حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ؒ
جس طرح حواسِ ظاہرہ کےعلاوہ ایک طورعقل ہے، جس میں محسوسات سے بڑھ کرزائد امورکا ادراک ہوتا ہے، اسی طرح طورِعقل کے بعد ایک اور طور ہے، جس سےانسان میں ایک اورآنکھ کھل جاتی ہے۔ جس کےذریعہ سے عالمِ غیب اورزمانۂ مستقبل میں پیش آنے والےامورکومعلوم کرسکتا ہے۔ اورجن لوگوں نے مدرکاتِ نبوت کاانکارکیااورانہیں بعیدازعقل سمجھا، یہ ان کی نادانی ہے۔ جیسےکسی مادرزاد اندھےکاحاسۂ بصرکے مدرکات سےانکارکردینا، اور مختلف رنگتوں اورشکلوں کااقرارنہ کرنا، اس کی نادانی ہے۔اسی طرح آج کل کے مدعیانِ عقل (فلاسفہ اورسائنس دان) جس چیزکواپنی نابالغ عقل سے نہیں سمجھ سکے، اس کو محال ٹھہرا لیتے ہیں۔
حق تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کومقامِ نبوت کےدریافت کرنے کے لیے ایک نمونہ عطا فرمایا ہے، جس کا نام خواب ہے؛ کیوں کہ خواب میں کبھی ایسےغیبی اموردریافت ہوتے ہیں، جوآئندہ وقوع میں آنے والے ہوتے ہیں۔ خواب میں یاتواُن کوصراحۃً دکھلایا جاتا ہے یا صورتِ مثالی میں اُس کوبتادیاجاتا ہے، جن کی تعبیر اُس کی اصلیت کو ظاہر کرتی ہے۔
بالفرض اگرکوئی شخص ایسا ہوجس نے کبھی خواب نہ دیکھا ہو، اُس کے سامنے یہ بیان کیا جائے کہ بعضے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پرغشی کی سی حالت ہو جاتی ہے اوروہ مثلِ مردہ کے ہو جاتے ہیں اوراس وقت اُن کے سب حواس معطل ہو جاتے ہیں، تواس حالت میں اُن کوکچھ غیب کی باتیں معلوم ہوتی ہیں، تو یہ شخص سنتے ہی اس کا انکار کرے گا اوراس کے ناممکن ہونے پردلیل قائم کرے گا کہ جب اُس کے قوائےادراکیہ معطل ہوگئے تو اس کوعلم کیسے ہوا؟
مگریہ دلیل ایسی ہے کہ جس کومشاہدہ اورواقعات جھوٹا ثابت کریں گے۔ پس جیسا کہ عقل آدمی کے اطوارِادراک میں سے ایک طور یعنی قوت ہے، جس کے ذریعہ سے آدمی کے لیے ظاہری آنکھوں کے سواباطنی طورپرایک اور آنکھ کھل جاتی ہے، جس سے بہت سے ایسے معلومات کودریافت کرلیتا ہے، جن کےادراک سےحواسِ ظاہرمعطل اور نکمّے ہیں، اسی طرح نبوت بھی ایک طور ہے، سوائے اطوارِ مذکورہ کے، جس کے ذریعہ سے ایک تیسری آنکھ کھل جاتی ہے، جس کے نور سے غیب کی باتیں منکشف ہوتی ہیں اور ایسے امور ظاہرہوتے ہیں، جن کوعقل دریافت نہیں کرسکتی، اور اُن کے ادراک میں عقل نکمّی اور معزول ہے۔
جیسا کہ قوتِ سامعہ رنگتوں اورشکلوں کے دریافت کرنے سے معزول ہے، اورقوتِ باصرہ ادراکِ اصوات سے محروم ہے۔ ہر حاسہ اپنے دائرہ میں ادراک کرتا ہے، ایک حاسہ دوسرے حاسہ کے حدودِ ادراک میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ اور حواسِ ظاہرہ ادراکِ معقولات سے معزول اورمحروم ہیں۔ اسی طرح وحی اورالہام کو سمجھو۔
ثبوت رسالت:
جب نفسِ نبوت ورسالت میں شک نہ رہا اوراُس کے موجود اورواقع ہونے میں تردد نہ رہا، تواب صرف ایک بات باقی رہ گئی۔ وہ یہ کہ فلاں شخص معین کے لیے نبوت ورسالت ثابت ہے یا نہیں؟ اور اگرہےتوکس دلیل سے؟
