ھذہ مصر فیھا’’ عسل وبصل ‘‘یہ مصر ہے! جس میں کھٹی میٹھی چیزیں بھی ہیں

ھذہ مصر فیھاعَسَلٌ و بَصَلٌ

مولانا عبدالرحمٰن ملی ندوی

(ایڈیٹر مجلہ النور جامعہ اکل کوا)

             کہنے کو تو یہ ایک عربی کہاوت یا تعبیر ہے!لیکن لوگوں کوزندگی کے حقائق سے آشکار کرنے کے لیے ایک بہترین آئینہ بھی ہے، جس میں ہرانسان اپنی عادتوں اور لوگوں کے ساتھ برتاوٴ کی تصویر دیکھ سکتا ہے، لوگوں کے ساتھ روزمرہ زندگی میں کس طرح سلوک اور برتاوٴ کیا جانا چاہیے، اس کی جھلک اس کہاوت میں نظر آ سکتی ہے۔

            یہ کہاوت ہم نے جامعہ اکل کوا سے شائع شدہ اردو ماہنامہ” شاہراہِ علم“ میں جامعہ کے مدیر عام اور مجلہ” شاہراہِ” علم کے ایڈیٹر جناب مولانا حذیفہ غلام محمد وستانوی صاحب کے مصری سفر نامہ میں پڑھی ہے، مولانا موصوف” بور سعید الدولیہ “کے عالمی قرآنی مسابقہ میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے تھے، مولانا ممدوح نے اپنے طویل سفرنامے میں مصری تہذیب، مصری بودوباش، مصری طرز زندگی،اور مصری علمی شخصیات کے علمی رسوخ و گہرائی کا خوب تذکرہ کیا ہے۔

            جس مرکزی پروگرام کے لیے مولانا گرامی قدر تشریف لے گئے تھے، وہ ایک بابرکت عالمی قرآنی مسابقہ تھا، جہاں مدیر جامعہ کی قد آورعلمی شخصیات سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہوا، مصریوں کی وضع قطع سے متعلق رقم طراز ہیں کہ وہ مغربیت سے حد درجہ متاثر ہیں(تقریباً ہر دور میں ان کی یہی روش رہی ہے)(فَھدَاھمُ اللّہ اِلی الرُّشْدِ وَ السِّدَادِ) ان سب کے باوجود اللہ نے اہل مصر کو قرآنی ذوق، قرآنی محبت اورعربی زبان کی اسلوبی حلاوت سے سرفراز فرمایا ہے۔

            عالمی شہرت یافتہ قاری عبدالباسط اور دیگر قرا ء کی مثال دی جا سکتی ہے، ادبی دنیا میں احمد امین، طہ حسین، محمد عبدہ کے اسالیب کو دیکھا جا سکتا ہے، گرچہ ہم ان کے فکری نظریات سے کسی طرح کااتفاق نہ کرتے ہوں،لیکن ہمارے برِ صغیر اور ہندو پاک کے علمی و ادبی ذوق رکھنے والے قلم کار، ان اُدباء کے اسالیب کو اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی بھی ملک کے اُدباء اور مفکرین کے تفردات اور فکری غلطیوں کو محمود سمجھتے ہوں،لیکن ”خُذْ مَا صَفَا دَعْ مَا کَدِر“کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے کسی بھی ملک کے اُدبا و مفکرین کی خوبیوں کو اپنایا جا سکتا ہے، چہ جائے کہ اہل مصر، ہاں خلاف ِشرع چیزوں پربھرپورتنقید بھی کی جا سکتی ہے۔

             حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمة اللہ علیہ نے ”اسْمَعِی یا مصر “کے تحت اہل مصر سے صاف صاف باتیں بھی کی ہیں، اہل کویت کو ”اسمعی یا زھرةَ الصحراء“کہہ کر مخاطب بھی کیا ہے۔

             جب مسابقہ شروع ہوا تو مصری تہذیب کے مطابق آغاز موسیقی سے ہوا، قرآنی مسابقہ اوراس میں موسیقی ایک عجیب سی چیز محسوس ہوئی،اورہونا بھی چاہیے کہ قرآنی مسابقہ میں موسیقی کا کیا مطلب، اس لیے مولانا حذیفہ صاحب وستانوی صاحب درمیا ن پروگرام سے اٹھ کر جانے لگے، تو ان کے کسی دوست نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ ھذہ مصر فیہا ”عَسَلٌ و بَصَلٌ “ یہ مصر ہے یہاں کھٹی میٹھی چیزیں ہوتی رہتی ہیں یعنی آپ کو اتنا تعجب کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ یہاں کی تہذیب ہے۔

             اب اگر”عَسَلٌ “سے محمود اور اچھے صفات مراد لی جائیں، تو ہر شخص کسی نہ کسی بہترین اوراچھی صفت سے متصف ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بُرا انسان ہو، اور” بَصَلٌ“ سے اگر بُری صفات مرادلی جائیں، تو ہر شخص کسی نہ کسی بری صفت سے متصف ہوتا ہے،چاہے وہ کتنا ہی ولی صفت انسان شمار کیا جائے۔ اگر کسی انسان میں اچھائیاں اور بھلائیاں ہی ہوں تب تو اس کو فرشتہ شمار کرنا ہوگا،اور اگر برائیاں ہی برائیاں ہوں تب تو اس کو شیطان کہا جانے لگے گا، جبکہ انسان صرف انسان ہی ہے، نہ وہ فرشتہ ہے اور نہ ہی وہ شیطان ہے، ہر انسان میں اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور انسان برائیوں کا بھی شکار ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی سیٹھ یہ کہے کہ ہمیں ایسا ملازم چاہیے جس میں خوبیاں اور اچھائیاں ہی ہوں، تو ایسا سیٹھ کبھی بھی ایسا ملازم ڈھونڈ نہیں سکے گا،اس لیے کہ انسان اچھائیوں اور برائیوں سے مرکب ہے اس سیٹھ کہے جانے والے میں خود کئی برائیاں ہوں گی۔

            ایک عربی شاعر نے بہت اچھی بات کہی ہے 

نُعِیبُ زمانَنَا والعیبُ فِینَا

فما لِزمانِنَا ذَنبٌ سِوَانَا

             ہم زمانہ بھر کو عیب دار سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں عیب خود ہمارے اندر ہوتا ہے، زمانہ میں ہمارے گناہ کے علاوہ کوئی عیب نہیں ہے، اس لیے آج کے پر فتن دور اورنا گفتہ بہ حالات میں جہاں لغزشوں اورکوتاہیوں پر سرزنش کرنا اصول پسندی کی علامت ہے، وہیں خوبیوں اورعمدہ صفات کی کثرت پرحوصلہ افزائی کرنا حکمت و دانش مندی میں سے شمار کیا جانا چاہیے۔

             خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح کی کہاوتیں اورتعبیرات بعض مرتبہ زندگی کے دھارے کو بدل دیتی ہیں اورانسان صحیح جہت سے سوچنے اوراس کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے، انسان اگر نصیحت حاصل کرنا چاہے تو چند منٹ کی گفتگو سے بھی اپنے آپ کو سدھار سکتا ہے، ورنہ نہ سدھرنے والے کے لیے دفتر بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔

            ڈاکٹر ساغر اعظمی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے 

 جسم تو بہت سنور چکے روح کا سنگار کیجیے

 پھول شاخ سے نہ توڑیے خوشبووٴں سے پیار کیجیے

آفتاب چھپ بھی گیا تو کیا؟ صبح نو ضرور آئے گی

 شرط ہے یہی کہ وقت کا تھوڑا انتظار کیجیے