مثبت و منفی کا فلسفہ

از: مولانا حکیم فخرالاسلام الٰہ آبادی

            ۱۸؍ویں صدی عیسوی کی طبعی تحقیق کے میدان میں مغرب کی علمی ترقیات اورمادی خوش حالی نے لوگوں کے حواس واذہان تومسحور کیے؛لیکن یہ ترقیات انسان کی اخلاقی بے چینیوں اورسماجی مسائل کا مداوا نہ لا سکیں اورنہ ہی پیشتر سے چلی آرہی کلیسائی مذہبی قدروں -جیسی بھی تھیں – کامتبادل بن سکیں،تو مفکروں کو متبادل کی جستجو ہوئی اور’فطری مذہب‘ڈھالنے کا خیال آیاجس کا آغاز فرانس کے نام ور مفکر آگسٹ کومٹے کی کاوش سے ہوا۔

 ۱-انسان کومثبت ہونے کی ضرورت کا اِحساس

             سوشل سائنس کی اصطلاح چارلس فوئیر(۱) سے لینے والے فرانسیسی فلسفی ریاضی داں آگسٹ کامٹے [ Isidore Auguste Marie Comte ۱۷۹۸-۱۸۵۷ء]نے ثبوتیت کے بھرم اورمنطقی استدلال کے دعوی کے ساتھ ایک سماجی فلسفہ پیش کیااوراُسے’’مثبتیت‘‘، ’’منطقی ثبوتیت‘‘اور ’’لاجیکل پازیٹیوِزم ‘‘کا نام دیا۔لفظ’منطقی ‘کا لاحقہ رُعب ڈالنے کے لیے تھا،یعنی یہ باورکرایا گیا کہ اِس سے پہلے کی تجربیات؛ ریاضیاتی اورمنطقی سچائیوں کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی تھیں ؛مگرکومٹے کی تھیوری مفروضہ نہیں ؛بلکہ عقلی اورمنطقی راہ سے محقق بات ہے؛ورنہ اِس باب میں  ورڈ زورتھ[۱۷۷۰-۱۸۵۰]کی نظم پرے لیوڈ(The Prelude) (۲)میں پیش کیا گیا فطرت کا تصور ملاحظہ کیجیے،تووہ خیال کامٹے کے خیال کے ساتھ ذہنی تواردرکھتا ہوااورڈارونی ارتقاء کا پیش خیمہ محسوس ہوتاہے اورڈارونی اِرتقاکا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے،یعنی فطرت کے جس تصورکوورڈ زورتھ نے ڈی اِزم کے ساتھ نبھایا ، اُسے کامٹے نے سماجیات میں اور ڈارون نے حیاتیات میں جاری کیا ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱)چارلس فوئیر[Marieb Charles Forier۱۷۷۲-۱۸۳۷ء]:ابتدائی سوشلسٹ مفکر ایک با اثر فرانسیسی مفکر اورسوشلزم کی آزادی پسند شاخ کا بانی۔(۲) ورڈز ورتھ کا احساس ہے کہ فطرت میں ایک اخلاقی اورمذہبی شے موجود ہے۔ یہ چیز… انسان کے استاد کی حیثیت رکھتی ہے اورجو اُس کے دماغ کو صحیح طرح سے ڈھال لیتی ہے، البتہ فطرت یہ کام کسی گہرے اورپراسرارانداز میں کرتی ہے ۔(ڈاکٹر ظفر حسن:’’سرسید اور حالی کا نظریۂ فطرت‘‘(ص۲۰۲) 

            ۱۹؍ویں صدی کے اوائل میں قدرتی علوم میں بڑے پیمانے پرترقی نے فلسفیوں کو دوسرے شعبوں میں سائنسی طریقہ کو لاگو کرنے کی ترغیب دی، یہاں تک کہ ہنری ڈی سینٹ(۳)، پیئرسائمن لاپلاس(۴)اور آگسٹ کامٹے جیسے مفکرین کی یہ دریدہ دہنی سامنے آئی کہ:   ’’سائنسی طریقۂ کار،نظریہ اورمشاہدہ کے دائرہ ٔ اِنحصار کو فکر کی تاریخ میں ما بعدالطبیعیات کی جگہ لے لینا چا ہیے۔‘‘  ایک شخص کو زندگی میں مثبت کیوں ہونا چا ہیے اورمثبتیت کا کسی فرد کی زندگی اورروزمرہ کی عاداتـــــــــــ پر کیااثرپڑتا ہے؟ مکتبۂ ’’مثبتیت‘‘[بزعم خود] اِنہی سوالوں کا جواب ہے۔

۲-علم کا اِنحصار مثبتیت پر

            کومٹے نے۱۹؍ویں صدی کے اوائل میں پہلی بار فلسفہ’’مثبتیت‘‘ کوبیان کرتے ہوئے بتایاکہ حسی تجربہ سے عقل اورمنطق کے ذریعہ اخذ کردہ بعد کے حقائق (۵)ہی تمام حقیقی علم ہے۔(۶) اورجاننے کے دیگر طریقے جیسے وجدان یا مذہبی عقیدے یا تومسترد ہیں یا بے معنی ہیں۔’’ مثبتیت‘کے اس فلسفہ سے سماجی سائنس بری طرح متاثر ہوئی ،اِلحاد کے اثرات کو ہرشعبۂ زندگی میں داخلہ اورہر شاخِ علم میں سرایت پذیری ملی،یہاں تک کہ لفظ’مثبت‘فکری ماحول میں دینی فہم کے انہدام اوردنیوی عملی نفع بخش امورپرتوجہ دینے کے لیے استعمال ہو نے لگا۔ اب معاشرتی و سماجی تناظر میں ’ مثبت ‘کا اِقرار کرنے والے شخص پر امور ِذیل کااِلتزام لازم ٹھہرا :

