محمد مجاہد اشاعتی ؔپھلمبریؔ
(استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً امابعد!
{ ذَلِکَ بِاَنَّ اللَّہَ ہُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ ہُوَ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللَّہَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ}[الحج: 62.]
{یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
معززقارئین!
آج کے اس پرفتن دورمیں ہمیں سب سے زیادہ ایمان وعقائدپر محنت کرنے کی ضرورت ہے،لہذاہم میں سے ہرشخص اپنےاوراپنےاہل وعیال کےعقائدکے تحفظ کی فکرکریں!خصوصاًمکاتب ومدارس اورمساجد کے ائمہ مکاتب ومدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں اور بچیوں کی فکرکریں کہ کس طرح ان کے ذہن ودماغ میں عقائدِ اسلام راسخ اور پختہ ہوجائے۔اسی ذیل میں چند باتیں پیشِ خدمت ہے:
شریعت کے اجزاء:
شریعت کے بنیادی اجزاء پانچ ہیں:۱:اعتقادات۲: عبادات۳: اخلاقیات۴:معاشرات ۵:معاملات
ان میں سب سے اہم ترین اعتقادات یعنی عقائد ہیں۔
عقیدہ کی تعریف:عقائد ’’عقیدہ‘‘ کی جمع ہے۔ ایسا نظریہ جس کی بنیاد پراللہ تعالیٰ کی رضا اورناراضگی، جنت اورجہنم کافیصلہ ہواسے’’عقیدہ‘‘کہتےہیں۔صحیح عقائد کو’’اسلامی عقائد‘‘ کہتے ہیں۔
عقیدے کی بنیاد:
عقیدے کی بنیاد توحیدباری تعالیٰ ہےاوراسی دعوت توحید کے لیےاللہ تعالیٰ نے ہردورمیں انبیاء کومبعوث کیاحتی کہ ختم المرسلین محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیےجہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اورتکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نے بھی دن رات اپنی تحریروں اورتقریروں میں اس کی اہمیت کوخوب واضح کیا۔
عقیدہ،اہمیت اور اس کی موجودہ صورتِ حال:
عقیدہ، شریعت اسلامیہ کے فلک بوس محل کی عمیق ترین بنیاد ہے۔ شریعت جتنی عظیم ہےعقیدہ اتنا ہی محکم ہے، بنیاد کی مضبوطی کےبغیرعمارت کااستحکام بےمعنی ہے، عقیدہ دین کی اولین اساس ہے، اسلام نےعقیدہ کی پختگی، اس کی تصحیح وتعمیراوراستقامت وسلامتی پرسب سے زیادہ زوردیا ہے۔ قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ عقائد ہی کی بابت ہے۔ مکہ مکرمہ کی نبوی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک ایمان وعقیدہ ہی کی تصحیح وتعلیم دیتے رہے۔اللہ تعالی پرایمان، اس کے دلائل، توحید باری تعالی، اس کی مختلف اقسام، شرک اوراسکی مختلف شکلوں کا بیان، وسیلہ، شفاعت، فرشتوں اورقیامت پرایمان،جنت دوزخ پریقین، تقدیرالہی، قضاء وقدرکی حقیقت کا اعتراف، عالم برزخ،قبرمیں سوال وجواب، منکرنکیر، آنکھوں سے نظر نہ آنیوالی عالم آخرت کی تمام تفصیلات، حشرونشر، قیامت، صور،پل صراط، میزان عدل وغیرہ جیسے حقائق ایمانی ہیں جن پرکامل وبےریب یقین کا ہونا مومن کی ایمانی زندگی کا جزو لاینفک ہے۔
معززقارئین:آج الحاد و بے دینی کا طوفان پوری دنیا میں برپا ہےلادینی تعلیمی نظام نے برسہا برس کی جد وجہد کے بعد خود مسلمانوں میں ایسی نسل تیارکردی ہے، جوایمانیات وعقائد کےان مسلمہ اصولوں کا کھلےعام انکارکرتی ہیں، تشکیک وانکارِالوہیت کا فتنہ عام ہوچکا ہے۔ انسانی زندگی عقیدے کی جس سیدھی اورمحکم راہ پرچل رہی تھی اس سے اترکرانار کی، آوارگی اورحیوانی زندگی کی بے قیدوآزاد شاہراہ پربگ ٹٹ بھاگ رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان جدید علوم وفنون سے مسلح اورمزین ہونے کے باوجود حیوان سے بدترہوتا جا رہا ہے۔
لہذا ضرورت ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے ہرشعبہ کے ذمہ دارعلماء کو میدان میں اترنا ہوگا، خاص طور پر بچپن سے ہی مکاتب کےعلماء کوطلبہ پرمحنت کرنا ہوگی کہ ان کےعقائد کا تحفظ ہوجائے۔
خاص طورپرمسلمانوں میں توحید اوراس کے مظاہرپرکلی اعتقاد نہ ہونے کی بنا پراسلام کے نام پروثنیت اورکھلی بت پرستی پائی جارہی ہے، نمازاورروزہ، حج وزیارت، قربانی ونذر، فریاد ونداء، دعاء واستغاثہ ان تمام امورمیں اللہ کی ذات سے منہ موڑ کرکھلم کھلا زندہ ومردہ مخلوق کواپنی عقیدت وبندگی کامرکزبنالیا گیا ہے، اس طرح توحید خالص سےمبراایک نئے شرکیہ اسلام کا مصنوعی ڈھانچہ تیارکرلیا گیا ہےاورملت اسلامیہ قدیم جاہلیت کی تمام شرکیہ رسموں کو اسلام کا نام دے کرزندہ کرچکی ہے۔
نئی نسل کے ایمان و عقیدے کی فکرکی اہمیت:
آج ہم مسلمانوں کوسب سےزیادہ اس کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کے متعلق یہ اطمینان کرلیں کہ یہ صراط مستقیم پررہے گی، اوراس دین پررہےگی جس دین کا نام اسلام ہے۔ ان الدین عند اللہ الاسلام، اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، اس کے متعلق آپ اطمینان کرلیں اورپھراس کے ذرائع بھی سوچیں، اوران خطرات کوبھی دورکریں۔
مدارس و مکاتب کے قیام کامقصد:
مدارس ومکاتب کا قیام درحقیقت اس دینی، ایمانی، اعتقادی، اخلاقی، تہذیبی اورمعاشرتی تسلسل کے قائم رکھنے کے لیے ہے اگر مدارس کے سامنے یہ مقصد نہیں ہے توانہوں نےاپنی افادیت واہمیت سمجھی ہی نہیں، اپنا کام ہی نہیں سمجھا۔ یہ مدارس اس لیے ہیں کہ جواس میں پڑھیں وہ اعتقادی طورپرتوحید خالص پرہوں، کسی کے سامنے سرجھکانا نہیں، میں بالکل صاف کہتا ہوں کہ نہ کسی مزارکےسامنےسرجھکانا اورنہ چادرچڑھانا، نہ کسی کوعالم الغیب سمجھنا نہ کسی کومتصرف فی الکائنات سمجھنا، فلاں بیٹے دیتے ہیں، اگر بیٹے کی ضرورت ہے توفلاں سےمانگئے، روزی فلاں سے مانگئے، اگربیمارکوشفاء چاہتے ہیں توفلاں مزاراورفلاں بزرگ سےمانگئے۔ قطعا نہیں ان الدین عند اللہ الاسلام، الاله الخلق والامر۔
مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی الندوی رحمہ اللہ نےایک جلسہ میں حضراتِ علماء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا!میرے محترم بھائیو، ام کنتم شہداء اذا حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیه ما تعبدون من بعدی قالوا تعبد الہک واله ابانک ابراہیم واسمعیل اسحق الہا واحدا.جوآیت میں نےآپ کے سامنے پڑھی ہےاگرآپ یہی یہاں سے لے کرجائیں بغیرکسی ناقدری اورکسی تحقیرکےاوراہمیت کم کئے بغیرکہہ رہا ہوں کہ اگر یہی پیغام لےکرآپ یہاں سے جائیں، اس کواپنےدل پرلکھ لیں توعمربھرکے لیے صرف آپ ہی کے لیے نہیں بلکہ آپ کی آئندہ نسلوں کے لیےاورآئندہ آنے والےعہد کے لیے بھی اورآپ کے ماحول کے لیے بھی اورماحول کوجن چیزوں کی ضرورت ہےاورجوخطرات درپیش ہیں ان کو سامنےرکھتے ہوئے یہ کافی ہوگی۔
تربیت کابہترین میدان اورعظیم مرحلہ بچپن اورصغرسنی کا مرحلہ ہے:
