مسجد کے طہارت خانہ کے نیچے امام و مؤذن کے کمرے تعمیر کرنے کاحکم 

            عرض گزارش ہے کہ ’’نورانی مسجد‘‘ پنڈھرپور 60×50 کے رقبے پرتعمیر کی گئی ہے۔ وضو خانہ اور طہارت خانہ 30×50 کے رقبے میں واقع ہے۔ اور طہارت خانہ صحنِ مسجد سے متصل ہے۔ پہلے طہارت خانہ نیچے بنایا گیا تھا، لیکن اب وضو و طہارت خانہ اوپر منتقل کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں نیچے کی جگہ خالی ہوگئی ہے۔ اس خالی جگہ میں مؤذن اورامام کے لیے کمرے تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

            کیا نیچے کے حصے میں امام ومؤذن کے لیے کمرے بنائے جاسکتے ہیں؟

            آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں، جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔

الجواب وباللہ التوفیق

            شرعی اعتبار سے مسجد شرعی اس حصے کا نام ہے جو مستقل طورپرنماز پڑھنے کے لیے مختص کیا گیا ہو، اور جو حصہ ایک مرتبہ مسجد ِشرعی بن گیا وہ قیامت تک مسجد ِشرعی ہی رہے گا، اسے پھر کبھی بھی مسجدیت سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ جو حصہ مسجد ِشرعی نہ ہو اسے مسجد کے مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اوربوقتِ ضرورت ان کے استعمال کی نوعیت بھی تبدیل کی جاسکتی ہے ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں وضو خانہ اورطہارت خانہ کی خالی جگہ میں امام اورمؤذن صاحبان کے لیے کمرے بنائے جاسکتے ہیں۔

والحجة علی ما قلنا

            ما فی ’’التنویر مع الدر والرد‘‘:  فرع: لو بنی فوقه بیتا للإمام لا یضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدیة ثم أراد البناء منع۔ (ولو خرب ماحوله واستغنی عنه یبقی مسجدا عند الامام، والثانی) ابداً إلی قیام الساعة (وبه یفتی) حاوی القدسی ۔ وفی الشامیة: قال فی البحر: وبه علم أن الفتوی علی قول محمد فی آلات المسجد، وعلی قول أبی یوسف فی تابید المسجد۔ (۶/۵۴۸، ۵۴۹؍ کتاب الوقف، مطلب فیما لو خرب المسجد أو غیرہ)

            (کذا فی البحر الرائق: ۵/۴۲۱؍ کتاب الوقف، فصل فی أحکام المسجد )

            ما فی ’’الفتاوی الہندیة‘‘: قیم المسجد لا یجوز له أن یبنی حوانیت فی حد المسجد أو فی فناء ہ لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسکنا تسقط حرمته وہذا لا یجوز ۔ (۲/۴۶۲؍ کتاب الوقف، الفصل الثانی فی الوقف علی المسجد وتصرف القیم وغیرہ الخ)

            ما فی ’’ فتاوی قاضیخان‘‘ : قال الفقیه ابو اللیث رحمه اللّٰہ تعالیٰ: لا یجوز له أن یجعل شیئا من المسجد مسکنا أو مستغلاً۔ (۲/۲۹۸؍ کتاب الوقف، باب الرجل یجعل دارہ مسجدا الخ)

             (مستفاد: فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۳/ ۲۵۲،۳۷۵- فتاوی دینیه: ۲/۲۳۹) فقط

واللہ اعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملیؔ رحمانیؔ

۲۸؍۸؍۱۴۴۶ھ- فتوی نمبر:۱۲۷۴