            ۱- خیال کو اُن تمام عناصر سے پاک کرے جو دین کے ہادی و رہبر پراعتمادواعتقادکے ساتھ نقل و وحی سے حاصل ہوتے ہیں،کیوں کہ ایسے حقائق کویہ فلسفہ، منفی رویہ گردانتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۳)پیئرسینٹ[Henri de Saint Saimon۱۷۶۰-۱۸۲۵]فرانسیسی سیاسی،معاشی اور سوشلسٹ تھیوریسٹ اور فلسفۂ سائنس کا ماہر۔(۴)پیئر سائمن لاپلاس[Pierre-Simon Laplace۱۷۴۹-۱۸۲۷ء] فرامسیسی پولی میتھ [یعنی متعدد علوم و فنون میں دسترس رکھنے والا]،شعبہائے طبعیات وفلسفہ کا ماہر۔

(۵)بعد کے حقائق :یعنی مراحلِ ثلاثہ میں سے تیسرے مرحلہ کے حقائق جو بالواسطہ یا بلا واسطہ مشاہدات اور حسی تجربات پر مبنی ہوتے ہیں۔ (۶)John J. Macionis,Linda M.Gerber, 

Sociology,Ceventh Canadian Edition, Pearson Canada.

            ۲-اپنے رُجحان کوواقعیت (۷)اورہیومینٹیز(۸)سےہم آہنگ کرے۔

            وجہ اِس کی یہ ہے کہ علمی واعتقادی سطح پرمثبتیت ،تجربی ثبوت -بالواسطہ یا بلاواسطہ-پراصرار، مابعدالطبیعیات کا اِنکارضروری ٹھہراتی ہے۔

            بہرحال،اِنقلابِ فرانس کے بعد پیدا شدہ اخلاقی وخاندانی اِنتشار کا حل ڈھونڈنے والے (۹)اِس فلسفہ ’مثبتیت ‘کی رو سے انسان کو اپنی مادی اورسائنسی ترقی پرتوجہ دینی چاہیے اورمابعدا لطبیعاتی سوالات نہیں اُٹھانے چا ہئیں ،کیوں کہ سماجیاتی(۱۰) مثبتیت کا یہ مکتبہ باور کراتا ہے کہ : ’’معاشرہ، طبعی دنیا کی طرح سائنسی قوانین کے مطابق چلتا ہے۔اورما بعدالطبیعاتی خیالات کا معروضی [ حسی حیاتِ دنیوی میں ]مشاہدہ وتجربہ نہیں کیا جا سکتا ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۷)واقعیت[Realism]:ما فوق ا لفطرت خیالات سے گریزکے ساتھ دنیا پرتوجہ مرکوز کرتے ہوئے لوگوں کے رہنے کے طریقے کی وضاحت ۔

(۸)انسانیت[Humanities]:’’وہ تعلیمی مضامین ہیں جو انسانی معاشرے اورثقافت کا مطا لعہ کرتے ہیں۔مغرب کی نشاۃ ثانیہ کے دوران اصطلاح ’’ہیومینٹیز‘‘نے مذہب کے مطالعہ یا اُلوہیت کے برعکس کلاسکی ادب اورزبان کے مطالعہ کا حوالہ دیا،جو اُس وقت یونیورسٹیوں میں سیکولر نصاب کا ایک اہم حصہ تھا۔آج ہیومینٹیزکوقدرتی علوم،سماجی علوم،رسمی علوم(جیسے ریاضی)اوراپلائیڈ سائنسز(یا پیشہ ورانہ تربیت و تعلیم مثلاً روایتی لبرل آرٹس)سے باہر مطالعہ کے کسی بھی شعبے کے طورپرزیادہ کثرت سے بیان کیا جاتا ہے۔ہیومینٹیزمیں فلسفہ،مذہب،تاریخ،زبان کے فنون(ادب،تحریر ،تقریر،بیان بازی،شاعری وغیرہ)،پرفارمنگ آرٹس (تھیٹر،موسیقی،رقص وغیرہ)اور بصری فنون(پینٹنگ،مجسمہ سازی،فوٹو گرافی،فلم وغیرہ)کا علمی مطالعہ شامل ہے۔

(۹)سفر الحوالی-مترجم محمد زکریا رفیق:’’سیکولرزم‘‘ص۳۹۵،کتاب و سنت .جی میل.کام .(۱۰)سماجیات یاسوشیالوجی کی یہ اصطلاح ۱۸ویں صدی کے آخر میں انسانی معاشرے کے سائنسی مطالعہ کو بیان کرنے کے لیے وضع کی گئی تھی، جو انسانی سماجی رویے،سماجی تعلقات کے نمونوں،سماجی تعامل اورروزمرہ زندگی سے وابستہ ثقافت کے پہلؤں پر مرکوز ہے۔

            لفظ ’سماجیات‘سماجی علوم اور ہیومینٹیز دونوں کے ایک حصہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔سماجیا ت کا موضوع اِنفرادی تعامل اور ایجنسی [افراد کی صلاحیت،طاقت اور وسائل]کے مائیکرو لیول کے تجزیوں سے لے کر سماجی نظاموں اور سماجی ڈھانچے[معاشرے میں نمونہ دار سماجی انتظامات کا مجموعہ جو افراد کے اعمال سے پیدا ہوتا ہے] کے میکرولیول کے تجزیوں تک ہوتا ہے۔سماجی نظریات و سماجی تھیوری اور مختلف طریقۂ کارمثلاً مثبتیت،ثقافتی اورادبی تنقید کے لیے سائنس دانوں کے ذریعہ استعمال کیے جا نے والے پیراڈائمزسماجی تھیوری میں آتے ہیں۔

  مثبتیت بہ لسانِ سائنسی مظہریت(۱۱) ’’بیرونی دنیا کے بارے میں مفروضوں(مثلاً کائنات خدا نے بنائی ہے)سے گریز کرتے ہوئے ،شعور کی آفاقی خصوصیات کی چھان بین کی کوشش کرنا‘‘ہے ۔

۳-سماجی اِرتقا کے مراحلِ ثلاثہ :

