یادرفتگاں: مقصوداحمدضیائی
خادم التدریس: جامعہ ضیاء ا لعلوم پونچھ، جموں و کشمیر (انڈیا)
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
یوں تواس دارفانی میں سینکڑوں لوگ روزانہ آتے ہیں اور بہت سے لوگ عالمِ جاودانی کو کوچ کر جاتے ہیں، لیکن ایک ایسی شخصیت جن سے اکابر واصاغرکو بڑی امیدیں وابستہ ہوں، جن کے علم وتحقیق کا شہرہ عام ہو؛ جن کے فضل و کمال کا ہرکوئی مداح ہوان کے وصال کی خبرپرانسان کا ذہن ودماغ شدت غم واندوہ کے باعث بے کیفی و بے یقینی کا شکارہوجاتا ہے کیا واقعی ان کا وصال ہوگیا ہے؟ کیا علم وادب اورفکروفن کی یادگارشخصیت اٹھ گئی ہے؟ کہیں یہ خبرافواہ تو نہیں؟ ہرسوبے یقینی کی انتہائی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ایسے میں خبر کی تصدیق پرہربندہ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کی مرضی پرراضی رہتے ہوئے مرحوم کے حق میں بلندیٴ درجات کی دعاؤں میں مصروف ہوجاتا ہے کچھ یہی کیفیت میری بھی تھی۔
بتاریخ 10/ ربیع الثانی 1446ھ – 14 / اکتوبر 2024ء کو اس وقت جب دیوبند کے ممتازعالم دین اور معروف علمی شخصیت مشفق بیکراں حضرت مولانا ندیم الواجدی صاحب کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی۔ اول اول ”دیوان الاجتماع والثقافه“واٹس ایپ گروپ میں یہ خبر کہ ”مولانا ندیم الواجدی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔“ نظر سے گزری توعاجز نے فوراً چند دوسرے معتبر گروپوں میں برائے تصدیق یہ خبر شائع کی تو مولانا یاسرندیم الواجدی زیدہ مجدہ کے فیس بک پر شائع شدہ ان الفاظ کہ ”والد صاحب کے تعلق سے چلائی جانے والی خبرغلط ہے، براہِ کرم اس مشکل وقت میں مزید تکلیف نہ دیں۔“ پڑھنے کو ملے، اس کے بعد پے درپے درجنوں فون اسی خبر کی تصدیق کے لیے آئے، میں ہرایک کو نہایت اعتماد کے لہجے میں جواب دیتا چلا گیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔
رات کے آخری پہرتین بجے الارم بجنے پرآنکھ کھلی توموبائل فون میں واٹس ایپ ترسیلات میں مولانا یاسرندیم الواجدی صاحب کے الفاظ کہ ” میرے سر سے میرے والد کا سایہ اٹھ گیا۔“ نے رنجورومغموم کردیا۔ اٹھا وضو کیا اور درسگاہ پہنچا، حسبِ معمول نماز تہجد ادا کی اورپھر مولانا مرحوم کی بلندیٴ درجات کے لیے رب کریم کے حضور دعا مانگی، مولانا کی خبرِ وفات پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ہو۔ بلاشبہ مولانا ندیم الوجدی کا سانحہٴ ارتحال اس صدی کا بڑا خسارہ ہے؛ مولانا ملت کے نمائندہ عالم اورترجمان تھے؛ ان کے چلے جانے سے علمی دنیا اپنے ایک مخلص اورجامع الصفات شخصیت سے محروم ہوگئی ہے اس دورِ قحط الرجال میں مولانا ندیم الواجدی کا وجود انعامِ خداوندی تھا۔
معروف صاحبِ قلم؛ ترجمانِ دیوبند کے مدیرِاعلیٰ؛ درجنوں کتابوں کے مصنف؛ اردو کے مایہٴ ناز اسکالر؛ تحقیقی صلاحیت؛ فکری بصیرت؛ زبان و ادب پر مہارت یہ ان کی شخصیت کے ایسے درخشاں پہلو تھے کہ جس کا اعتراف بڑے بڑے اصحاب علم و کمال نے کیا تھا۔