سوجواب یہ ہے کہ جس ذات میں دلائلِ نبوت اوربراہینِ رسالت کا ثبوت موجود ہوگا، اُس کونبی ورسول ماناجائےگا۔ مثلاً جیسے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسٰی علیہم السلام وغیرہم۔
جو شخص علمِ طب اورعلمِ فقہ کومانتا ہواوراطبا اورفقہا کےاحوال سے واقف ہو، تواس پریہ امربخوبی واضح ہوسکتا ہےکہ امام شافعی فقیہ تھےاورجالینوس طبیب تھا۔
انسان جسم اورروح سے مرکب ہے اورہرایک کوصحت اورمرض لاحق ہوتا ہےاورہرایک کوصحت وسلامت درکار ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جسم اورروح دونوں کی بیماریوں کے لیے معالج پیدا کیے۔
اطبائے جسمانی: جسمانی بیماریوں کاعلاج کرتے ہیں اوراطبائے روحانی، روحانی اورباطنی بیماریوں کاعلاج کرتے ہیں، تاکہ لوگ ہلاکتِ ابدی اوراُخروی سے نجات پائیں۔
کما قال تعالیٰ: {اِلَّا مَنْ أَتی اللّٰہَ بِقَلبٍ سَلِیمٍ}۔(الشعراء:۸۹)
’’ یعنی جس کا دل بیماریوں سے پاک ہوگا، وہ نجات پائے گا۔‘‘
وقال تعالیٰ: {فِي قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ}۔(البقرۃ:۱۰)
’’یعنی اُن کے دلوں میں مرض اوربیماری ہے،اگراس کاعلاج نہ کیا توہلاک ہوجائیں گے۔‘‘
اور دل کی تمام بیماریوں کی جڑ ہوائے نفس کی متابعت ہے، جو سمِّ قاتل کا حکم رکھتی ہے۔ اوراللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نفس کی مخالفت اس سنکھیہ کا تریاق اور دوائے شافی ہے۔
اور جس طرح بدن کا معالجہ بدونِ ادویہ کے نہیں ہوتا اور بدن کو بغیراُن ادویہ کے استعمال کے مرض سے صحت حاصل نہیں ہوتی، اسی طرح دل کا معالجہ بدونِ خاص ادویہ کے نہیں ہوتا اور بغیر ان ادویہ کے استعمال کے دل کو مرض سے صحت حاصل نہیں ہوتی۔
اور جس طرح جسمانی علاج میں ادویۂ جسمانی صحتِ بدن میں اپنی ذاتی خاصیتوں کا اثر دکھاتی ہیں جس کوعقلا اپنے سرمایۂ عقل سے دریافت نہیں کرسکتے، بل کہ اُس جسمانی علاج میں اُن اطبا کی پیروی ضروری سمجھتے ہیں ،جنہوں نے طب جسمانی کا علم حضراتِ انبیا علیہم السلام سے سیکھا ہے۔
کیوں کہ جو شخص علمِ طب اورعلمِ نجوم کو پڑھتا ہے وہ بالضرور یہ جان لیتا ہے کہ ابتداء ًان علوم کا ظہور بدونِ وحیِ ربانی اورالہامِ یزدانی ناممکن ہے۔
اور اگر کوئی یہ کہے کہ یہ سب علوم تجربہ سے حاصل ہوئے ہیں تو یہ غلط ہے۔ بے شمار ادویہ کےعجیب وغریب خواص صَدہا سال کے تجربہ سے بھی معلوم نہیں ہو سکتے۔
اورعلی ہذا علمِ نجوم کے بعض احکام ایسے ہیں، جن کا وقوع ہزاربرس میں ایک دفعہ ہوتا ہے۔ اور تجربہ کئی دفعہ آزمانے کا نام ہے، تو بتلایے کہ اس صورت میں کس حکیم کی عمر ایسے مسائل کے تجربہ کے لیے مکتفی ہو سکتی ہے؟
ایسے امور کے دریافت کرنے کے لیے طورِعقل کے سواایک اورطورچاہیے، اوراسی طورکو ہم طورِ نبوت اورطورِوحی والہام کہتے ہیں۔
اسی بنا پرعارفِ روحی فرماتے ہیں:
این نجوم وطب، وحیِ انبیاست