             فلسفہ ثبوتیت-جس سے کومٹے کا مقصدیورپی سیکولرائیزیشن کے تناظر میں ایک سیکولر سائنسی طریقہ تیارکرنا تھا-کا طریقۂ کارواضح کرتے ہوئے سماجی اِرتقا کا یہ قانون بنایاگیاکہ معاشرہ ،سچائی کی تلاش میں تین مراحل سے گزرتا ہے:

            ۱-تھیولوجیکل [دینی](۱۲)،۲-ما بعدالطبیعاتی ،۳-مثبت[سائنسی ]۔

            کومٹے نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں واقعات کی وضاحت دیوتاؤں یا خدا کی مشیت کے حوالہ سے کی جاتی تھی، جو انسانی ذہن کے ضعف کی علامت تھی۔

دوسرے مرحلہ میں ذہن میں کچھ پختگی آئی تو فلسفیانہ اِستدلال سے مظاہر کائنات کی توضیح کی جانے لگی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱۱)مظہریت ،فینامینالوجی[Phenomenology]:۲۰ویں صدی میں اُٹھنے والی ایک فلسفیانہ تحریک جوموضوعی،شعوری تجربے کی نوعیت کی معروضی طور پر تحقیق کرنا چا ہتی ہے اور زندہ تجربے کے معنی اور اہمیت کو تلاش کرتی ہے۔ زندہ تجربہ[Lived experiment ]اکتساب کا پہلا ذریعہ ،فردیا براہِ راست تجربات اور انتخاب اوروہ علم جو وہ اس سے حاصل کرتے ہیں،اُس علم کے برخلاف جو کسی شخص کو دوسرے ہاتھ یا ثالثی ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔یہ معیار کی تحقیق کا ایک زمرہ ہے جو معاشرے اورثقافت ، زبان اورمواصلات پرتوجہ مرکوز کرتا ہے۔اگرچہ یہ اصطلاح کوالیٹیٹیو ریسرچ میں ثبوت کی ایک شکل اورعلم کا ایک ذریعہ کے طورپراستعمال ہوتی رہی ہے؛لیکن ’’زندہ تجربہ ‘‘کے تصور کو’’تجربہ ‘‘ سے الگ چیز کے طور پر شاذ و نادر ہی بیان کیا جا تا ہے۔

(۱۲)تھیولوجی:مذہبی نقطۂ نظر سے مذہبی عقیدے کا مطالعہ جس میں اُلوہیت پرتوجہ دی جاتی ہے۔یہ ما فوق الافطرت کا تجزیہ کرنے کے منفرد مواد کے ساتھ مخصوص ہے۔یہ مذہبی علمیات سے بھی نمٹتی ہے،یعنی مذہبی عقیدے سے آنے والے علمی مسائل کو بھی حل کرتی ہے۔مذہبی نظریات علمی نظریات کو بھی متاثر کرتے ہیں جیسے  اصلاح شدہ علمیات۔جاننا چا ہیے کہ فلسفہ مذہب میں اصلاح شدہ علمیات علم کی نوعیت سے متعلق فلسفیانہ فکر کا ایک مکتب ہے جسے Reformed epistemology کہتے ہیں۔ اصلاح شدہ علمیات کامرکز یہ تجویزکرتا ہے کہ خدا پریقین ’’صحیح طورپربنیادی ہو سکتا ہے اور اُسے عقلی طور پر تصدیق کرنے کے لیے دیگرسچائیوں سے اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے؛مگر یہاں کومٹے نے جس چیز سے اِنحراف کیا ہے ،وہ خدا تعالی کی توحید کا اُس کی تمام صفات کمال کے اعتقاد اوراُس کے واجب الاطاعت ہونا ہے۔یہ پوری حیثیت ما بعدالطبعی حییثیت ہے،اِس پر گفتگو آگے آئے گی۔

            سماجی اِرتقا کا آخری  یعنی تیسرا مرحلہ سائنسی مرحلہ ہے ،جس میں تجربی سائنسز ہی علم کا واحدمعقول اورموزوں منبع ہیں اور’’معاشرہ ،طبعی دنیاکی طرح سائنسی قوانین کے مطابق چلتا ہے۔‘‘ مفکر کومٹے کا کہنا ہے کہ اگر ہم دوسرے مرحلہ کی [ما بعدالطبیعاتی] غلطیوں سے بچنا چا ہتے ہیں اورعلمیت والے تیسرے مرحلہ میں داخل ہونا چا ہتے ہیں ،تو ہم پرلازم ہے کہ ہم غیب کی باتوں اوراوہام سے دوررہیں اوراپنی ساری توجہ عملی نفع بخش امورپرلگائیں۔

            مراحلِ ثلاثہ [Law of Three Stages]کے اِس فلسفہ میں کومٹے کے مطابق ماضی کی تعریف مستقبل کی طرف استوار کرنے کی صلاحیت الٰہیاتی اور ما بعدالطبیعیاتی مراحل سے منتقلی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ 

۴- آگسٹ کومٹے کامثبت فلسفہ

             فلسفۂ سائنس اور عمرانیات کے ماہر کومٹے کے فلسفہ ’’مثبتیت‘‘کی شہرت اُس وقت ہوئی جب ۱۸۳۰-۱۸۴۲ء کے درمیان،اُس نے ’’مثبت فلسفہ کا کورس ‘‘[Course of Positive Philosophy]کا ایک تحریری سلسلہ جاری کیا اورہیریئیٹ مارٹین(۱۳)نے اِس کا ایک مختصر ترجمہ کیاجو ۱۸۵۳ء میں ’’ آگسٹ کومٹے کامثبت فلسفہ ‘‘کے نام سے دوجلدوں میں شائع ہوا۔کورس کی پہلی تین جلدیں بنیادی طورپرپہلے سے موجود فزیکل سائنسز(ریاضی ،فلکیات،فزکس،کیمسٹری،بیالوجی)سے متعلق تھیں،جب کہ بعد کے دو میں سوشل سائنس کے ناگزیر آنے پرزوردیا گیا تھا۔تجزیہ نگاروں کے مطابق سائنس میں نظریہ اورمشاہدہ کے دائرہ دارانہ اِنحصاراورسائنس کی اِس طرح درجہ بندی کے لیے کومٹے کواصطلاح کے جدید معنوں میں سائنس کا پہلافلسفی مانا جا سکتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱۳)ہیریئیٹ مارٹین[Harriet Martineau۱۸۰۲-۱۸۷۶ء،انگریز سماجی تھیورسٹ] پہلی خاتون ماہرعمرانیات جس نے سماجی،مذہبی اورنسائی زاویہ سے لکھااورمعاشرہ کے تمام پہلؤں پرتوجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔

ڈارون کی طرح اِس کا بچپن بھی اتحاد پرست والدین وبھائی بہنوں کے ماحول میں گزرا؛ بعد میں اِلحادی روش اُس کی آئیڈیل بنی۔ ڈارون کی ارتقائی کاوش ’’ On The Origin of Species‘‘پرہیریئیٹ مارٹین نے لکھا:’’اِس صبر آزما قوت کامکمل مظہر دیکھنا ایک ناقابلِ بیان اطمینان ہے، جس کے ذریعہ اُس نے اتنے بڑے حقائق کو جمع کیا ہے‘‘۔

  طبعی علوم کومثبتیت کے ساتھ سماج سے ہم آہنگ کرنے کے اِس انوکھے عملی فلسفہ کے لیے اُس نے شرط ذکر کی کہ : ’’سماجی ہم آہنگی اُسی وقت ممکن ہے ،جب تمام سماجی علوم’’مثبتیت‘‘کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہوں،جس میں سوشیالوجی سب سے آخر میں پہنچ چکی ہے،پھر ہرایک کو جدید سائنس سکھائی جائے ،تاکہ وہ اپنی زندگی میں نئی سائنسی اقدارکوداخل کر سکیں۔ ‘‘ (۱۴)   

            ’’[ماضی سے حال کی طرف فکری ]ترقی کا خیال کومٹے کی نئی سائنس اورسماجیات میں، مرکزی حیثیت رکھتا ہے،[وہ سمجھتا تھا کہ]سماجیات ہرسائنس کو تاریخی غوروفکر کی طرف لے جائے گی۔‘‘کیوں کہ ’’ایک سائنس کی تاریخ  بشمول خالص سیاسی تاریخ اُس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک کہ اُسے پوری انسانیت کے عمومی ترقی کے مطالعہ سے منسلک نہ کیا جائے۔‘‘

            اُس کا خیال تھا کہ’’یہ انسانی فکری ترقی کا ایک فلسفہ ہے جس کا اختتام سائنس پر ہوا۔‘‘

’’مثبتیت‘‘ پر لکھے گئے مذکورہ سلسلہ مضامین ’’مثبت فلسفہ کا کورس ‘‘ کا اثر ظاہرہوا اور’’کومٹے کے بعدمنطق، نفسیات،معاشیات،تاریخ نگاری اور فکر کے دیگر شعبوں میں مثبت اسکولوں کا آغاز ہوا۔ ‘‘(۱۵)

۵- تجزیہ؛دینی مرحلہ نہیں،دینِ حق ہی ابتدا اور انتہا

            جاننا چا ہیے کہ ’’ثبوتیت‘‘کاخیال سرتا سرباطل تھا اور ہے ۔مذکورہ مراحلِ ثلاثہ کے بیان میں کومٹے نے مذہب سے تو پہلے ہی کنی کاٹ لی ،حالاں کہ تھیالوجیکل اور دینی ہونے کا مطلب؛مذہبی عقیدے ،اُلوہیت،ما فوق الفطرت و ما بعدالطبیعیاتی امور؛مباحثِ وحی ،رسالت ،آخرت،جزاسزا،جنت دوزخ،میزان اورصراط سے متعلق عقائد کا حامل ہونا اوراحکام کا جاننا پیشِ نظر ہوتا ہے ،تاکہ حصولِ رضائے خداوندی کی غرض سے خلق و خالق کے حقوق ادا ہوں۔ اِن حقوق میں اساسِ اعظم خدا تعالی کی توحید، اُس کا واجب الاطاعت ہونا ہے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱۴)آگسٹ کومٹے:’’مثبت فلسفہ کا کورس ‘‘کا تعارف ۱۸۳۰ء وکی پیڈیا ۔

(۱۵)۲۰ویں صدی کے آغاز سے یہ محاورہ زیادہ عام ہو گیا اور اِس کے سہارے عیسائیوں میں نئی مذہبی روحانیت پیدا ہوئی،جسے کارڈیسزم ،اسپریٹزم کہتے ہیں۔اِس کا واضع ایلن کارڈیک[Ellan Kardec۱۸۰۴-1869] تھا۔

 استدلالی اساس ؛مابعدالطبیعات

            اِس عظیم ترین اساس کی استدلالی نوعیت کے لیے فلسفہ کی جس ما بعدالطبیعاتی حقیقت کا اِعتراف واستعمال نا گزیر تھا،کومٹے نے اُسے ہی اُڑا دیااور جوچیزیں محض مظاہراورپرتو کی حیثیت رکھتی تھیں ،اُنہیں حقیقی ثبوت کی حیثیت دے کرسائنسی مثبتیت متعارف کرائی ۔اِس طرح دوسری اساس’’ما بعد الطبیعیات ‘‘پرجو مذکورہ دینی امورمثلاً موقوف تھے،اُن سے پلہ جھاڑناآسان ہو گیاجو فطرت پرستوں،بشریت پرستوں کے لیے  ڈھال بن گیا، اُنہوں نے ’’مثبت فلسفہ کا کورس ‘‘اور ’’ آگسٹ کومٹے کامثبت فلسفہ ‘‘کے تراجم و اشاعت میں خوب مدد کی۔