مولانا ندیم الواجدی سے تعلق کی ابتدا کا قصہ یوں ہے کہ زمانہٴ طالب علمی سے ہی کتابوں سے میری وابستگی گویا وجدانی قسم کی رہی ہے، بطورِ خاص ماہناموں کوپڑھنا اورذخیرہ اندوزی مجھے بڑی محبوب رہی ہے، البتہ لکھنے کی جسارت بہت دیرمیں جاکرکی، اول اول جب لکھنا شروع کیا تو لکھنا کم اورمٹانا زیادہ رہتا تھا۔ 2005ء کی بات ہے کہ ایک روز ترجمانِ دیوبند کا ایک شمارہ میرے ہاتھ لگا، جس میں ”تنقید و تبصرے آپ کے خطوط؛ آپ کی رائے“ (گوشہ) پر نگاہ پڑی، قارئین کے خطوط نگاہوں میں جچ گئے، یہ وہ زمانہ تھا جب بذریعہ پوسٹ کارڈ خط و کتابت کا چلن تھا، لہٰذا ڈاک خانہ سے ایک پوسٹ کارڈ منگوایا اورتاثرات لکھ کرحوالہ ڈاک کردیئے۔ میری ڈاک جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کے پتے پرآیا کرتی تھی اورآج بھی آتی ہے۔ دوسرے ماہ جب ماہنامہ ترجمانِ دیوبند آیا تو قارئین کے خطوط میں میرا خط بھی شامل تھا، مولانا سعیداحمد حبیب صاحب پڑھ چکے تھے، ایک روز اپنے کسی کام سے میرا دفتر اہتمام جانا ہوا، حسن اتفاق شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام قادر صاحب مدظلہ بھی تشریف رکھتے تھے؛ ماہنامہ ترجمانِ دیوبند تھماتے ہوئے مولانا سعیداحمد صاحب نے کہا کہ جامعہ کی لائبریری کے بعد سب سے زیادہ ماہنامے آپ کے نام آتے ہیں اور کہا کہ مارچ کے ترجمان میں آپ کا خط بھی شامل ہے اور پھر اگلے ماہ جب اپریل کا ترجمان آیا تو مولانا نے بتایا کہ اِس ماہ ان کا خط بھی شامل ہے، یہ میری زندگی کی پہلی تحریر تھی جو کسی رسالے میں شائع ہوئی تھی، جس سے مجھے غیر معمولی خوشی ہوئی، جس کا تفصیلی تذکرہ میرے یادوں کے حسین گلدستہ داستان ناتمام…..(غیر مطبوعہ) میں شامل ہے۔ ”مجھے سب کچھ یاد ہے ذرہ ذرہ“ اس کے بعد مولانا ندیم الواجدی صاحب سے بالمشافہ ملاقات کا دل میں شوق پیدا ہوا، اس شوق کی تکمیل کا قصہ یوں رہا کہ بحرالعلوم حضرت مولانا غلام نبی قاسمی کشمیری کے وصال کے بعد ان کی حیات و خدمات پرمیں نے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جوسوشل میڈیا کی وساطت سے مولانا ندیم الواجدیؒ تک پہنچا، پڑھنے کے بعد عاجز سے واٹس ایپ پرسنل پیج پرپسندیدگی کی چند قابلِ تعریف سطریں تحریرفرمائیں، ایک نامور قلم کار کی طرف سے دادِ تحسین پرمجھے غیرمعمولی خوشی ہوئی اوراپنی نگارشات کو مزید سنوارکر پیش کرنے کا دل میں داعیہ پیدا ہوا۔
حضرت مولانا غلام نبی قاسمی کشمیری کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد میرا دیوبند کا سفر ہوا، اس دوران دارالکتاب بھی جانا ہوا، مولانا کی صحبت میں بیٹھنا اور گفت وشنید کی سعادت میسر آئی، مولانا غلام نبی قاسمی کشمیری پر لکھے گئے میرے مضمون کی بابت فرمایا کہ ” آپ نے تفصیلی مضمون لکھا جوبڑا معلوماتی اور نہایت اثر انگیز ہے، میں نے حرف حرف پڑھا اس سے مولاناؒ کی شخصیت انداز فکر اورزندگی کے متعدد مخفی گوشے میرے سامنے آئے۔“ عاجز نے عرض کیا کہ اس کو کتابی شکل دینے کا میرا ارادہ ہے آپ سے اس پرمقدمہ لکھنے کی درخواست ہے، فرمایا ضرورلکھوں گا اور شوق سے لکھوں گا، چوں کہ وہ میرے بھی محسن تھے، یہ مولاناؒ سے بالمشافہ میری پہلی ملاقات تھی۔