عقل وحس راسوئے بے سورہ کجاست
خلاصۂ کلام یہ کہ جس طرح جسمانی علاج میں اطبائے جسمانی کی پیروی ضروری ہے، اسی طرح روحانی علاج میں اطبائے روحانی یعنی انبیائے کرام علیہم السلام کی پیروی ضروری ہے۔
اور انبیائے کرام نے ادویۃ القلوب (روحانی دواؤں) کی جوعباداتِ مخصوصہ ہیں اُن کی جو حد اور مقدارمقررکی ہے، وہ صحتِ قلب میں اپنی ذاتی خاصیت سے ایسا اثررکھتی ہیں کہ عقل اُس کے ادراک سے قاصر ودرماندہ ہے۔ اس میں ان ہی اطبائے روحانی یعنی انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی پیروی ضروری ہے،جنہوں نے دل اورروح کے مریضوں کے لئے مختلف الانواع اور مختلف المقدارمرکبات تجویزفرمائے ہیں،ان کے خواص اورآثاران ہی کو بذریعہ وحی اور الہام کے معلوم ہیں۔
مثلاً نمازایک نسخۂ دوا ہے، جومختلف نوع اورمختلف مقادیر کےافعال سے مرکب ہے۔ جیسے سجدہ رکوع سےدگنا رکھا گیا ہےاورصبح کی نمازعصر کی نماز سے نصف ہے۔
ان امورکارازسوائے نورِنبوت کے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اورجس شخص نے یہ خیال کیا کہ اعدادِ رکعات اورارکانِ صلوٰۃ اوراوقاتِ نمازاوردیگرعبادات کی کمی بیشی محض اتفاقی ہےاوراس میں کوئی سِرالٰہی، جو بالخاصیت اس کا مقتضی ہو، تو ایسے شخص نے اس خیال سے اپنی جہالت ظاہرکردی ہے۔
جیسے ادویات کے اجزا دو قسم کے ہوتے ہیں:
ایک اصول، جن کوارکان کہتے ہیں یعنی اصل اجزا۔
دوسرے زوائد، جوان کے متمِّم اور مکمّل ہوتے ہیں۔
اور ہرایک کی خاصیت اورتاثیرالگ ہوتی ہے اور ہردوا کے استعمال کے اوقات خاص ہوتے ہیں۔
اسی طرح عباداتِ شرعیہ میں کچھ اصول اورارکان ہوتے ہیں اور کچھ سنن اور نوافل ہوتے ہیں جوارکانِ عبادات کے مکمل اور متمم ہوتے ہیں، جن سے اصل ارکان کی تکمیل اورتتمیم ہوتی ہے۔ اورہرایک کے لیے ایک خاص وقت ہوتا ہے جس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انبیا علیہم الصلاۃ والسلام امراضِ دل کے طبیب ہیں۔ جو شخص اپنے دل کی بیماری سے شفا یاب ہونا چاہتا ہے، اس پر فرض ہے کہ وہ طبِ روحانی(یعنی شریعت) کے تجویز کردہ نسخوں کواستعمال کرے اور انبیاء اللہ کے بعد اولیاء اللہ کے اقوال کوسنے، جنہوں نے یہ نسخے استعمال کیے اورشفایاب ہوئے۔
اور جس طرح کسی مریض کا طبیب سے یہ سوال کرنا کہ گلِ بنفشہ کو زکام سے کیا مناسبت، اورکُنین کو بخار سے کیا نسبت، اوراس دوا کے استعمال سے کس طرح شفا ہوگی، میری عقل نہیں مانتی اورنہ میں نے اس کا تجربہ کیا ہے، اس لیے میں ایسی صورت میں اس دوا کو استعمال نہیں کر سکتا۔ تو کیا عقلا اس شخص کو احمق نہ سمجھیں گے؟
اسی طرح مدعیانِ عقل (فلاسفہ اور سائنس دان) جو حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کی تجویزکردہ نسخوں پرنکتہ چینی کرتے ہیں، ان کواربابِ بصیرت احمق سمجھیں گے۔