            مابعد الطبیعاتی حقیقت کی ضد نیچریت ہے،دیگر مغربی فکروں کی طرح یہ ’’مثبت‘‘ فکر بھی نیچریت کی ایک شاخ ہے۔نیچریت کے متعلق  حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک بات بالکل سادہ انداز میں ذکرتے ہیں کہ’’ پہلے تو غیبت ہی سے بچنا مشکل تھا،اب اگر کوئی شخص اِس سے بچ بھی لے،تو نیچریت سے تونہیں بچ سکتا ،فوراً اِس کا تعدیہ ہوتا ہے۔‘‘

            مسلمانوں میں آثارِنیچریت کی سرایت پذیری کا ذکر کر کے فرماتے ہیں:’’یہ سب اِسی کم بخت نیچریت کی نحوست ہے۔‘‘ (۱۶)

            ’’آج کل اِسی نیچریت نے لوگوں کوزیادہ بد اعتقاد بنا دیا۔‘‘(۱۷)

۶-سائنسی علوم اور مثبتیت

              سائنسی مضامین ، طبعی علوم کی سماجی ہم آہنگی ،یعنی’’ مثبتیت‘‘ میں ما بعدالطبیعیات سے اِعراض ہے،اِس لیے رسمی علوم کا تو اِستثنا ہے،باقی سب نیچریت کے شاخسانے ہیں۔

            علم سائنس کی اقسام کے اِجمالی جائزہ سے اِس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ 

            سائنسی شاخوں- جنہیں سائنسی شعبے یا سائنسی مضامین بھی کہا جاتا ہے- تین بڑے گروہوں میں منقسم ہیں:

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 (۱۶)ملفوظات جلد ۱ص۳۳۸۔

(۱۷)ملفوظات جلد ۳ص۲۹۹۔

            ۱-رسمی علوم :با ضابطہ نظاموں کا مطالعہ،جیسے کہ منطق اورریاضی کی شاخوں کے تحت،جوتجرباتی طریقۂ کار کے برخلاف ایک ترجیح (۱۸)کا استعمال کرتے ہیں۔

            ۲-نیچرل سائنس:قدرتی مظاہر کا مطالعہ(بشمول کائناتی،ارضیاتی،طبعی،کیمیائی اورکائنات کے حیاتیاتی عوامل)۔نیچرل سائنس کو دواہم شاخوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف :فزیکل سائنس،ب:لائف سائنس[یا حیاتیات]۔

            نوٹ:خیال رہے کہ ’نیچرل سائنس‘اپنے نظریات کو تشکیل دینے اور تجربات کے نتائج کی پیش گوئی یا وضاحت کرنے کے لیے فطرت کے قانون پراِنحصارکرتے ہیں۔ 

            ۳-سماجی علوم:اِس کے سماجی اورثقافتی پہلؤوں میں انسانی رویے کا مطا لعہ۔یہ سائنس کی وہ شاخ ہے جو’’معاشروں کے مطالعہ اوراُن معاشروں کے ارکان کے درمیان  تعلقات کے لیے وقف ہے۔یہ اصطلاح پہلے سماجیات کے شعبے کے لیے استعمال ہوتی تھی،اصل ’’سائنس آف سوسائٹی‘‘،۱۸ویں صدی میں قائم ہوئی تھی۔اب یہ اضافی تعلیمی مضامین کی ایک وسیع صف پر محیط ہے ،بشمول بشریات،آثارِ قدیمہ، معاشیات، جغرافیہ،تاریخ،لسانیات،انتظام،مواصلاتی علوم،نفسیات،ثقافتیات اورسیاسیات۔ ‘‘

۷-حامیینِ مثبت

            سماجیات کے جدید تعلیمی نظام کا آغازایمیل درخیم[۱۸۵۸-۱۹۱۷ء ]سے ہوا۔درخیم نے کومٹے کے فلسفہ کی بہت سی تفصیلات کو مسترد کردیا؛مگر طریقہ کار’’ سماجی علوم انسانی سر گرمیوں کے دائرے میں فطری علوم کا منطقی تسلسل ‘‘ہونا درست قراردیا اور بزعمِ خوداسے عملی اورمعروضی تحقیقات [Practical & Objective Research]کی بنیادوں پر اِستوار کیا ۔درخیم نے ۱۸۹۵ء  میں[جنوبی مغربی فرانس]بورڈر یونیورسٹی [ University of Bordeaux]میں سماجیات کا پہلا یورپی شعبہ قائم کیا اوربتایا کہ ’’آپ کا بنیادی مقصد سائنسی عقلیت پسندی کوانسانی طرزِ عمل تک پھیلانا ہے.. . جسے ہماری ’’مثبتیت‘‘ کا نام دیا گیا ہے وہ اِس عقلیت پسندی کا نتیجہ ہے۔ ‘‘

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱۸)ایک ترجیحی علم کسی بھی تجربہ سے آزاد ہوتا ہے،صرف ٹیوٹولوجی Tautology یعنی ایسے فارمولا کے طور پرجس کے جزو کی اصطلاح کی تشریح سے قطعِ نظر ،گودرست ہوتا ہے، صرف منطقی مستقل معنی کے ساتھ ،مثال کے طور پر ایک فارمولا ہے جو کہتا ہے :’’گیند سبز ہے یا گیند سبز نہیں ہے‘‘ہمیشہ درست ہے،قطعِ نظر اِس کے کہ گیند کیا ہے؟…تجویزی منطق کے درست فارمولوں کا حوالہ دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔’’ منطق قدیم و جدید‘‘ از مؤلف زیرِ اشاعت۔