علمی و تحقیقی صلاحیت کا تو پہلے سے معترف تھا، جب آپ کے حسین و جمیل اورنورانی چہرے کی زیارت ہوئی اورعالمانہ رکھ رکھاؤ دیکھا توایک خوشگوار مسرت ہوئی کہ انہوں نے اپنے خاندانی ورثے میں علم و فضل کی وراثت کے ساتھ عالمانہ وقار بھی پایا ہے۔ وہ مجھ سے عمر میں کئی سال بڑے تھے اورمیں ان کی علمیت کا دل سے قائل اوران کی عظمتوں کا معترف تھا وہ بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ اس کے بعد بھی ان سے تعلق رہا۔ علم دوستی؛ اصاغرنوازی؛ حسن اخلاق اورجماعت کے تئیں مثبت پیش قدمی کے جذبات سے آپ کے ذہن و دماغ کولبریز پایا۔ سفر سے واپسی پر مولانا غلام نبی قاسمی صاحب کی حیات و خدمات پرلکھے گئے اپنے تفصیلی مضمون کو کتابی شکل دی، جو مولانا ندیم الواجدی کے قیمتی مقدمہ کے ساتھ مکتبہ رازی دیوبند سے ”ایک نابغہ روزگار شخصیت“کے نام سے شائع ہوئی، جس کو خاص وعام میں مقبولیت ملی۔
دوسری بار بتاریخ 8 / صفرالمظفر1440ھ- 1/ اکتوبر 2018ء دارالعلوم فلاحِ دارین ترکیسر کے زیرِ انتظام منعقدہ مفکر ملت سیمینارجو کہ مولانا عبداللہ کاپودروی کی یاد میں منعقد ہوا تھا کہ موقع پربالمشافہ ملاقات ہوئی تھی، سیمینارمیں عاجز کی بہ حیثیت مقالہ نگارواہلِ قلم شرکت تھی۔ حسن اتفاق پروگرام میں مجھے مولانا ندیم الواجدیؒ کے قریب والی نشست پرجگہ ملی تھی؛ جہاں ہم دونوں کے مابین گفت وشنید بھی رہی، مولانا نے اپنے مقالے کا اختصار بھی پیش کیا۔ چند سال قبل خیال آیا کیوں نہ اب تک کی بیتی زندگی کی یادداشتوں کو کاغذ کے صفحات میں یکجا کر دیا جائے، اس پرکام شروع کیا تو سنہری یادوں کا ایک خوبصورت گلدستہ مرتب ہوگیا، مولانا ندیم الواجدی صاحب میرے علمی محسن تھے، لہٰذا اس مجموعہ کے نام سے متعلق درخواست کی کہ چند نام مطلوب ہیں تو مولانا نے درج ذیل نام بتائے۔ ”وہ بھی کیا دن تھے؛ ایک معلم کی سرگزشت؛ یاد ماضی؛ میری زندگی کا سفر؛ اپنی کہانی؛ ماضی کے تعاقب میں؛ رو میں ہے رخش عمر؛ سرگزشت؛ شب و روز؛ داستان زندگی؛ عمررفتہ؛ عہد رفتہ کی یاد“۔ آخری بار بذریعہ فون سال گزشتہ ماہِ نومبر 2023ء میں ملاقات ہوئی تھی، جس کا قصہ یوں رہا کہ بعد عصر آپ نے کال کی اورفرمایا کہ مجھے دو عدد کشمیری فیرن کی ضرورت ہے؛ ہمارے یہاں جامعہ کے قریب ”یونیک ٹیلر“ کا فیرن کا اچھا کاروبار رہتا ہے میں نے مولانا کا رابطہ کرایا اور جب سِل کرتیارہوگئے تو بذریعہ ڈاکخانہ آپ کو بھیج دئیے گئے، وصول ہونے پرمولانا نے عاجز کا شکریہ ادا کیا۔
مولانا ندیم الواجدیؒ ایک ممتاز عالم دین بھی تھے اورمعروف صاحبِ قلم بھی، ان کا ذوقِ علم اورشوقِ قلم مثالی تھا۔ برسوں ان کا قلم صفحہ قرطاس پرعلم وادب کے جواہر بکھیرتا رہا۔ وہ لکھتے تھے اور خوب لکھتے تھے ان کے مزاج میں شائستگی تھی؛ جس کی جھلک ان کے رشحات قلم میں خوب صاف نظر آتی تھی۔ اللہ رب العزت نے ان کو قلم کی لاجواب دولت بخشی تھی، وہ بولتی تحریری لکھتے تھے، ان کے قلم میں وہ سب کچھ تھا جو ایک اچھے قلم کار میں ہونا چاہیے۔ لاریب وہ ہمارے عہد کے لکھنے والوں میں اپنی مثال آپ تھے۔