اورجس طرح قانونِ شیخ دیکھ کراورپڑھ کرآدمی کوبوعلی سینا کے طبیبِ حاذق ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہتا، اسی طرح جو شخص قانونِ شریعت کو پڑھے گا اُس کوضروربالضروراس بات کا یقینِ کامل حاصل ہوجائےگا کہ سرورِ عالم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ وریب سرخیلِ اطبائے روحانی تھے۔ اورآپ کووہ طَوْرجوطورِعقل سے کہیں بالا اوربرترہے بدرجۂ اکمل واتم حاصل تھا۔ نہ آپ سے پہلے ایسا کسی کو حاصل ہوا اورنہ آئندہ کسی کو حاصل ہوگا۔ اورمن جانبِ اللہ آپ کووہ دیدۂ دل منوّراورچشمِ بصیرت عطا ہوئی تھی، جس سے آپ وہ امورِغیب اورخواصِ عبادات دریافت کرتے تھے جن کوعقل نہیں دریافت کر سکتی۔ اور یہی طریقِ مستقیم ہے، جس کا علم حاصل کرنا ضروری ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیِ حق اور سچے رسول تھے؛لہٰذاجو شخص اپنے دل کی بیماری کاعلاج چاہتا ہے وہ آپ کی طبِ روحانی(یعنی شریعتِ محمدیہ) کے نسخوں کو استعمال کرے۔
دل کی بیماریوں کو دور کرنے والے رسائل:
اب اس زمانہ میں اگر کوئی اپنے دل کی بیماریوں کاعلاج چاہتا ہے تو حضراتِ اولیا وعارفین یعنی صوفیۂ کرام کی کتابوں کا مطالعہ کرے، جیسے رسالۂ قشیریہ، قوت القلوب اوراحیاء العلوم یا ان کے ترجموں کو دیکھے۔ چند ورق پڑھنے کے بعد اس کو بالبداہت یہ امرمعلوم ہوجائے گا کہ صوفیۂ کرام کا گروہ عاشقانِ خدا کا ایک گروہ ہے، جو اللہ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا اورغرق ہیں۔ اور یہی گروہ زمین کی میخیں ہیں، اوران ہی کی برکت سے زمین والوں پراللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے، اورانہی کی برکت سےآسمان سے بارشیں نازل ہوتی ہیں، اورانہی کی برکت سےدنیا کورزق ملتا ہے۔ اوریہی گروہ اصحابِ کہف کا نمونہ ہے، جن کے زہد اورتقویٰ کا قصہ حق تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ذکرکیا ہے، اوریہ گروہ اہلِ صفہ کے نقشِ قدم پرہے، جن کاذکرحدیث میں ہے۔
حق جل شانہٗ نے قرآنِ کریم میں انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ اولیائے کرام اورعباد صالحین (جیسے لقمان حکیم اورذوالقرنین) کے واقعات کواسی لیے ذکر فرمائے کہ رہروانِ آخرت ان بزرگوں کے طریقہ کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں۔ صراطِ مستقیم یہی ہے کہ انبیا کے بعد اہلِ انعام یعنی صدیقین، شہدا اورصالحین کی پیروی کی جائے۔{قُلْ ھٰذِہِ سَبِیلِي اَدْعُوْا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ}۔(یوسف:۱۰۸)
آپ کہہ دیجیے!:’’یہ میراراستہ ہے، میں تم کواللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت اوربینائی پرہوں میں اورجس نے میری پیروی کی۔‘‘
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ رہروانِ آخرت کوان لوگوں کے پیرورہنا چاہیے جواہلِ بصیرت ہوں، یعنی جن کے دل کی آنکھیں روشن ہوں۔ اورجس کےدل کی آنکھ روشن ہووہی ولی اورصوفی ہے۔
(ماخوذ از:اثبات صانع عالم اورابطال مادیت وماہیت :صفحہ۶۰تا۶۶)