            روڈولف کارنیب[ Rudolf Carnap۱۸۹۱-۱۹۷۰ء،جرمن فلسفی،ویانا سرکل (۱۹)کا ایک بڑا رکن اور’’ منطقی مثبتیت ‘‘کا حامی] کی کتاب منطقی ڈھانچہ‘‘(۱۹۳۸ء)جدید علمیات میں تاریخی نشان اور جدید علامتی منطق (۲۰)پر مثبتیت کے فلسفیانہ تھیسس کا زبردست شاہ کار ہے۔وہ سفارش کرتا ہے کہ ’’علامتی منطق کااستعمال کرتے ہوئے ،اُنہیں سائنس بیان سمجھی میں موجود تصوارات ،طریقوں اورجواز کے عمل کی وضاحت کرنی چا ہیے۔ ‘‘دیگر موقع پر لکھے گئے اپنے مقالات میں ما بعدالطبیعیات کے مقاصد اورطریقوں کے بارے میں وہ واضح طورپرشکوک وشبہات کا شکار نظر آتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱۹)’ویانا سرکل [Vienna Cirkle]۲۰ویں صدی کے اوائل کے فلسفیوں اور سائنس دانوںکا [۱۹۲۰ء میں تشکیل دیا گیا]ایک گروپ تھا جنہوں نے طبعی اوررسمی علوم میں اُس وقت کی حالیہ پیش رفت کی اپنی تشریح کے ذریعہ تجربیات کو دوبارہ تصور کرنے کی کوشش کی۔اُن کے ما بعدالطبیعیاتی مخالف موقف کو معنی خیزی کے ایک تجربہ کار معیار اور ریاضی کے وسیع پیمانہ پر منطقی تصورکی حمایت حاصل تھی؛مگر۲۰ویں صدی میں یہ اصطلاح’’ثبوتیت‘‘ بری طرح پِٹ گئی،تنقید نگاروں نے بتایا کہ اب ’’ زیادہ درست طورپر’’منطقی تجربہ پسندی کہا جا تا ہے،[یعنی]فلسفہ کا ایک مکتب ہے جو تجرباتیت کو یکجا کرتا ہے۔‘‘روڈولف کارنیب[ Rudolf Carnap۱۸۹۱-۱۹۷۰ء،جرمن فلسفی،ویانا سرکل کا ایک بڑا رکن اور’’ منطقی مثبتیت ‘‘کا حامی]کی طرف سے لکھا گیا ایک ۱۹۲۹ء کا پمفلیٹ اس وقت ویانا سرکل کے عقائد کا خلاصہ کرتا ہے کہ ویانا سرکل کی اِس فلسفہ کی حمایت میں تمام ما بعدالطبیعیات کی مخالفت شامل تھی۔

(۲۰)جدید علامتی منطق Symbolic logic،یا ریاضی کی منطق[Mathematical logic]:یہ ریاضی کے اندر رسمی منطق کا مطالعہ ہے۔بڑے ذیلی علاقوں میں ماڈل تھیوری[Model Theory ریاضیاتی [حروفِ تہجی اورالفاظ]میں جملوں کا مجموعہ) اوراُن کے ماڈلز(وہ ڈھانچے جن میں نظریہ کے بیانات ہوتے ہیں)کے درمیان تعلق کا مطالعہ ہے۔منطق میں ماڈل تھیوری رسمی نظریات(ریاضی کی ساخت کے بارے میں بیانات کا اِظہار کرنے والے رسمی زبان ۔پروف تھیوری[Proof theory:ریاضی کی منطق اور نظریاتی کمپیوٹر سائنس کی ایک= بڑی شاخ ہے ،جس کے اندر ثبوتوں کو رسمی ریاضیاتی اشیاء کے طور پر سمجھا جاتا ہے ]،سیٹ تھیوری[Set Theory ریاضی کی منطق کی شاخ جو سیٹس کا مطالعہ کرتی ہے [ریاضی میں ایک سیٹ مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے؛چیزیں سیٹ کے عناصر یا ارکان اور عام طور پر ریاضیاتی اشیاء ہیں:اعداد،علامات،جگہ میں پوائنٹس،لائنز،دیگر ہندسی شکلیں…ایک سیٹ محدود یا لا محدود ہو سکتا ہے] کے اندر ثبوتوں کو رسمی ریاضیاتی اشیاء کے طور پرسمجھا جاتا ہے] اور ریکریشن تھیوری( جسے کمپیوٹیبلٹی تھیوری بھی کہا جاتا ہے)شامل ہیں۔

ریکریشن تھیوری[ Recursion or Computability Theory]:ریاضیاتی منطق،کمپیوٹرسائنس اور تھیوری آف کمپیوٹیشن کی شاخ ؛ آغاز ۱۹۳۰ء کی دہائی میں کمپیوٹیبل فنکشنز اور ٹیورنگ ڈگریوں کے مطالعہ سے ہوا ۔منطق کے با ضابطہ نظاموں ریاضیاتی خصوصیات،جیسے کہ اُن کے اِظہار یا تخفیف کی طاقت پرتوجہ دیتی ہے۔تاہم ،اِس میں درست ریاضیاتی استدلال کو نمایاں کرنے یا ریاضی کی بنیادیں قائم کرنے کے لیے منطق کے استعمال کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ریاضی کی بنیادیں Foundations of Mathematics:وہ منطقی اور ریاضیاتی فریم ورک جو خود متضاد نظریات پیدا کیے بغیر ریاضی کی ترقی کی اجازت دیتا ہے ۔یعنی استنباطی منطق میں ایک مستقل نظریہ وہ ہوتا ہے، جو منطقی تضاد کا باعث نہی بنتا۔[دیکھیےConsistencyمستقل مزاجی۔اپنے آغاز کے بعد سے ریاضی کی منطق نے ریاضی کی بنیادوں کے مطالعہ میں تعاون کیا ہے اوراُس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔یہ مطالعہ ۱۹ویں صدی کے آخر میں جیومیٹری،ریاضی اورتجزیہ کے لیے محوری فریم ورک کی ترقی کے ساتھ شروع ہوا۔