”انہوں نے اپنے زمانہٴ طالب علمی ہی میں 1970ء سے ہی لکھنا شروع کردیا تھا، پندرہ روزہ مرکز کے ذریعہ ان کی تحریر میں مہمیز لگی، زمانہٴ طالب علمی ہی میں وہ دیواری مجلہ شعور کے ایڈیٹر تھے۔ اس وقت سے 2013ء تک ملک و بیرون ملک کے معیاری اخبارات و رسائل میں ان کے تقریباً 400 مضامین شائع ہو چکے تھے، 2013ء تک ان کے مقالات و مضامین کے تیرہ مجموعے شائع ہو چکے تھے، ان کے مضامین اکثر ”ماہنامہ دارالعلوم دیوبند“،” نیا دور لکھنوٴ“،” آج کل“، ”راشٹریہ سہارا“،” روزنامہ صحافت“ اور” سہ روزہ دعوت“ وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کا شمار؛ عربی زبان کے موجودہ ہندوستانی ادبا میں ہوتا تھا۔ وہ ایک نامور محقق صاحب قلم و صاحب اسلوب شخصیت کے مالک تھے۔ چناں چہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر رقم طراز ہیں:
”مبالغہ نہ سمجھیے! اقلیمِ تحریر کے وہ فرماں روا ہیں، جن کی موجودگی میں دوسروں کی جانب نگاہ نہیں اٹھتی۔ لکھنے والے لکھ رہے ہیں اور لکھتے رہیں گے؛ مگراس قافلے میں جو شریک ہیں وہ سب ان کے پیچھے ہیں۔“
”مولانا کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ ان کی تحریریں اپنی جاذبیت، اپنے اسلوب، اپنے مواد، اپنے طرزِ نگارش کے اعتبار سے ہم سب کی تحریروں پر بھاری ہیں، پھر ان کا قلم جس برق رفتاری اورتیزی کے ساتھ اپنے موضوع کا احاطہ کرتا ہے اور عنوانات کو نئی آب دیتا ہے، وہ دوسروں کے بس کا روگ نہیں۔“
2001ء میں انہوں نے اپنے ہی کتب خانہ سے” ترجمانِ دیوبند“ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا، جو ملک و بیرون ملک تک اہل علم میں مقبول و معروف ہے اورملک و بیرون ملک کے باوقاراہل قلم کی تحریروں کے ساتھ اس میں مسلسل بیس سال سے ان کے قیمتی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں، آپ درجنوں کتابوں کے مصنف تھے، انہوں نے اپنے سابق مراسلاتی عربک ٹیچنگ سینٹر کی خدمت کے عرصے میں2001ء تک سات نصابی کتابیں لکھیں، جو کئی مدارس میں داخل ِنصاب ہیں۔ اب تک ان کی تقریباً پچاس کتابیں منظرعام پرآچکی ہیں، جن میں سے بعض کے نام ذیل میں درج ہیں۔ احیاء العلوم اردو(امام غزالی کی احیاء العلوم کا اردو ترجمہ:چار جلدوں میں) القاموس الموضوعی (عربی، انگریزی اوراردو میں ایک سہ لسانی لغت)جمع الخصائل شرح الشمائل آزادی سے جمہوریت تک اسلام؛ حقائق اورغلط فہمیاں؛ انسانی مسائل اسلامی تناظر میں؛ تین طلاق؛ عوام کی عدالت میں؛ اسلام اور ہماری زندگی؛ قرآن کریم کے واقعات؛ مسلمانوں کی ملی اور سیاسی زندگی؛ نئے ذہن کے شبہات اوراسلام کا موقف؛ ہمارے مدارس؛ مزاج اورمنہاج؛ رمضان کیسے گزاریں؟ (اردو و ہندی) آج رات کی تراویح (اردو و ہندی) رمضان؛ نیکیوں کا موسمِ بہار؛ ملتِ اسلامیہ کا دھڑکتا ہوا دل؛ نگارشات؛ رشحاتِ قلم؛ مقالات ومضامین؛ قیامت کی نشانیاں اورمولانا وحید الدین خاں کے نظریات؛ لہُو پکارے گا آستیں کا؛ آئینہٴ افکار؛ پھر سُوئے حرَم لے چل؛ ہندوستان کا تازہ سفر؛ خدا رحمت کُنَد؛ بے مثال شخصیت باکمال استاذ(ان کے والد واجدحسین دیوبندی کی سوانح حیات) عربی بولیے؛ عربی زبان کے قواعد؛ نئے اسلوب میں؛ عربی میں ترجمہ کیجیے؛ عربی میں خط لکھیے؛ جدید عربی زبان ایسے بولیے؛ معلم العربیہ (تین حصے) عربی، انگلش، اردو بول چال انگلش بولنا سیکھیے؛ التعبیرات؛ المختارة خُطَبُ الجمعة و العیدین۔(ازآزاد دائرة المعارف)