تربیت کا بہترین میدان اورعظیم مرحلہ بچپن اورصغرسنی کامرحلہ ہے ،کیوں کہ اس زمانے میں بچے کے اندر قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ زمانہ بھی کافی طویل ہوتا ہے، اس طویل زمانے میں والدین اوراساتذہ کے لیے بہترین موقعہ ہوتا ہے کہ وہ بچہ کے ذہن ودماغ میں عقائدکی تعلیم، اخلاق وکردار، اعلیٰ روایات اورعلم کے بیج بودیں، جوجوانی میں جاکرتناوردرخت بن جائے، اوربادمخالف سے بھی اس میں جنبش نہ آئے۔
مکاتب کی اہمیت وافادیت:
مکتب بچوں کی بنیادی تعلیم کامرکز ہے، جہاں مسلم بچوں اوربچیوں کواسلامی عقائد، اسلامی احکام واقدار کی تعلیم کےساتھ قرآن مجید کوصحیح پڑھنے کی تربیت دی جاتی ہے، اس اعتبار سے مکتب مسلمانوں کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے، اسی لیے ہرزمانے میں اور ہرعلاقے میں مکاتب کارواج مسلم سماج کالازمی حصہ رہا ہے، اورآج بھی ہے۔مکتبی نظام مدنی معاشرے کا حصہ ہے، بچوں کی بنیادی اوراساسی تعلیم کامرکز ہے، نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے، موجودہ زمانے کاموثرہتھیار ہے، مکتبی تعلیم ایمان کا بیج بونے کا کام کرتی ہے، نظام مکتب اسلامی تعلیمات اوردینی احکامات سے واقف کرواتا ہے، بقول حسن بصری رحمہ اللہ : بچپن کی تعلیم پتھر کی لکیر کی حیثیت رکھتی ہے، التعلم فی الصغر کالنقش فی الحجر،مکتب کا قیام ضروری ہے،اس کے بغیرکوئی چارہ کار نہیں۔ ہندوستان پرانگریزوں کے قابض و تسلط ہونے کے بعد قائم کردہ الہامی وتجدیدی نظام ہے، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ہمیں اپنےکسی عمل پراعتماد وبھروسہ نہیں سوائے مکاتب کے- اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ اس کو ہماری نجات کا ذریعہ بنائے گا۔
عصری تعلیم کےساتھ ساتھ اگردینی تعلیم بچوں کودی جائے توان کا رشتہ اسلام سے جڑا رہےگا، فتنوں اورارتداد والے ماحول میں بھی اپنا اسلامی تشخص باقی رکھیں گے۔لیکن مرورزمانہ کے ساتھ مسلمانوں میں مذہبی شعور کم ہوتا جارہا ہےاورعقیدہ وعمل کی فکروں میں کو تاہی بڑھتی جارہی ہے۔(خطباتِ مکاتب:12)
معاشرہ کی اصلاح میں مکتب کے معلم کا دخل:
معاشرہ کی اصلاح میں معلم کا دخل کتنا ہے؟معاشرتی اصلاح فرد کی اصلاح پرمنحصر ہےاورفرد کی اصلاح کے لیے والدین کےعلاوہ سب سے زیادہ دخل مدرس ومعلم کا ہوتا ہے، بلکہ بعض مرتبہ معلم کا کرداروالدین سے بھی بڑھ جاتا ہے، رسول االلہ صلی علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ساری امت کے لیے معلم بھی تھے اورمربی بھی انما بعثت معلما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معلم ہی نہیں: معلم گرااورانسان ساز تھے ۳۳ سال کے قلیل عرصےمیں صحابہ کرام کی صورت میں ایک عظیم گلدستہ تیارہوگیا، جنہوں نے ایمان واسلام کو صرف قبول نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ کی کےرنگ میں رنگتے چلے گئے۔
مکاتب کے لیے دردمندی کے ساتھ عزم و نظم کی ضرورت ہے:
مکاتب کے لیے دردمندی کے ساتھ عزم ونظم کی ضرورت ہے حضرت مولاناعلی میاں ندوی رحمہ اللہ فرمایاکرتے تھے: خدا کے فضل سےابھی بیسیوں مقامات پرایسے صاحب عزم وصاحب درد مسلمان موجود ہیں جواگراس مہم کو لے کرکھڑے ہوجائیں اوراس کواپنی زندگی کا مقصد بنالیں اوراس کواعلی درجے کی عبادت اوردینی خدمت تصورکریں، جس میں کسی صاحب فہم مسلمان کے نزدیک کسی شے کی گنجائش نہیں تویہ مسلہ جواس وقت لا ینحل معلوم ہوتا ہے بہت آسانی کے ساتھ حل ہوجائے گا لیکن شرط اول عزم اور شرط ثانی نظم ہے، اوران دونوں کی موجودگی ہرشکل کوآسان اورہرناممکن کوممکن بناسکتی ہے۔
مکاتب کے سات مقاصد:
(۱) صحت عقائد(۲) صحت قرآن(۳) ضروری مسائل ۴) سیرت پاک (۵) اخلاق(۶) محفوظات متفرقات(۷) دینی ذہن سازی ۔
ان میں صحت عقائد (توحید، رسالت وآخرت، اوربنیادی عقائد سے واقفیت) یہ بہت بنیادی مقصد ہے، ہر بچہ مکتب کے بعد مدرسہ نہیں آتا ہے، اسکول و کالج کی زندگی فتنوں سے بھری ہے مکتب میں ایسی محنت ہو کہ اگر وہ شہوات کے فتنے میں مبتلا ہو بھی جائے (نعوذ باللہ) مگر شبہات کے فتنوں میں مبتلا نہ ہوکوئی گمراہ نہ کرسکے، عقائدمحفوظ رہیں۔
بچوں کو عقائد کی تعلیم دینا انبیاء کا منہج اورطریقہ ہے:
اوریہ بات ذہن نشین رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ بچے کی تربیت دودھ چھڑانے کے زمانے ہی سے شروع ہو جاتی ہے، دودھ چھڑانے کے فوراً بعد بچے کی تادیب اوراخلاق کی درستگی کی طرف سنجیدہ توجہ دینی چاہیے، تاکہ ابتداء ہی میں اس کے ذہن میں کردارواخلاق کی بہتری کے بیچ راسخ ہوجائیں۔بچوں کوعقائد کی اہمیت دلانا اورانہیں عقائد کی تعلیم دینا یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کا طریقہ اورمنہج ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہماالسلام کے متعلق فرماتے ہیں:
{ووَصَّی بِہَا إبْرَاہِیمُ بَنِیهِ ویَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلا تَمُوتُنَّ إلاَّ واَنتُم مُّسْلِمُونَ} (البقرۃ: ۱۳۲)
ترجمہ:اوراسی بات کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کووصیت کی، اوریعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ: اے میرے بیٹو! اللہ نے یہ دین تمہارے لیے منتخب فرما لیا ہے، لہذا تمہیں موت بھی آئے تواس حالت میں آئے کہ تم مسلم ہو۔
مطلب یہ ہے کہ دیکھو !ہوشیاررہو !اسلام اورتفویض کوکسی وقت ہاتھ سے نہ جانے دینا !مبادا کسی وقت اسلام کو چھوڑ بیٹھواوراس وقت تم کوموت آجائے توایسی موت میں کچھ خیرنہیں۔ تفسیرِ مظہری۔
حضرت مولانا عاشق الہی صاحب نوراللہ مرقدہ آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں:حضرت ابراہیم اوریعقوب (علیہ السلام) کی وصیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو جہاں اپنے دین کے لیے فکر مند ہونا ضروری ہے۔ وہاں یہ بھی لازم ہے کہ اپنی اولاد اورآنےوالی نسلوں کے لیے اس بات کا فکرمند ہوکہ وہ توحید پرقائم رہیں اوردین اسلام پرجئیں اورہمیشہ اللہ کے فرمانبرداررہیں۔ برخلاف اس کے اپنی اولاد کوایسے ممالک میں بھیجنا یا لےجانا جہاں وہ دین خداوندی پرباقی نہ رہ سکیں یا ایسی درسگاہوں میں ان کوعلم پڑھانا جہاں وہ اپنے دین کوکھو بیٹھیں یہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اپنے نمازروزے کا خیال کرتے ہیں اوراولاد کو کفراورفسق وفجورکے ماحول میں دھکیل دیتے ہیں اوروہ اس ماحول کو ان کے لیےترقی سمجھتے ہیں وہ بڑے ظالم ہیں۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئےارشاد فرمایا:قولہ تعالی:
{ یَا بُنَیَّ لا تُشْرِکْ بِاللَّہِ إنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ}(لقمان:۱۳)
ترجمہ:میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقین جانوشرک بڑا بھاری ظلم ہے۔
حضرت لقمان نےاپنے بیٹے کوجونصیحتیں فرمائیں، انہیں بہت غورسے پڑھیں کہ انہوں نے اولاد کوزندگی کے کن کاموں کے متعلق نصیحت فرمائی اوراُس کی روشنی میں ہمیں اپنی اولاد کی تربیت کیسے کرنی چاہئے۔ اوپر کے خلاصے سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی تربیت کے معاملے میں والدین کو بطورِخاص درج ذیل چاراُمورکا لحاظ ضرورکرنا چاہیے۔
(۱) اولاد کےعقائد کی تعلیم، اصلاح، پختگی اوراِستقامت پرتوجہ دینی چاہئے۔
(۲) اُن کے ظاہری اعمال وعبادات جیسے نمازوغیرہ کی طرف توجہ دیں، یعنی اُنہیں نمازسکھائیں اوراُسے پڑھنےکاعادی بنائیں، یونہی ظاہری باطنی آداب کے ساتھ نمازپڑھنے کی تعلیم وتربیت دیں۔
(۳) اولاد کے باطن کی اصلاح اوردُرُستی کی جانب توجہ کرنی چاہئے کہ جب یہ یقین دل میں بٹھا دیں گے کہ اللہ سمیع وبصیر، علیم وخبیر ہے، وہ بندے کا ہرعمل ہروقت دیکھ رہا ہے، کوئی عمل اُس سے پوشیدہ نہیں اور ہر چھوٹے بڑے عمل کا قیامت میں حساب دینا ہے، تو باطنی اِصلاح بہت آسان ہوجاتی ہے۔
(۴) اولاد کی اَخلاقی تربیت کریں، آدابِ زندگی، مُعاشرتی اخلاقیات اوراسلامی کردار سکھائیں۔یہ چاروں چیزیں دنیا اورآخرت، دونوں کے لیے نہایت اہم ہیں، پہلے نمبر پرعقیدہ ہے: عقائد کی دُرُستی، ایمان کی پختگی اور خدا پر توکُّل واعتماد، دنیا میں بَلا ومصیبت کوبرداشت کرنے اوران سے نجات پانےکا ذریعہ ہے، جبکہ عقائد کابگاڑ، آفتوں، مصیبتوں اوربلاوں کے نازل ہونے، دلی بے قراری اورقلبی بے چینی کا ذریعہ ہے۔ یونہی عقائد کی درستی آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت، خوشنودی اورجنّت میں داخلے کا قوی سبب ہے، لیکن عقائد کی خرابی اورگمراہی کی حالت میں موت جہنم میں جانے کا مستحق بنا دیتی ہے اورجوکفرکی حالت میں مرگیا، وہ توضرورہمیشہ کے لیےجہنم کی سزاپائے گا۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:” عَنْ اَبِی عَبَّاسٍ عَبْدِ اللہِ بنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما قَالَ: کُنْتُ خَلْفَ النبی صلی اللہ علیہ وسلم یَومَاً فَقَالَ: (یَا غُلاَمُ إِنّی اُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللہَ یَحفَظک، احْفَظِ اللہَ تَجِدہُ تُجَاہَکَ، إِذَاَ سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللہَ، وَإِذَاَ اسْتَعَنتَ فَاسْتَعِن بِاللہِ، وَاعْلَم اَنَّ الاُمّة لو اجْتَمَعَت عَلَی ان یَنفَعُوکَ بِشیئٍ لَمْ یَنْفَعُوکَ إِلا بِشیئٍ قَد کَتَبَهُ اللہُ لَک، وإِن اِجْتَمَعوا عَلَی اَنْ یَضُرُّوکَ بِشیئٍ لَمْ یَضروک إلا بشیئٍ قَد کَتَبَهُ اللہُ عَلَیْکَ، رُفعَت الاَقْلامُ، وَجَفّتِ الصُّحُفُ) رواہ الترمذی
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:میں ایک روزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا،آپ نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! میں تجھے چندباتوں کی تعلیم دیتاہوں:تواللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا، تواللہ تعالیٰ کی حفاظت کر،ہمیشہ اسے اپنے سامنے پائیگا،جب بھی کچھ مانگنا ہو،اللہ تعالیٰ سے مانگ، اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو،اللہ تعالیٰ سے طلب کر،اچھی طرح جان لے اگرساری امت جمع ہوکر تجھے کوئی فائدہ پہنچاناچاہے تواللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے سواکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی اوراگرساری امت اکٹھی ہوکر تیراکوئی نقصان کرناچاہے تواللہ تعالیٰ کے نوشتہ تقدیر کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی، قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔
حدیث کا خلاصہ اورلب لباب:
یہ حدیث کئی جملوں پر مشتمل ہے،ہرجملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم میں سے ہے اوربہت سے اعتقادی وتربوی امورکامجموعہ ہے۔حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے کس قدر شفقت وملاطفت سے بھرپورسلوک فرماتے، ایک بچے کے ساتھ آپ ا کاچلنااوراسے پندونصائح سے نوازنا اس کا بین ثبوت ہے۔ یہ حدیث نصیحت کےایک خیرخواہانہ اورناصحانہ اسلوب کا بھی شاہکارہے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً نصیحت شروع کرنے کی بجائے پہلے (یاغلام انی اعلمک کلمات)کہہ کران کی توجہ اپنی جانب مبذول فرمائی،پھرنصیحت شروع کی۔اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچوں کوامورِعقیدہ کی تعلیم دینی چاہئے، بلکہ عقیدہ کی جواہمیت کتاب وسنت سےاجاگرہوتی ہےاس کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیمِ دین میں اسی سے آغاز کیاجائے، یہ بات بھی معلوم ہے کہ بچپن کی بتائی گئی باتیں، نقش کی طرح بیٹھ جاتی ہیں اور ہمیشہ یاد رہتی ہیں،لہذاصغرسنی ہی سےعقیدہ کی تعلیم انتہائی نافع ثابت ہوگی۔
صغرسنی ہی سے عقیدہ کی تعلیم:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے ایمان اورعقیدہ کے معاملے میں اس کی پیدائش کے وقت سے ہی فکرمند رہتے تھے، جیسا کہ ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
عن ابی رافع قال:(رایت رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم اذن فی اذن الحسن بن علی حین ولدته فاطمة) (رواہ ابو داود والترمذی)
ترجمہ:ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حسن بن علی جب فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہم سے پیدا ہوئے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کے کان میں نماز کی اذان کی طرح اذان دی۔
بچہ کے کان میں اذان دینے کی حکمت:
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا ارشادجب کسی بچے کے کان میں اذان دی جاتی ہے تو سب سے پہلے اس کے کانوں تک اللہ تعالیٰ کی عظمت، کبریائی اوربڑائی کے الفاظ پہنچتے ہیں۔ یہ اس کی پہلی گواہی ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ یہ اس کے لیے اس دنیا میں داخل ہوتے وقت ایک تلقین کی مانند ہے،جیسے موت کے وقت اسے کلمہ توحید کی تلقین کی جاتی ہے۔
