بھی سلب ہوگئی؟
أللّٰہم اہد قومی فانہم لایعلمون۔
(بشکریہ ماہنامیہ بینات اکتوبر ۲۰۱۴)