حضرت مولانا واصف حسین ندیم الواجدی 23/ جولائی 1954ء کو دیوبند ضلع سہارن پور،بھارت میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی نام ”واصف حسین“ ہے جو شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کا تجویز کیا ہوا ہے۔ مولانا ندیم الواجدی کے والد ماجد مولانا واجد حسین دیوبندی برصغیر کے معروف دانش گاہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل گجرات کے شیخ الحدیث تھے۔ ان کے ماموں مولانا شریف الحسن دیوبندی ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے۔ مولانا ندیم الواجدی 1393ھ مطابق 1974ء میں دارالعلوم دیوبند سے پہلی پوزیشن کے ساتھ دورہ ٴحدیث سے فارغ ہوئے۔ فراغت کے بعد اپنے اساتذہ کے حکم سے ایک سال کے لیے حیدرآباد،دکن۔ کے ایک مدرسہ عربیہ دارالعلوم رحمانیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1978ء میں مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند نے اجلاس صد سالہ کے شعبہٴ تصنیف و تالیف کے نگراں کے طور پرانہیں دارالعلوم مدعو کیا جس کی بنا پرانہوں نے دارالعلوم تشریف لاکر دوسال تک یہ ذمہ داری نبھائی۔ 1980ء میں انہوں نے اجلاس صد سالہ؛ دارالعلوم کے بعد دیوبند ہی میں دارالکتاب کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ 2021ء میں انہوں نے سرزمین دیوبند میں معہد عائشہ الصدیقہ للبنات کے نام سے پہلا رہائشی مدرسہ بنات قائم کیا۔ 14 / اکتوبر 2024ء شب کو شکاگو امریکہ میں انتقال فرماگئے اور 15/ اکتوبر 2024ء بروز منگل شکاگو امریکہ میں ہی تدفین عمل میں آئی۔
وفات سے چند ماہ قبل ہی وہ امریکہ تشریف لے گئے تھے اورالحمدللہ باصحت تھے، اچانک ہی دل کا عارضہ پیش آنے پر مختصر علالت کے بعد اس دارفانی کو رخصت کہہ کر مالک حقیقی سے جا ملے۔
ڈھونڈیں گے لوگ مجھ کوہرمحفل سخن میں
ہر دور کی غزل میں میرا نشاں ملے گا
آخری بات:
مولانا ندیم الواجدی اپنے پیچھے بہت ساری یادگاریں چھوڑکرگئے ہیں، ان کی موت علم و حکمت اورتحقیق وتنقید کا بہت بڑا خسارہ ہے۔ مولانا مرحوم کے نقش جمیل صاحبزادے مولانا یاسرندیم الواجدی مدظلہ جو بڑے ذی علم اور اسلاف کی پاکیزہ روایات کے محافظ ہیں کے سر سے والد ماجد کا سایہ اٹھ جانا موصوف اوران کے اہل خانہ کے لیے بڑا حادثہ اورصدمہ ہے، اس صدمہ کی گھڑی میں پہلے تو ہماری طرف سے تعزیت مسنونہ قبول فرمائیں، اس کے بعد امید کرتے ہیں کہ آں محترم اپنے والد عظیم کی حیات و خدمات کو کتابی صورت میں بھی منصہ شہود پرلائیں گے اوراخبارات و رسائل و جرائد کے مدیران خصوصی شمارے اور ضمیمے شائع فرمائیں گے، ارباب علم و دانش مولانا کی یاد میں سیمینار منعقد کریں گے۔ میرے خیال سے کسی کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے اس سے بہتر اقدام کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
دعا: اللہ تعالیٰ ان کی قبرپررحمت وغفران کی بارش نازل فرمائے اورجنت الفردوس کا مکین بنائے انبیا و صلحا کے جوار میں جگہ نصیب کرے ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی دینی خدمات قبول فرمائے اورپس ماندگان کو صبر و شکر کی توفیق عطا فرمائے اور قوم کو نعم البدل عطا کرے۔