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اذان کا اثر بچے کے دل تک پہنچتا ہے اوروہ اس سے متاثرہوتا ہے، خواہ وہ اسے محسوس نہ کرے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ اذان کےالفاظ، خاص طورپربچےکےنازک دماغ پرگہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
تسلسل ایک قانون قدرت ہے:
دیکھئے تسلسل ایک قانون قدرت ہے اوربڑی حد تک ضروری ہے، جو صالح اقدار ہیں، مقاصد ہیں، عقائد ہیں، زندگی کا طرز ہے، مسلک زندگی ہے ان کا تسلسل جاری رہنا چاہیئےاوراس دنیا میں جوکچھ چیزیں ہوئیں جن کی آپ تاریخ پڑھتے ہیں، سلطنتوں کی تاریخ میں بھی، قوموں کی تاریخ میں بھی، تہذیبوں کی تاریخ میں بھی اورجنگ آزادی کی تاریخ میں بھی، وہ ساری جدو جہد تسلسل ہی کو قائم رکھنے کے لیےکی گئی ہے۔ کوئی قومی تسلسل چاہتا ہے کوئی نسلی تسلسل چاہتا ہے کہ ہماری نسل حکمران رہےاورہماراخاندان حکمران رہے، کوئی اپنا خاندانی تسلسل چاہتا ہے کہ خاندان چلتا رہے اورپشتوں کےبعد پشتیں پیدا ہوتی رہیں، کوئی اخلاقی تسلسل چاہتا ہے کہ جوروایات ہیں اورزندگی کا معیارہیں جن کوہم نے پسند کیا ہے وہ اقدارباقی رہیں اورایک پشت سے دوسری پشت میں منتقل ہوتی رہیں، کوئی اقتصادی تسلسل چاہتا ہے کہ جس طرح خوشحالی، فراغت اورعزت کی زندگی ہم گزاررہے ہیں وہ ہمارے بعد ہماری آئندہ نسلوں میں باقی رہے۔ اس طرح آپ ذراعمیق نظردوڑائیں گےتودیکھیں گےاورآپ کومعلوم ہوگا کہ اس دنیا میں جو جد وجہد ہوئی ہےاوراب ہورہی ہےاس میں زیادہ تر تسلسل کو باقی رکھنے کا جذ بہ کام کررہا ہے، جو چیزجس کوعزیزاورمحبوب ہے اورجس کی قدروقیمت سے جوواقف ہے وہ اس کے تسلسل کے لیے کوشش کرتا ہے بعض مرتبہ اس کے لیے وہ اپنی جان کواپنے خاندان کواوراپنی نسل اوربعض اوقات اپنی پوری قومی زندگی خطرے میں ڈالتا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ جو ضروری تسلسل ہے وہ ایمانی اوراعتقادی تسلسل ہے جوقرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نےانبیاء کرام علیہ السلام کےواقعات سنائے ہیں، ان کی وصیتیں سنائی ہیں،اعتقادی تسلسل کے لیے حضرت ابراہیم کی دعا: وہ فرماتے ہیں واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ ائے ہمارے پروردگار!ہم کویعنی اسماعیل وابراہیم کو مسلمان رکھ، اپنا فرماں بردار رکھ۔
عقیدے کی تعمیر و تربیت کے چند اہم اصول:
عقیدہ اسلامی دوسرےعقائد سے ممتاز ہے۔ اللہ پراللہ کے فرشتوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن اورقضاء وقدرپرایمان لانامذکورہ تمام چیزیں غیب کی چیزیں ہیں۔اس مرحلے میں انسان پریشان ہوتا ہےکہ ان باتوں کو بچے کے ذہن میں کس طرح اتارا جائے اور بچہ ان پر کس طرح عمل پیرا ہو۔ بیان کا اندازکس طرح ہو کہ بچے کی ذہنی صلاحیت اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ مگر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ایسے مواقع میں تعلیمات نبوی ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیدے کی پختگی بچے کے ذہن میں راسخ کرنے کے پانچ ارکان ہیں۔
(۱)بچے کو کلمہ توحید ”لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ” کی تلقین کرنا۔
(۲)اللہ تعالی کی محبت اوراللہ ہی سے مدد طلب کرنے اور قضاء قدر پرایمان کی تلقین کرنا۔
(۳)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاہل بیت اطہاراورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کی ترغیب دینا۔
(۴)قرآن کریم کی تعلیم دینا۔
(۵)عقیدے پرثابت قدمی اورعقیدے کی خاطرجان قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا۔
بچوں کوعقائد کی تعلیم دینے کے طریقے:
ہم سب جانتے ہیں کہ بچہ بچپن سے ہی ایمان اورعقیدہ کی حقیقت کونہیں سمجھتا بلکہ چیزوں کوسطحی طور پرسمجھتا ہے نہ کہ گہرائی سے لیکن وہ معلومات کواپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے اوروقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتا ہے۔
والدین، اہل خانہ اورمعلمین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ذہنوں میں بچپن ہی میں صحیح عقیدے کا پہلا بیج بوئیں، پھراللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی بات اس کے ذہن ودماغ میں پیوست کردیں، اوراپنے اردگرد موجودمخلوقات کانظارہ کرائیں۔ خداتعالی کی عظمت اورکبریائی بیان کریں، اورانہیں عملی طور پراس طرح سکھائیں کہ آسمان اورزمین کی طرف دیکھتے ہوئے خدا کی قدرت کے بارے میں بتائیں کہ اللہ تعالی نے کیسے زبردست آسمان وزمین کی تخلیق فرمائی ہے اور وہ کیسے ان آسمان وزمین کے تمام امور انجام دیتے ہیں، اوراللہ تعالی کے اسماء اوراس کی صفات کی تعلیم دیں۔ جس سے وہ سمجھ سکتے ہیں، جیسا کہ اللہ رزّاق ہے یعنی رزق دینے والا جو ہمیں کھانا، پینا اورہماری تمام ضروریات مہیا کرتا ہے، پھریہ کہ اللہ رحمٰن ورحیم ہے یعنی،بہت رحم کرنے والا، جو ہم پررحم کرتا ہے اور تمام مخلوق پررحم کرتا ہے۔ اور ہمارے لیے نقصان اورتکلیف کو پسندنہیں کرتا،وہ علیم ہے، سب کچھ جاننے والا، حکیم ہے یعنی حکمت والا، جو ہمارے رازوں کو جانتا ہے ،اسے وہ سب کچھ معلوم ہے جوکام ہم کرتے ہیں،اورہمیں نیکی کابدلہ دیتا ہےاوربرائی کی سزادیتا ہے، اورسب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ جو ہمارےاعمال اور نیتوں سے باخبر ہے، جو ہم سے حساب لیتا ہے اور ہمیں خدا اوراس کے رسول کی سننے اوراطاعت کرنے کے اچھے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔
بچے کو خالق حقیقی کا تعارف کرائیں:
بچے کاایمان مضبوط کرنے کے لیےوالدین اوراستاذ کوچاہیے کہ کوشش کرتے رہے۔ بچہ بڑا ہو گیا اوراس کوکوئی ڈرانے کی بات آئی توکبھی بھی کتے بلی سے نہ ڈرائیں۔ کسی جن بھوت سے مت ڈرائیں،چیزوں سے نہ ڈرائیں۔ جب بھی کوئی بات ہوتوبچے کے ذہن میں اللہ کا تصور ڈالیں مثال کے طورپربیٹا!اگرتم ایسےکروگےاللہ ناراض ہوجائیں گے۔ اب جب آپ بارباراس طرح کہوں گےتوبچہ سوال کرے گا اللہ تعالی کون ہے؟ اب آپ کواللہ رب العزت کا تعارف کروانے کا موقع مل جائے گا۔ آپ تعارف کروائیں۔ اللہ وہ ہے جس نے آپ کودودھ عطا کیا۔ اللہ وہ ہے جس نے آپ کو سماعت دی۔ بصارت دی۔ جس نے آپ کوعقل عطا کی۔ جس نے مجھے بھی پیدا کیا اورآپ کوبھی پیدا کیا۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں۔ جب آپ اللہ کی ایسی تعریفیں کریں گے اوراس کے انعامات کا تذکرہ کریں گےتوبچپن سے ہی بچے کے اندراللہ کی محبت اور جنت میں جانے کا شوق پیدا ہوجائے گا کہ ہم جنت میں کب جائیں گے۔ابھی سےاس کو انتظاراورشوق نصیب ہو گا۔ان سے گاہے بہ گاہے عقائد کے متعلق سوال کریں!