تجزیہ:ریاضی کی وہ شاخ ہے جو مسلم افعال،حدوداور متعلقہ نظریات ،جیسے تفریق،انضمام،پیمائش،لا محدود ترتیب،سلسلہ اورتجزیاتی افعال سے متعلق ہے۔اِن نظریات کا مطالعہ عام طورپرحقیقی اورپیچیدہ اعداد اورافعال کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔تجزیہ کیلکولس سے تیار ہوا،جس میں تجزیہ کے ابتدائی تصورات اور تکنیک شا مل ہیں۔ کیلکولس:مسلسل تبدیلی کا ریاضیاتی ،جیومیٹری شکل اورالجبرا راضی کی کارروائیوں کی عمومیت کا مطالعہ ہے]۲۰ویں صدی کے اوئل میںاِسے ڈیوڈ بلبرٹ کے پروگرام نے بنیادی نظریات کی مستقل Kurt Godelمزاجی کو ثابت کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔اور دیگر نتائج نے پروگرام کوGerhard Gentzen،جزوی حل فراہم کیا۔ڈیوڈ ہلبرٹ[David Hilbert۱۸۶۲-۱۹۴۳ء،جرمن ریاضی داں،ریاضی ]کے پروگرام (۱۹۲۰)میں ریاضی کے موجودہ بحران ، کہ جب ریاضی کی بنیادوں کو واضح کرنے کی ابتدائی کوششیں تضادات کا شکار پا گئیں ،ایک حل کے طور پر ہربرٹ نے تمام موجودہ نظریات کو ایک محدود مکمل محور کے سیٹ پر گراؤنڈ کرنے کی تجویز پیش کی۔ رسمی منطق (علامتی منطق) :رسمی نظام ایک تجریدی ڈھانچہ ہے،بڑے پیمانے پرریاضیاتی منطق میں استعمال ہوتا ہے ۔

رسمی منطق استنباطی طورپردرست نتائج یا منطقی سچائیوں کا مطالعہ ہے۔یہ جانچتا ہے کہ کس طرح صرف دلائل کے ڈھانچہ کی بنیاد پراحاطے [مقدماتPremise]سے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔

     چند سالوں میں دوسرے سائنسی اور فلسفیانہ مف3کرین مثلاً [نیچرلزم کی ترقی میں فعال ناول نگار ایمیل زولا[Emile Zola۱۸۴۰-۱۹۰۲ء ]ایمائیل ہینیکوئن(۲۱)، ولہیم شیرر(۲۲)اور دیمتری کومٹے(۲۳)فلسفی نطشے کا پیشرو]’Febien Magnin‘بساریف جیسے مفکروں نے کومٹے کے مکتبۂ فکر کو خوب روشن کیا۔

۸-ثبوتیت کے پنپنے کا راز

            ’’آج کومٹے کی شہرت کچھ حد تک ایمیل لیٹرے(۲۴) [Emile Littre ۱۸۰۱-۱۸۸۱ء مترجم و بعض دیگر جن کا تذکرہ آگے آئے گا]کی مرہونِ منت ہے، جس نے پوزیٹیوسٹ کی بنیاد رکھی ۔تاریخ کے فلسفے کے لیے نقطۂ نظر کے طور پر مثبتیت پسندی کو مورخین جیسے ہپولائٹ ٹائن (۲۵)نے مختص کیا۔[اور جیساکہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ] ہیریئیٹ مارٹین[Harriet Martineau]نے کامٹے کی بہت سی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۲۱)[Emile Hennequine۱۸۵۹-۱۸۸۸ء ،مصنف ،فلسفی،چند مثبت سوچ رکھنے والا اہم مفکر۔

(۲۲)Wilhelm Scherer۱۸۴۱-۱۸۸۶ء،ادب کا مؤرخ مثبتیت پسند کے طور پر معروف  ۔

(۲۳)[Dmitry Pisarev۱۸۴۰-۱۸۶۸ء  روسی ادبی نقاد۔=

(۲۴)مثبتیت کے بانی آگسٹ کومٹے کے مرنے کے بعد ۱۸۵۷-۱۸۸۰ ء  مثبت سوسائٹی کا صدر۔

(۲۵)ہیپولائٹ ٹائن[Hipplyte Adolphe Taine۱۸۲۸ -۱۸۹۳ء]فرانسیسی مؤرخ فلسفی فطرت پرستی سماجی مثبتیت کا بڑاحامی، تاریخی تنقیدی تحریک پرادبی تاریخیت کا آغاز کرنے والا،فرانسیسی ثقافت و ادب میں مؤثر، سائنسی رُجحان دینے  والا۔نیچرلزم کی ترقی میں ناول نگار ایمیل زولا[Emile Zola ۱۸۴۰-۱۹۰۲ء ]کا خاص رفیق۔

            برازیل کے مفکرین نے صنعت کاری کے عمل میں پھلنے پھولنے کے لیے سائنسی اشرافیہ کی تربیت کے بارے میں کومٹے کے خیالات کی طرف رجوع کیا۔برازیل کا قومی نعرہ  Ordem e Progresso(آرڈر اینڈ پروگریسیو) مثبتیت پسندی کے نعرے سے لیا گیا تھا۔اورکومٹے نے[تو] مثبت معاشروں کے لیے ’’انسانیت کا مذہب‘‘[بھی]تیار کیا،‘‘[جو بعض انگریز مفکروں کو راس آیا ]۔

            ’’۱۹ ویں صدی میں مختلف سیکو لرانسانیت پرست تنظیموں کے پھیلاؤ کومتاثر کرنے کے  لیے ڈارون کے’’ آن دی اورِجِن آف اسپیشیز‘‘ کی اشاعت کو اِس سے حوصلہ ملا، خاص طورپرجارج ہولیویک[انگریز ملحد] اور رچرڈ کانگریو(۲۶)جیسے سیکولرز کے کام کے ذریعہ۔‘‘اگرچہ جیساکہ بتایا جا چکا ہے کہ کومٹے کے انگریز پیروکاروں بشمول جارج ایلیٹ اورہیریئیٹ مارٹین[Harriet Martineau]نے زیادہ تر حصے کے لیے اُس کے نظریہ کو مسترد کر دیا؛لیکن اُنہیں انسانیت کے مذہب کا خیال اور’’دوسروں کے لیے جیو‘‘کا حکم پسند آیا۔‘‘

۹-ما بعدالطبیعیات اورجدید عقلیین:

             کچھ جدید عقلیین مثلاً:رینے ڈیکارٹ[۱۵۹۶-۱۶۵۰] نے تدلیس پیدا کرکے ،باروچ اِسپینوزا[۱۶۳۲-۱۶۷۷ء]،وولف نے[۱۶۷۹-۱۷۵۴ء] ایک انداز سے،دیگر تجربیین مثلاً: برکلے،ہیوم ،فرانسس بیکن،جان لاک نے اپنے انداز سے،لاک کے تتبع میں جرمن آئیڈیلسٹ مثلاً ہیگل نے،پھراُس کی ستائش میں بربرٹ بریڈ لی اورنقد میں شوپنہاورنے ما بعدالطبیعیات کے بنیادی علم اوراصل حیثیت کاناس پیٹا،کسی نے اِنکار کر کے ،کسی نے اِنحراف کے ساتھ، کسی نے ماہیت میں تلبیس پیدا کر کے ،غرض ہرایک نے حکمتِ اعلی،فلسفہ اولی،حقیقتِ اصلی ،موجودِ اصلی کی اساس کا تیاپانچا کر کے چھوڑا۔’’چارلس سینڈرس پیرس[Charles Canders Peirce۱۸۳۹-۱۹۱۴ء] جان ڈیوی  [۱۸۵۹-۱۹۵۲ء]جیسے عقلیت پسندوں نے ما بعدالطبیعیات کو حقیقت اورتجربے کے عمومی خصوصیات کی ایک مشاہداتی سائنس کے طور پر تصور کیا۔ تجزیاتی فلسفہ میں۲۰؍ویں صدی کے  اختتام پربرٹرینڈ رسل (۱۸۷۲-۱۹۷۰ء) اورجی.ای.مور (۱۸۷۳-۱۹۵۸ء)جیسے  فلسفیوں نے عام فہم سائنس اورتجرباتی سائنس کے ساتھ منسلک ذہن سے آزاد دنیا کے وجود کی  دلیل دیتے ہوئے[ ہیگل کی] ’’ آئیڈیلزم کے خلاف بغاوت ‘‘کی قیادت کی اورمثبتیت کے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۲۶) رچرڈ کانگریومذہبی انسانیت کی بے خدا شکل کا حامی،جسے کامٹے نے متعارف کرایا تھا۔

مترادف موقف اختیار کرتے ہوئے ایٹومزم نام رکھا۔ [لسانی تحلیلی فلسفہ سے وابستہ]رسل اور ابتدائی لُڈوِگ وِٹگینسٹین (۱۸۸۹-۱۹۵۱ء)جیسے منطقی جوہری ماہرین نے دنیا کو جوہری حقائق کے ایک ہجوم کے طور پر تصور کیا، جس نے بعد میں ڈی ایم آرم اسٹرانگ…(۱۹۲۶-۲۰۱۴ء، سائنس کے ساتھ معاشی ہم آہنگی اور مطابقت کے علم بردار) کو متاثر کیا،یہاں بھی مثبتیت ہی ہے۔الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ(Alfred North۱۸۶۱-۷ ۱۹۴ء)نے ما بعدالطبیعیات کومعروضی اور موضوعی دونوں دائروں کی ایک جامع وضاحت فراہم کرنے کی کوشش کے طور پرتیار کیا۔مادوں کے ٹکڑوں کے بجائے اُس کی اِثباتیت عمل کے ساتھ وابستہ ہوکرافادیت اورنتائجی تھیوری کے قریب آکر قرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔چناں چہ اِسے ۲۱؍ویں صدی میں ماحولیاتی تہذیب اورماحولیاتی اخلاقیات کے شعبے میں امید افزا آثار کا حامل باور کرایا جاتا ہے،جس کا آغاز جان بی کوبJohn Kob۱۹۵۲-۲۰۲۴ء نے کیا۔

            اِس تھیوری کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ما حولیاتی نظام کا ہر حصہ باقی تمام حصوں پر اِنحصار کرتا ہے۔ روڈولف کارنیب[Rudolf Carnab۱۸۹۱-۱۹۷۰ء ] و دیگر منطقی مثبتیت پسندوںنے ما بعدالطبیعیاتی بیانات پر وسیع پیمانے پر تنقید کی ،یہ دلیل دی کہ وہ بے معنی ہیں ،کیوں کہ اُن کی تصدیق کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

۱۰-عہد حاضر کی مابعد الطبیعیات بھی مثبت:

            منطقی مثبتیت کے زوال کے بعدولارڈ وان اورمن کوئن[Wllard Van Orman Quine۱۹۰۸-۲۰۰۰ء ]نے ما بعدالطبیعیات کو تجرباتی علوم سے جوڑ کرقدرتی بنانے کی کوشش کی ۔ ایڈمنڈہسرل(۱۸۵۹-۱۹۳۸ء)،ہائڈگر(۱۸۸۹-۱۹۷۶ء) اور جیک  ڈریڈا(۱۹۳۰-۲۰۰۴ء) نے اپنے اپنے موضوعات کے حوالہ سے کاوشیں کیں۔ اورما بعدالطبیعیات کے انکار کی بحث چھوڑ کرعلم حقائق کا سب سے بڑا فراڈ یہ کیا کہ اسے مثبت بناکر پیش کردیا۔

             ما بعدالطبیعیات( میٹافزکس) ،جس کے دورِ حاضر میں یہ چند موضوعات بھی متعارف کرائے گئے ہیں٭کمپیوٹیشنل میٹافزکس،٭ڈاکٹر آف میٹافزکس،٭اینری کو برٹی کی مابعدالطبیعیات کی درجہ بندی،٭فیمینسٹ ما بعدالطبیعیات ،٭ما بعدالطبیعیات کابنیادی سوال۔اور یہ سب کے سب مثبت ہیں۔

            جن لوگوں نے اِس فلسفہ کو قبول کیا اُس کا سبب صرف ایک ہے؛ بے دلیل ما بعدالطبیعات کا اِنکار ؛مگر فلسفہ کو مسترد کرنے والوں کی تنقیدات وزنی ہیں۔