ملفوظاتِ وستانوی
عزیز طلبہ کرام!اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم ہے کہ جامعہ” قرآنِ کریم “کو روزِ اول سے اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔ سالِ اول سے ہی نورانی قاعدہ، احسن القواعد میں حروفِ تہجی کو مخارج کی ادائیگی کے ساتھ اور پارہٴ عم کو قواعد کی رعایت کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن کریم ”الٓمٓ“سے لیکر تیسویں پارے تک دو سال میں مکمل کرایا جاتا ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ الحمد للہ دینیات کے معصوم بچے قرآن کو اتنا بہترین پڑھتے ہیں، کہ ختمِ قرآن کے بعد ہمارے اندر یہ داعیہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں ان کو حفظ میں داخل کرنا چاہیے۔
تو الحمد للہ! ہرسال پانچ سو بھی زیادہ طلبہ جامعہ میں حافظ بنتے ہیں۔ یہ بنیادی تصحیحِ قرآن کی برکت ہے۔ قرآن کو اگر اچھا پڑھنے کا شوق ہمارے اندر پیدا ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہو گا۔ آپ لوگ ماشاء اللہ ! مختلف شاخوں سے آئے ہیں، الحمد للہ جامعہ کی شاخوں میں بھی اسی نہج سے قرآن پڑھا پڑھا یا جاتا ہے۔
قرآن سے شغف رکھنے والا کبھی پریشان نہیں ہوتا:
قرآن کے ساتھ خودکو وابستہ رکھو! قرآن پڑھو! قرآن سنو! اورقرآن سناوٴ! اگرآپ قرآن کے ساتھ وابستہ رہیں گے، تو کبھی آپ پریشان نہیں ہوں گے اور قرآن کی برکتوں سے آپ ضرور مالامال ہوں گے۔
مسجد جلدی آنے کی تاکید:
میرے بچو!آپ مسجد ِمیمنی(جامعہ کے شعبہٴ کتب کی مسجد) میں درسگاہ سے جلدی آجاوٴ اور سنت و نوافل پڑھ کر، پانچ دس منٹ تک قرآن کی تلاوت کرلو۔ تمہارا قرآن کریم کے ساتھ یہ شغف تمہاے لیے بڑا باعث خیر وبرکت بن جائے گا۔
قرآن یادر کھنے کا سب سے اچھا طریقہ:
دوسری با ت یہ ہے کہ جو بچے حافظِ قرآن ہیں، وہ قرآنِ کریم یاد رکھنے کی فکررکریں! اور قرآن کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ نماز میں اسے پڑھناہے۔
میں حافظ نہیں ہوں، میں تو نماز میں ﴿وَالضُّحی، قُلْ ھوَ اللّہ ، تَبَّتْ یَدَا﴾ پڑھ لیتا ہوں؛ لیکن میرے تین بیٹے ہیں، ایک اللہ کی رحمت میں چلے گئے(مولانا سعید صاحب وستانویؒ) اللہ ان کی مغفرت کرے۔(آمین) وہ جید حافظِ قرآن تھے، ان کو قرآن کے ساتھ بڑا شغف تھا، قرآن پڑھنے کا ان کا معمول تھا، اس کے بعد مولانا حذیفہ صاحب وہ بھی ماشاء اللہ حافظِ قرآن ہیں، اس کے بعد مولانا اویس صاحب وہ بھی حافظ قرآن ہیں۔ ان کے بیٹے یعنی میرے پوتے اور نواسے وہ بھی ماشاء اللہ حافظ ہیں،﴿ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوٴتِیْه مَنْ یَشَآءُ﴾۔(الجمعه آیت :۴)
تومیر ے بچو! قرآن کے ساتھ لگے رہو! قرآن کے ساتھ شغف رکھو! پھردیکھو قرآن کی کیا کیا برکتیں تمہیں نظر آئیں گی۔ قرآن نہیں پڑھوگے تو پھر قرآن بھول جاوٴگے۔ قرآن کی تلاوت چھوڑدیں گے،توناظرہٴ قرآن بھی پڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ اوراس پربڑی وعید آئی ہے ۔
جامعہ کی ترقی کا راز:
ہم آپ کو دعوے کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ جامعہ کی جو بھی ترقی ہوئی ہے، یہ کتاب اللہ کی برکت سے ہوئی ہے۔ جامعہ کی ترقی میں اپنا کوئی کمال نہیں ہے ﴿ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوٴتِیْهِ مَنْ یَشَآءُ﴾(الجمعه آیت:۴)
اللہ تم سے بھی قرآن کی خدمت کا کام لے گا ،ابھی سے نیت رکھو۔ ابھی سے نیت رکھو کہ ہم بھی بچوں کو قرآن بہترین انداز میں پڑھائیں گے۔ دل میں داعیہ اورشوق ہونا چاہیے۔
طلبہ کو رونے والا بننا چاہیے!