تم کون ہو؟ہمارامذہب کیا ہے؟ہمارے مذہب کا نام کیا ہے؟ہماراخالق،مالک،رازق کون ہے؟ اس طرح مختلف اوقا ت میں مختلف سوالات کریں۔
تحفیظ کے ساتھ تفہیم کی ضرورت ہے:
ہمارے یہاں مکاتب میں بچوں کوعقائد رٹائے گئے،یادکرائے گئے،سمجھائے نہیں گئے،لہذاتحفیظ کےساتھ تفہیم اورذہن سازی کی ضرورت ہے۔میمورائزکے ساتھ موٹی ویٹ کی ضرورت ہے۔
لہذا رٹانے سےزیادہ ذہن سازی ہو، نورانی قاعدہ، دعائیں، اذکارنماز، ہم کم وقت میں زیادہ نہیں پڑھا سکتے ہیں لیکن ذہن بنا سکتے ہیں، ایمانیات سے متعلق،اللہ کا تعارف، نبی کا تعارف، ختم نبوت کاعقیدہ۔ بچوں کو یہ بات بارباربتائیں کہ کسی قسم کا کوئی نبی آنےوالا نہیں ہے، خلیفہ مہدی کون ہے؟ حضرت عیسی کون ہے؟ قیامت کب آئے گی؟ آخرت اوربرزخ کے متعلق انھیں سمجھائیں۔
ایمان مجمل اورایمان مفصل انھیں یادبھی کرائیں اورانھیں اچھے سے سمجھائیں۔
احادیث کےایمانیات کاباب، اکرام مسلم کےاخلاقیات کی حدیثیں انھیں پڑھ کرسمجھا دیا کریں، کافی ہے، حکایت صحابہ، فضائل اعمال کے قصے، قصوں سے ذہن بنتا ہے، دینیات کی کتابیں آن لائن میں بھی موجود ہے، اخلاقی کہانیاں، تربیتی کہانیاں، اولیاء کے واقعات وغیرہ۔قصوں کی طرف بچوں کے ذہن جلدی متوجہ ہوتے ہیں، قصوں، کہانیوں کی روشنی میں کہی جانے والی بات محفوظ رہتی ہے۔
مکاتب کے بچوں کویہ باتیں ضروربتائیں اورسمجھائیں!
اہل اسلام کےاندرجاہل وخودغرض مذہبی پیشواوں کی وجہ سے شرک وبدعت کو فروغ ملا۔ قبرپرستی کا رجحان پیدا ہوا۔ ان گنت غیرشرعی رسومات نے جنم لیا اورفکری بدعقیدگی نے امت مسلمہ کی وحدت وقوت کوپارہ پارہ کر کے رکھ دیا۔ ختم نبوت، حجیت حدیث، حجیت سنت، حجیت تقلید، حقانیت معجزات وکرامات، عظمت صحابہ واہل بیت اورعصمت انبیاء کرام جیسے منصوص واجماعی عقائد سے انکارکر کے گمراہی کی نئی راہیں کھولی گئیں۔اس لیے اپنے پاس پڑھنے والوں بچوں کو آسان اورسہل اندازمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا،حدیث کا حجت اوردلیل ہونا،حجیتِ سنت،معجزات کی حقانیت ،عصمت انبیاء کرام،عظمتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم،محبت اہلِ بیت اورائمہ اربعہ کا برحق ہونا سمجھادیں۔یہ چھوٹے بچے ہیں،اس لیے اختلافات اوراصطلاحات سے گریزکریں۔
ابھرتے ہوئے فتنوں کے بارے میں بچوں کوبتایاجائے:
آپ کودیکھنا پڑے گا کہ آپ کےعلاقہ میں کون سی اعتقادی خرابیاں ہیں،اسی کے مطابق محنت کرنا ہوگی۔سردی کےموسم کی دواآپ مریض کو گرمی کے موسم میں نہیں دے سکتے۔آپ کے علاقہ میں کون سافرقہ وجود میں آرہاہے،قادیانیت /شکیلیت/مرزائیت/اورس طرح کا جوفتنہ بھی سراٹھائے،اس کے متعلق بچوں کوبتائیں،سمجھائیں۔اسی طرح توہم پرستی کے نقصانات صفرکے مہینے کومنحوس سمجھنا/تعویذگنڈے کا ناجائزتصور/مشرکانہ تصور/مرچی /دھاگہ/اورجو جس جگہ کی ضرورت ہو،وہ ضرروبتادیں۔تعویذوغیرہ کی جگہ مسنون دعاو ں کا اہتمام کرائیں،مسنون دعاوں کے فضائل بتلائیں۔
درمیان میں ایک چیز کہ مکاتب کے علماء کو کتابوں کے مطالعہ کی عادت بنانا چاہیے،اسی طرح ملک بھرسےجوماہنامے /جرائد اوررسالےنکلتے ہیں،وہ منگاکرپڑھناچاہیے۔اگرآپ ماہنامے نہیں پڑھیں گےتودنیا میں کیا کچھ چل رہاہے،آپ کوپتہ نہیں ہوگا،ٹی وی چینل،موبائل کے اپڈیٹ اوراخبارکی خبروں سے خبریں توپتہ چل جائیں گی لیکن ان کے حل یہ رسالے اور جرائد ہی بتائیں گے۔
آپ اپنے علاقے میں دیکھ لیں اورمعلوم کرلیں کہ کتنے لوگ ہیں جو ماہنامہ دارالعلوم،شاہراہ ِعلم،الفرقان اورندائے شاہی اوراس طرح کے رسالے پڑھتے ہیں؟؟
اولین تعلیم؛ بنیادی عقائد توحید ورسالت وآخرت:
اس وقت طلبا وطالبات میں پھیلتی ہوئی دین سے لاتعلقی اوردین بے زاری اس بات کی متقاضی ہے کہ عقائد کے باب میں کلامی دقائق ولطائف اورفلسفیانہ نکتہ سنجیوں کی بجائے بنیادی عقائد اسلام پراپنی توجہ مرکوزرکھی جائے، ان کے سامنے عقیدہ توحید ایسے بنیادی عقیدے، جو تمام ہی ملل سماویہ کا مرکز ہے، کا تعارف پیش کیاجائے، عقیدہ توحید کے تقاضوں سے انہیں روشناس کروایا جائے، رسالت ِنبوی اکےعقیدے کی اہمیت سمجھائی جائے، اپنوں کی عاقبت نا اندیشی اورغیروں کی مفادپرستی کی وجہ سے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی گئی ہدایات کے بارے میں اہل اسلام میں جو بڑھتی ہوئی غلط فہمی اوراحساس کم تری ہے اس غلط فہمی اوراحساس کمتری کوعلمی وعقلی اندازسے دورکیا جائے، بدعملی وبدکرداری کی روک تھام کے لیے نوخیز نسل کے دل میں عقیدہ آخرت کا احساس اجاگرکیاجائے، ان میں قیامت کے دن کی حساب دہی کا شعورپیدا کیاجائے۔
عقائدکی تعلیم کاتعلق صرف بچپنے سے ہی نہیں بل کہ بڑھاپے میں بھی ہوتا ہے:
عقائد سکھانے کا تعلق صرف بچپنے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے،بل کہ عقیدہ کے مسئلے کو مسلسل سیکھنےاورمسلسل یاد کرنے کی ضرورت ہے، علماء نے اس بات کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے قصے سے اخذ کیا ہے – جہاں انہوں نے اپنے بیٹوں کو یاد دلایا کہ تم میرے بعد کیا کریں گے؟
اَمْ کُنتُمْ شُہَدَائَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِی قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰہَکَ وَإِلَٰه آبَائِکَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰہًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ][البقرہ: ۱۳۳]
اہل حق علما کی صحبت:
جب آپ بچوں کومکتب کی تعلیم دیں توان کے ذہن میں علماء اہل حق کی صحبت اختیارکرنے اوران کے واقعات پڑھنے کامکلف کریں۔ مولا نا عبد الماجد دریا بادی مرحوم نے کسی جگہ لکھا ہے کہ میں جب کالج میں پڑھتا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کودنیا کے دوسرے لیڈروں کی طرح ایک لیڈر سمجھتا تھا، اگر مجھے فراغت کے بعد اہل حق کی صحبت ورہنمائی میسرنہ آتی اورمیراخاتمہ اسی عقیدے پرہوتا تومیری موت کفرپرآتی۔ اس لیےظاہر ہے کہ ایک پیغمبرکولیڈ رسمجھنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ مزید لکھا کہ میں کیا، سکول و کالج میں پڑھنے والوں کی اکثریت اسی طرح کے کفریہ عقائد میں مبتلا ہوتی ہے۔اس لیے تمام اہل اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے عقائد کی تصحیح کے لیے کتاب وسنت کا ضروری علم اوراہل حق کی مجالست و مصاحبت اختیار کریں۔
بچوں کو عقائد سکھانے کے لیے کتابیں:
مکاتب،مدارس اورگھروں میں چھوٹے بچوں کوعقائد کی تعلیم کے لیے ہمارے اکابرواسلاف کی توجہ بھی رہی اورانھوں نے ایسے چھوٹے چھوٹے کتابچےمرتب فرمائے جوآج تک اعلی ٹکسالی زبان وبیان، الفاظ کی فصاحت، مسائل کی جامعیت وغیرہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. حضرت مولانا علامہ مفتی اعظم محمد کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سوال وجواب کی شکل میں تعلیم الاسلام کے (۴ حصے)مرتب فرمائے،سرورق پرآیتِ کریمہ یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیکُمْ نَارًا وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ۔ درج ہے،جس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کتاب کی تعلیم کتنی اہم اورضروری ہے۔اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ سوال وجواب کی شکل میں ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے ایک اہم کتاب دینی تعلیم کا رسالہ ہے، لڑکیوں کا اسلامی کورس (۵ حصے)، حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی بہشتی زیور۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے خلیفہ ارشد مسیح الامت حضرت مولانا شاہ مسیح اللہ صاحب رحمہ اللہ کی کتاب’’تعلیمات اسلام‘‘چارحصوں میں بڑی زبردست کتاب ہے۔ یہ ایسی کتابیں ہیں جن میں اسلامی عقائد،عبادات،معاشرت،اخلاق،رسوم وبدعات،اعمالِ مسنونہ وغیرہ جیسے مسائل،آسان،سہل ترین اوردلچسپ اندازمیں پیش کیے گئے ہیں۔
بڑی عمر کے بچے جو اسکول وکالج کے ساتھ مکتب پڑھتے ہیں،ان کے لیے آخرالذکرکتاب ’’تعلیمات اسلام‘‘بہت مفید کتاب ہے،جس میں حضرت مسیح الامت رحمہ اللہ نے قرآن وسنت کی روشنی میں اسلامی عقائد پربڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔وجودباری تعالی اورپھرتوحیدباری عزاسمہ پرانتہائی ٹھوس اورمثبت دلائل پیش کیے ہیں۔ماد ہ اورنیچریت کے پرستاروں کے اشکالات واعتراضات کے عقلی دلائل پیش کیے ہیں جواپنی جگہ ٹھوس اورمسکت ہیں۔
اسی طرح ایک کتاب ہے،جوبڑے بڑے جامعات میں داخل نصاب ہیں اورموجودہ زمانہ کے تقاضہ کے مطابق اس کومرتب کیا گیا ہے،وہ کتاب ہے ’’تفہیم الفقہ‘‘ میں ہرگزیہ نہیں کہتاکہ آپ پوری کتابیں طلبہ کوپڑھ کرسنادیں،لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ آپ ہمارے اکابرین کی کتابوں سے استفادہ کریں اورجدید اندازمیں جس طرح بھی بہتربناکر پیش کرسکتے ہیں،طلبہ کے سامنے پیش کریں۔
لہذا مکاتب کے معلمین کو چاہیے کہ وہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں اورطلبہ کوعقائد کی تعلیم دیں۔
بچوں کو عقائد کی کتابیں پڑھ کر سنادیں کچھ نہیں توحکایات صحابہ ہی سنادیں۔حضرت شیخ رحمہ اللہ نے کیا زبردست انداز میں حکایات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جمع فرمایا ہے۔
دور جدید کی ایجادات کے تناظر میں طبیعت انسانی میں واضح فرق:
دور جدید کی ایجادات کے تناظرمیں طبیعت انسانی میں جو فرق رونما ہورہا ہے اورجس طرح معاشرتی اقدار کا خاتمہ ہوتا جارہا ہےاس سے بچے بہت زیادہ متاثرہورہے ہیں۔ بچوں میں چونکہ انفعالیت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ بچے بہت جلد کسی بھی چیز کا اثر قبول کرلیتے ہیں، خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ پھران کچے ذہنوں میں پڑجانے والی باتیں جب رسوخ پکڑ جاتی ہیں تو آنےوالی زندگی پراس کے بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان ہی جدید چیزوں میں کارٹون اور ویڈیو گیم ودیگرغیرضروری اورلغو اشیاء شامل ہیں جوبظاہرتوکھیل کود اورتفریح کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں لیکن یہ بچوں کی تربیت اورطبیعت پربہت گہرے منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ ٹی وی اورانٹرنیٹ کے بارے میں چونکہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس لیے یہاں صرف ٹی وی اورانٹرنیٹ کی چند ذیلی شاخوں، یعنی کارٹون اور ویڈیو گیم کےمفاسد کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
فحش ویڈیو گیم اور فحش کارٹون:
پھر آج کل تو فلمیں ہی فحش نہیں ہیں، کارٹون اورویڈیو گیم تک گندے ہوگئے، جس میں لباس فحش ہوتا ہے، اس میں نازیبا حرکات ہوتی ہیں، جن سے بچوں کی حیا کاجنازہ نکل رہا ہے۔ والدین کہتے ہیں کہ یہ توکارٹون ہے، اس میں کیا حرج ہے؟لیکن اس کا بھی بچے کے دماغ پراثرپڑتا ہے، ان میں غلط خواہش پیدا ہوتی ہے۔ کئی توقبل ازوقت بالغ ہو گئے، پھرجوانی میں شادی کے قابل نہیں رہے۔ یہ سب حقائق ہیں، ایسے نوجوان اس شعر کا مصداق ہوتے ہیں:
طفلی گئی علامت پیری ہوئی عیاں
ہم منتظر ہی رہ گئے عہدِ شباب کے
اسی بات کو حضرت مولانا مجدالقدوس خبیب رومی صاحب بزرگوں کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ:انسان تین دورسے گذرتاہے (۱)بچپن (۲)جوانی(۳)بڑھاپا۔ لیکن اب توصرف جوانی اوربڑھاپادوہی دوررہ گئے ہیں ۔
کارٹون بینی، ویڈیو اورغیروں کی سازش:
بظاہر بے ضررنظرآنے والے کارٹون اپنے اندرفسادعظیم لیے ہوئے ہیں۔ والدین یہ سوچ کرکہ بچہ کارٹون ہی تودیکھ رہا ہے کسی قسم کی پرواہ نہیں کرتے۔
