قافلۂ انوری کی ڈابھیل آمد کے سو سال ہونے پر پرنور اجلاس

قسط -اول:                              

                                      تحریر:حذیفہ وستانوی

روانگی سے ـ پہلے:

            ربیع الاول کی ۷؍ تاریخ ۱۴۴۷ھ، مطابق ۳۱؍ اگست ۲۰۲۵ء، یک شنبہ کا دن گجرات کی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پریاد کیا جائے گا۔ اس لیے کہ جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل کے احاطے میں ایک تاریخی واقعے کے سو سال مکمل ہونے بطورعلمی یادگار ایک روزہ اجلاس بڑی شان وشوکت کے ساتھ منعقد کیا گیا۔

            کافی دنوں سے اس کا چرچہ تو سننے میں آرہا تھا، مگر رسمی طور پرکوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے باوجود شدتِ اشتیاق کے حاضری کے بارے میں شش و پنج میں مبتلا رہا۔ اتفاق سے ۳۰؍ اگست کو حضرت مولانا محمود خیروا دامت برکاتہم، حضرت مفتی اسماعیل صاحب مالیگاؤں دامت برکاتہم اور حضرت مولانا انوار صاحب بجنوری دامت برکاتہم اپنے چند رفقاکے ساتھ’’ اکل کوا‘‘ تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو مولانا محمود صاحب نے دریافت کیا کہ:

            ’’آئندہ کل ڈابھیل جانے کا ارادہ ہے؟‘‘

            بندہ نے عرض کیا: کہ رسمی اطلاع نہیں ہے، اس لیے تامل ہے۔ ہوسکتا ہے مخصوص افراد ہی ہوں! تو فرمایا:

            ’’نہیں، ہمیں بھی دعوت نہیں ہے، مگرپھر بھی عام دعوت کے طور پرشرکت کر رہے ہیں۔‘‘

            میں نے کہا:’’کل کچھ مشغولیت ہے، کوشش کروں گا۔‘‘

            مولانا نے فرمایا:’’آپ کو ضرور حاضر ہونا ہے۔‘‘

            میں نے کہا:’’ان شاء اللہ!‘‘

آغازِسفر:

            اگلے دن، دوپہر تک امورضروریہ سے فارغ ہوا، نمازِظہرادا کی، ظہرانہ تناول کیا اورپھرڈابھیل کے لیے رختِ سفر باندھا۔

            ۳۰-۴(ساڑھے چار بجے) ہم مدرسے کے احاطہ میں داخل ہوئے۔ قاری وسیم صاحب(فاضل ڈابھیل واستاذ جامعہ اکل کوا) دیکھتے ہی لپکے بندے نے کہا کہ سیدھے جلسے میں چلتے ہیں۔ مسجد میں پروگرام جاری تھا۔ محراب کی جانب والے دروازے سے داخل ہوئے توقاری عبدالرحمن بزرگ صاحب دامت برکاتہم نے استقبال کیا، ذرہ نوازی فرمائی اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نشست چھوڑ کر بندے کو بٹھا دیا۔ مگر احقر کو خلافِ ادب محسوس ہوا، تو عرض کیا کہ آپ بھی یہیں تشریف رکھیں، بندہ ساتھ بیٹھ جائے گا۔

حضرت مفتی عباس بسم اللہ صاحب کا خطاب:

            اس وقت حضرت مفتی عباس بسم اللہ صاحب کا خطاب جاری تھا۔ ایک صاحب نے پروگرام کا جدول لا کرپیش کیا۔ اس میں عنوان درج تھا:

            ’’اپنی خدمات میں تاثیر کیسے پیدا کریں؟‘‘

            ماشاء اللہ! حضرت نے موضوع کا حق ادا کیا اورسلف صالحین کے احوال کی روشنی میں بتایا کہ ایک عالم کی خدمات دینیہ میں تاثیر پیدا کرنے کے پانچ اصول ہیں:

            ۱۔         قیامُ اللیل کا اہتمام۔

            ۲۔         تلاوتِ قرآن کی پابندی۔

            ۳۔         ذکراللہ کی کثرت۔

            ۴۔        دعا پرمداومت۔

            ۵۔        صالحین کی صحبت اوران سے بیعت وارشاد کا تعلق۔

حضرت نے مثالیں پیش کیں:

            امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا چالیس سال تک عشا کے وضو سے فجر ادا کرنا۔

            ستر سالہ زندگی میں چالیس ہزارمرتبہ قرآن کریم کی تلاوت۔

            امام ربانی ابو حنیفہ ثانی، حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی نوراللہ مرقدہ کی تدریسِ صحاحِ ستہ کے ساتھ ساتھ روزانہ ایک لاکھ پچیس ہزارمرتبہ اسمِ ذات’’اللہ اللہ‘‘کا ورد۔ یہ سب ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔

حضرت مولانا اسماعیل چاسوی دامت برکاتہم کا بیان:

            اس کے بعد حضرت مولانا اسماعیل چاسوی دامت برکاتہم کا پرمغزاورلطف اندوزخطاب بعنوان: ’’عالمانہ وقاراورغیرت وخودداری‘‘ہوا۔

             ابتدا میں آپ نے مجمع کوپرلطف گفتگو سے خوب ہنسایا۔ پھرامام نوویؒ کے حوالے سے’’وقار‘‘کی تعریف بیان فرمائی:

            الوَقَار فی الہیئة وغض البصر، وخفض الصَّوت، والإقبال علی طریقه من غیر التفات ونحو ذلک۔(ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبی:ج:۱۰،ص:۶۷۲،کتاب الامامۃ،السعی الی الصلاۃ،دار المعراج الدولیۃ)

            یعنی وقار یہ ہے کہ آدمی اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے، آواز پست رکھے، تحمل و بردباری کا عادی ہو، اپنے کام میں مگن رہے اور کسی کی تنقید پردل برداشتہ نہ ہو۔

            اس کے بعد آپ نے آیتِ کریمہ ’’وعباد الرحمن‘‘ کو نہایت عمدہ پیرائے میں سمجھایا۔

             خلاصہ یہ کہ علما کے لیے نصیحت سے لبریز تقریر تھی۔ماشاء اللہ!جس کی لنک منسلک کی جارہی ہے، آپ کا بیان مکمل سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

                        اس بارکوڈ کو اسکیں کرکے ایک گھنٹہ پینتیس منٹ پرمکمل بیان سماعت فرماسکتے ہیں:

حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم کا کلیدی خطاب:

            اس کے بعد حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم کا کلیدی خطاب بعنوان:’’علمائے امت کی ذمہ داریاں‘‘ہوا۔

            حضرت نے علماء کے وظائف گنوائے:

            ۱۔        دعوت الی اللہ۔

            ۲۔         تزکیہ نفس۔

            ۳۔         تلاوتِ قرآن۔

            ۴۔        امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔

            آخر میں حضرت نے علامہ ادریس کاندھلوی نوراللہ مرقدہ کے نصائح پڑھ کرسنائے، جو سننے اورپڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

                        اس بار کوڈ کو اسکین کرکے دو گھنٹہ نومنٹ پرمکمل بیان سماعت کرسکتے ہیں:

دیگر مجالس:

            اس کے بعد چند معصوم طلبہ کی تکمیلِ حفظ کی تقریب ہوئی۔ پھرمہتمم صاحب کے صاحبزادے کا نکاح پڑھایا گیا اوردعا پرمجلس کا اختتام ہوا۔

            نمازِعصردارالضیوف میں ادا کی۔ اس کے بعد مہتمم صاحب حضرت مولانا احمد بزرگ دامت برکاتہم سے ملاقات اورعصرانہ تناول کیا، جہاں دیگر احباب سے بھی ملاقات ہوئی:

            مولانا عابد افریقی۔

            مولانا عبدالعظیم شکاگو (امریکہ)۔

            مولانا رحمت اللہ بانڈی پورا۔

            مولانا اویس پنجابی۔

            مولانا شعیب موسالی۔

            بعد ازاں قاری اسماعیل صاحب بسم اللہ مرحوم کی تعزیت کے لیے کفلیتہ جانا ہوا۔ نمازِ مغرب کے بعد مولانا کے صاحبزادوں سے ملاقات کرکے تعزیتِ مسنونہ پیش کی۔ پھرپروگرام کے لیے احمد بھائی تمبی کے ساتھ پنڈال پہنچے۔

(جاری………)