رونے والے بنو! اللہ سے مانگو! ﴿وَإذَاسَألَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَاعِ اِذَا دَعَانِیْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُوٴمِنُوْابِیْ لَعَلّھُمْ یَرْشُدُوْنَ﴾(البقرة آیت: ۱۸۶)
مدارس کے قیام کا مقصد:
قرآنِ کریم کے تعلق سے آپ کو کئی باریہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن کریم ہم سے مطالبہ کرتا ہے، کہ﴿ورتل القرآن ترتیلا﴾قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھیے، قرآن کریم کو تدویروحدر کے ساتھ پڑھیے، قرآن ِکریم کوترجمہ کے ساتھ پڑھیے،قرآن ِکریم کا جو مطالبہ ہے، اس مطالبہ کے مطابق ہم قرآن پڑھنے والے بن جائیں، یہ ہمارے مدارس کے قیام کا مقصد ہے۔
ہند وپاک، بنگلہ دیش اورامریکہ وافریقہ سب جگہوں پرمدارس ہیں اورسب کا مقصد یہی ہے کہ کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتبلیغ ہو، اس کی حفاظت ہو،اس پرعمل ہو۔ دنیا میں موجود سارے مدارس کا مقصدایک ہے، کسی مدرسہ کے مقصد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیا سعودی یا لندن کے مدرسے میں قرآن کے علاوہ کوئی اورکتاب پڑھائی جارہی ہے؟ نہیں! قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب ہے اورقرآن کریم نے اپنے بارے میں صاف طور پر فرمایا کہ ﴿إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَإنَّا لَه لَحفِظُوْنَ﴾(الحجر،آیت :۹)
”قرآن کریم کو ہم نے اتارا ہے اوراس کی حفاظت بھی ہم ہی کرنے والے ہیں۔“
کیسے کریں گے؟ ایسے چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں میں اللہ قرآن کریم کو جما دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینوں میں قرآن کو محفوظ کردیا؛ اسی لیے قرآن کہہ رہا ہے: ﴿وإنَّا لَه لَحفِظُوْن﴾(الحجر،آیت:۹)۔
تو مدارس کا مقصد ہی اعلائے کلمة اللہ ہے، اور مدارس کا مقصد ہی کتاب اللہ کی تبلیغ واشاعت ہے۔
﴿الم ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لا رَیْبَ فِیْهِ․․․․․ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنِ﴾(البقرة)یہ ایسی کتا ب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے اورمتقیوں کے لئے راہ ِ ہدایت ہے ۔
اچھے پڑھنے والوں سے قرآن سیکھو!
میرے بچو! قرآن کو سمجھو، اچھے سے اچھے انداز میں پڑھو،جو بچے اچھا پڑھتے ہیں، ان سے قرآن پڑھنا سیکھو! ماشاء اللہ بہت سارے بچے ایسے ہیں،جو بہترین قرآن پڑھتے ہیں، بہترین قاری ہیں۔ قرآن سے محبت کرو اور قرآن کواپنے دل میں بساوٴ! روزانہ ایک پارہ تلاوت کرو! رمضان تک آپ کے دس قرآن ختم ہو جائیں گے اور پھر رمضان میں آپ تراویح ایسے پڑھائیں گے، جیسے آپ دیکھ کر پڑھ رہے ہیں۔
ہر طرح کی سستی سے بچنے کی دعا:
سستی نہیں ہونی چاہیے،اس کے لیے یہ دعاکرتے رہو: ”اللّٰہُمَّ اِنِّیْ أعُوْذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَأعُوْذُ بِکَ مِنَ البُخْلِ وَالْجُبْنِ وَأعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَةِ الدَیْنِ وَقَہْرِ الرِجَالِ“۔
مسنون دعاؤں کا اہتمام:
طالب علم کو کئی دعائیں یاد ہونی چاہیے ۔دعاء کی مسنون کتابیں ملتی ہیں۔انہیں لے کر موقع کی دعائیں یادکرکے موقع پر پڑھنا چاہیے۔