طلسماتی کرداروں کا ذہن پر حاوی ہونا:
چونکہ عموماً کارٹون طلسماتی کرداروں پرمشتمل ہوتےہیں۔ جس میں کارٹون کردارکوعام انسانوں سے ہٹ کرغیرمعمولی طاقت وصلاحیت کامالک دکھایاجاتا ہے، اس لیے بچےاس کردارکے کارنامے دیکھ کراس سے بہت مرعوب ہوجاتے ہیں۔ پھرخود کواس مقام پرتصورکرکےاپنےاندربھی اس نوعیت کی طاقت کی امید باندھتے ہیں۔ بہت سے کارٹون کردار اچھلتے کودتے، اونچائی سے کود کرغوطہ لگاتے اوربناچوٹ کھائے زمین پر پہنچتےنظرآتے ہیں۔ نیزاسلحہ چلنےاوردھماکہ ہونےکے باوجوداس کا ان کوئی اثرنہ ہونا، بچے کےدماغ پربہت برااثرمرتب کرتا ہے۔ بعض کارٹون ہندوانہ عقائد پرمبنی ہوتے ہیں،کچھ میں عیسائیت کی تعلیم ہوتی ہے،جس سے بچوں کےذہن ودماغ میں دیگرمذاہب کی عظمت ومحبت بیٹھ جاتی ہے،وہ لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات کوبچوں کے ذہنوں میں بٹھانے کے لیے اپنی مذہب کی کتابوں میں موجود کہانیوں کوکارٹون کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔
یہ کارٹون جب مسلمان بچے دیکھتے ہیں تووہ بھی اس کارٹون میں پیش کیے گئے مذہبی طلسماتی کردار سے متاثرہوئے بغیرنہیں رہتے۔ یقیناً ایک مسلمان بچے کے لیےاپنی اس کچی عمرمیں کسی دوسرے مذہب کی شخصیت سے اس طرح متاثر ہوجاناانتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ نیز یہ کردار بچوں کے ذہن پراس قدرسوارہوجاتے ہیں کہ بچوں کے روزمرہ استعمال کی چیزوں مثلاً بیگ، مگ وغیرہ پران کی تصاویرلگا کرفروخت کیا جاتاہے۔
سورکی شکل کے کارٹون:وہ کارٹون جو جانوروں کی شکلوں پرمبنی ہوتے ہیں اب ان میں غیرمحسوس اندازسے بلی، شیر، چوہے، بطخ اوردیگرجانوروں کے ساتھ ساتھ سورکی شکل کے کارٹون بھی سامنےآرہے ہیں۔
ہمارامعاشرہ، جس میں ایک وہ وقت تھا کہ اس جانورکا نام لینا تک پسند نہیں کیا جاتا تھا، اب صورت حال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کونادانستہ انتہائی غیرمحسوس انداز میں اس حرام جانور سے روشناس کراتے ہیں۔ ایک سازش کے تحت ان بچوں کے دلوں سے اس جانور سے نفرت کے جذبات کو کم کیا جا رہا ہے، تا کہ یہ بچے اپنی آنے والی نسلوں کوان جذبات سے آگہی نہ دے سکیں اورپھر وہ نسل یا پھر اس سے اگلی نسل حرام خوری میں مبتلا ہو جائے۔
اس کے علاوہ کارٹون بینی اورویڈیوگیم کے ذریعہ جو نقصانا ت ہوتے ہیں،وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱)وقت کا ضیاع (۲)پُرتشدد رویہ (۳)جسمانی،ذہنی اورتعلیمی نشوونماسےعدمِ توجہ(۴)ناچ گانا(۵)عریانیت کا فروغ(۶)طلسماتی کرداروں کاذہن پرحاوی ہونا(۷)ہندوانہ عقائد پرمبنی کارٹون جس کی تفصیل ابھی گذرگئی۔(۸)نازیباحرکات (۹)اسلحہ کےناجائزاستعمال کا شوق (۰۱)شعائراسلام کی توہین (۱۱)اسلام مخالف جذبات (۲۱)ویڈیو گیم میں خنزیرکی شکل۔
ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس طرح ویڈیوگیم اورکارٹون بینی کے ذریعہ باطل مذاہب ہمارے بچوں تک پہنچ کران کے ایمان وعقائدکے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔
لہٰذاضرورت ہے کہ والدین،اساتذہ اورہرذمہ دار شخص اپنے بچوں کے ایمان وعقیدہ کی فکر کریں۔
کفریہ الفاظ کا جاننا فرض ہے:
دین وایمان کی حفاظت وسلامتی کے لیے صرف اچھائیوں کا جاننا کافی نہیں ہے، بلکہ نیکیوں کوجاننے سے زیاد ہ ضروری یہ جاننا ہے کہ کون کون سی وہ باتیں اورکون کون سے وہ اعمال ہیں،جودین وایمان کے لیے خطرہ کا سبب بنتے ہیں، ان کو جانے بغیردین وایمان کا بچانا انتہائی مشکل ہے، اس بنا پرحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے۔ ’’یوشک ان تنقص عری الاسلام عروۃ عروۃ اذا نشاء فی الاسلام من لا یعرف الجاہلیة۔
جو شخص اسلام میں پیدا ہوا اوراس نے جاہلیت کونہیں جانا توہوسکتا ہے کہ وہ اسلام کی کڑی کوایک ایک کرکےتوڑبیٹھے۔ (یعنی دائرہ ایمان سے نکل جائے۔)
علماء نے لکھا ہے کہ کافربنادینےوالےالفاظ کاعلم حاصل کرنا بھی نمازوروزہ کی طرح فرض عین ہے، چنانچہ علامہ شامی فرماتے ہیں: اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ جس طرح نماز روزہ وغیرہ فرائض کا علم فرض ہے اسی طرح حرام اور کافر بنادینے والے الفاظ کا علم علم حاصل کرنا بھی فرض ہے۔
نماز روزہ کے ساتھ شرک وکفر:
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ: ”شرک وکفرصرف مندروں میں جا کر گھنٹی بجانے اوربتوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ نمازروزوں کے ساتھ اسلام کےابدی قوانین پرہلکے سے شک و شبہ سے بھی صاحب ایمان،ایمان سے نکل کرشرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
آگے کی تعلیم:
مکاتب کے معلمین کوچاہیے کہ وہ علم دین کے سلسلہ میں معصوم بچوں کی ذہن سازی کریں! حافظ، عالم ،مفتی بننے کے سلسلہ میں ذہن سازی کریں۔ ایسے کئی علما ہیں جواضلاع سے شہر کے مدرسوں میں بچوں کو داخل کرواتے ہیں، مہینہ دومہینہ میں اپنی اولاد کی طرح آکرملتے ہیں، ان کے ذریعہ سے علاقہ میں حفاظ اورعلماء تیار ہوتے ہیں،۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کو کی ذہن سازی فرمائی ،ان کے گھرکا پوراخرچ دیا، شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہے، بڑوں نے شاگردوں کے نام لے کردعائیں کی ہیں تب جا کران کے ذریعہ سے علماء کی شاگردوں کی ایک تعداد تیار ہوئی ہے مشینی تعلق، نوکری کا تعلق فیس لینے دینے کا تعلق، تاجرانہ تعلق، یہ تعلق شاگرد کو تیار نہیں کرے گا، روحانی تعلق، دلی تعلق سے شاگرد پیداہوں گے۔
ان حالات میں مسلمان کیا کریں؟
ان حالات میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقہ کارپرغورکریں اورایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اوردینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے، اس کے لیے سب سے مفید اورآزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے، کہ زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم ہوں۔ جس میں عقائد کی تعلیم، ناظرہ قرآن، حفظ، منتخب آیات واحادیث کے ترجمے، عبادات ومعاملات اورشخصی زندگی سے متعلق ضروری احکام، نیزرسول صلی اللہ علیہ وسلم اوانبیائےکرام کی سیرت اورتاریخ ہندجیسے اہم مضامین شامل نصاب ہوں اوران کی باضابطہ تعلیم ہو، اُردو زبان بھی اس نصاب کا ایک اہم جزو ہو اوران طلبہ کواچھی طرح اُردو لکھنا اورپڑھنا آجائے؛ تاکہ وہ اپنے اسلاف کے علمی ورثہ سے جڑے رہیں۔ علماء کو ان کا علم، مشائخ کو ان کی دینی نسبت اور دعوتی کام کرنے والوں کوان کی دعوتی وابستگی انہیں اپنے بچوں کی طرف سے بے پروا نہ کردے اوریہ خیال نہ پیدا ہوجائے کہ ہماری یہ دینی وابستگی لازمی طورپرہماری آنے والی نسلوں کو بھی دین سے مربوط رکھے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت یعقوب علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کے اُسوہ کو یاد رکھیں کہ پورا خاندان نبوت کے نور سے منور ہے، اس کے باوجود انہیں اپنی وفات کے وقت یہی فکر دامن گیر ہے کہ ہماری اولاد دین پرقائم رہے گی یا نہیں؟ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا کبھی ہم نے اس پرغورکیا ہے؟ اورکیا ہم نے بھی کبھی اپنی اولاد سے وہی استفسار کیا ہے جو آپؑ نے کیا تھا کہ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ؟
ہرعالم اپنے طور پرمحنت کریں:عقیدہ کی حفاظت کے لیے خود اہل ایمان اپنے اپنے طورپرکوشش کریں، بطور خاص علمائے دین عامۃ المسلمین سے اپنے روابط بڑھائیں، مسلم بستیوں میں جاجاکرانہیں ایمان واسلام کی عظمت وحرمت سے آشنا بنائیں، اپنے کردار وعمل اوروعظ وتذکیر سے ان کے اندر دین کی سچی لگن پیدا کردیں اورانہیں اسلام کا ایسا گرویدہ بنادیں کہ سخت سے سخت حالات میں بھی ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے۔ اگر مسلمان واقعی معنوں میں مسلمان بن جائے توان شاء اللہ غارتگرانِ اسلام کی ساری سازشیں ناکام ہوجائیں گی۔ ملک ودولت توایک آنی جانی چیز ہے ہمارا اصل سرمایہ تو ایمان واسلام ہے۔
اپنے اپنے علاقے کا سروے کریں:آج کے حالات میں ہم علماء کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گلی، محلہ اورعلاقہ کا سروے کریں۔اوردیکھیں کہ کتنے لوگ ہیں جن کے بچے تعلیم سے دور ہیں،وہ مکتب یا مدرسہ نہیں جاتے،کتنے بچے ہیں جو اسکول کالج تو جاتے ہیں لیکن مکاتب قرآنیہ میں نہیں جاتے۔ کتنے بچے ایسے ہیں جواسکول کالج اورمکتب ومدرسہ توجاتے ہیں لیکن عقائد اسلامیہ کا انھیں علم نہیں ہے یا عقائد میں انھیں پختگی اورثابت قدمی نہیں ہے۔یہ سروے اس لیے ضروری ہے کہ آج بھی امت کے بڑے طبقہ میں دین بیزاری پائی جارہی ہے۔ بہت سے علاقے ایسے بھی ہیں جہاں مسلمان معصوم بچوں کواسکول وکالج میں اسلام مخالف عقائد سکھائے جاتے ہیں، بہت سے گھر ایسے بھی ہیں جہاں گھروں میں مورتیاں رکھی ہیں اورہاں سوشل میڈیا کے ذریعے ہرجیب میں دل کے پاس موبائل فون میں وہ سب کچھ ہیں جوباطل طاقتیں معصوم ذہنوں تک پہنچانا چاہتی ہیں اوراس انداز میں ان کو پیش کیا جاتا ہے کہ خالی الذہن طبیعتیں ان کی طرف مائل ہوجاتی ہیں۔
علمائے حق کی ذمہ داریاں و فرائض:
ان تمام حالات میں پیغمبروں کے جانشینوں کو کام کرنا پڑتا ہے، شاید انسانوں کی کوئی جماعت اتنی مشغول اورفرائض وذمہ داریوں سے اتنی گراں بارنہیں، جتنی نائبان رسول اورعلماء ومصلحین اسلام کی جماعت ہے، جسمانی امراض کے طبیبوں کوبھی کبھی آرام اورفرصت کا موقع میسرآجاتا ہوگا، لیکن ان اطباء روح کے لیے کوئی موسم اعتدال اورصحت کا نہیں۔
ہم علماء ہیں،ہم جانتے ہیں دین اسلام کے لیے حضرات ِخلفائے راشدین کی جدوجہد،حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی دین کی دعوت اوران کی بے مثال قربانیاں،حضرت حسنِ بصری رحمہ اللہ کی مجلس وعظ،امام احمدبن حنبل کا اعلانِ حق،علامہ ابن الجوزی کے مواعظ،شیخ عبدالقادرجیلانی رحمہ اللہ کا روحانی فیض،اورتمام علماء حق کا صبروعزیمت اورثبات واستقامت۔
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انسان کا مقصد تخلیق معرفت الہیہ ہے۔ اورمعرفت الہیہ تک رسائی عقائد وافکار کی صحت کے بغیرممکن نہیں۔ عقائد وافکارکی صحت ہی معرفت الہیہ تک رسائی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اسی پراعمال صالحہ کی قبولیت کا مدار ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے، {فَمَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّلِحَتِ وَہُوَ مُوْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعیه} بحالت ایمان عمل صالح کرنے والے کی کوشش کی عنداللہ نا قدری نہ ہوگی اورایمان نام ہی عقائد وافکار کی صحت کا ہے۔
اساتذہ کی خدمت میں اشعار:
ہم رہبر ہیں ہمیں راستہ دکھانا ہوگا
ہم رہنما ہیں ہمارے ساتھ زمانہ ہوگا
تیل کافی نہیں ہے اب روشنی کیلیے
چراغوں میں ہمیں اپنا لہو جلانا ہوں گا
پھلوں سے لدی ہیں اپنی سب ڈالیاں
کھاکر پتھر بھی ہمیں پھول برسانا ہوگا
بہ حوالہ
(۱)علماء کا مقام اوران کی ذمہ داریاں:حضرت مولانا ابولحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
(۲)بچوں کی تعلیم وتربیت:
(۳)تعلیم الدین:حضرت مولانااشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
(۴)کارٹون بینی،ویڈیوگیم اورمسلمان بچے:مفتی محمدشہزادشیخ
(۵)منظم وموثرمکاتب کے اصول وآداب:مفتی احمداللہ نثار صاحب قاسمی
(۶)مسلم لڑکیوں کا ارتداد،اسباب وحل:مفتی احمداللہ نثار صاحب قاسمی
(۷)تربیت اولاد کانبوی اندازاوراس کے زریں اصول:
